حدیث نمبر: 4131
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ جَدَّاتٍ السُّدُسَ ، اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دادیوں اور نانیوں کو چھٹا حصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی)۔
حدیث نمبر: 4132
قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : جَاءَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ ، دُونَ أُمِّ الأَبِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَقَدْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا ، أَوْ قَالَ مَرَّةً : رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ هِيَ لَمْ تَرِثْهَا ، " فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ دو دادیاں (یا نانیاں یا دادی اور نانی) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادی کی بجائے نانی کو وارث قرار دیا، تو عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں (راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں)، بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ کہا: ”اے سیدنا ابوبکر! اے خلیفہ رسول! آپ نے وراثت اسے دے دی ہے کہ اگر یہ مر جاتی، تو (مرحومہ عورت) اس کی وارث نہ بنتی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں (دادی اور نانی) کو (مرحومہ عورت کا) وارث قرار دیا۔
حدیث نمبر: 4133
قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ جَدَّتَيْنِ أَتَيَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أُمَّ الأُمِّ ، وَأُمَّ الأَبِ " فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ ، دُونَ أُمِّ الأَبِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، أَخُو بَنِي حَارِثَةَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ لَمْ تَرِثْهَا ، فَجَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ بَيْنَهُمَا " ، يَعْنِي : السُّدُسَ.
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی اور ایک نانی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئیں، ایک نانی تھی اور ایک دادی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو وراثت ادا کرنے کا حکم دیا، دادی کے لیے حکم نہیں دیا، تو عبدالرحمن بن سہل، جو بنو حارثہ سے تعلق رکھتے تھے، ان سے کہا: ”اے خلیفہ رسول! آپ نے اسے ادائیگی کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر یہ مر جاتی، تو وہ مرحومہ اس کی وارث نہ بنتی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ادائیگی کرنے کا حکم دیا (راوی کہتے ہیں:) یعنی چھٹے حصے کی ادائیگی کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 4134
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو مُجَاهِدٍ الْخُرَاسَانِيُّ اسْمُهُ هِشَامٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ أَعْطَى الْجَدَّةَ أُمَّ الأُمِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٍّ السُّدُسَ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے نانی کو چھٹا حصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ اس سے نیچے کے مرتبے میں کوئی ماں موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4135
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَى الْجَدَّةَ السُّدُسَ " .
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی (یا دادی) کو چھٹا حصہ عطا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4136
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرَّثَ ثَلاثَ جَدَّاتٍ ، اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ " .
محمد محی الدین
ابراہیم بن یزید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جدات کو وارث قرار دیا تھا، ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی)۔
حدیث نمبر: 4137
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ إِذَا اسْتَوَيْنِ ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ " .
محمد محی الدین
خارجہ بن زید اپنے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے تین دادیوں، نانیوں کو وارث قرار دیا تھا، جبکہ وہ ایک ہی مرتبے کی تھیں، ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی۔
حدیث نمبر: 4138
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأُمِّ ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأَبِ " ، كَذَا قَالَ.
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے تین دادیوں اور نانیوں کو وارث قرار دیا تھا، جن میں سے دو ماں کی طرف سے تھیں اور ایک باپ کی طرف سے تھی۔
حدیث نمبر: 4139
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَابِرٍ الْقَطَّانُ ، نَا عُمَرُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، " أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتا ہوں کہ انہوں نے دادا کو باپ کا درجہ دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4140
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : دَعْهَا تُرَجِّلُكَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ ، فَقَالَ زَيْدٌ : " لا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ ؟ " ، فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ ، فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا ، وَقَالَ : قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ ، حَتَّى قَالَ : " فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ " ، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مثلا : إِنَّمَا مَثَلُهُ مثل شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ ، ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ ، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ، ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ ، قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
محمد محی الدین
عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں: سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، انہیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے، تو دیکھا) ان کا سر ایک کنیز کے ہاتھ میں ہے، جو ان کے بالوں کو کنگھی کر رہی ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اپنا سر الگ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے کنگھی کرنے دو۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے، میں آپ کے پاس آ جاتا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ایک کام سے آپ کے پاس آیا ہوں، میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔“ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں! اللہ کی قسم! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یا کمی کے مرتکب ہوں، یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے، جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے، اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے، تو میں اس کو مان لوں گا، ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہو گا۔“ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: ”میں تو یہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کر دو گے۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت آئے، جس وقت وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کر دے دیتا ہوں۔“ تو انہوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کر کے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا، اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے، جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے، اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے، پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے، وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے، اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے، تو پانی اس ٹہنی کی طرف آ جائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے، تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آ گئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی، پھر ارشاد فرمایا: ”زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے، میں اسے लागو کرتا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے دادا تھے، جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، انہوں نے اس کا سارا مال لے لیا، یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4141
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ وَالأُمِّ مَا كَانَتْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ (میت کے) سگے بہن بھائیوں کی موجودگی میں دادا بھی حصہ دار ہو گا، خواہ سگے بہن بھائیوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4142
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، عَنِ الْجَدِّ وَالإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ ، وَالأُمِّ ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الإِخْوَةَ لِلأَبِ ، وَالأُمِّ ، وَالإِخْوَةَ لِلأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ ، فَإِنْ كَثُرَ الإِخْوَةُ فَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَ ، وَكَانَ لِلأُخُوَّةِ مَا بَقِيَ ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ ، وَقَضَى أَنَّ بَنَى الأَبِ وَالأُمِّ هُمْ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الأَبِ ذُكُورِهِمْ وَنِسَائِهِمْ ، أَنَّ بَنِي الأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدِّ بِبَنِي الأَبِ وَالأُمِّ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ ، وَلا يَكُونُ لِبَنِي الأَبِ شَيْءٌ مَعَ بَنِي الأَبِ وَالأُمِّ إِلا أَنْ يَكُونَ بَنُو الأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الأَبِ وَالأُمِّ فَهُوَ لِلأُخُوَّةِ مِنَ الأَبِ ، لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ " .
محمد محی الدین
یونس بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا، جس کے پس ماندگان میں ایک دادا اور سگے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ زہری نے بتایا: سعید بن مسیب، عبیداللہ بن عبداللہ اور قبیصہ بن ذؤیب نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا تھا، دادا سگے بہن بھائیوں اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں کے ساتھ حصہ دار ہو گا، جبکہ ایک تہائی مال میں سے مقاسمہ اس کے حق میں بہتر ہو، اگر بہن بھائیوں کی تعداد زیادہ ہو، تو دادا کو ایک تہائی حصہ دے دیا جائے گا اور باقی سب بہن بھائیوں کو ایک مذکر کا حصہ دو مؤنث کے برابر کے حساب سے دیا جائے گا، انہوں نے یہ فیصلہ بھی دیا تھا، سگے بہن بھائی صرف باپ کی طرف سے شریک بہن بھائیوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں، خواہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث ہوں، البتہ اگر باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی، سگے بہن بھائیوں کے ساتھ موجود ہوں، تو انہیں بھی ان کا حصہ ملے گا، البتہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی سگے بہن بھائیوں کے ہمراہ کچھ حاصل نہیں کریں، ماسوائے اس صورت کے جب باپ کی طرف سے شریک بھائی سگی بہنوں کی طرف (وراثت کو) لوٹا دیں اور سگی بہنوں کے فرض حصے کے بعد اگر کچھ باقی رہ جائے گا، تو وہ باپ کی طرف سے شریک بھائیوں کو ایک مذکر کے لیے دو مؤنث کے برابر حصے کے اصول کے تحت مل جائے گا۔