حدیث نمبر: 4008
قَالَ قَالَ هِشَامٌ : وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا " وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ حَرَّمَ جَارِيَتَهُ ، فَقَالَ اللَّهُ : لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 إِلَى قَوْلِهِ : قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ سورة التحريم آية 2 ، فَكَفَّرَ عَنْ يَمِينِهِ وَصَيَّرَ الْحَرَامَ يَمِينًا " .
حدیث نمبر: 4009
نَا نَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى أَخْبَرَهُ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ ، فَإِنَّمَا هِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے لیے حرام قرار دے دے، تو یہ قسم شمار ہو گی اور وہ شخص قسم کا کفارہ ادا کرے گا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4010
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الْحَرَامِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”لفظ، حرام، استعمال کرنے پر قسم کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4011
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " جَعَلَ الْحَرَامَ يَمِينًا " ، ابْنُ مُحْرِزٍ ، ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، هَكَذَا غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ، حرام، استعمال کرنے کو قسم قرار دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 4012
نَا نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُ " ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُحْرِزٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”لفظ، حرام، استعمال کرنا قسم ہے، جس کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4013
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّصْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ وَلَدِهِ مَارِيَةَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَوَجَدْتُهُ حَفْصَةُ مَعَهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : " تُدْخِلُهَا بَيْتِي ، مَا صَنَعْتَ بِي هَذَا مِنْ بَيْنَ نِسَائِكَ إِلا مِنْ هَوَانِي عَلَيْكَ ، فَقَالَ : لا تَذْكُرِي هَذَا لِعَائِشَةَ فَهِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنْ قَرَبْتُهَا، قَالَتْ حَفْصَةُ : وَكَيْفَ تُحَرَّمُ عَلَيْكَ وَهِيَ جَارِيَتُكَ ؟ فَحَلَفَ لَهَا لا يَقْرَبُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَذْكُرِيهِ لأَحَدٍ ، فَذَكَرَتْهُ لِعَائِشَةَ فَآلَى لا يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَاعْتَزَلَهُنَّ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 " ، قَالَ : وَالْحَدِيثُ بِطُولِهِ طَوِيلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ام ولد، سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آئے، جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس خاتون کو دیکھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ اسے میرے گھر کے اندر لے آئے ہیں؟ آپ نے اپنی دیگر ازواج کو چھوڑ کر میرے ساتھ ایسا اس لیے کیا ہے، کیونکہ (آپ کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں ہے)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عائشہ کے سامنے اس کا ذکر نہیں کرنا، یہ (کنیز) میرے لیے حرام ہے کہ میں اس کے قریب جاؤں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حلف اٹھایا کہ آپ اس (کنیز) کے قریب نہیں جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کرنا۔“ لیکن سیدہ حفصہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی ازواج) سے ایلاء کیا کہ آپ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس تشریف نہیں لے جائیں گے۔ آپ نے 29 دن تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں اس کے بعد طویل حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 4014
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَجَدَتْ حَفْصَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ فِي يَوْمِ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : لأُخْبِرَنَّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنْ قَرَبْتُهَا ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ بِذَلِكَ ، فَأَعْلَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولَهُ بِذَلِكَ فَعَرَّفَ حَفْصَةَ بَعْضَ مَا قَالَتْ : قَالَتْ لَهُ : مَنْ أَخْبَرَكَ ؟ ، قَالَ : نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ ، فَآلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَسَأَلْتُ عُمَرَ : مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : حَفْصَةُ ، وَعَائِشَةُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ کے مخصوص دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ام ابراہیم (یعنی سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ پایا تو یہ کہا: میں (سیدہ عائشہ کو) اس بارے میں ضرور بتاؤں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (یعنی ام ابراہیم) میرے لیے حرام ہے کہ میں اس کے قریب جاؤں۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ کو اس بارے میں بتا دیا تو اللہ نے اپنے رسول کو اس بارے میں بتا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کو ان کی بات کے بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس نے بتایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علم اور خبر رکھنے والی ذات نے اطلاع دی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کے لیے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہو گئے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، وہ دو خواتین کون تھیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (اس فعل کے حوالے سے) ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عائشہ اور حفصہ۔
حدیث نمبر: 4015
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، " فِي رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِهِ : أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلاقَ حَرَجٍ ، قَالَ : أَمَّا قَوْلُهُ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، وَأَمَّا قَوْلُهُ الْبَتَّةَ ، وَطَلاقُ حَرَجٍ فَيَدِينُ فِيهِ " .
محمد محی الدین
عطاء فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: تم مجھ پر حرام ہو، تمہیں طلاق بتا ہے، تمہیں حرج والی طلاق ہے، جہاں تک اس کے یہ کہنے کا تعلق ہے: تم مجھ پر حرام ہو، تو یہ قسم ہے، جس کا وہ شخص کفارہ ادا کرے گا، (یہ طلاق نہیں ہے)، جہاں تک لفظ، طلاق بتا، یا طلاق حرج، استعمال کرنے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں اس کی نیت کا اعتبار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4016
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا رَوْحٌ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا ، فَقَالَ : كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ، ثُمَّ تَلا يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ ، عِتْقُ رَقَبَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے پر حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے غلط کہا، وہ تم پر حرام نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”اے نبی! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو، جو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ (پھر سیدنا ابن عباس نے فرمایا) تم پر سب سے زیادہ سخت کفارہ عائد ہو گا یعنی غلام آزاد کرنا۔
حدیث نمبر: 4017
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّ أَبِيهِ رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ ، " أَنَّهُ أَسْلَمَ ، وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَةٌ تشبه بِالْفَطِيمِ ، فَخَاصَمَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ضَعَاهَا بَيْنَكُمَا ، ثُمَّ ادْعُوَاهَا ، فَفَعَلا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِهَا، فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اسلام قبول کیا، لیکن ان کی اہلیہ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان کی ایک چھوٹی بچی تھی، جو دودھ چھڑانے کی عمر تک پہنچ چکی تھی، وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنے درمیان رکھو، اور پھر تم دونوں اسے بلاؤ۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو وہ بچی اپنی والدہ کی طرف مائل ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ہدایت نصیب کر۔“ تو وہ بچی اپنے والد کی طرف مائل ہو گئی، تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے اسے حاصل کر لیا۔
حدیث نمبر: 4018
نَا ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، نَا أَبِي ، أَنَّ جَدَّهُ رَافِعَ بْنَ سِنَانٍ " أَسْلَمَ ، وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا جَارِيَةٌ تُدْعَى عَمِيرَةُ ، فَطَلَبَتِ ابْنَتَهَا فَمَنَعَهَا ذَلِكَ ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْعُدِي هَا هُنَا ، وَقَالَ لَهُ : اقْعُدْ هَا هُنَا ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُوَاهَا ، فَدَعَوَاهَا ، فَمَالَتْ نَحْوَ أُمِّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِهَا، فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اسلام قبول کر لیا، ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کی ایک بیٹی تھی، جس کا نام عمیرہ تھا، اس عورت نے اس بچی کا مطالبہ کیا، تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”تم یہاں بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے سیدنا رافع سے فرمایا: ”تم یہاں بیٹھ جاؤ۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اب تم دونوں اس بچی کو بلاؤ۔“ ان دونوں نے بلایا، وہ بچی اپنی والدہ کی طرف مائل ہونے لگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ہدایت عطا کر۔“ تو وہ بچی اپنے والد کی طرف مائل ہو گئی، تو انہوں نے اسے حاصل کر لیا، اور اپنے ساتھ لے گئے۔
حدیث نمبر: 4019
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " هَاتِ مِنْ هَنِيئَاتِكَ وَمِنْ صَدْرِكَ وَمِمَّا جَمَعْتَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو الصَّهْبَاءِ : هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الثَّلاثَةَ كَانَتْ تَرُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْوَاحِدَةِ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ فَقَدْ كَانَتِ الثَّلاثَةُ تَرُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ ، إِلَى الْوَاحِدَةِ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ تَتَابَعَ النَّاسُ فِي الطَّلاقِ فَأَمْضَاهُنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلاثًا " .
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: ابوصہباء سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ”اپنا موقف (یا سوال) اور جو کچھ تمہارے ذہن میں ہے اور جو کچھ تم نے اکٹھا کیا ہے، اسے پیش کرو۔“ تو ابوصہباء نے ان سے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں طلاق کے مقدمات زیادہ آنے لگے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں تین قرار دینا (شروع کر دیا)۔“
حدیث نمبر: 4020
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَدَّادُ ، نَا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ الدَّارِعُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَا مُعَاذُ ، مَنْ طَلَّقَ لِلْبِدْعَةِ وَاحِدَةً ، أَوِ اثْنَتَيْنِ ، أَوْ ثَلاثًا أَلْزَمْنَاهُ بِدْعَتَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے معاذ! جو شخص بدعت (یعنی خلاف سنت) طریقے سے اپنی بیوی کو ایک، دو، یا تین طلاقیں دے گا، ہم اس کی بدعت کو اس پر لازم کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 4021
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَدَّادُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، مَنْ طَلَّقَ لِلْبِدْعَةِ أَلْزَمْنَاهُ بِدْعَتَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! جو شخص بدعت طریقے سے اپنی بیوی کو ایک، دو یا تین طلاقیں دے گا، ہم اس کی بدعت کو اس پر لازم کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 4022
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرٍ اللَّبَّانُ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ نَذِيرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ثَلاثًا ، فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَعَصَى رَبَّهُ وَخَالَفَ السُّنَّةَ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران تین طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس سے بائنہ ہو جائے گی، تاہم اس شخص نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور سنت کی خلاف ورزی کی۔“
حدیث نمبر: 4023
نَا أَبُو صَالِحٍ ، وَعُثْمَانُ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4024
نَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْقَطَّانُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، فَقَالَ : بَانَتْ مِنْهُ ، وَلا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : أُفْتِي النَّاسَ بِهَذَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
ابان بن تغلب بیان کرتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، امام جعفر صادق نے فرمایا: ”وہ عورت اس شخص سے بائنہ ہو جائے گی اور اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک دوسری شادی کر کے (بیوہ یا مطلقہ) نہیں ہو جاتی۔“ میں نے ان سے دریافت کیا: ”کیا میں لوگوں کو اس کے مطابق فتوی دے دوں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4025
نَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، نَا رَوَّادُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ كَثِير ٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ الْخُلْعَ تَطْلِيقَةً بَائِنَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلع کو ایک بائنہ طلاق قرار دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 4026
نَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا أَبُو حَازِمٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے ان سے خلع لے لیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ ایک حیض عدت گزارے۔
حدیث نمبر: 4027
وَنا ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتٍ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ثابت کی اہلیہ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)، انہوں نے (اس کی سند میں) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4028
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " كَانَ الطَّلاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ : الثَّلاثَةُ وَاحِدَةٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں، تین (طلاقیں) ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں کو جس بارے میں سہولت دی گئی تھی، انہوں نے اس معاملے میں جلد بازی کرنا شروع کر دی ہے، اگر ہم ان (تین طلاقوں کو تین کی صورت میں) جاری رہنے دیں (تو یہی مناسب ہو گا)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (تین طلاقوں کو تین کی شکل میں) جاری رہنے دیا۔
حدیث نمبر: 4029
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَجَّاجَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ ، قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَتَعْلَمُ إِنَّمَا كَانَتِ الثَّلاثَةُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَثَلاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ ؟ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: ابوصہباء نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”کیا آپ یہ بات جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے (ابتدائی) تین سالوں میں تین (طلاقیں) ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4030
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ : " نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ الثَّلاثَ كَانَتْ تُرَدُّ إِلَى الْوَاحِدَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: ابوصہباء نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ یہ بات جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین (طلاقیں) ایک شمار ہوتی تھیں۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4031
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ ، قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ أَتَعْلَمُ إِنَّمَا كَانَتِ الثَّلاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَثَلاثٍ مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ ؟ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: ابوصہباء نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ یہ بات جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین (طلاقیں) ایک شمار ہوتی تھیں۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4032
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْجَوْزَاءِ ، لابْنِ عَبَّاسٍ : أَتَعْلَمُ أَنَّ الثَّلاثَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُنَّ يُرْدَدْنَ إِلَى الْوَاحِدَةِ ، وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ابوجوزاء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں (سیدنا ابوبکر کے عہد خلافت میں) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔“ تو (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4033
نَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَأَلَ أَبُو الْجَوْزَاءِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الثَّلاثَ كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، تُرَدُّ إِلَى الْوَاحِدَةِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ابوجوزاء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں (سیدنا ابوبکر کے عہد خلافت میں) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔“ تو (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4034
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَوْمًا ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " عَصَيْتَ رَبَّكَ وَحُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ ، وَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا ، تُطَلِّقُ فَتَتَحَمَّقُ ، ثُمَّ تَقُولُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 ، فِي قَبْلِ عِدَّتِهِنَّ " ، قَالَ : وَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَجْلِسِ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَمِعَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ مُجَاهِدًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں: ایک دن میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعباس! میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو گئی۔ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ورنہ اس نے تمہارے لیے کوئی گنجائش بنا دیتی۔ تم نے طلاق دیتے وقت حماقت کا مظاہرہ کیا اور اب تم کہتے ہو اے ابوعباس۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت (کے حساب سے) دو یعنی ان کی عدت سے پہلے دو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4035
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ رَجُلا ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا ابن عباس سے سوال کیا، اس نے کہا: ”اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔“ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 4036
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا جَعْفَرُ الْقَلانِسِيُّ ، نَا أَبُو الرَّبِيعِ ، نَا حَمَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4037
نَا نَا النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " فِي الإِيلاءِ ، قَالَ : يُوقَفُ بَعْدَ الأَرْبَعَةِ فَإِمَّا أَنْ يَفِئَ ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ایلاء کے بارے میں فرماتے ہیں: ”چار ماہ کے بعد یہ (مرد کی مرضی پر) موقوف ہو گا، یا تو وہ رجوع کر لے یا طلاق دے دے۔“
حدیث نمبر: 4038
وَعَنِ وَعَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " يُوقَفُ بَعْدَ الأَرْبَعَةِ فَإِمَّا أَنْ يَفِئَ ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4039
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، ،أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الرَّجُلِ يُولِي ، فَقَالُوا : " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ حَتَّى يَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَيُوقَفُ فَإِنْ فَاءَ ، وَإِلا طَلَّقَ " .
محمد محی الدین
سہیل بن ابوصالح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”میں نے 12 صحابہ کرام سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو ایلاء کر لیتا ہے، تو ان حضرات نے یہی جواب دیا: اس پر اس وقت تک کوئی چیز عائد نہیں ہو گی، جب تک چار ماہ نہیں گزر جاتے، پھر (مرد کی مرضی) پر موقوف ہو گا، اگر وہ رجوع کر لے تو (ٹھیک)، ورنہ طلاق دے دے۔“
حدیث نمبر: 4040
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : أَدْرَكْتُ بَضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ " يُوقِفُ الْمُولِي " .
محمد محی الدین
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: ”میں نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پایا، وہ سب ایلاء کرنے والے کی مرضی پر موقوف قرار دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 4041
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا مَسْعُودٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، " كَانَ يُوقَفُ الْمُولِي " .
محمد محی الدین
طاؤس روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایلاء کرنے والے سے پوچھ گچھ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4042
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، " كَانَ لا يَرَى الإِيلاءَ شَيْئًا ، وَإِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ حَتَّى يُوقَفَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، ایلاء میں کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے (یعنی طلاق نہیں ہوتی)، خواہ چار ماہ گزر جائیں (طلاق کا معاملہ مرد کی مرضی پر) موقوف ہو گا۔
حدیث نمبر: 4043
نَا نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا قَبِيصَةُ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالا : " إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب چار ماہ گزر جائیں، تو یہ ایک طلاق شمار ہو گی۔“
حدیث نمبر: 4044
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولانِ : " إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب چار ماہ گزر جائیں، یہ ایک طلاق شمار ہو گی۔“
حدیث نمبر: 4045
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الْمَيْمُونِيُّ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدِيثَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، فَقَالَ لا أَدْرِي مَا هُوَ قَدْ رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ خِلافُهُ ، قِيلَ لَهُ : مَنْ رَوَاهُ ؟ قَالَ : حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، " وَقَفَ الْمُولِي " .
محمد محی الدین
میمونی بیان کرتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل کے سامنے عطاء خراسانی کی ابوسلمہ کے حوالے سے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں یہ کیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کے برخلاف نقل کیا گیا ہے۔“ ان سے دریافت کیا گیا: ”کس نے اسے نقل کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ابوعبداللہ یا حبیب بن ابوثابت نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ رائے نقل کی ہے: ایلاء کرنے والے کی مرضی پر موقوف ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4046
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَحِمَهُ اللَّهُ كَانَ يَقُولُ : " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ ، وَهِيَ أَمْلَكُ بَرْدَهَا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(ایلاء میں) جب چار ماہ گزر جائیں، تو یہ ایک طلاق شمار ہو گی اور جب تک عورت کی عدت پوری نہیں ہوتی، مرد کو اس سے رجوع کرنے کا اختیار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4047
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ، وَلا عِدَّةَ عَلَيْهَا ، وَتَزَوَّجْ إِنْ شَاءَتْ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
ایوب بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے دریافت کیا: کیا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ فرماتے تھے: ”جب چار ماہ گزر جائیں، تو یہ ایک بائنہ طلاق شمار ہو گی اور عورت پر عدت لازم نہیں ہو گی، اگر وہ چاہے تو (فوراً بعد دوسری) شادی کر سکتی ہے۔“ تو سعید نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
…