کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: اللہ کی راہ میں کوئی چیز وقف کرنے کے احکام
حدیث نمبر: 4397
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، قَال : " لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ وَلا بَيْضَاءَ إِلا أَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً ، وَبَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وصال کے بعد) کوئی سونا یا چاندی نہیں چھوڑے تھے، صرف ایک زمین چھوڑی تھی، جسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا، اور ایک سفید خچر کو چھوڑا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4397
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2739، 2873، 2912، 3098، 4461، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2489، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1533، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3598 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4397، 4398، 4399، 4400، 4401، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18749، والترمذي فى "الشمائل"، 399»
حدیث نمبر: 4398
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا سِلاحَهُ ، وَبَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکے میں صرف اپنے ہتھیار، اپنا سفید خچر اور ایک زمین چھوڑی تھی، جسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4398
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2739، 2873، 2912، 3098، 4461، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2489، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1533، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3598 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4397، 4398، 4399، 4400، 4401، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18749، والترمذي فى "الشمائل"، 399»
حدیث نمبر: 4399
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا بِمِصْرَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ ، نَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلا دِرْهَمًا ، وَلا عَبْدًا ، وَلا أَمَةً إِلا بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا ، وَسِلاحَهُ ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى : " جَعَلَهَا صَدَقَةً ".
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار یا کوئی درہم یا کوئی غلام یا کوئی کنیز (ترکے میں) نہیں چھوڑے تھے، صرف آپ کا سفید خچر تھا، جس پر آپ سوار ہوا کرتے تھے، آپ کا اسلحہ تھا اور ایک زمین تھی، جسے آپ نے اللہ کے نام پر (صدقے کے طور پر) کر دیا تھا۔ قتیبہ نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”آپ نے اسے صدقہ قرار دیا تھا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4399
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2739، 2873، 2912، 3098، 4461، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2489، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1533، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3598 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4397، 4398، 4399، 4400، 4401، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18749، والترمذي فى "الشمائل"، 399»
حدیث نمبر: 4400
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، نَا زُهَيْرٌ ، نَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، " خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي امْرَأَتِهِ ، قَالَ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا ، وَلا دِينَارًا ، وَلا عَبْدًا ، وَلا أَمَةً ، وَلا شَيْئًا إِلا بَغْلَتَهُ وَسِلاحَهُ ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر اور نسبتی اور آپ کی اہلیہ محترمہ کے بھائی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے وقت کوئی درہم و دینار، غلام، کنیز یا کوئی بھی چیز ترکے میں نہیں چھوڑی تھی، صرف آپ کا خچر تھا، آپ کے ہتھیار تھے اور ایک زمین تھی، جسے آپ نے صدقے کے طور پر چھوڑا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4400
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2739، 2873، 2912، 3098، 4461، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2489، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1533، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3598 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4397، 4398، 4399، 4400، 4401، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18749، والترمذي فى "الشمائل"، 399»
حدیث نمبر: 4401
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ : " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا تَرَكَ إِلا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ ، وَسِلاحَهُ ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ نے ترکے میں صرف اپنا سفید خچر، اپنا اسلحہ اور ایک زمین چھوڑی تھی، جسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4401
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2739، 2873، 2912، 3098، 4461، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2489، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1533، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3598 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4397، 4398، 4399، 4400، 4401، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18749، والترمذي فى "الشمائل"، 399»
حدیث نمبر: 4402
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُطَرِّفٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا فِي الإِسْلامِ صَدَقَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَأَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَشِرْ كَيْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں کیا جانے والا پہلا صدقہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی تھی: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے مشورہ دیجیے کہ میں اس کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کروں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4402
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4403
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَزْدِيُّ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ ابْنَةِ كَعْبٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أَصَبْتُ مَالا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهِ وَأَمْسَكْتَ أَصْلَهُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ عَلَى الْقُرْبَى ، وَالْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالا ، أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْهُ مَالا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایک زمین ملی ہے، مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ زمین کبھی نہیں ملی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اس کے (پھل کو) صدقہ کر دو اور اصل زمین اپنے پاس رکھو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے (پھل کو) اپنے قریبی رشتے داروں، غریبوں اور مسافروں کے لیے صدقہ قرار دیا تھا اور اس کی نگرانی کرنے والے شخص کو بھی کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ خود اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، بشرطیکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4403
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4404
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو جَعْفَرٍ الْحَرَّانِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، يُقَالُ لَهَا : ثَمْغٌ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " احْبِسْ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْ بِثَمَرَتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، جس کا نام ثمغ تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زمین تم اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4404
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4405
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ بِثَمْغٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِهِ تَقْسِمُ ثَمَرَهُ ، وَتَحْبِسُ أَصْلَهُ لا يُبَاعُ ، وَلا يُورَثُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ”شمغ“ میں موجود اپنی زمین صدقہ کرنے کے بارے میں اجازت مانگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے صدقہ اس طرح کرو کہ تم اس کا پھل تقسیم کر دو اور زمین اپنے پاس رہنے دو، جسے فروخت بھی نہ کیا جا سکے اور وراثت میں منتقل بھی نہ کیا جا سکے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4405
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4406
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ بِلالٍ ، نَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالا : نَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو الرَّبِيعِ الرَّازِيُّ ، نَا حَرْمَلَةُ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ " اسْتَشَارَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِثَمَرِهِ ، وَاحْبِسْ أَصْلَهُ لا يُبَاعُ ، وَلا يُورَثُ " ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : " تَصَدَّقْ بِهِ تَقْسِمُ ثَمَرَهُ ، وَتَحْبِسُ أَصْلَهُ ، لا يُبَاعُ ، وَلا يُورَثُ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لیا کہ وہ ثمغ میں موجود اپنی زمین کو صدقہ کر دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے پھل کو صدقہ کر دو اور زمین اپنے پاس رہنے دو، اس طرح کہ اسے فروخت نہ کیا جا سکے اور اسے وراثت میں بھی نہ دیا جا سکے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”تم اسے اس طرح صدقہ کرو کہ اس کا پھل تقسیم ہو جائے اور اصل زمین تمہارے پاس رہے کہ اسے فروخت نہ کیا جا سکے اور وراثت میں نہ دیا جا سکے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4406
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4407
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " اسْتَأْمَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ ، فَقَالَ : احْبِسْ أَصْلَهَا ، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شمغ میں موجود زمین صدقہ کرنے کے بارے میں اجازت مانگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4407
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4408
وثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَهْرَيَارَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ . ح وثنا أَبُو سَهْلٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُصَفَّى ، قَالا : نَا بَقِيَّةُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ أَرْضِي مِنْ ثَمْغٍ ، فَقَالَ : احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے شمغ میں موجود اپنی زمین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4408
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
حدیث نمبر: 4409
نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ هِلالٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِمَالِي ، قَالَ : احْبِسْ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْ بِثَمَرَتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے مال کو صدقہ کر دوں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4409
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال ابن حج