حدیث نمبر: 4124
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَوَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " أَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَأَعْيَانُ بَنِي الأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلاتِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم لوگ قراءت کرتے ہوئے وصیت کا حکم قرض کی ادائیگی سے پہلے پڑھتے ہو، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: (میت کی) وصیت پوری کیے جانے سے پہلے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور ماں کی طرف سے بہن بھائی ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، جبکہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔“
حدیث نمبر: 4125
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ ، نَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أُتِيَ فِي بَنِي عَمٍّ أَحَدُهُمْ أَخٌ لأُمٍّ ، فَقِيلَ لِعَلِيٍّ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ " أَعْطَى الأَخَ مِنَ الأُمِّ الْمَالَ كُلَّهُ دُونَهُمْ لِقَرَابَتِهِ ، فَقَالَ عَلِيّ : يَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا لَوْ كُنْتُ أَنَا لأَعْطَيْتُهُ السُّدُسَ ، ثُمَّ أَشْرَكْتُ بَيْنَهُمْ فِيمَا بَقِيَ " .
محمد محی الدین
حارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مقدمہ آیا، جو چچا زاد بھائیوں کے بارے میں تھا، جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ماں کی طرف سے شریک بھائی کو سارا مال ادا کرنے کا حکم دیا ہے، باقی قریبی رشتہ داروں کو اس بارے میں کوئی ادائیگی کرنے کا حکم نہیں دیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، وہ سمجھدار آدمی ہیں، اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا، تو میں اسے چھٹا حصہ دیتا اور باقی رہ جانے والا مال ان (دوسرے چچا زاد بھائیوں) میں تقسیم کر دیتا۔“
حدیث نمبر: 4126
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ الطِّهْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لأُمِّهَا وَإِخْوَتَهَا لأَبِيهَا ، وَأُمِّهَا ، فَشَرَكَ بَيْنَ الإِخْوَةِ لِلأُمِّ وَبَيْنَ الإِخْوَةِ لِلأُمِّ وَالأَبِ بِالثُّلُثِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّكَ لَمْ تُشْرِكْ بَيْنَهُمَا عَامَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَتِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا يَوْمَئِذٍ ، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا الْيَوْمَ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : لَوْ لَمْ أَسْتَفِدْ فِي سَفْرَتِي هَذَا الْحَدِيثَ لَظَنَنْتُ أَنِّي قَدِ اسْتَفَدْتُ فِيهِ خَيْرًا.
محمد محی الدین
مسعود بن حکم ثقفی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مقدمہ آیا، جو ایک خاتون کے بارے میں تھا، جس نے پس ماندگان میں اپنا شوہر، اپنی والدہ، ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی چھوڑے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اور سگے بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ برابر کا حصہ دار بنایا، جو ایک تہائی حصے کے بارے میں تھا، تو ایک شخص نے ان سے کہا: ”آپ نے فلاں سال تو انہیں ایک دوسرے کا حصہ دار نہیں بنایا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس وقت ہم نے جو فیصلہ دیا تھا، وہ اس وقت کا تھا، آج کا ہمارا فیصلہ وہ ہے، جو ہم نے اب دے دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4127
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْكُوفِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ دِينَارٍ الْفَارِسِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَكَانُوا يَتَوَارَثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى أنزلت وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75 ، فَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تو وہ لوگ ایک دوسرے کے وارث بھی بنا کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”صرف (نسبی) رشتے دار ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“ اس کے بعد نسب کے اعتبار سے لوگ ایک دوسرے کے وارث بننے لگے۔
حدیث نمبر: 4128
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلانِيُّ حِمْصِيٌّ ، نَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُحْرِزُ الْمَرْأَةُ ثَلاثَةَ مَوَارِيثَ : عَتِيقَهَا ، وَوَلِيدَهَا ، وَالْوَلَدَ الَّذِي لاعَنَتْ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”عورت تین لوگوں سے وراثت حاصل کرتی ہے، اپنے آزاد کیے ہوئے (غلام یا کنیز) کی طرف سے، اپنی اولاد کی طرف سے اور اپنے اس بچے کی طرف سے، جس کی وجہ سے اس نے لعان کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 4129
نَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبِي ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْخَوْلانِيِّ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُحْرِزُ الْمَرْأَةُ ثَلاثَةَ مَوَارِيثَ : عَتِيقَهَا ، وَلَقِيطَهَا ، وُمَلاعِنَهَا " ، قَالَ تَابَعَهُ أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عمر بْنِ رُؤْبَةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”عورت تین اعتبار سے وراثت حاصل کرتی ہے، اپنے آزاد کیے ہوئے (غلام یا کنیز) کی وراثت، جس کو اس نے اٹھایا (یعنی لاوارث بچے کو پالا پوسا)، اس کی وراثت اور جس کی وجہ سے اس نے لعان کیا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4130
نَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رُؤْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ وَاثِلَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔