حدیث نمبر: 4410
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي فِيهِ ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ ، أَنَّهَا لا تُبَاعُ ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ لِلْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ بہترین زمین نہیں ملی، تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو وہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہبہ نہیں کیا جا سکتا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، (اس کا پھل) غریبوں، رشتے داروں، غلاموں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کو ملے گا۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے کھا لیتا ہے، یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4411
نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ . ح وَنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهَا لِلَّهِ ، حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَجَعَلَهَا عُمَرُ صَدَقَةً عَلَى الْفُقَرَاءِ ، وَفِي الْقُرْبَى ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : عَنِ ابْنِ عَوْنٍ : ذَكَرْتُ حَدِيثَ نَافِعٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، فَقَالَ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا . وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلُ ، أَنَّهُ قَرَأَ تِلْكَ الرُّقْعَةَ فَكَانَ فِيهَا : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا ، هَذَا حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسا کوئی مال نہیں ملا، جو میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہو۔“ تو آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اسے اللہ کے نام پر وقف کر دو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے گی اور تم اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا اور اس کے نگران پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ اس روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4412
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الصَّوَّافِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو سَعِيدٍ ، نَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالا : نَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لا تُبَاعُ أَصْلُهَا ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَذَكَرْتُ هَذَا لِمُحَمَّدٍ ، فَقَالَ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اصل زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی۔ اس کے بعد راوی نے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”وہ شخص مال جمع کرنے والا نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 4413
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهَا ؟ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا أَنَّهَا لا تُبَاعُ أَصْلُهَا ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس کے بارے میں آپ سے مشورہ کریں، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی، آپ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم کرتے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اصل زمین کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، نہ وراثت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ تھا اور جو شخص اس کا نگران تھا، اس کو کوئی گناہ نہ ہوتا، اگر وہ خود اس میں سے مناسب طریقے سے کھا لیتا یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4414
قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قِيلَ لَهُ : سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ، نَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَ الأَنْصَارِي ُّ ، قَالا : نَا ابْنُ عَوْنٍ ، ح وَنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا ، قَالَ : فَجَعَلَهَا عُمَرُ لا تُبَاعُ وَلا تُوهَبُ وَلا تُورَثُ ، وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ ، وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، ثُمَّ إِلَى الأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " ، هَذَا لَفْظُ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ ، زَادَ مُعَاذٌ وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، ثُمَّ إِلَى الأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ سِيرِينَ ، فَقَالَ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں ایک زمین ملی، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے بہترین زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اس کو صدقہ کر دو اور اصل زمین اپنے پاس رہنے دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اس طرح کر دیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، ہبہ نہیں کیا جا سکتا تھا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا تھا اور اس کا پھل غریبوں، مسکینوں، مسافروں، مجاہدین، غلاموں اور مہمانوں کے لیے صدقہ تھا۔ جو شخص اس کا نگران تھا، اسے کوئی گناہ نہ ہوتا، اگر وہ خود اس میں سے کچھ کھا لیتا یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہوتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ وصیت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کی تھی اور پھر اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے بڑی عمر کے افراد کو کی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابومسعود نامی راوی کے ہیں، تاہم دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں کچھ لفظی اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4415
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، أنا بِشْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : وَنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، أنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا نَحْوَهُ . وَقَالَ : أَنْ لا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلا يُوهَبُ وَلا يُورَثُ ، نَحْوَ حَدِيثِ النَّضْرِ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اصل زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، یہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 4416
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا ، وَقَالَ : فَحَبَسَ أَصْلَهَا لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى ، وَالرِّقَابِ ، وَفِي الْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ . وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تو انہوں نے اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دیا، اس طرح کہ اسے فروخت نہ کیا جائے، اسے ہبہ نہ کیا جائے، اسے وراثت میں تقسیم نہ کیا جائے اور اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں کے لیے، مسکینوں کے لیے، مسافروں کے لیے اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 4417
نَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا ، لا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، فِي الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى ، وَالرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَأَنْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکے گا اور اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں، مہمانوں کے لیے ہو گا اور جو شخص اس کا نگران ہو گا، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4418
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدَانَ ، بِوَاسِطَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ . ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالا : نَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ ، وَلا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَأَمْسَكْتَ أَصْلَهَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لا يُبَاعَ ، وَلا يُوهَبَ ، فِي الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى ، وَالضَّيْفِ ، وَالرِّقَابِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں زمین ملی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ زمین مجھے کبھی نہیں ملی اور اس سے زیادہ نفیس زمین کوئی نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اسے اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ بھی نہیں کیا جا سکے گا، اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مہمانوں، مسافروں کے لیے ہو گا۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اس پر کچھ گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود بھی اس میں سے کھا لیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4419
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أَصَبْتُ مَالا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لا يُبَاعَ ، وَلا يُوهَبَ ، وَلا يُوَرَّثَ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ ، وَفِي الأَقْرَبِينَ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِيَ بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَذَكَرْتُهُ لابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا . تَابَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے خیبر میں ایک زمین ملی، جو میرے نزدیک سب سے بہترین تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں آپ کی مرضی معلوم کروں، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، جو میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، مجاہدین، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کیا اور جو شخص اس کا نگران ہو، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا مناسب طریقے سے اپنے کسی دوست کو کچھ دے دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الْحَمَّالُ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِالْحَمَّالِ ، لأَنَّهُ حَمَلَ رَجُلا فِي طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى ظَهْرِهِ فَانْقَطَعَ بِهِ فِيمَا يُقَالُ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4421
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245 ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " حَائِطِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تَعَالَى ، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ ، قَالَ : اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِ بَيْتِكَ ، وَأَقَارِبِكَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ (راوی کو شک ہے کہ شاید اس آیت کا تذکرہ ہے:) ”کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں جگہ میں میرا ایک باغ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے اگر میں اسے پوشیدہ طور پر دے سکتا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان اور قریبی رشتے داروں میں سے غریب لوگوں کو دے دو۔“
حدیث نمبر: 4422
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ . وَزَادَ فِيهِ : قَالَ : فَجَعَلَهَا لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَا أَقْرَبَ إِلَيْهِ مِنِّي .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ سیدنا ابی بن کعب، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نام کر دیا، کیونکہ یہ دونوں حضرات میرے مقابلے میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے زیادہ قریبی عزیز تھے۔
حدیث نمبر: 4423
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو يَحْيَى ، نَا الأَنْصَارِيُّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ ثُمَامَةَ وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، قَالَ : قَالَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4424
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا ، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِئْرَ حَاءَ لِلَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ " ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پروردگار نے ہم سے ہمارا مال مانگا ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ بیرحاء میں موجود اپنی زمین کو میں اللہ کے نام کرتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین سیدنا حسان بن ثابت اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کر دی۔
حدیث نمبر: 4425
نَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا : نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، بِعَسْقَلانَ ، نَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا مِنْ مَالِي شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمِائَةِ وَسْقٍ الَّتِي أَطْعَمْتَنِيهَا مِنْ خَيْبَرَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَاجْعَلْ ثَمَرَهَا صَدَقَةً ، قَالَ : فَكَتَبَ عُمَرُ هَذَا الْكِتَابَ : مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ وَالْمِائَةِ الْوَسْقِ الَّتِي أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ ، إِنِّي حَبَسْتُ أَصْلَهَا وَجَعَلْتُ ثَمَرَتَهَا صَدَقَةً لِذِي الْقُرْبَى ، وَالْيَتَامَى ، وَالْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْمُقِيمِ عَلَيْهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا لا جُنَاحَ ، وَلا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، مَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ ، جَعَلَ ذَلِكَ إِلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ ، فَإِذَا مَاتَتْ ، فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے نزدیک سب سے بہترین مال وہ زمین ہے، جس کی پیداوار ایک سو وسق ہے، جو آپ نے مجھے خیبر میں عطا کی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھوائی: ”یہ عمر بن خطاب کی طرف سے ہے، جو ’شمغ‘ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سو وسق کے بارے میں ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیے تھے، جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دوں گا، جو قریبی رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا۔ تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلا سکتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ وصیت کی تھی، پھر اگر ان کا انتقال ہو جاتا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہو جاتی۔
حدیث نمبر: 4426
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلافُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ " أَرَادَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین صدقہ کرنے کا ارادہ کیا، جو شمغ میں موجود تھی، اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“
حدیث نمبر: 4427
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ ، قِيلَ لَهُ : وَفِي كِتَابِكَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ الأَزْدِيِّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ ، نَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالا وَهُوَ نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ ، قَالَ : تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا لا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرَتُهُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهِ ، فَصَدَقْتُهُ كُتِبَتْ عَلَى ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالْمَسَاكِينِ ، وَذِي الْقُرْبَى ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مَأْثُومٍ فِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایک زمین ملی ہے، جو بہترین ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کو اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین کو فروخت نہ کیا جا سکے، ہبہ نہ کیا جا سکے، وراثت میں تقسیم نہ کیا جا سکے اور اس کے پھل کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی طرح صدقہ کیا اور انہوں نے اس کے صدقہ کرنے کی تحریر میں یہ بات لکھوائی کہ یہ اللہ کی راہ میں (یعنی مجاہدین کو)، مہمانوں کو، مسافروں کو، غریبوں کو اور قریبی رشتے داروں کو دیا جا سکے گا۔ جو شخص اس زمین کا نگران ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، تو اس پر کوئی حرج اور کوئی گناہ نہیں ہو گا۔