حدیث نمبر: 4059
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، فِي رَجَبٍ سَنَةَ ، إِحْدَى وَثَلاثِينَ وَمِائَتَيْنِ ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ ، وَعَلِّمُوهَا النَّاسَ فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ ، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْسَى ، وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْتَزَعُ مِنْ أُمَّتِي " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وراثت کا علم حاصل کرو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دو، کیونکہ یہ نصف علم ہے اور یہ وہ سب سے پہلی چیز ہے، جسے بھلا دیا جائے گا اور یہ وہ سب سے پہلی چیز ہے، جسے میری امت سے اٹھا لیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4060
نَا عَبْدُ اللَّهِ بن مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عن ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ الإِفْرِيقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعِلْمُ ثَلاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ : آيَةٌ مُحْكَمَةٌ ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”علم تین قسم کا ہوتا ہے، اس کے علاوہ جو ہے وہ اضافی ہے، ایک محکم آیات کا علم، دوسرا عادل سنت کا علم اور تیسرا انصاف کے مطابق وراثت (تقسیم کرنے کے اصولوں) کا علم ہے۔“
حدیث نمبر: 4061
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا عِيسَى بْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " بَعْدَمَا أنزلت سُورَةُ النِّسَاءِ ، وَفُرِضَ فِيهَا الْفَرَائِضُ ، يَقُولُ : لا حَبْسَ بَعْدَ سُورَةِ النِّسَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا، یہ سورۃ النساء کے نازل ہو جانے اور اس میں وراثت کے احکام نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”سورۃ النساء کے بعد اب کسی کو محبوس قرار نہیں دیا جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 4062
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ مُوسَى الصَّدَفِيُّ ، بِمِصْرَ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَبْسَ عَنْ فَرَائِضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَخِيهِ ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ کے مقرر کردہ وراثت کے حصوں سے کسی کو محبوس قرار نہیں دیا جا سکتا۔“ ابن لہیعہ کے علاوہ اور کسی نے اس کی سند بیان نہیں کی ہے، اس نے اپنے بھائی کے حوالے سے نقل کیا ہے، یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 4063
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " فِي ابْنَتَيْنِ ، وَأَبَوَيْنِ ، وَامْرَأَةٍ ، قَالَ : صَارَ ثَمَنُهَا تِسْعًا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (مرحوم کی) دو بیٹیوں، ماں، باپ اور بیوی کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے: ”اس کی وراثت کے نو حصے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 4064
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أنا عُمَرُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ شَجَرَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَرِثُ مِلَّةٌ مِلَّةً ، وَلا يَجُوزُ شَهَادَةُ أَهْلِ مِلَّةٍ عَلَى مِلَّةٍ إِلا أُمَّتِي ، فَإِنَّهُمْ يَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ " ، لَفْظُ ابْنِ عَيَّاشٍ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَحْسَبُ شَكَّ عُمَرُ ، وَعُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مذہب دوسرے مذہب کا وارث نہیں بنتا اور ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی گواہی دوسرے مذہب کے خلاف قبول نہیں کی جا سکتی، البتہ میری امت کا حکم مختلف ہے، کیونکہ ان کی گواہی دوسرے سب لوگوں کے حق میں قبول کی جائے گی۔“ روایت کے یہ الفاظ عیاش نامی راوی کے ہیں، تاہم انہوں نے اپنی روایت میں یہ بات نقل کی ہے: ”میرا خیال ہے کہ روایت کے الفاظ میں شک عمر نامی راوی کو ہے اور عمر نامی راوی عمر بن راشد ہے، جو مستند نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 4065
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی کافر کسی مسلمان کو وارث نہیں بن سکتا، اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔“
حدیث نمبر: 4066
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسِيلُ عَلَيَّ لُعَابُهَا فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، لا يَدَّعِينَ رَجُلٌ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَلا يَنْتَمِي إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ مُتَتَابِعَةً ، لا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلا بِإِذْنِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَلا الطَّعَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ، ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا ہوا تھا، اور اس کی رال میرے اوپر بہہ رہی تھی، اس موقع پر آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”اللہ نے ہر حق دار کا حق مقرر کیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، اولاد صاحب فراش کی ہو گی اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی، کسی شخص کو اس کے باپ کی بجائے کسی اور حوالے سے نہ بلایا جائے گا اور کوئی بھی شخص اپنے آپ کو اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب نہ کرے، جو شخص ایسا کرے گا، اس پر اللہ کی لگاتار لعنت ہو گی، عورت اپنے شوہر کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اناج بھی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تو ہمارا سب سے زیادہ اہم مال ہے۔“ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عاریت کے طور پر دی گئی چیز واپس کرنا ہوتی ہے، قرض کو ادا کیا جائے گا، اور جو شخص ذمہ دار بنے گا، وہ تاوان ادا کرنے کا بھی پابند ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4067
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، شَيْخٌ بِالسَّاحِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
ایک اور روایت میں یہی الفاظ ہیں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا ہوا۔“ اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت نقل کی ہے۔