حدیث نمبر: 4317
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ ، نَا سَلامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّذْرُ نَذْرَانِ ، فَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لِلَّهِ فَلْيَفِ بِهِ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نذر دو طرح کی ہوتی ہے، تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے نذر مانتا ہے، وہ اس کو پورا کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق کوئی نذر مانتا ہے، تو اس کا کفارہ یہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4318
نَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ الإِمَامُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ ، نَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ . ح وَنا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ بُكَيْرٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ خَالِدٍ الدِّيلِيِّ ، أَوْ عَنْ خَالِهِ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لِلَّهِ يُطِيقُهُ فَلْيَفِ بِهِ " ، وَاللَّفْظُ لِلْمَحَامِلِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کوئی نذر مانتے ہوئے اس کا نام نہ لے، تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہو گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق نذر مانے، تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہو گا اور جو شخص کوئی نذر مانے اور وہ نذر اس کی طاقت میں نہ ہو (یعنی اسے پورا نہ کر سکتا ہو)، تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہو گا، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی ایسی نذر مانے، جس کو وہ پورا کر سکتا ہو، تو پھر وہ اسے پورا کرے۔“
حدیث نمبر: 4319
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نَذْرَ إِلا فِيمَا أُطِيعُ اللَّهُ ، وَلا يَمِينٌ فِي غَصْبٍ ، وَلا طَلاقَ ، وَلا عَتَاقَ فِيمَا لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نذر صرف اسی چیز کے بارے میں ہوتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی گئی ہو، کوئی چیز غصب کرنے کے بارے میں یا جو طلاق دینا یا غلام آزاد کرنا آدمی کی ملکیت میں نہ ہو، تو اس کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 4320
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَزَالٍ أَبُو الْفَضْلِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ نَعْمِ بْنِ هَارُونَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، نَا غَالِبُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِيمَا لا يُطِيقُ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ هَدْيًا إِلَى الْكَعْبَةِ فِي أَمْرٍ لا يُرِيدُ فِيهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ صَدَقَةً فِي أَمْرِ لا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِي أَمْرٍ لا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِي أَمْرِ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَلْيَرْكَبْ وَلا يَمْشِ ، فَإِذَا أَتَى مَكَّةَ قَضَى نَذَرَهُ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لِلَّهِ فِيمَا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَفِ بِهِ مَا لَمْ يُجْهِدْهُ " ، غَالِبٌ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی سے متعلق کسی چیز کی نذر مانے، تو اس کا کفارہ وہی ہو گا، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر کوئی ایسی نذر لازم کر لے، جسے وہ متعین نہ کرے، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص اپنے مال کو کسی اور مقصد کے لیے تحفے کے طور پر خانہ کعبہ بھیجے، اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو، تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص کسی ایسے مقصد کے لیے اپنے مال کو غریبوں میں صدقہ کرے کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو، تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر بیت اللہ تک پیدل چل کر جانا لازم کرے اور وہ کسی ایسی وجہ سے ہو کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے، جو شخص کسی ایسی چیز کے بارے میں بیت اللہ تک پیدل چل کر جانے کی نذر اپنے اوپر لازم کر لے کہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو، تو وہ سوار ہو کر جائے، وہ پیدل ہو کر نہ جائے، جب وہ مکہ آ جائے گا، تو وہ اپنی نذر کو پورا کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی کوئی ایسی نذر مانے، جس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو، تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اسے پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جب تک وہ نذر اسے تھکا نہ دے (یعنی وہ اسے پوری کرنے سے عاجز نہ ہو جائے)۔“
حدیث نمبر: 4321
نَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ الإِمَامُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْبَيَاضِيُّ ، نَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فَأَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جسے متعین نہ کرے، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جسے پوری کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے، اور جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جسے وہ پوری کر سکتا ہو، تو اسے پوری کرنی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 4322
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ ، نَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخَرَقِيُّ ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : " إِنِّي قُلْتُ عَلَيَّ الْمَشْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : قُلْتَ عَلَيَّ نَذْرٌ ؟ ، قَالَ الرَّجُلُ : لا ، فَقَالَ : لَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
ابن حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سعید بن مسیب سے سوال کیا، وہ بولا: ”میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں بیت اللہ تک پیدل چل کر جاؤں گا۔“ تو سعید نے کہا: ”تم نے لفظ نذر ماننا استعمال کیا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: ”نہیں!“ تو سعید نے کہا: ”تم پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 4323
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، نَا أَبِي ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : مَا بَالُ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَذَرَ أَنْ لا يَتَكَلَّمَ ، وَلا يَسْتَظِلَّ ، وَلا يَقْعُدَ وَأَنْ يَصُومَ ، فَقَالَ : مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ ، وَلْيَصُمْ " ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابواسرائیل نامی صاحب کے پاس سے گزرے، جو دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ یہ کلام نہیں کرے گا اور سائے میں نہیں آئے گا اور بیٹھے گا نہیں اور روزہ رکھے گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ بات چیت کرے، سائے میں بھی آ جائے، بیٹھ بھی جائے اور روزہ بھی رکھ لے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ دینے کی ہدایت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 4324
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
اختلاف سند کے ساتھ اسی (گزشتہ) حدیث کے ہی مثل ہے۔
حدیث نمبر: 4325
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي طَاهِرُ بْنُ مِدْرَارٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَ الزُّهْرِي عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ابواسرائیل کے پاس سے گزرے (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)۔
حدیث نمبر: 4327
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادِ بْنِ آدَمَ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا وُهَيْبٌ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى رَجُلا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلا يَقْعُدَ ، وَلا يَسْتَظِلَّ وَيَصُومَ وَلا يَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ : مُرُوهُ فَلْيَقْعُدْ ، وَلْيَسْتَظِلَّ ، وَلْيَتَكَلَّمْ ، وَلْيَصُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، جو دھوپ میں کھڑا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل ہے، اس نے یہ نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے، بیٹھے گا نہیں، سائے میں نہیں آئے گا، روزہ رکھے اور کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے، سائے میں بھی آ جائے، بات چیت بھی کرے، البتہ روزہ رکھ لے۔“
حدیث نمبر: 4328
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا عَبْثَرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " الأَيْمَانُ أَرْبَعَةٌ : يَمِينَانِ يُكَفَّرَانِ ، وَيَمِينَانِ لا يُكَفَّرَانِ ، فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ : وَاللَّهِ لا نَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا ، فَيَفْعَلُ ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ : وَاللَّهِ لأَفْعَلُ ، فَلا يَفْعَلُ ، وَأَمَّا الْيَمِينَانِ اللَّذَانِ لا يُكَفَّرَانِ : فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ مَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ فَعَلَهُ ، وَالرَّجُلُ يَحْلِفُ لَقَدْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَلَمْ يَفْعَلْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”قسمیں چار طرح کی ہوتی ہیں، ان میں سے دو قسم کی قسموں کا کفارہ دینا پڑتا ہے اور دو قسم کی قسموں کا کفارہ ادا نہیں کیا جاتا، ایک وہ شخص، جو یہ قسم اٹھاتا ہے: ’اللہ کی قسم! ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے‘ اور پھر وہ ایسا کر لیتا ہے، ایک وہ شخص، جو یہ کہتا ہے: ’اللہ کی قسم! میں ایسا کروں گا‘، پھر وہ ایسا نہیں کرتا، جہاں تک ان دو قسموں کا تعلق ہے، جن میں کفارہ نہیں دیا جاتا، تو وہ یہ ہیں کہ آدمی یہ قسم اٹھائے کہ ’میں نے ایسا نہیں کیا‘ اور حالانکہ اس نے ایسا کیا ہو یا آدمی یہ قسم اٹھائے کہ ’اس نے ایسا کیا ہے‘، لیکن اس نے ایسا نہ کیا ہو (تو اس کا کفارہ نہیں ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 4329
نَا نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عُمَرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُلُّ اسْتِثْنَاءٍ غَيْرِ مَوْصُولٍ فَصَاحِبُهُ حَانِثٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر وہ استثناء، جو قسم کے ساتھ ملایا نہ ہو، تو ایسا کرنے والا شخص قسم توڑنے والا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4330
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ عَلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ حِينَ أُغِيرَ عَلَى لِقَاحِهِ ، حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ نَجَّانِيَ اللَّهُ عَلَيْهَا لآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبِئْسَمَا جَزَيْتِهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا ، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ کی اونٹنی کو لوٹ لیا گیا تھا، اس نے وہ اونٹنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کر بٹھائی، پھر اس خاتون نے عرض کی: ”میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی پر سوار رہتے ہوئے مجھے نجات عطا کر دی، تو میں اس کا جگر اور اس کے کوہان کا گوشت ضرور کھاؤں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے بڑا برا بدلہ دیا ہے، یہ نذر نہیں ہوتی، نذر وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو۔“
حدیث نمبر: 4331
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا أَشْعَثُ ، نَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ مَوْلاتَهُ أَرَادَتْ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ، فَقَالَتْ : هِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهَا حُرٌّ ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَلَيْهَا الْمَشْيُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ ، وَابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، وَحَفْصَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ، فَكُلُّهُمْ قَالَ لَهَا : أَتُرِيدِينَ أَنْ تَكُونِي مثل هَارُوتَ وَمَارُوتَ ، وَأَمَرُوهَا أَنْ تُكَفِّرَ يَمِينَهَا وَتُخَلِّي بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی آزاد کردہ کنیز نے یہ ارادہ کیا کہ وہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کروا دے، اس نے ایک دن یہ کہا: کہ اگر وہ ایسا نہ کرے گی، تو وہ یہودی ہو گی، اور ایک روایت کے مطابق یہ کہا: کہ عیسائی ہو گی، اس کا ہر غلام آزاد ہو گا اور سارا مال اللہ کی راہ میں دیا جائے گا اور اس پر لازم ہو جائے گا کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے، اگر وہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی نہ کروا سکی۔ اس نے سیدہ عائشہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ حفصہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو ان سب نے اس سے یہی کہا: ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم ہاروت اور ماروت کی طرح بن جاؤ؟“ پھر ان سب نے اسے یہی ہدایت کی کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور ان دونوں کا پیچھا چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 4332
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو هِلالٍ ، نَا غَالِبٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : قَالَتْ مَوْلاتِي : " لأُفَرِّقَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ ، وَهِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ مَوْلاتِي تُرِيدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي ، فَقَالَتِ : انْطَلِقْ إِلَى مَوْلاتِكَ فَقُلْ لَهَا : لا يَحِلُّ لَكِ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ، قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَجَاءَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : هَاهُنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي جَعَلْتُ كُلَّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَمَا تَأْكُلِينَ ؟ ، قَالَتْ : وَقُلْتُ وَأَنَا يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ ، قَالَ : إِنَّ تَهَوَّدْتِ قُتِلْتِ ، وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ ، وَإِنْ تَمَجِّسْتِ قُتِلْتِ ، قَالَتْ : فَمَا تَأْمُرُنِي ، قَالَ : تُكَفِّرِي يَمِينَكِ ، وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ فَتَاكِ وَفَتَاتِكِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری آزاد کردہ کنیز نے یہ کہا: ”میں آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی ضرور کرواؤں گی، اگر میں ایسا نہ کر سکی، تو اس کا تمام مال خانہ کعبہ کے نام ہو گا اور وہ اس دن یہودی ہو گی، عیسائی ہو گی یا مجوسی ہو گی، اگر وہ آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے درمیان فرق نہ پیدا کر سکی۔“ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”میری آزاد کردہ کنیز یہ چاہتی ہے کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان علیحدگی پیدا کر دے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ ”تم اپنی کنیز کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تمہارے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔“ میں اس کے بعد واپس چلا گیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، وہ تشریف لائے، یہاں تک کہ دروازے تک آئے اور فرمایا: ”یہاں ہاروت اور ماروت ہیں؟“ اس کنیز نے کہا: کہ ”میں نے اپنا سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے نام کر دیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”پھر تم کیا کھاؤ گی؟“ اس نے کہا: ”میں نے یہ کہا ہے کہ میں اس دن یہودی ہوں گی یا عیسائی ہوں گی یا اس دن مجوسی ہوں گی (اگر میں نے ان کے درمیان جدائی نہ کی)۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تم نے یہودیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا، اگر تم نے عیسائیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا اور اگر تم نے مجوسیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔“ وہ کنیز بولی: ”پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”تم اپنی قسم کا کفارہ دو اور اس شخص اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی نہ کرواؤ۔“
حدیث نمبر: 4333
نَا نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَبَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ نَذَرَتْ نَحْرَ ابْنِهَا ، فَأَمَرَهَا بِالْكَفَّارَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : سُبْحَانَ اللَّهِ كَفَّارَةٌ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ قَدْ ذَكَرَ اللَّهُ الظِّهَارَ ، وَأَمَرَ بِالْكَفَّارَةِ " .
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں: ایک خاتون سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دے گی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کفارہ دینے کا حکم دیا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: ”سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کفارہ دیا جائے گا؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ نے ظہار کا ذکر کیا ہے اور اس میں بھی کفارے کا حکم دیا ہے (تو ظہار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، لیکن اس میں کفارہ دیا جاتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 4334
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَفَّارَةُ الْيَمِينِ مُدُّ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”قسم کا کفارہ یہ ہے کہ ہر مسکین کو ایک ’مد‘ گندم دی جائے۔“
حدیث نمبر: 4335
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ رَيْعُهُ إِدَامُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر مسکین کو گندم کا ایک مد دیا جائے گا، جس کے ساتھ سالن بھی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4336
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا هِشَامٌ ، صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ ، قَالَ : مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قسم کے کفارے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”گندم کا ایک مد ایک مسکین کو دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، يَقُولُ : " ثَلاثَةُ أَشْيَاءَ فِيهِنَّ مُدٌّ : مُدٌّ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ ، وَفِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ ، وَفِدْيَةُ طَعَامُ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: میں نے ایک مسجد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تین چیزوں میں ایک، ایک ’مد‘ دیا جائے گا، قسم توڑنے کے کفارے میں، ظہار کے کفارے میں اور مسکین کو کھانا کھلانے کے فدیے میں۔“
حدیث نمبر: 4338
نَا نَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ اللُّؤْلُئِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ فِيهِ إِدَامُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر ایک مسکین کو گندم کا ایک ’مد‘ دیا جائے گا، جس کے ساتھ سالن بھی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4339
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِذَا عَجَزَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ عَنِ الصِّيَامِ ، أَطْعَمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدًّا وَاحِدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کوئی بوڑھا شخص روزے رکھنے کے قابل نہ رہے، تو وہ ایک دن کے عوض میں ایک ’مد‘ کھانا کھلائے گا۔“
حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ ، اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا ، فَإِنْ حَلَفَ بَطُلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ ، وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ ، وَجَازَ طَلاقُهُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر سے طلاق لینے کا دعویٰ کر دے اور وہ اس بارے میں عادل گواہ کو پیش کر دے، تو اس کے شوہر سے حلف لیا جائے گا، اگر وہ حلف اٹھا لیتا ہے، تو اس گواہ کی گواہی باطل قرار دی جائے گی اور اگر وہ حلف اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے، تو اس کا انکار کرنا دوسرے گواہ کا قائم مقام شمار ہو گا اور اس کی دی ہوئی طلاق تسلیم کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، نَا أَبِي ، نَا غَيْلانُ بْنُ جَامِعٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : شَهِدَ رَجُلانِ مِنْ أَهْلِ دَقْوَقَاءَ نَصْرَانِيَّانِ عَلَى وَصِيَّةِ مُسْلِمٍ مَاتَ عِنْدَهُمْ فَارْتَابَ أَهْلُ الْوَصِيَّةِ ، فَأَتَوْا بِهِمَا أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ فَاسْتَحْلَفَهُمَا بَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ : وَاللَّهِ مَا اشْتَرَيْنَا بِهِ ثَمَنًا وَلا كَتَمْتُمَا شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذَا لَمِنَ الآثِمِينَ ، قَالَ عَامِرٌ : قَالَ أَبُو مُوسَى : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقَضِيَّةٌ مَا قُضِيَ بِهَا مُنْذُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْيَوْمِ " .
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں: ”دقوقاء“ کے رہنے والے دو عیسائی لوگ ایک مسلمان کی وصیت کے گواہ بن گئے، اس مسلمان کا وصال ان لوگوں کے پاس ہوا تھا، جن لوگوں کے بارے میں وصیت کی گئی تھی، انہیں اس بارے میں شک ہوا، وہ ان دونوں کو لے کر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز کے بعد ان دونوں سے قسم لی کہ ”اللہ کی قسم! ہم نے اس کے عوض میں کوئی قیمت حاصل نہیں کی اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی گواہی کو چھپایا نہیں ہے، اگر ہم ایسا کریں گے، تو ہم گناہگار ہوں گے۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ وہ فیصلہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آج سے پہلے ایسا فیصلہ نہیں ہوا۔“
حدیث نمبر: 4342
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَتَى رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : هِيَ لِي ، وَقَالَ الآخَرُ : هِيَ لِي حُزْتُهَا وَقَبَضْتُهَا ، فَقَالَ : فِيهَا الْيَمِينُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الأَرْضُ، فَلَمَّا تَفَوَّهَ لِيَحْلِفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، قَالَ : فَمَنْ تَرَكَهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ " ،.
محمد محی الدین
عدی بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ مقدمہ ایک زمین کے بارے میں تھا، ان میں سے ایک نے کہا: ”یہ میری زمین ہے“ اور دوسرے نے کہا: ”یہ میری ہے، میں نے اسے گھیرا ہوا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ فرمایا کہ ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہے، وہ قسم اٹھائے گا۔“ جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس شخص نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اسے ترک کر دے گا، اسے جنت ملے گی۔“
حدیث نمبر: 4343
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4344
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِلا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ : عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ الْكِنَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، وَأُمُّ سَارَةَ ، فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى فَقُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار افراد کے علاوہ سب کو امان دے دی تھی، وہ لوگ عبدالعزیٰ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد اور ام سارہ تھے، جہاں تک عبدالعزیٰ کا تعلق ہے، تو اسے قتل کر دیا گیا، وہ خانہ کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 4345
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغَلِّسِ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَمِيرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : زَعَمَ السُّدِّيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ ، وَقَالَ : اقْتُلُوهُمْ وَإِنَّ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ : عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین
مصعب بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار افراد اور دو خواتین کے علاوہ سب لوگوں کو امان دے دی تھی، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ”ان (چھ افراد کو) قتل کر دینا ہے، اگرچہ تم انہیں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا پاؤ: عکرمہ بن ابوجہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد۔“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 4346
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4347
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : أَرْبَعَةٌ لا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلا حَرَمٍ : الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ ، وَهِلالُ بْنُ خَطَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”چار لوگ ایسے ہیں، جنہیں میں ’حل‘ اور ’حرم‘ میں کسی بھی جگہ پر امان نہیں دوں گا: حویرث بن نقید، مقیس بن ضبابہ، عبداللہ بن خطل اور عبداللہ بن سعد۔“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 4348
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، وَعَدِيُّ بْنُ بَدَّاءٍ وَكَانَا يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ بِالتِّجَارَةِ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ ، فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَتَمْتُمَا وَلا اطَّلَعْتُمَا، ثُمَّ عُرِفَ الْجَامُ بِمَكَّةَ ، فَقَالُوا : اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ وَتَمِيمٍ ، فَقَدِمَ رَجُلانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ، فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تمیم داری اور عدی بن بداء تجارت کے لیے مکہ آیا جایا کرتے تھے، اسی دوران بنو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جا رہا تھا، اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہو گیا، جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا تھا، اس نے مرتے وقت ان دونوں کو وصیت کی کہ وہ اس کا مال اس کے گھر والوں تک پہنچا دیں، ان لوگوں نے اس میں سے چاندی کا ایک پیالہ روک لیا، جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے کے لیے کہا اور فرمایا: ”تم اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ بات کہو کہ تم نے اس میں سے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی علم بھی نہیں ہے۔“ اس کے بعد مکہ میں وہ پیالہ مل گیا، تو جس شخص کے پاس سے ملا، اس نے بتایا کہ ”میں نے یہ عدی بن بداء اور تمیم سے خریدا ہے۔“ تو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے وارثوں میں سے دو آدمی آگئے، انہوں نے یہ قسم اٹھائی کہ ”یہ پیالہ سہم قبیلے کے اس شخص کا ہے اور ہم دونوں کی گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے، ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ورنہ ایسی صورت میں ہمیں ظالم شمار کیا جائے۔“ چنانچہ ان وارثوں نے وہ پیالہ حاصل کر لیا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 4349
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ الْوَشَّاءُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ ، نَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، وَعَدِيُّ يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ ، فَخَرَجَ مَعَهُمَا فَتًى مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ ، فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ مَا كَتَمْتُمَا وَلا اطَّلَعْتُمَا ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ ، قَالُوا : اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ وَتَمِيمٍ ، فَجَاءَ رَجُلانِ مِنْ وَرَثَةِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لِمَنِ الظَّالِمِينَ ، فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری اور عدی مکہ آیا جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کے ساتھ بنو سہم قبیلے کا ایک نوجوان جا رہا تھا، اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہوا جہاں کوئی مسلمان موجود نہیں تھا، اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور ان دونوں نے اس کا ترکہ اس کے گھر والوں تک پہنچا دیا، البتہ ان دونوں نے چاندی سے بنا ہوا ایک برتن رکھ لیا جس پر سونے کا کام ہوا تھا (جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے اللہ کے نام پر حلف لیا کہ ”ہم نے کسی چیز کو چھپایا نہیں ہے اور ہم ایسی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں۔“ پھر بعد میں وہ برتن مکہ میں مل گیا تو ان لوگوں نے بتایا: ہم نے تو یہ عدی اور تمیم سے خریدا ہے، تو اس سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کے ورثاء میں سے دو شخص آئے اور انہوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ برتن اس شخص کا ہے جو سہم قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور ان دونوں کی گواہی ان دوسرے دونوں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے (یعنی سچی ہے) اور اگر ہم کوئی زیادتی کریں تو ہمارا شمار ظالموں میں ہو، پھر ان لوگوں نے اس برتن کو حاصل کر لیا، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: (لشھادتنا احق من شھادتھما وما اعتدینا)۔
حدیث نمبر: 4350
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا ، فَقَالَ لِلْيَهُودِ : " مَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تُقِيمُوا عَلَيْهِمَا الْحَدَّ ؟ ، فَقَالُوا : كُنَّا نَفْعَلُ إِذْ كَانَ ذَلِكَ فِينَا فَلَمَّا ذَهَبَ مُلْكُنَا فَلا نَجْتَرِئُ عَلَى الْفِعْلِ ، فَقَالَ لَهُمُ : ائْتُونِي بِأَعْلَمَ رَجُلٍ فِيكُمْ ، فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا ، فَقَالَ لَهُمَا : أَنْتُمْ أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا ، قَالا : يَقُولُونَ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أنزل التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى كَيْفَ تَجِدُونَ حَدَّهُمَا فِي التَّوْرَاةِ ؟ ، فَقَالا : الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ زِنْيَةٌ ، وَفِيهِ عُقُوبَةٌ ، وَالرَّجُلُ عَلَى بَطْنِ الْمَرْأَةِ زِنْيَةٌ ، وَفِيهِ عُقُوبَةٌ ، فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُدْخِلُهُ فِيهَا كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَ ، قَالَ : ائْتُونِي بِالشُّهُودِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَةٌ فَرَجَمَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، تَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: ”تم لوگوں نے ان دونوں پر حد جاری کیوں نہیں کی؟“ یہودیوں نے کہا: ”ایسا ہم اس وقت کرتے کہ جب یہ ہماری ملکیت میں ہوتے، لیکن جب ہماری ملکیت ختم ہو گئی، تو اب یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے سب سے بڑے دو عالموں کو میرے پاس لے کر آؤ۔“ تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ”صوریا“ کے دو بیٹوں کو لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”باقی سب لوگوں کے مقابلے میں تم زیادہ بڑے عالم ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”لوگ یہی کہتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، جس نے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل کی تھی، تم نے ان دونوں (مجرموں) کی سزا تورات میں کیا پائی ہے؟“ تو ان دونوں نے کہا: ”جو شخص کسی عورت کے ساتھ ہوتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے، جو شخص کسی عورت کے پیٹ پر نظر آتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے، لیکن جب چار آدمی یہ گواہی دے دیں گے کہ انہوں نے اس شخص کو اس عورت کے اندر اپنی شرمگاہ کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی کے اندر سلائی کو داخل کیا جاتا ہے (تو ان کو سنگسار کیا جائے گا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہوں کو لے کر آؤ!“ پھر چار آدمیوں نے گواہی دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سنگسار کروا دیا۔
حدیث نمبر: 4351
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قَرِينٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّرَّادُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ ، قَالُوا : نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُجَاوِزُ لأُمَّتِي عَنِ الْخَطَأِ ، وَالنِّسْيَانِ ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا کے طور پر بھول کر اور زبردستی ہونے والے گناہوں سے درگزر کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4352
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُجَاوِزُ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، وَمَا أُكْرِهُوا عَلَيْهِ ، إِلا أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِهِ وَيَعْمَلُوا بِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کیے گئے گناہوں سے درگزر کیا ہے، خواہ وہ بھول کر کریں یا جان بوجھ کر اس پر عمل کریں (تو انہیں سزا نہیں ملے گی)۔“
حدیث نمبر: 4353
نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْهَيَّاجِ ، نَا أَبِي ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى مَقْهُورٍ يَمِينٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے ساتھ زبردستی ہو، اس پر یمین لازم نہیں ہوتی (یعنی اس پر قسم کا کفارہ لازم نہیں ہوتا)۔“