حدیث نمبر: 4150
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِوَارِثٍ ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو ایسا ہو سکتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 4151
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَرَوِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " ، الصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وارث کے لیے وصیت نہیں ہو سکتی۔“ اس روایت کا ”مرسل“ ہونا درست ہے۔
حدیث نمبر: 4152
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ ، ،أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ الْجَزَرِيَّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّيْنُ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَلَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وصیت پوری کیے جانے سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا اور وارث کے لیے وصیت نہیں کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4153
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبِيعَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی۔“
حدیث نمبر: 4154
نَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْغَازِيُّ ، نَا طَاهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَبِيصَةَ ، نَا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ : لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن اپنے خطبے میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، البتہ اگر دیگر ورثاء اجازت دیں (تو ایسا ہو سکتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 4155
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا أَبُو عُلاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، نَا أَبِي ، نَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو ایسا ہو سکتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 4156
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا أَبُو الْجَمَاهِرِ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكِبَ إِلَى قُبَاءٍ يَسْتَخِيرُ فِي مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَنْ لا مِيرَاثَ لَهُمَا " .
محمد محی الدین
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر قبا تشریف لے گئے، تاکہ آپ پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں استخارہ کریں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا کہ ان دونوں کو وراثت نہیں ملے گی۔
حدیث نمبر: 4157
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا أَجِدُ لَهَا شَيْئًا " ، لَيْسَ فِيهِ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس کے لیے کوئی چیز نہیں ملی (یعنی اسے وراثت میں دینے کے لیے کوئی حکم نہیں ملا)۔“
حدیث نمبر: 4158
نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُكْرِمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ الزُّبَيْرُ : " نزلت هَذِهِ الآيَةُ فِينَا وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ سورة الأنفال آية 75 ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَلَمْ نَكُنْ نَشُكُّ أَنَّا نَتَوَارَثُ لَوْ هَلَكَ كَعْبٌ وَلَيْسَ لَهُ مَنْ يَرِثُهُ لَظَنَنْتُ أَنِّي أَرِثُهُ ، وَلَوْ هَلَكْتُ كَذَلِكَ يَرِثُنِي حَتَّى نزلت هَذِهِ الآيَةُ " .
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی: ”اور نسبی رشتے دار ایک دوسرے کے وارث بنیں گے (اللہ کی کتاب میں یہی حکم ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مہاجرین اور ایک انصاری کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تھا تو ہمیں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، یعنی اگر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جاتا اور ان کا کوئی وارث نہ ہوتا تو میرا یہ خیال تھا کہ میں ان کا وارث بنتا اور اگر میں مر جاتا تو اسی طرح وہ میرے وارث بنتے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی۔
حدیث نمبر: 4159
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَطَنِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ ، نَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ، فَقَالَ : لا أَدْرِي حَتَّى يَأْتِيَنِي جِبْرِيلُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ؟ ، فَأَتَى الرَّجُلُ ، فَقَالَ : سَارَّنِي جِبْرِيلُ أَنَّهُ لا شَيْءَ لَهُمَا " ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ: ”مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، جبرائیل علیہ السلام مجھے آ کر (اس بارے میں بتا دیں گے)۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کرنے والے شخص کہاں ہے؟“ اس شخص کو لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ان دونوں کو کوئی چیز نہیں ملے گی (یعنی یہ وارث نہیں بنیں گی)۔“ اس روایت کو محمد بن عمرو کے حوالے سے صرف مسعدہ نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت ”مرسل“ ہے۔
حدیث نمبر: 4160
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4161
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ زِيَادُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ لِجَلِيسٍ لَهُ : " هَلْ تَدْرِي كَيْفَ قَضَى عُمَرُ فِي الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَإِنِّي لأَعْلَمُ خَلْقِ اللَّهِ كَيْفَ كَانَ قَضَى فِيهِمَا عُمَرُ جَعَلَ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ ، وَالْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الأَبِ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: زیاد بن ابوسفیان نے اپنے ساتھی سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی اور خالہ کے بارے میں کیا فیصلہ دیا تھا؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”جی نہیں!“ تو زیاد نے کہا: ”میں اس بارے میں سب سے بہتر جانتا ہوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیا فیصلہ دیا تھا، انہوں نے خالہ کو ماں کی جگہ اور پھوپھی کو باپ کی جگہ قرار دیا تھا۔“