کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 4354
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَهُ : " تَرَى تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَرَّةٌ وَاحِدَةٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4354
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4354 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 4355
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالا : " يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ " .
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: ”رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، وہ حرمت کو ثابت کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4355
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3314، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5439، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15741، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4355، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17311، 17312»
حدیث نمبر: 4356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ السَّوَّاقُ ، قَالا : نَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے، ان میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ دوسرے راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک مرتبہ منہ میں لینے یا دو مرتبہ منہ میں لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4356
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3312 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال ابن عبدالبر: لا يصح مرفوعا، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 275) »
حدیث نمبر: 4357
وَأَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا : " لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ، وَقَالَ الآخَرُ : لا تُحَرِّمُ الإِمْلاجَةُ وَالإِمْلاجَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے، ان میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ دوسرے راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک مرتبہ منہ میں لینے یا دو مرتبہ منہ میں لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4357
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3312 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال الترمذي : هو الصحيح ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 217)»
حدیث نمبر: 4358
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتَبَسَ لَبَنُهَا فَخَشِيَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ فِي حَلْقِهِ ، فَسَأَلَ أَبَا مُوسَى ، فَقَالَ : حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ ، إِلا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ ، وَأَنْشَرَ الْعَظْمَ " .
محمد محی الدین
ابوموسیٰ ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر کر رہا تھا، اس کی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا، لیکن اس عورت کا دودھ جاری نہیں ہوا۔ اس شخص کو اس عورت کی طرف سے اندیشہ ہوا، تو اس نے اس عورت کی چھاتی کو چوسنا شروع کیا، جس کی وجہ سے دودھ اس کے حلق تک پہنچ گیا، اس نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ عورت تم پر حرام ہو گئی ہے۔“ پھر وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وہی رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے، جو گوشت پیدا کرے اور ہڈیوں کی نشوونما کا باعث بنے (یعنی جو کم عمری میں ہو)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4358
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1205، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2059، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4196، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17308»
«قال أبوحاتم الرازي: وأبو موسى وأبوه مجهولان ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 8)»
حدیث نمبر: 4359
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَاتِبُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ ، نَا حَنْظَلَةُ ، نَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلا الرَّضْعَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ (ایک گھونٹ) پی لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4359
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15738، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4359، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17306»
حدیث نمبر: 4360
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا جَرِيرٌ . ح وَنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْكَرْخِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَلا الْمَصَّتَانِ ، وَلا يُحَرِّمُ إِلا مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : " إِذَا دَخَلَتْ قَطْرَةٌ وَاحِدَةٌ فِي جَوْفِ الصَّبِيِّ وَهُوَ صَغِيرٌ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ " ، وَقَالَ عُثْمَانُ : " إِلا مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوس لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، حرمت اس کے ذریعے ثابت ہوتی ہے، جو انتڑیوں کو سیراب کر دے۔“ ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کے سامنے ذکر کی، تو وہ بولے: ”جب دودھ کا ایک قطرہ بھی بچے کے پیٹ تک پہنچ جائے، جبکہ وہ ابھی چھوٹا ہو، تو اس کے لیے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔“ جبکہ عثمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ ”صرف اسی کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے، جو دودھ انتڑیوں کو سیراب کر دے۔“ انہوں نے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نقل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4360
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1200، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5437، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1946، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4356، 4360، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17340، 17341»
«قال ابن عبدالبر: لا يصح مرفوعا ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 9)»
حدیث نمبر: 4361
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبُو مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ لا يَمُصُّ ، فَأَخَذَ زَوْجُهَا يَمُصُّ لَبَنَهَا وَيَمُجُّهُ ، قَالَ : حَتَّى وَجَدْتُ طَعْمَ لَبَنِهَا فِي حَلْقِي ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : حُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ ، فَأَتَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : " أَنْتَ الَّذِي تُفْتِي مَا هَذَا بِكَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا رَضَاعَ إِلا مَا شَدَّ الْعَظْمَ ، وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی سفر کر رہی تھی، اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ بچہ دودھ نہیں چوس سکتا تھا، تو اس عورت کے شوہر نے اس عورت کے دودھ کو چوسنا شروع کیا، یہاں تک کہ اسے اس دودھ کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس ہوا، وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے۔“ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”آپ نے یہ فتویٰ دیا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’رضاعت وہی ہوتی ہے، جو ہڈی کو مضبوط کرتی ہے اور گوشت کو پیدا کرتی ہے۔‘“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4361
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1205، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2059، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4196، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17308»
«قال أبوحاتم الرازي: وأبو موسى وأبوه مجهولان ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 8)»
حدیث نمبر: 4362
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا أَبُو حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : " إِنَّ امْرَأَتِي وَرِمَ ثَدْيُهَا فَمَصَصْتُهُ فَدَخَلَ فِي حَلْقِي شَيْءٌ سَبَقَنِي ، فَشَدَّدَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : سَأَلْتَ أَحَدًا غَيْرِي ؟ ، قَالَ : نَعَمْ أَبَا مُوسَى فَشَدَّدَ عَلَيَّ ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى ، فَقَالَ : أَرَضِيعٌ هَذَا ؟ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " .
محمد محی الدین
ابوعطیہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”میری بیوی کی چھاتی میں ورم آ گیا تھا، میں نے اسے چوسا، تو میرے حلق میں تھوڑا سا دودھ چلا گیا۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے سخت ڈانٹا، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم نے میرے علاوہ بھی کسی سے یہ مسئلہ دریافت کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں! سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور انہوں نے مجھے اس بارے میں سخت ڈانٹا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”کیا یہ شخص دودھ پینے والا بچہ ہے؟“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں، تم لوگ مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4362
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1205، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2059، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4196، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17308»
حدیث نمبر: 4363
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ يَقُولُ : " لا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دو سال گزر جانے کے بعد رضاعت کا اعتبار نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 27، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 980، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15766،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4363، 4364، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17334، 17335»
«قال ابن حجر: سند صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 414)»
حدیث نمبر: 4364
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دُبَيْسِ بْنِ أَحْمَدَ ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا : نَا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا رَضَاعَ إِلا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ عَنِ ابْنِ عُنَيْنَةَ ، غَيْرُ الْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ حَافِظٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو سال کے اندر جو ہو، صرف وہی رضاعت معتبر ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 27، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 980، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15766،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4363، 4364، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17334، 17335»
«قال ابن حجر: سند صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 414)»
حدیث نمبر: 4365
نَا نَا أَبُو رَوْقٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " لا رَضَاعَ إِلا فِي الْحَوْلَيْنِ فِي الصِّغَرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کم سنی میں رضاعت صرف وہی ہوتی ہے، جو دو سال کے اندر ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4365
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 985، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15763، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4365، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17336، 17337»
حدیث نمبر: 4366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ . ح وثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُلْبُلٍ أَبُو أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ " عَنِ الْمَصَّةِ الْوَاحِدَةِ أَتُحَرِّمُ ؟ ، قَالَ : لا " ، وَقَالَ أَبُو حَامِدٍ : إِنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ ؟ قَالَ : " لا ".
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گھونٹ چوسنے کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا یہ حرمت کو ثابت کر دیتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں!“۔ ابوحامد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! کیا ایک مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں!“۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4366
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1451،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4229،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3310، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5430،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1940،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4366، 4380، 4381، 4382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27514، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17301»
«قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
حدیث نمبر: 4367
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا أَبِي ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلا الْمَصَّتَانِ ، وَلَكِنْ مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، حرمت اس کے ذریعے ثابت ہوتی ہے، جو آنتوں کو سیراب کر دے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4367
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3311 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال ابن حجر: قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
حدیث نمبر: 4368
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أُمَيَّةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَطَّامِيِّ ، نَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ فُلانًا تَزَوَّجَ وَقَدْ أَرْضَعْتُهُمَا ، قَالَ : فَكَيْفَ أَرْضَعْتِهِمَا ؟ ، قَالَتْ : أَرْضَعْتُ الْجَارِيَةَ وَهِيَ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ وَنِصْفٍ ، وَأَرْضَعْتُ الْغُلامَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثِ سِنِينَ ، فَقَالَ : اذْهَبِي فَقُولِي لَهُ فَلْيُضَاجِعْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا لا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِطَامِ ، وَإِنَّمَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا فِي الْمَهْدِ " ، ابْنُ الْقَطَّامِيِّ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”فلاں شخص نے شادی کر لی ہے، جبکہ میں نے ان دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے ان دونوں کو کب دودھ پلایا تھا؟“ تو اس خاتون نے جواب دیا: ”میں نے اس بچی کو اس وقت دودھ پلایا تھا، جب وہ ساڑھے چھ سال کی تھی اور بچے کو اس وقت دودھ پلایا تھا، جب وہ تین سال کا تھا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اس سے کہہ دو کہ اپنی بیوی کے ساتھ خوشی خوشی رہے، کیونکہ دودھ پلانے کی عمر کے بعد رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا، وہ رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے، جو اس وقت ہو، جب بچہ گود میں ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4368
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4368 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 4369
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ ، وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ ، قَالَ : تَزَوَّجَتِ امْرَأَةٌ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : " إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلانَةَ بِنْتَ فُلانٍ ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، قَالَ : كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور بولی: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”میں نے فلاں کی صاحبزادی، فلاں لڑکی سے شادی کی ہے، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، وہ عورت جھوٹ بولتی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں دوسری طرف سے آپ کے سامنے آیا، تو میں نے عرض کی: ”وہ جھوٹ بولتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ اس نے یہ بات بیان کر دی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تم اس عورت کو (یعنی اپنی بیوی کو) اپنے سے الگ کر دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4369
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
حدیث نمبر: 4370
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : لَمْ يُحَدِّثْنِي ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، قَالَ : " تَزَوَّجَتِ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ : كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ ، قَالَ : وَنَهَاهُ عَنْهَا " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوایہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت آئی اور بولی: ”میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔“ (سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ میں نے دوبارہ آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ میں نے چوتھی مرتبہ یا شاید تیسری مرتبہ دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس خاتون کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے روک دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4370
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
حدیث نمبر: 4371
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ . قَالَ أَبُو عَاصِمٍ ، وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَتِ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”میں نے ابوایہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4371
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
حدیث نمبر: 4372
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، " أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ أَبِي إِهَابٍ التَّيْمِيِّ ، فَأَعْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَبَسَّمَ ، وَقَالَ : كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک سیاہ فام عورت آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ ”میں نے ان دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔“ سیدنا عقبہ کی اہلیہ ابوایہاب کی صاحبزادی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر آپ مسکرا دیے اور ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے، جب کہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4372
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
حدیث نمبر: 4373
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَسَأَلَتْ فَأَبْطَأْنَا عَلَيْهَا ، قَالَتْ : تَصَدَّقُوا عَلَيَّ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَرْضَعْتُكُمَا جَمِيعًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : دَعْهَا عَنْكَ لا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی، ایک سیاہ فام عورت اس کے پاس آئی، اس نے کچھ مانگا، ہم نے اسے دینے میں دیر کی، تو وہ بولی: ”تم میری اس بات کی تصدیق کرو، اللہ کی قسم! میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے سے الگ کر دو، تمہارے لیے اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4373
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 88، 2052، 2640، 2659، 2660، 5104، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5885، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3332 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3603، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1151، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4369، 4370، 4371، 4372، 4373، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16399، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 590، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16684، 37291»
حدیث نمبر: 4374
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَغَيْرِهِمَا ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتِ : " اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ بَعْدَمَا نزل الْحِجَابُ ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، فَقَالَ : ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے چچا افلح بن ابوالقعیس نے حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (بعد میں) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے اجازت دے دینی تھی، کیونکہ وہ تمہارا چچا ہے۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے اجازت دے دینی تھی، کیونکہ وہ تمہارا چچا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4374
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2644، 2646، 3105، 4796، 5099، 5103، 5111، 5239، 6156، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1444، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1191 ، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3302، 1، 3303، 1، 3304، 3305 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2055، 2057، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1147، 1148، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1937، 1948، 1949، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4374، 4375، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24688، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 231، 232،والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 243، 746، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17321، 17323»
حدیث نمبر: 4375
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نَا أَبُو الطَّاهِرِ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَزَّازُ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالا : نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ، وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ نزل الْحِجَابُ ، قَالَتْ : فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے اور ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے، یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو میں نے آپ کو اپنے طرز عمل کے بارے میں بتایا، تو آپ نے ہدایت کی کہ ”میں انہیں (گھر کے اندر آنے کی) اجازت دے دیا کروں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4375
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2644، 2646، 3105، 4796، 5099، 5103، 5111، 5239، 6156، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1444، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1191 ، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3302، 1، 3303، 1، 3304، 3305 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2055، 2057، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1147، 1148، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1937، 1948، 1949، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4374، 4375، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24688، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 231، 232،والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 243، 746، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17321، 17323»
حدیث نمبر: 4376
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ أنزلت آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَاعَةُ الْكَبِيرِ عَشْرًا ، فَلَقَدْ كَانَتْ فِي صَحِيفَةٍ تَحْتَ سَرِيرِي ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اشْتَغَلْنَا بِمَوْتِهِ فَدَخَلَ الدَّاجِنُ فَأَكَلَهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے یہ آیت نازل ہوئی تھی، جس میں سنگسار کا حکم تھا اور وہ آیت نازل ہوئی تھی، جس میں یہ حکم تھا کہ بڑے بچے کو دس مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ میرے پاس صحیفے میں یہ بات موجود تھی، جو میرے بستر کے نیچے تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور آپ کے وصال کی وجہ سے ہم مصروف رہے، تو اسی دوران بکری اندر آئی اور اس نے اسے کھا لیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4376
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1452، 1452، 1452، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1208 ، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3310، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5425، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2062، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2299، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1942، 1944،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4376، 4384، 4393، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 26957»
حدیث نمبر: 4377
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الرَّضَاعَةِ ، فَقَالَ : لا أَعْلَمُ إِلا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقِيلَ لَهُ : فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ لا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلا الرَّضْعَتَانِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَضَاءُ اللَّهِ تَعَالَى خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ ، وَقَضَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رضاعت کے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”میرے علم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رضاعی بہن کو حرام قرار دیا ہے۔“ ان سے کہا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تو یہ کہتے ہیں کہ ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا فیصلہ تمہارے فیصلے اور عبداللہ بن زبیر کے فیصلے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4377
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 984، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15742، 15743، 15744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4377، 4392، 4394، 4395، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13911»
حدیث نمبر: 4378
نَا نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَمَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ " عَنْ رَجُلٍ لَهُ امْرَأَةٌ وَسَرِيَّةٌ ، فَوَلَدَتْ إِحْدَاهُمَا غُلامًا وَأَرْضَعَتِ الأُخْرَى جَارِيَةً ، هَلْ يَصِحُّ لِلْغُلامِ أَنْ يَنْكِحَ الْجَارِيَةَ ، فَقَالَ : لا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس کی ایک بیوی ہو اور ایک کنیز ہو، ان دونوں میں سے ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور دوسری بچی کو جنم دیتی ہے، تو کیا بچے کے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ وہ اس کنیز کی لڑکی سے نکاح کر لے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں! کیونکہ نطفہ ایک ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4378
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1195، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1149، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 966، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15718، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4378، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13942، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17636»
حدیث نمبر: 4379
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أَرْضَعَتْنِي ، وَكَانَ الزُّبَيْرُ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ ، فَيَأْخُذُ بِقَرْنٍ مِنْ قُرُونِ رَأْسِي ، وَيَقُولُ : أَقْبِلِي عَلَيَّ حَدِّثِينِي ، وَتَرَى أَنَّهُ أَبِي ، وَإِنَّمَا وَلَدَهُ إِخْوَتِي ، فَلَمَّا كَانَ قِبَلَ الْحَرَّةِ أَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ابْنَتِي عَلَى حَمْزَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَحَمْزَةُ ، وَمُصْعَبٌ مِنَ الْكِلابِيَّةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ : وَهَلْ يَصْلُحُ لَهُ ؟ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ : إِنَّمَا تُرِيدِينَ مَنْعَ ابْنَتِكِ أَنَا أَخُوكِ وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَاءُ فَهُمْ إِخْوَتُكَ ، وَأَمَّا وَلَدُ الزُّبَيْرِ لِغَيْرِ أَسْمَاءِ ، فَلَيْسُوا لَكِ بِإِخْوَةٍ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالُوا : إِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ لا تُحَرِّمُ شَيْئًا " .
محمد محی الدین
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے مجھے دودھ پلایا تھا، اس لیے (سیدہ اسماء کے شوہر) سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میرے ہاں ایسے وقت میں بھی آ جایا کرتے تھے، جب میں کنگھی کر رہی ہوتی تھی، وہ میرے بال پکڑ کر مجھ سے کہا کرتے تھے: ”ادھر میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ بات کرو۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سمجھتی تھیں کہ وہ میرے والد ہیں اور سیدہ اسماء کے بچے میرے بھائی ہیں۔ اس کے بعد واقعہ جرہ سے کچھ پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے (جو میرے رضاعی بھائی تھے) اپنے بیٹے حمزہ کے لیے میری بیٹی کا رشتہ مانگا۔ حمزہ اور مصعب یہ دونوں فلاں عورت کے بیٹے تھے۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”کیا ایسا کرنا درست ہو گا؟“ تو عبداللہ بن زبیر نے مجھے جواب میں پیغام بھیجا کہ ”کیا تم اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کرنا چاہتی ہو؟ میں تمہارا بھائی ہوں اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے بچے تمہارے بھائی ہیں، لیکن سیدنا زبیر کی وہ اولاد، جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے بچوں سے ہے، وہ تمہارے بہن بھائی نہیں ہیں۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب انہوں نے یہ پیغام بھیجا، تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ کرام بھی موجود تھے اور امہات المؤمنین بھی موجود تھیں، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ”رضاعت مرد کی طرف سے کسی چیز کی حرمت کو ثابت نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4379
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4379 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 4380
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ النَّضْرِ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُحَرِّمُ الإِمْلاجَةُ ، وَالإِمْلاجَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ایک یا دو گھونٹ پی لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4380
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1451، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4229، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3310 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5430، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1940، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4366، 4380، 4381، 4382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27514،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17301»
«قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
حدیث نمبر: 4381
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ أَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً فَزَعَمَتِ الأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ ، أَوْ قَالَ : إِمْلاجَةً أَوْ إِمْلاجَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُحَرِّمُ الإِمْلاجَةُ وَلا الإِمْلاجَتَانِ ، أَوْ قَالَ : الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے، ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے، میں نے اس کے بعد ایک اور عورت کے ساتھ شادی کی، تو میری پہلی بیوی نے یہ بات بیان کی، اس نے میری بیوی کو دودھ پلایا ہوا ہے، جو ایک یا شاید دو مرتبہ پلایا تھا یا ایک یا دو گھونٹ پلایا تھا (یہاں پر شک راوی کو ہے)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یا دو گھونٹ بھرنے سے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: ایک یا دو مرتبہ پینے سے) حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4381
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1451، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4229، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3310 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5430، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1940، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4366، 4380، 4381، 4382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27514،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17301»
«قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
حدیث نمبر: 4382
نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُحَرِّمُ الإِمْلاجَةُ ، وَلا الإِمْلاجَتَانِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَلا الْمَصَّةُ ، وَلا الْمَصَّتَانِ ".
محمد محی الدین
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک یا دو گھونٹ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ قتادہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے (حرمت ثابت نہیں ہوتی)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4382
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1451، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4229، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3310 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5430، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1940، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4366، 4380، 4381، 4382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27514،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17301»
«قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
حدیث نمبر: 4383
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ الشِّيعِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعْتَمِرٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالا : نَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ ، وَلا الْمَصَّتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4383
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3311 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال ابن حجر: قال ابن حجر: حديث المصتان جاء أيضا من طرق صحيحة لكن قد قال بعضهم إنه مضطرب لأنه اختلف فيه هل هو عن عائشة أو عن الزبير أو عن ابن الزبير أو عن أم الفضل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 49)»
حدیث نمبر: 4384
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " نزل فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، وَهِيَ تُرِيدُ مَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ ، ثُمَّ نزل بَعْدُ أَوْ خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قرآن میں پہلے دس متعین مرتبہ چوسنے کا حکم نازل ہوا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہ رضاعت، جس کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے، اس میں دس مرتبہ چوسنا لازم ہے، اس کے بعد پانچ متعین مرتبہ کا حکم نازل ہوا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4384
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1452، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1208 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4221، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3309 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5425، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2062، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2299، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1942، 1944، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4376، 4384، 4393، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 26957»
حدیث نمبر: 4385
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص باقی سب لوگوں کے مقابلے میں اس کی زندگی اور موت میں زیادہ قریب شمار ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4385
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2886، 2887، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6378، 6379، 6380، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2918، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2112، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3076، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2752، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4385، 4387، 4388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17218، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32230»
«قال ابن حجر: لا يصح ، تهذيب التهذيب: (2 / 440)»
حدیث نمبر: 4386
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا ابْنُ أَبِي مَذْعُورٍ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّامِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ رَجُلٌ فَلَهُ وَلاؤُهُ " ، الصَّدَفِيُّ ، ضَعِيفٌ ، وَالَّذِي قَبْلَهُ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، تو وہ دوسرا شخص پہلے کے ولاء کا مالک ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4386
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 200، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21504، 21505، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4386، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1543، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 7781»
«قال الدارقطني: الصدفي ضعيف ، والذي قبله مرسل»
حدیث نمبر: 4387
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ ؟ ، قَالَ : هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”وہ دیگر سب لوگوں کے مقابلے میں اس کی زندگی اور موت میں اس سے زیادہ قریب ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4387
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2886، 2887، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6378، 6379، 6380، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2918، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2112، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3076، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2752، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4385، 4387، 4388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17218، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32230»
«قال ابن حجر: لا يصح ، تهذيب التهذيب: (2 / 440)»
حدیث نمبر: 4388
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكِلابِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، رَجُلٍ مِنْ خَوْلانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آپ نے ایک شخص سے سوال کیا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4388
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2886، 2887، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6378، 6379، 6380، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2918، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2112، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3076، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2752، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4385، 4387، 4388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17218، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 32230»
«قال ابن حجر: لا يصح ، تهذيب التهذيب: (2 / 440)»
حدیث نمبر: 4389
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، نَا أَبِي ، نَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا أَبِي ، نَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ " عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : لا تَحِلُّ اللُّقَطَةُ ، مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَهُ صَاحِبُهَا فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ صَاحِبُهَا فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا ، وَإِنْ جَاءَهُ فَلْيُخَيِّرْهُ بَيْنَ الآخَرِ وَبَيْنَ الَّذِي لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گری ہوئی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”گری ہوئی چیز کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے، جو شخص اس کو اٹھا لیتا ہے، وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرے گا، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے، تو وہ اسے لوٹا دے گا، اگر اس کا مالک نہیں آتا، تو وہ اسے صدقہ کر دے گا اور اگر پھر اس کا مالک آ جاتا ہے، تو وہ اسے اس کی چیز یا اس کی مانند دوسری چیز کے بارے میں اختیار دے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4389، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) 12/128، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2208، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 72،»
«قال الهيثمي: فيه يوسف بن خالد السمتي وهو كذاب ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (4 / 168)»
حدیث نمبر: 4390
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فُرِغَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ ، وَالرِّزْقِ ، وَالأَجَلِ ، فَلَيْسَ أَحَدٌ اكْتَسَبَ مِنْ أَحَدٍ ، وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ أَوْ لَمْ تُقْبَضْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ چار چیزوں سے فارغ ہو چکا ہے: تخلیق، عادت و اطوار، رزق اور عمر، تو کوئی شخص کسی دوسرے سے ان میں سے کسی بھی چیز کا اکتساب نہیں کر سکتا۔ صدقہ دینا جائز ہے، خواہ اسے قبضے میں لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4390
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4390، 4448، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 8952، 8953، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1560، 7325»
حدیث نمبر: 4391
نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ أُسِرَ فَأُخِذَتِ الْعَضْبَاءُ مَعَهُ ، فَأَتَى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، " عَلامَ تَأْخُذُونِي وَتَأْخُذُونَ الْعَضْبَاءَ وَأَنَا مُسْلِمٌ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاحِ ، قَالَ : وَمَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي ، وَإِنِّي ظَمْآنُ فَاسْقِنِي ، فَقَالَ : هَذِهِ حَاجَتُكَ ، قَالَ : فَفُودِيَ بِرَجُلَيْنِ وَحَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ الْمَدِينَةِ ، وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرِيحُونَ إِبِلَهُمْ بِأَفْنِيَتِهِمْ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ نُوِّمُوا وَعَمَدَتْ إِلَى الإِبِلِ ، فَمَا كَانَتْ تَأْتِي عَلَى نَاقَةٍ مِنْهَا إِلا رَغَتْ حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ ، فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ فَرَكِبَتْهَا حَتَّى أَتَتِ الْمَدِينَةَ ، وَنَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ تَعَالَى نَجَّاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا أَتَتِ الْمَدِينَةَ عَرَفَ النَّاسُ النَّاقَةَ ، وَقَالُوا : الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا ، فَقَالَ : بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَوْ جَزَيْتِيهَا ، لا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عضباء نامی اونٹنی بنو عقیل کے ایک شخص کی ملکیت تھی، اس شخص کو قیدی بنایا گیا، اس شخص کے ساتھ اس کی اونٹنی عضباء کو بھی قیدی بنا دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، آپ اس وقت ایک گدھے پر سوار تھے، جس پر کپڑا ڈالا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ لوگوں نے کس بنیاد پر مجھے پکڑا ہے اور کس وجہ سے عضباء کو پکڑا ہے، جبکہ میں مسلمان ہوں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تم یہ بات کہہ رہے ہو، تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو (یعنی آزاد ہو) اور تمہیں مکمل فلاح نصیب ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، تو وہ شخص (پیچھے سے) بولا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میں بھوکا ہوں، مجھے کچھ کھانے کے لیے دیں، میں پیاسا ہوں، آپ مجھے کچھ پینے کے لیے دیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔“ پھر اس شخص کو دو آدمیوں کے فدیے کے بدلے میں چھوڑ دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضباء نامی اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے رکھ دیا، کیونکہ وہ تیز سفر کیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے مدینہ منورہ کے ایک حصے پر رات کے وقت ڈاکہ ڈالا اور ایک مسلمان عورت کو قیدی کر لیا۔ مشرکین نے اپنی کھلی جگہ پر اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لیے بٹھا دیا، جب رات ہوئی اور وہ لوگ سو گئے، تو وہ عورت جس اونٹ کے پاس گئی، اس نے آواز نکالی، وہ اس اونٹنی عضباء کے پاس آئی، تو اس نے آواز نہیں نکالی، وہ بڑی فرماں بردار اونٹنی تھی، وہ عورت اس اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آ گئی۔ اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے نجات نصیب کر دی، تو وہ اس اونٹنی کو قربان کر دے گی، جب وہ مدینہ منورہ پہنچی اور لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو پہچان لیا، تو بولے: ”یہ تو عضباء ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور اس کی نذر کے بارے میں آپ کو بتایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے بہت برا بدلہ دیا ہے، معصیت کے کام میں کوئی نذر نہیں ہوتی اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے بارے میں کوئی نذر نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4391
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1641، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4391، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3823 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3316، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1568،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4391، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20141،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 851، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12272»
حدیث نمبر: 4392
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : " تُحَرِّمُ مِنْهَا مَا قَلَّ وَمَا كَثُرَ " . قَالَ : وَقَالَ قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَمَّا بَلَغَهُ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ يَأْثُرُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " فِي الرَّضَاعِ أَنَّهُ لا يُحَرِّمُ مِنْهُ دُونَ سَبْعِ رَضَعَاتٍ ، قَالَ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، خَيْرٌ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ ، إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ سورة النساء آية 23 ، وَلَمْ يَقُلْ : رَضْعَةً وَلا رَضْعَتَيْنِ " .
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: تھوڑی رضاعت بھی وہی حرمت ثابت کرتی ہے جو زیادہ رضاعت سے ثابت ہوتی ہے، ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اس بات کا پتہ چلا کہ عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رضاعت کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے: سات مرتبہ سے کم دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا فرمان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اور تمہاری رضاعی بہنیں۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کی رضاعت۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4392
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 984، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15742، 15743، 15744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4377، 4392، 4394، 4395»
حدیث نمبر: 4393
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لا يُحَرِّمُ دُونَ خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”پانچ مرتبہ سے کم رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الرضاع / حدیث: 4393
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1452، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1208 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4221، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3309 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5425، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2062، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2299، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1942، 1944، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4376، 4384، 4393، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 26957»