حدیث نمبر: 4202
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ الْجَوْزَجَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْنِي وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي " ، فَأَخْبَرْتُ بِهَذَا الْخَبَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ لا تَفْرِضُوا إِلا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ ، وَكَانَ عُمَرُ لا يَفْرِضُ لأَحَدٍ إِلا مِائَةَ دِرْهَمٍ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ . قَالَ : تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَهُوَ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ برس تھی، آپ نے مجھے شرکت کی اجازت نہیں دی، آپ نے مجھے بالغ نہیں سمجھا تھا، پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی، تو آپ نے مجھے شرکت کی اجازت دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے اپنے سرکاری اہلکاروں کو خط لکھا کہ وہ تنخواہ صرف اس شخص کو ادا کریں، جو پندرہ سال کا ہو چکا ہو۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کا یہ معمول تھا کہ انہوں نے پندرہ سال کے لڑکے کے لیے ایک سو درہم تنخواہ مقرر کی تھی، یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4203
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيِّ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ ، يَقُولُ : " سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَمَا رَأَيْتُهُ ، يَمُرُّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ فَيُجَاوِزُهَا حَتَّى يَأْمُرَ بِدَفْنِهَا ، لا يَسْأَلُ : أَمُسْلِمٌ هُوَ ، أَوْ كَافِرٌ ؟ " .
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا ہے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ جب بھی کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے، تو آپ اس وقت تک آگے نہیں گزرے، جب تک آپ نے اسے دفن کرنے کا حکم نہیں دیا، آپ یہ تحقیق نہیں کرتے تھے کہ یہ مسلمان ہے یا کافر ہے۔
حدیث نمبر: 4204
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَهُيِّءَ لِلْقِبْلَةِ ، ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ سَبْعًا ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ الشُّهَدَاءَ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلاةً ، قَالَ : قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى حَمْزَةَ وَقَدْ مثل بِهِ ، قَالَ : لَئِنْ ظَفِرْتُ بِقُرَيْشٍ لأُمَثِّلَنَّ بِثَلاثِينَ مِنْهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ سورة النحل آية 126 " ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا، ان کی میت کو قبلہ کی سمت میں رکھ دیا گیا، پھر ان پر سات تکبیریں کہی گئیں، پھر دیگر شہداء کو بھی ان کے آس پاس جمع کر دیا گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ستر مرتبہ نماز ادا کی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ملاحظہ کیا کہ ان کی بے حرمتی کی گئی ہے، تو فرمایا: ”اگر میں نے قریش پر قابوپایا تو میں ان کے تیس آدمیوں کے اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اگر انہوں نے تمہیں سزا دی ہے، تو تم بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے۔“ اس روایت کا راوی عبدالعزیز بن عمران ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 4205
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أنا أُسَامَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَرَّ بِحَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : لَوْلا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ ، فَكَفَّنَهُ بِنَمِرَةٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاهُ ، وَإِذَا خُمِّرَتْ رِجْلاهُ بَدَا رَأْسُهُ ، فَخَمَّرَ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ " ، لَمْ يَقُلْ هَذَا اللَّفْظَ غَيْرُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ : " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ " ، وَلَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، ان کے ہونٹ، ناک، کان وغیرہ کو کاٹ دیا گیا تھا اور مثلہ کر دیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صفیہ کی پریشانی نہ ہوتی، تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ میں سے زندہ کرتا۔“ پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر کفن کے طور پر دی گئی، جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے، جب پاؤں ڈھانپے جاتے تھے، تو سر ظاہر ہو جاتا تھا، تو ان کے سر کو ڈھانپ دیا گیا، ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں آج تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔“ روایت کے یہ الفاظ صرف عثمان نامی راوی نے نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔“ یہ الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 4206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ " وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ، وَكَانَ يَدْفِنُ الاثْنَيْنِ وَالثَّلاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”ان کے پاؤں پر اذخر (نامی گھاس) رکھ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میں آج کے دن تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔‘ ایک قبر میں دو، دو اور تین، تین شہداء کو دفن کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 4207
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، " أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا ، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: احد میں شہید ہونے والے کو غسل نہیں دیا گیا، انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا گیا اور ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی۔
حدیث نمبر: 4208
وَقَالَ اللَّيْثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا " ، حَدَّثَنَا النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وَأَبُو الْوَلِيدِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، بِهَذَا.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں قیامت کے دن ان لوگوں کا گواہ ہوں گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں ان کے خون سمیت دفن کر دیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا نہیں کی، ان لوگوں کو غسل نہیں دیا گیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4209
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، أَوْ غَيْرِهِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ عَنْ قَتْلَى أُحُدٍ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَى مَنْظَرًا أَسَاءَهُ رَأَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ ، وَاصْطُلِمَ أَنْفُهُ ، وَجُدِعَتْ أُذُنَاهُ ، فَقَالَ : لَوْلا أَنْ يَحْزَنَ النِّسَاءُ ، أَوْ يَكُونَ سُنَّةً بَعْدِي لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ، لأُمَثِّلَنَّ مَكَانَهُ بِسَبْعِينَ رَجُلا ، ثُمَّ دَعَا بِبُرْدَةٍ فَغَطَّى بِهَا وَجْهَهُ ، فَخَرَجَتْ رِجْلاهُ ، فَغَطَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الإِذْخِرِ ، ثُمَّ قَدَّمَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ جَعَلَ يُجَاءُ بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ ، وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلاةً ، وَكَانَ الْقَتْلَى سَبْعِينَ ، فَلَمَّا دُفِنُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ سورة النحل آية 125 ، إِلَى قَوْلِهِ : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلا بِاللَّهِ سورة النحل آية 127 ، فَصَبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُمَثِّلْ بِأَحَدٍ " ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ، عَنِ غَيْرِ الشَّامِيِّينَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مشرکین غزوہ احد میں مارے جانے والوں کو چھوڑ کر واپس چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز ملاحظہ فرمائی جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی، آپ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا، ناک کاٹ دی گئی تھی، دونوں کان الگ کر دیے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر خواتین کے غمگین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، یا یہ بات میرے بعد رواج نہ بن جاتی، تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے انہیں زندہ کرتا، میں ان کی جگہ ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کے ذریعے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے چہرے کو ڈھانپ دیا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں ظاہر ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے کو ڈھانپ دیا اور ان کے پاؤں پر گھاس رکھ دی، پھر آپ نے انہیں آگے کیا اور ان پر دس تکبیریں کہیں، اس کے بعد ایک، ایک شخص کو لایا جاتا رہا اور رکھا جاتا رہا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت وہیں پڑی رہی، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ستر مرتبہ نماز ادا کی کیونکہ غزوہ احد کے شہداء کی تعداد ستر تھی، جب ان لوگوں کو دفن کر دیا گیا اور آپ اس سے فارغ ہو گئے تو یہ آیت نازل ہوئی: ”تم اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے دعوت دو۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”تم صبر سے کام لو، تمہارا صبر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا اور آپ نے کسی شخص کا مثلہ نہیں کیا۔ اس روایت کو صرف اسماعیل بن عیاش نامی راوی نے نقل کیا ہے اور اس نے شامیوں کے علاوہ دیگر راویوں سے جو روایات نقل کی ہیں، ان میں اضطراب پایا جاتا ہے۔