نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا تَرَكَتْ فَلأَوْلَى ذَكَرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وراثت کے فرض حصوں کے مطابق مال کی ادائیگی کرو اور جو مال بچ جائے، تو وہ قریبی رشتہ دار کا ہو گا۔“
نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، وَأَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ح وَنا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْعَجَمِيُّ ، قَالا : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " ، وَقَالَ أَبُو شَيْبَةَ : " أَقْسِمُوا الْمِيرَاثَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”فرض حصہ داروں کے درمیان مال کو تقسیم کر دو، فرض حصوں کے بعد جو مال بچ جائے، وہ قریبی مرد رشتہ دار کا ہو گا۔“ ابوشیبہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حکم کے مطابق ذوی الفروض میں وراثت تقسیم کر دو۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا تَرَكَتِ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”فرض حصے ان کے حصہ داروں کو دے دو اور جو بچ جائے، وہ قریبی رشتہ دار کو ملے گا۔“
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا مُسْلِمٌ ، قَالا : نَا وُهَيْبٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا ، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فرض حصے ان کے حق داروں کو دے دو، جو باقی بچ جائے، وہ قریبی رشتہ دار کو ملے گا۔“
نَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الطَّيَالِسِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، سَمِعَ ابْنَ طَاوُسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُسًا ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا تَرَكَتْ فَلأَوْلَى رَحِمٍ ذَكَرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مال کو فرض حصوں کے مطابق تقسیم کرو، جو بچ جائے، وہ قریبی مرد رشتہ دار کو ملے گا۔“
نَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ ، فَمَا أَبْقَتْ فَلأَوْلَى رَحِمٍ ذَكَرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مال کو فرض حصوں کے مطابق تقسیم کرو، جو باقی بچ جائے، وہ قریبی رشتہ دار کو ملے گا۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا ، مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا ، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا ، لَمْ تَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قَتَلَ صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ تَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ " ، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے، عورت اپنے شوہر کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گی اور وہ مرد بھی اس عورت کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل نہ کیا ہو، اگر ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو، تو وہ عورت اس مرد کی دیت اور مال میں سے کسی چیز کی وارث نہیں بنے گی، اور اگر ان میں سے کسی نے دوسرے کو خطا کے طور پر قتل کیا ہو، تو وہ (اس دوسرے کے) مال میں وارث بنے گا، لیکن دیت میں سے وارث نہیں بنے گا۔“ اس روایت کے راوی محمد بن سعید طائفی ثقہ ہیں۔
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ثِقَةٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، " أَنَّهُ كَانَ لا يُوَرِّثُ مَيِّتًا مِنْ مَيِّتٍ ، وَيُوَرِّثُ الأَحْيَاءَ مِنَ الأَمْوَاتِ " .
محمد محی الدین
عمر بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی ایک مرحوم کو دوسرے مرحوم کا وارث قرار نہیں دیتے تھے، وہ صرف زندہ افراد کو مرحومین کا وارث قرار دیتے تھے۔
وَأَخْبَرَنِي وَأَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِي ، عَنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : " قُسِمَتْ مَوَارِيثُ أَصْحَابِ الْحَرَّةِ ، فَوَرِثَ الأَحْيَاءُ مِنَ الأَمْوَاتِ ، وَلَمْ يَرِثِ الأَمْوَاتُ مِنَ الأَمْوَاتِ " .
محمد محی الدین
ابوالزناد بیان کرتے ہیں: حرہ کے واقعہ میں مارے جانے والوں کی وراثت تقسیم کی گئی تھی، تو زندہ لوگوں کو مرحومین کا وارث بنایا گیا تھا، مرحومین کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا بَحْرُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، " أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ وَابْنَهَا زَيْدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، هَلَكَا فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ، لَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا هَلَكَ قَبْلُ ، فَلَمْ يَتَوَارَثَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ام کلثوم نامی خاتون اور ان کے صاحبزادے زید، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے، وہ دونوں ایک ہی موقع پر انتقال کر گئے، لیکن یہ پتا نہ چل سکا کہ ان دونوں میں سے کس کا انتقال پہلے ہوا ہے؟ تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ الْمُقْرِئُ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ ، وَلَهُ صُحْبَةٌ " أَنَّ قَوْمًا وَقَعَ عَلَيْهِمْ بَيْتٌ ، فَوَرِثَ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
محمد محی الدین
ایاس بن عبد بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں پر ان کا گھر گر گیا، تو انہیں ایک دوسرے کا وارث بنایا گیا۔
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ " عَنْ بَيْتٍ سَقَطَ عَلَى نَاسٍ فَمَاتُوا ، فَقَالَ : يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
محمد محی الدین
ایاس بن عبد کے بارے میں منقول ہے، ان سے ایسے گھر کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو لوگوں پر گر جاتا ہے اور وہ لوگ مر جاتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ لوگ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ النَّصْرَانِيَّ ، إِلا أَنْ يَكُونَ عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی بھی مسلمان کسی عیسائی کا وارث نہیں بن سکتا، البتہ اگر وہ (عیسائی) اس (مسلمان) کا غلام یا کنیز ہو (تو وارث بن جائے گا)۔“
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لا يَرِثُ الْيَهُودِيُّ وَلا النَّصْرَانِيُّ الْمُسْلِمَ ، وَلا يَرِثُهُمْ ، إِلا أَنْ يَكُونَ عَبْدَ الرَّجُلِ أَوْ أَمَتِهِ " ، مَوْقُوفٌ ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”کوئی یہودی یا کوئی عیسائی کسی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا اور مسلمان ان لوگوں کا وارث نہیں بنے گا، البتہ اگر وہ یہودی یا عیسائی (مسلمان کا) غلام ہو یا اس کی کنیز ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ ، نَا أَبُو النَّصْرِ الْفَقِيهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، نَا أَبُو غَسَّانَ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، رَفَعَهُ ، قَالَ : " لا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلا يَرِثُونَا ، إِلا أَنْ يَرِثَ الرَّجُلُ عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ ، وَتَحِلُّ لَنَا نِسَاؤُهُمْ ، وَلا تَحِلُّ لَهُمْ نِسَاؤُنَا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے): ”ہم اہل کتاب کے وارث نہیں بن سکتے اور وہ ہمارے وارث نہیں بن سکتے، البتہ کوئی شخص اپنے (اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے) غلام یا کنیز کا وارث بن سکتا ہے، ہمارے لیے ان کی خواتین (سے نکاح کرنا) حلال ہے، البتہ ان کے لیے ہماری خواتین سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْقَلانِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى مُخْتَلِفَتَيْنِ ، قَالَ : وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ عَقْلِهَا وَمَالِهَا ، إِلا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِنْ هُوَ قَتَلَهُ عَمْدًا لَمْ تَرِثْ مِنْ مَالِهِ وَلا مِنْ دِيَتِهِ شَيْئًا ، فَإِنْ قَتَلَ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ ، وَلَمْ تَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ شَيْئًا " ،.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہیں۔“ آپ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”عورت اپنے شوہر کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گی اور وہ مرد بھی اس عورت کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گا، البتہ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے، تو اگر اس نے اپنے ساتھی کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے، تو اس کے مال میں سے وارث نہیں بنے گا اور دیت میں وارث نہیں بنے گا، لیکن اگر مقتول خطا کے طور پر قتل ہوا، تو (دوسرا فریق) اس کے مال میں سے وارث بنے گا، لیکن دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں بنے گا۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْقَلانِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ عمرو بن شعیب کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا الْوَلِيدُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَتَبَ إِلَى الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَنْ يُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَتِهِ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کو خط میں یہ لکھا تھا کہ وہ سیدنا اشیم ضبابی کی اہلیہ کو ان کے شوہر کی دیت میں سے وارث قرار دیں۔
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصُّورِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ زُرَارَةَ بْنَ جُزِيٍّ أَوْ حَزْنٍ - شَكَّ الصُّورِيُّ - قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ إِلَى الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ أَنْ يُوَرِّثَ " مِثْلَهُ . وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ جُزِيٍّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ فَذَكَرَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں: زرارہ بن جزئی یا شاید حرن نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ضحاک بن سفیان کو خط میں یہ لکھا تھا کہ وہ وارث قرار دیں، اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔ اس روایت کو دیگر راویوں نے بھی نقل کیا ہے۔
نَا نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ قَتْلُ أَشْيَمَ خَطَأً " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا اشیم کو خطا کے طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَامَ فَسَأَلَ : " هَلْ أَحَدٌ عَلِمَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا ؟ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ : أَنَا عِنْدِي فِي ذَلِكَ عِلْمٌ ، قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْنَا أَنْ نُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ " ،.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: ”کیا آپ میں سے کسی کے پاس اس بارے میں علم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل ہو جانے والے شوہر کی دیت میں عورت کی وراثت کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو؟“ تو اس بات پر سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: ”میرے پاس اس بارے میں علم ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خط لکھا تھا کہ ہم اشیم ضبابی کی اہلیہ کو ان کے شوہر اشیم کی دیت میں سے حصہ دیں۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ : " مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلا لِلْعَصَبَةِ ، لأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ ، فَهَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثَمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . وَقَالَ : فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ ، زَادَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَكَانَ قَتْلُهُ خَطَأً .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیت صرف عصبہ رشتہ داروں کو ملے گی، کیونکہ یہی لوگ دیت ادا بھی کرتے ہیں۔“ کیا آپ میں سے کسی نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ سنا ہے؟ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے مطابق فیصلہ دیا۔ ابن جریج نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: ”وہ صاحب خطا کے طور پر قتل ہوئے تھے۔“
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ : الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ ، وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا ، حَتَّى قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ : كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب نے یہ فرمایا تھا: ”دیت خاندان والوں کو ملے گی اور عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کی وارث نہیں بنے گی۔“ یہاں تک کہ سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ خط لکھا تھا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " الدِّيَةُ تُقْسَمُ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ فَيَرِثُ مِنْهَا كُلُّ وَارِثٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض کے مطابق دیت کو تقسیم کیا جائے گا اور وارث اس میں سے حصہ لے گا۔“
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً بِالأَسْوَافِ وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَزُرْنَاهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَرَشَّتْ لَنَا صُوَرًا فَقَعَدْنَا تَحْتَهُ بَيْنَ نَخْلٍ ، وَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً ، وَعَلَّقْتُ لَنَا قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَحَدَّثُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنَتَيْنِ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " هَاتَانِ ابْنَتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، أَوْ قَالَتْ : سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالا إِلا أَخَذَهُ ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَوَاللَّهِ مَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلا وَلَهُمَا مَالٌ ، قَالَ : فَقَالَ : يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ ، فنزلت سُورَةُ النِّسَاءِ وَفِيهَا يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُوا لِي الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا ، فَقَالَ لِعَمِّهَا : أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر تھے یہاں تک کہ اسواف کے مقام پر ہم ایک خاتون کے پاس پہنچے جو خارجہ بن زید کی دادی تھیں۔ ہم اس دن ان کے پاس ٹھہر گئے۔ انہوں نے ہمارے لیے کپڑا بچھایا اور ہم کھجور کے درخت کے نیچے اس پر بیٹھ گئے، اس خاتون نے ہمارے لیے بکری ذبح کروائی، پانی کا مشکیزہ لا کر رکھا۔ اس دوران ہم گفتگو بھی کرتے رہے۔ اسی دوران ایک خاتون اپنی دو بیٹیوں کو لے کر حاضر خدمت ہوئی اور عرض کی: یا رسول اللہ! یہ ثابت بن قیس کی صاحبزادیاں ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سعید بن ربیع کی صاحبزادیاں ہیں جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے چچا نے ان کا مال اور وراثت کا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس نے ان دونوں کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا، سب حاصل کر لیا ہے۔ یا رسول اللہ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اللہ کی قسم! جب تک ان دونوں کے پاس مال موجود نہیں ہو گا ان دونوں کی شادی نہیں ہو سکتی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس بارے میں فیصلہ دے گا۔“ تو سورہ نساء کی آیت نازل ہوئی جس میں یہ حکم ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری اولاد کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ ایک مذکر کا حصہ دو مونث کے برابر ہو گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”اس عورت کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس کے دوسرے فریق کو بھی لاؤ۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے وصی سے یہ کہا: ”تم ان بچیوں کو دو تہائی حصہ دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو جو باقی بچ جائے وہ تمہیں ملے گا۔“
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ ، أنا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ رِفَاعَةَ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمٍ الأَعْوَرُ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ ، وَلِلابْنَتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأَخِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے لیے آٹھواں حصہ، دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی حصہ اور باقی بچ جانے والا مال سگے بھائی کے لیے مقرر کیا تھا۔
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَعْدًا قُتِلَ مَعَكَ شَهِيدًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَى عَمِّهَا : " أَعْطِ هَاتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ ، وَالْمَرْأَةَ الثُّمُنَ ، وَلَكَ مَا بَقِيَ ".
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے۔“ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں): نبی کریم نے ان بچیوں کے چچا کو بلوایا اور فرمایا: ”تم ان دونوں بچیوں کو دو تہائی حصہ دو، (مرحوم کی) بیوی کو آٹھواں حصہ دو، جو باقی بچے گا، وہ تمہیں ملے گا۔“
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ ، وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ ، وَأَخَاهُ ، فَعَمَدَ أَخُوهُ فَقَبَضَ مَا تَرَكَ سَعْدٌ ، وَإِنَّمَا تُنْكَحُ النِّسَاءُ عَلَى أَمْوَالِهِنَّ ، فَلَمْ يُجِبْهَا فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَتْهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنَتَا سَعْدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لِي أَخَاهُ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ : ادْفَعْ إِلَى ابْنَتَيْهِ الثُّلُثَيْنِ ، وَإِلَى امْرَأَتِهِ الثُّمُنَ ، وَلَكَ مَا بَقِيَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے ہیں، انہوں نے (پس ماندگان میں) دو بیٹیاں اور ایک بھائی چھوڑا ہے، ان کے بھائی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا چھوڑا ہوا سارا مال اپنے قبضہ میں لے لیا ہے، خواتین کے ساتھ ان کی مالی حیثیت کے حساب سے نکاح کیا جانا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محفل کے دوران اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا، پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دو صاحبزادیوں کا معاملہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بھائی کو میرے پاس بلاؤ۔“ وہ شخص آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کی بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو اور اس کی اہلیہ کو آٹھواں حصہ دو اور جو باقی بچ جائے، وہ تمہیں ملے گا۔“
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، وَسَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ ، وَابْنَةِ ابْنٍ ، وَأُخْتٍ لأَبٍ ، وَأُمٍّ ، فَقَالا : لِلابْنَةِ النِّصْفُ ، وَلِلأُخْتِ مَا بَقِيَ ، وَقَالا : " انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالا ، قَالَ : وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيهَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : النِّصْفُ لِلابْنَةِ ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ ، وَلِلأُخْتِ مَا بَقِيَ " ،.
محمد محی الدین
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے ان دونوں حضرات سے ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک سگی بہن کی وراثت کا حکم دریافت کیا، تو ان دونوں حضرات نے یہ فرمایا: ”بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال اس کی بہن کو ملے گا۔“ پھر ان دونوں نے فرمایا: ”تم سیدنا عبداللہ کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو، وہ بھی ہماری رائے کے مطابق جواب دیں گے۔“ وہ شخص سیدنا عبداللہ کے پاس آیا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا اور انہیں یہ بھی بتایا کہ ان دونوں حضرات نے یہ جواب دیا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس بارے میں وہ فیصلہ دوں گا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، نصف حصہ بیٹی کو ملے گا، چھٹا حصہ پوتی کو ملے گا، تا کہ دو تہائی حصے مکمل ہو جائیں اور باقی بچ جانے والا مال اس کی بہن کو ملے گا۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمُ ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
قُرِئَ عَلَى ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَةً ، وَابْنَةَ ابْنِهِ ، وَأُخْتَهُ لأَبِيهِ ، وَأُمَّهُ ، فَقَالَ : لِلابْنَةِ النِّصْفُ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ لِلأَبِ ، وَالأُمِّ ، وَقَالَ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، سَيَقُولُ مثل مَا قُلْتُ ، فَسَأَلُوا ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَأَخْبِرُوهُ بِمَا قَالَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كَيْفَ أَقُولُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لِلابْنَةُ النِّصْفُ ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ ، وَالأُمِّ " .
محمد محی الدین
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو پس ماندگان میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک سگی بہن کو چھوڑ کر جاتا ہے، تو حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور جو باقی مال بچ جائے گا، وہ اس کی بہن کو مل جائے گا۔“ پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے فرمایا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی اسی کے مطابق جواب دیں گے، جو میں نے کہا ہے۔“ لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا اور انہیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے جواب کے بارے میں بھی بتایا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں، جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (ایسی صورت حال میں) بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، اس طرح دو تہائی حصے مکمل ہو جائیں گے اور جو باقی بچ جائے گا، وہ سگی بہن کو مل جائے گا۔“
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، أنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ ، فَسَكَتَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَسَارَ هُنَيْهَةً ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي جَبْرَائِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا مِيرَاثَ لَهُمَا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو . وَرَوَاهُ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَوَهِمَ فِيهِ وَالأَوَّلُ أَصَحُّ ، وَحَدِيثُ مَسْعَدَةَ يَأْتِي بَعْدَ هَذَا وَوَهِمَ فِيهِ وَالأَوَّلُ أَصَحُّ ، وَحَدِيثُ مَسْعَدَةَ يَأْتِي بَعْدَ هَذَا.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابونمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ اس وقت سواری پر سوار تھے، آپ نے اپنی رفتار کم کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا ہے کہ ان دونوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملے گا۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ ، وَابْنَهَا زَيْدًا وَقَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، وَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ ، فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا هَلَكَ قَبْلُ ، فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا ، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا ، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا " .
محمد محی الدین
جعفر صادق اپنے والد (محمد باقر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم اور ان (خاتون) کے صاحبزادے زید (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے)، یہ دونوں ایک ہی دن انتقال کر گئے، ان کے انتقال کا وقت قریب قریب تھا، یہ پتا نہیں چل سکا کہ ان دونوں میں سے کون پہلے انتقال کر گیا تھا؟ تو وہ خاتون اس بچے کی وارث نہیں بنی اور وہ بچہ اس خاتون کا وارث نہیں بنا، اسی طرح اہل صفین بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے، اسی طرح واقعہ حرہ (میں مارے جانے والے لوگ) ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو هَانِئٍ عُمَرُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ ، " عَنْ مَوْلُودٍ لَيْسَ بِذَكَرٍ وَلا أُنْثَى ، لَيْسَ لَهُ مَا لِلذَّكَرِ وَلَيْسَ لَهُ مَا لِلأُنْثَى يَخْرُجُ مِنْ سُرَّتِهِ كَهَيْئَةِ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ ، فَسُئِلَ عَامِرٌ عَنْ مِيرَاثِهِ ، فَقَالَ عَامِرٌ : نِصْفُ حَظِّ الذَّكَرِ ، وَنِصْفُ حَظِّ الأُنْثَى " .
محمد محی الدین
ابوہانی عمر بن بشیر فرماتے ہیں: سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے ایسے بچے کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو نہ مذکر ہو نہ مونث ہو، نہ اس میں مرد کا کوئی علامتی نشان ہو، نہ مونث کا علامتی نشان ہو، بلکہ اس کی ناف کی جگہ سے پیشاب یا پاخانہ نکل آتا ہو، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے اس کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اسے مرد کی وراثت کا نصف حصہ ملے گا اور عورت کی وراثت کا نصف حصہ ملے گا۔“
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ الْهَجَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، فَإِنِّي امْرِؤٌ مَقْبُوضٌ ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الاثْنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ لا يَجِدَانِ مَنْ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا " ، قَالَ لِي تَابَعَهُ جَمَاعَةٌ ، عَنْ عَوْفٍ ، وَرَوَاهُا الْمُثَنَّى بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، قَالَ : وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، وراثت کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، کیونکہ میں انتقال کر جاؤں گا اور عنقریب علم کو بھی اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے، یہاں تک کہ وراثت کے حصے کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو گا، تو ان دونوں کو کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے بھی منقول ہے۔
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ اللُّجِّيِّ ، نَا الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ ، وَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ ، فَإِنِّي امْرِؤٌ مَقْبُوضٌ ، وَإِنَّ الْعِلْمَ سَيُقْبَضُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفُ الاثْنَانِ فِي فَرِيضَةٍ ، فَلا يَجِدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، وراثت کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، قرآن کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، میں عنقریب انتقال کر جاؤں گا اور عنقریب علم کو بھی اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے، یہاں تک کہ دو آدمیوں کے درمیان وراثت کے حصے کے بارے میں اختلاف ہو گا، تو ان دونوں کو ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدِ الْجِنَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الرَّمْلِيُّ ، نَا ضَمْرَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ : " لَوْ وُلِّيتَ الْقَضَاءَ بِفَرَائِضِ مَنْ كُنْتَ تَأْخُذُ ؟ ، قَالَ : بِفَرَائِضِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " .
محمد محی الدین
سعید بن حسن بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان ثوری سے کہا: اگر آپ وراثت کے بارے میں فیصلہ دینے کا عہدہ سنبھال لیں، تو اس بارے میں کس سے رہنمائی حاصل کریں گے؟ تو سفیان نے جواب دیا: ”سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے وراثت سے متعلق (فیصلوں سے رہنمائی حاصل کروں گا)۔“
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَقَسَمَ فِينَا فَأَعْطَى الابْنَةَ النِّصْفَ ، وَالأُخْتَ النِّصْفَ ، وَلَمْ يُوَرِّثِ الْعَصَبَةَ شَيْئًا " .
محمد محی الدین
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا، انہوں نے ہمارے درمیان (وراثت) تقسیم کی، تو انہوں نے بیٹی کو نصف حصہ دیا، بہن کو نصف حصہ دیا اور عصبہ رشتہ داروں کو کچھ بھی نہیں دیا۔
…