کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: وکالت کے احکام
حدیث نمبر: 4304
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ يَعْنِي وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : " أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي أُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَحْبَبْتُ التَّسْلِيمَ عَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَكُونُ ذَلِكَ آخَرَ مَا أَصْنَعُ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ فَقَالَ لِي : إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي بِخَيْبَرَ فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي ، فَقَالَ لِي : خُذْ مِنْهُ ثَلاثِينَ وَسْقًا ، فَوَاللَّهِ مَا لآلِ مُحَمَّدٍ بِخَيْبَرَ تَمْرَةٌ غَيْرُهَا ، فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میرا خیبر جانے کا ارادہ ہوا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت مسجد میں موجود تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، پھر میں نے عرض کی: ”میں خیبر جانا چاہ رہا ہوں، اس لیے میں نے چاہا کہ میں آپ کو سلام کر دوں اور یہ سلام مدینہ منورہ میں میرا آخری عمل ہو، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم خیبر میں میرے وکیل کے پاس جاؤ گے، تو اس سے پندرہ وسق وصول کرنا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں وہاں سے مڑ کر جانے لگا، تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تم اس سے تیس وسق لینا، اللہ کی قسم! محمد کے گھر والوں کے لیے خیبر میں صرف وہی کھجوریں ہیں، اگر وہ تم سے کوئی نشانی (یعنی ثبوت) مانگے، تو تم اپنا ہاتھ اس کی ہنسلی پر رکھ دینا۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ خبر واحد، عمل کو لازم کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الوكالة / حدیث: 4304
تخریج حدیث «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3632، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11549، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4304»