نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا بَحْرُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَعْطَى الابْنَةَ النِّصْفَ ، وَأَعْطَى الأُخْتَ مَا بَقِيَ " .
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیٹی کو نصف حصہ دیا تھا اور باقی بچ جانے والا مال کو دے دیا تھا۔
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، نَا أَبُو حَسَّانَ الأَعْرَجُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، " أُتِيَ بِالْيَمَنِ فِي مِيرَاثِ رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ ، وَأُخْتَهُ ، فَأَعْطَى ابْنَتَهُ النِّصْفَ ، وَأُخْتَهُ النِّصْفَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيُّ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ " .
محمد محی الدین
اسود بن یزید کوفی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یمن میں ایک شخص کی وراثت تقسیم کی، جس نے پس ماندگان میں ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی تھی، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی کو نصف حصہ دیا اور بہن کو نصف حصہ دیا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان موجود تھے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی کی بات ہے)۔
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مَوْلًى لِحَمْزَةَ تُوُفِّيَ ، فَتَرَكَ ابْنَتَهُ ، وَابْنَةَ حَمْزَةَ ، فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ النِّصْفَ ، وَلابْنَةِ حَمْزَةَ النِّصْفُ " ، هَكَذَا نَاهُ مِنْ أَصْلِهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی (اپنے پس ماندگان میں) چھوڑی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کی بیٹی کو نصف حصہ دیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو بھی نصف حصہ دیا۔
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا عَفَّانُ ، نَا هَمَّامٌ ، نَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ؟ ، قَالَ : لَكَ السُّدُسُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ سُدُسٌ آخَرُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ السُّدُسُ الآخَرُ طُعْمَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: ”میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے، مجھے اس کی وراثت میں سے کیا ملے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں چھٹا حصہ ملے گا۔“ جب وہ واپس چلا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ بھی ملے گا۔“ جب وہ واپس چلا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ بھی اضافی طور پر ملے گا۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : " رَمَى رَجُلٌ رَجُلا بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ إِلا خَالٌ ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى عُمَرَ ، وَكَتَبَ عُمَرُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کو تیر مار کر قتل کر دیا، اس شخص کا وارث صرف اس کا ایک ماموں تھا، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو، تو اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا۔“
نَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ زَائِدَةَ أَبُو زَائِدَةَ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالَ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بیشک جس شخص کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کا مولیٰ ہے اور جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا۔“
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَأَبُو أُمَيَّةَ الطَّّرَسُوسِيُّ ، قَالُوا : نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا کوئی مولیٰ نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کا مولیٰ ہے اور جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس شخص کے مولیٰ ہوں گے، جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو اور ماموں اس شخص کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَنا أَبُو عَاصِمٍ ، مَرَّةً أُخْرَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " ، فَقِيلَ لأَبِي عَاصِمٍ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَسَكَتَ فَقَالَ لَهُ الشَّاذَكُونِيُّ : حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَكَتَ .
محمد محی الدین
ابوعاصم سے دریافت کیا گیا کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہے؟ تو وہ خاموش رہے، تو شاذ کونی نے ان سے کہا: ”آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث سنائیں۔“ تو وہ پھر بھی خاموش رہے۔
. نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم یہ روایت ”موقوف“ ہے۔
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ الصَّفَّارُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، مَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَإِلَيَّ أَنَا أَقْضِي دَيْنَهُ وَأَفُكُّ عَانِيَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ ، يَقْضِي دَيْنَهُ وَيَفُكُّ عَانِيَهُ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کے ورثاء کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا (ان کا کوئی پرسان حال نہ ہو)، تو وہ میری طرف آئیں گے، میں اس شخص کا قرض بھی ادا کروں گا اور اس کی دیگر ذمہ داریاں بھی پوری کروں گا، ماموں اس شخص کا وارث بنتا ہے، جس کا کوئی وارث نہیں ہوتا، کیونکہ وہی اس کا قرض بھی اتارے گا اور اس کی ذمہ داریاں بھی پوری کرے گا۔“
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْقَوَارِيرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ إِسْحَاقُ : عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا ،.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا الْجُرْجَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِإِسْنَادِهِ مَوْقُوفًا .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے۔
نَا النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا رَوْحٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ " مِثْلَهُ . قَالَ النَّيْسَابُورِيُّ : أَخْطَأَ فِيهِ رَوْحٌ ، وَالصَّوَابُ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جس میں یہ الفاظ ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (اس کے مولیٰ ہوتے ہیں)۔“
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نَا شَرِيكٌ . ح وثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا ماموں اس کا وارث بنتا ہے۔“
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَالُ وَارِثٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ماموں وارث بنتا ہے۔“
نَا نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ " فِي ابْنَةِ ابْنَةٍ ، وَابْنَةِ أُخْتٍ ، الْمَالُ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ " ، الصَّوَابُ مِنْ قَوْلِ عَلْقَمَةَ.
محمد محی الدین
علقمہ نے عبدالملک کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ جب کسی شخص کی ایک نواسی ہو اور ایک بھانجی ہو، تو ان دونوں کے درمیان مال نصف نصف تقسیم ہو گا، درست یہ ہے کہ یہ علقمہ کی اپنی رائے ہے۔