کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3968
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَفِيهِ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ لِلرَّجُلِ : أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنِي بِهَذَا ، فَإِنْ طَلَّقْتَ ثَلاثًا فَلا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ ، وَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اس عورت سے رجوع کر لے (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔“ اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسے شخص سے یہ فرماتے ہیں: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا، اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں، تو اب وہ عورت تمہارے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہ ہو جائے، تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3968
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3969
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ رِجَالٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا سَأَلَهُ " عَنْ طَلاقِ الْحَائِضِ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا أَنْتَ فَطَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ أَمَرَنِي بِهَذَا ، وَأَمَّا أَنْتَ فَطَلَّقَتْ ثَلاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ ، وَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنَ الطَّلاقِ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: جب کوئی شخص عبداللہ بن عمر سے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دینے کا مسئلہ دریافت کرتا، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے وہ بات بتاتے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی، پھر یہ کہتے: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا، لیکن اگر تم نے تین طلاقیں دی ہیں، تو وہ عورت اس وقت تک کے لیے تم پر حرام ہو گئی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہیں ہو جاتی، تم نے اپنے پروردگار کے اس حکم کی نافرمانی کی ہے، جو حکم اس نے طلاق دینے کے بارے میں تمہیں دیا تھا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3969
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3970
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَأَبَى مَرْوَانُ إِلا أَنْ يَتَّهِمَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ ، وَأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَنْهَى الْمُطَلَّقَةَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا ، حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا " .
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے اسے تیسری طلاق بھی دے دی، وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: کیا وہ اپنے گھر سے باہر نکل سکتی ہے (یعنی کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہیں)؟ تو نبی نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جائے۔“ مروان نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مطلقہ عورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے، اس نے سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بیان کو معتبر تسلیم نہیں کیا۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ نے بھی فاطمہ بنت قیس کے بیان کو تسلیم نہیں کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلقہ عورت کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھر سے نکلے، جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہو جاتی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3970
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151 ، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
حدیث نمبر: 3971
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ أَيَّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ؟ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ الْكِلابِيَّةَ ، لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَا مِنْهَا ، فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ " .
محمد محی الدین
اوزاعی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی زوجہ محترمہ نے آپ سے پناہ مانگی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ اس خاتون کا نام بنت جون کلابیہ تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے قریب ہوئے، تو وہ بولی: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک عظیم (ذات کی) پناہ لے لی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3971
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5254، وابن الجارود فى "المنتقى"، 798، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6899، 6900، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5580، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2037، 2050، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3971»
حدیث نمبر: 3972
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ صَاحِبُ الطَّعَامِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِيٌّ وَبُويِعَ الْحَسَنُ بِالْخِلافَةِ ، قَالَتْ : لِتَهْنِكَ الْخِلافَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : يُقْتَلُ عَلِيٌّ وَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ ، اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاثًا ، قَالَ : فَتَلَفَّعَتْ نِسَاجَهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، وَبَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشَرَةِ آلافٍ مُتْعَةً وَبَقِيَّةً بَقِيَ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا ، فَقَالَتْ : مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى وَقَالَ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي ، أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي ، يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا مُبْهَمَةً أَوْ ثَلاثًا عِنْدَ الإِقْرَاءِ ، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ لَرَاجَعْتُهَا " .
محمد محی الدین
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: عائشہ خثعمیہ نامی ایک خاتون سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھی، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی، تو اس خاتون نے کہا: ”امیر المؤمنین! آپ کو خلافت مبارک ہو۔“ تو امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور تم مبارک باد دے رہی ہو، جاؤ، تمہیں تین طلاقیں ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہو گئی، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بھجوائے، تو وہ عورت بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔“ جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ رو پڑے اور فرمایا: ”اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)، میرے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے، انہوں نے میرے نانا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)، جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دے دیں، تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے مطلقہ یا بیوہ نہ ہو جائے۔“ (امام حسن فرماتے ہیں:) تو میں اس سے رجوع کر لیتا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3972
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1763، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14517، 14518، 14607، 15080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3972، 3973، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12256، 12257، 12260، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19034»
حدیث نمبر: 3973
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، جَاءَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ امْرَأَةُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَتْ لَهُ : لِتَهْنِكَ الإِمَارَةَ ، فَقَالَ لَهَا : تُهَنِّينِي بِمَوْتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، انْطَلِقِي فَأَنْتِ طَالِقٌ ، فَتَقَنَّعْتُ بِثَوْبِهَا ، وَقَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِمُتْعَةٍ عَشَرَةِ آلافٍ وَبَقِيَّةَ صَدَاقِهَا فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا بَكَتْ ، وَقَالَتْ : مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ ، فَأَخْبَرَهُ الرَّسُولُ ، فَبَكَى ، وَقَالَ : " لَوْلا أَنِّي أَبَنْتُ الطَّلاقَ لَهَا لَرَاجَعْتُهَا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً ، أَوْ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ شَهْرٍ تَطْلِيقَةً ، أَوْ طَلَّقَهَا ثَلاثًا جَمِيعًا ، لَمْ تَحِلَّ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " .
محمد محی الدین
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ، جو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھی، انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کو امیر المؤمنین بننا مبارک ہو۔“ تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم امیر المؤمنین (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی شہادت پر مجھے مبارک باد دے رہی ہو، چلی جاؤ، تمہیں طلاق ہے۔“ اس عورت نے (روتے ہوئے) اپنا کپڑا منہ پر رکھا اور بولی: ”اے اللہ! میرا مقصد تو صرف بھلائی تھا (یعنی میرا یہ ارادہ نہیں تھا)۔“ بعد میں سیدنا امام حسن نے متاع کے طور پر اس خاتون کو دس ہزار درہم یا دینار اور مہر کا بقیہ حصہ بھجوایا، جب یہ چیزیں اس کے سامنے رکھی گئیں، تو وہ رو پڑی اور بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلے میں یہ سب کچھ بہت تھوڑا ہے۔“ جب قاصد نے سیدنا امام حسن کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے طلاق کو اس عورت کے لیے ثابت نہ کیا ہوتا، تو اس سے رجوع کر لیتا، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے، یوں کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینے میں ایک طلاق دے یا تین طلاقیں ایک ساتھ دے دے، تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے شخص سے شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3973
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1763، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14517، 14518، 14607، 15080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3972، 3973،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19034»
حدیث نمبر: 3974
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُمْ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ ، وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرُ فَيُطَلَّقَ لِكُلِّ قُرُوءٍ ، قَالَ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ ، أَوْ أَمْسِكْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاثًا أَكَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا ؟ ، قَالَ : لا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ ، وَتَكُونُ مَعْصِيَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، پھر انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس خاتون کو بقیہ دو طلاقیں آگے آگے آنے والے طہروں کے دوران دیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عمر! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح (طلاق دینے کا) حکم تو نہیں دیا، تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، سنت یہ ہے کہ تم پہلے اسے طہر آنے دو، پھر ہر طہر میں طلاق دے دینا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی، تو میں نے اس خاتون سے رجوع کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے، اس وقت تم اسے طلاق دینا یا اپنے ساتھ رکھنا (یعنی طلاق نہ دینا)۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کا کیا فرمانا ہے، اگر میں اسے تین طلاقیں دے دوں، تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ میں اس سے رجوع کر لوں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، (ایسی صورت میں) وہ تم سے بائنہ ہو جائے گی اور (طلاق دینے کا یہ طریقہ) گناہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3974
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، 4264، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، 4587»
«قال الدارقطني: لم يعله إلا بعطاء الخراساني وقال إنه أتى في هذا الحديث ب
حدیث نمبر: 3975
نَا نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ ، وَعَصَى رَبَّهُ تَعَالَى ، وَخَالَفَ السُّنَّةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس سے بائنہ ہو جاتی ہے اور وہ شخص اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے اور اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3975
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3976
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " الْخَلِيَّةُ ، وَالْبَرِيَّةُ ، وَالْبَتَّةُ ، وَالْبَائِنُ ، وَالْحَرَامُ ثَلاثًا ، لا تَحِلُّ لَهُمْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بریہ، بتہ، بائن، اور حرام کے ذریعے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور وہ عورت مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک دوسری شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہیں ہو جاتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3976
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1678، 1682، 1694، 1697، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15122، 15123، 15173، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3976، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18438، 18457، 18462»
حدیث نمبر: 3977
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ، وَيَذُوقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُسَيْلَةَ صَاحِبِهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی، جب تک وہ دوسری شادی نہیں کر لیتی، اور ان دونوں (میاں بیوی) میں سے ہر ایک دوسرے فریق کا شہد نہیں چکھ لیتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3977
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2639، 5260، 5261، 5265، 5317، 5792، 5825، 6084، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1433،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1053 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4119، 4120، 4122، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3285 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1118، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1932، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3977، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24692، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 228،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17211، 17212، 17213»
حدیث نمبر: 3978
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، أنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً ؟ ، فَقَالَ رُكَانَةُ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
محمد محی الدین
نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3978
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
حدیث نمبر: 3979
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَآَخَرُونَ ، قَالُوا : نَا الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً ؟ ، فَقَالَ رُكَانَةُ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
محمد محی الدین
نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن یزید نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔ امام داؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3979
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
حدیث نمبر: 3980
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3980
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
حدیث نمبر: 3981
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ أَبُو نَضْرٍ التَّمَّارُ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ . ح وَقُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ أَيْضًا ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَشَيْبَانُ ، قَالا : نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَتَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَرَدْتَ بِهَا ؟ ، قَالَ : وَاحِدَةً ، فَقَالَ : آللَّهِ ؟ ، قَالَ : آللَّهِ ، فَقَالَ : هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ " ، غَيْرَ أَنَّ أَبَا نَضْرٍ ، لَمْ يَقُلِ : ابْنُ يَزِيدَ بْنُ رُكَانَةَ . أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیوی کو طلاق بتا دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”ایک (طلاق)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ تعالیٰ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری مراد کے مطابق (واقع شمار) ہو گی۔“ اس روایت میں ابونصر نامی راوی نے لفظ، ابن یزید بن رکانہ، نقل نہیں کیا، ابن مبارک نے زبیر بن سعید کے حوالے سے یہ روایت، مرسل، طور پر نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3981
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
حدیث نمبر: 3982
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، قَالَ : كَانَ جَدِّي رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ ؟ ، فَقَالَ : أَرَدْتُ وَاحِدَةً ، قَالَ : آللَّهِ ؟ ، قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : فَهِيَ وَاحِدَةٌ " ، خَالَفَهُ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن علی بیان کرتے ہیں: میرے دادا سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتا دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(ان الفاظ کے ذریعے) تم نے کیا مراد لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک طلاق مراد لی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ ایک (طلاق شمار) ہو گی۔“ اسحاق بن اسرائیل نے اس کے برخلاف روایت نقل کی ہے (جو درج ذیل ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3982
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
حدیث نمبر: 3983
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ ؟ ، قَالَ : وَاحِدَةً ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً ؟ ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، قَالَ : فَهِيَ وَاحِدَةٌ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن علی اپنے دادا سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتا دی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم! تم نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک طلاق مراد لی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ ایک طلاق شمار ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3983
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
حدیث نمبر: 3984
نَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ الدَّوْلابِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ ، وَلا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاقِ ، فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ : أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ حُرٌّ ، وَلا اسْتِثْنَاءَ لَهُ ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ : أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ ، وَلا طَلاقَ عَلَيْهِ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی، جو اس کے نزدیک غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی، جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تو جب کوئی شخص اپنے مملوک سے یہ کہے: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو تم آزاد ہو، تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا، اور قائل کو استثناء کا حق حاصل نہیں ہو گا، اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: اگر اللہ نے چاہا، تو تمہیں طلاق ہے، تو اس شخص کو استثناء کا حق حاصل ہو گا اور طلاق واقع نہیں ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3984
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف و منقطع
تخریج حدیث «إسناده ضعيف و منقطع ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223، 15224، 15225، 19981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3984، 3985، 3986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18329»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ومنقطع أيضا ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 417)»
حدیث نمبر: 3985
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ . قَالَ حُمَيْدٌ : قَالَ لِي يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ : وَأَيُّ حَدِيثٍ لَوْ كَانَ حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ مَعْرُوفًا ؟ قُلْتُ : هُوَ جَدِّي ، قَالَ يَزِيدُ : سَرَرْتَنِي الآنَ صَارَ حَدِيثًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ حمید بیان کرتے ہیں: یزید بن ہارون نے مجھ سے کہا: ”یہ کتنی عمدہ حدیث ہوتی، اگر اس کے راوی حمید بن مالک لخمی معروف ہوتے۔“ تو میں نے کہا: ”وہ میرے دادا ہیں۔“ تو یزید نے کہا: ”تم نے مجھے خوش کر دیا ہے، تم نے مجھے خوش کر دیا ہے، اب یہ حدیث (مستند) ہو گئی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3985
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف و منقطع
تخریج حدیث «إسناده ضعيف و منقطع ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223، 15224، 15225، 19981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3984، 3985، 3986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18329»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ومنقطع أيضا ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 417)»
حدیث نمبر: 3986
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سِنِينَ ، نَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ ، نَا مَكْحُولٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاقِ ، فَمَنْ طَلَّقَ وَاسْتَثْنَى فَلَهُ ثُنْيَاهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایسی کسی چیز کو حلال قرار نہیں دیا، جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تو جو شخص طلاق دیتے ہوئے استثناء کر لے، اسے استثناء کا حق حاصل ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3986
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف و منقطع
تخریج حدیث «إسناده ضعيف و منقطع ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223، 15224، 15225، 19981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3984، 3985، 3986، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18329»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ومنقطع أيضا ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 417)»
حدیث نمبر: 3987
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ قَرِينٍ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عَمٌّ لِي : " اعْمَلْ لِي عَمَلا حَتَّى أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي ، فَقُلْتُ : إِنْ تُزَوِّجْنِيهَا فَهِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَتَزَوَّجَهَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ لِي : تَزَوَّجْهَا ، فَإِنَّهُ لا طَلاقَ إِلا بَعْدَ نِكَاحٍ " ، فَتَزَوَّجْتُهَا فَوَلَدَتْ لِي سَعْدًا وَسَعِيدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے چچا نے مجھ سے کہا: ”تم میرے لیے کام کاج کرو، تاکہ میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کر دوں۔“ میں نے کہا: ”اگر آپ میری شادی اس کے ساتھ کی، تو اسے تین طلاقیں ہیں۔“ پھر بعد میں مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لوں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ سے (اس بارے میں) دریافت کیا، تو آپ نے مجھے فرمایا: ”تم اس عورت کے ساتھ شادی کر لو، کیونکہ طلاق، نکاح کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔“ تو میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی، تو میرے ہاں سعد اور سعید پیدا ہوئے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3987
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3987 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: فيه علي بن قرين وهو متروك ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 3988
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي عَدِيُّ بْنُ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أَسْأَلُهَا أَشْيَاءَ كَانَتْ تَرْوِيهَا ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَتْ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا عَتَاقَ ، وَلا طَلاقَ فِي إِغْلاقٍ " .
محمد محی الدین
محمد بن عبید بیان کرتے ہیں: عدی بن عدی کندی نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے ان روایات کے بارے میں دریافت کروں، جو وہ خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتی ہے، تو اس خاتون نے بتایا: سیدہ عائشہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”زبردستی (کے ذریعے) عتاق (غلام آزاد کرنا) اور طلاق واقع نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3988
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2818، 2819، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2193، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2046، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15201، 15202، 20072، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3988، 3989، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27002، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4444، 4570، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18342، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 655»
«قال ابن حجر: في إسناده محمد بن عبيد بن أبي صالح وقد ضعفه أبو حاتم الرازي ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 424)»
حدیث نمبر: 3989
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ مَرْدَوَيْهِ ، نَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، جَمِيعًا عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا طَلاقَ ، وَلا عَتَاقَ فِي إِغْلاقٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”زبردستی (کے ذریعے) عتاق (غلام آزاد کرنا) اور طلاق واقع نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3989
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2818، 2819، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2193، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2046، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15201، 15202، 20072، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3988، 3989، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27002، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4444، 4570، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18342، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 655»
«: (3 / 424)»
حدیث نمبر: 3990
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " الطَّلاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ : وَجْهَانِ حَلالٌ ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ ، فَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَلالٌ : فَأَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ ، أَوْ يُطَلِّقَهَا حَامِلا مُسْتَبِينًا حَمْلُهَا ، وَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَرَامٌ : فَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَائِضًا ، أَوْ يُطَلِّقَهَا عِنْدَ الْجِمَاعِ لا يَدْرِي أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لا ؟ " ، لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”طلاق کے چار طریقے ہیں، ان میں سے دو طریقے حلال ہیں، اور دو طریقے حرام ہیں، جہاں تک دو حلال طریقوں کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے طہر کے عالم میں، اس کے ساتھ صحبت کیے بغیر طلاق دے یا وہ اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دے، جب وہ عورت حاملہ ہو اور اس کا حمل واضح ہو، جہاں تک ان دو طریقوں کا تعلق ہے، جو حرام ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دے، یا اس کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے، جس میں یہ پتہ نہ چل سکے (اس صحبت کے نتیجے میں) حمل قرار پایا ہے یا نہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3990
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15028، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3890، 3990، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10930، 10950»
حدیث نمبر: 3991
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، قَالا : نَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَشْكُوا أَنَّ مَوْلاهُ زَوَّجَهُ ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ قَوْمٌ يُزَوِّجُونَ عَبِيدَهُمْ إِمَاءَهُمْ ، ثُمَّ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ ، أَلا إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکایت کی کہ اس کے آقا نے اس کی شادی کروائی اور اب وہ آقا چاہتا ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے (خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا، وہ پہلے اپنے غلاموں کی شادیاں اپنی کنیزوں سے کروا دیتے ہیں اور پھر وہ ان کے درمیان علیحدگی کروانا چاہتے ہیں، خبردار! طلاق دینے کا اختیار اس کو ہونا ہے، جو پنڈلی کو پکڑتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3991
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2081، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15219، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3991، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11800»
« قال الزیلعي : ابن لهيعة ضعيف وأخرجه الدارقطني في سننه عن بقية عن أبي الحجاج المهري وبقية غالب شيوخه مجاهيل وهذا منهم ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 165)»
حدیث نمبر: 3992
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ مَمْلُوكًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الطَّلاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق دینے کا حق اسے ہے، جو پنڈلی پکڑتا ہے۔“ راوی نے (اس کی سند میں) سیدنا ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3992
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15220، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3992»
حدیث نمبر: 3993
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ الصَّدَفِيُّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَ مَمْلُوكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ مَوْلايَ زَوَّجَنِي ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي ، قَالَ : فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا الطَّلاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”میرے آقا نے پہلے میری شادی کروائی، اب وہ میرے اور میری بیوی کے درمیان علیحدگی کروانا چاہتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! طلاق دینے کا حق اسے ہے، جو پنڈلی پکڑتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3993
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3993، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 473»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 441)»
حدیث نمبر: 3994
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنیز (کو دی جانے والی) طلاقیں دو ہوں گی اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال ابن حجر: في إسناده عمر بن شبيب وعطية العوفي وهما ضعيفان ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 3995
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نَا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ مَرْفُوعًا ، وَكَانَ ضَعِيفًا ، وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مَا رَوَاهُ سَالِمٌ ، وَنَافِعٌ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، عمر بن شیب اس روایت کو، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل کرنے میں منفرد ہے، یہ راوی ضعیف ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مستند طور پر یہی منقول ہے، جو سالم اور نافع نے اس روایت کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اپنے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3995
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال ابن حجر: في إسناده عمر بن شبيب وعطية العوفي وهما ضعيفان ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ " فِي الْعَبْدِ تَكُونُ تَحْتَهُ الْحُرَّةُ ، أَوِ الْحُرِّ تَكُونُ تَحْتَهُ الأَمَةُ ، قَالَ : أَيُّهُمَا رُقَّ نَقَصَ الطَّلاقُ بَرِقِّهِ ، وَالْعُدَّةُ بِالنِّسَاءِ " .
محمد محی الدین
سالم بیان کرتے ہیں: ”جو شخص غلام ہو اور اس کی بیوی آزاد عورت ہو، یا مرد آزاد ہو اور اس کی بیوی کنیز ہو، تو میاں بیوی میں سے جو بھی مملوک ہو، تو طلاق میں اس مملوکیت کی وجہ سے کمی آ جائے گی، البتہ عدت میں عورت کی حیثیت کا اعتبار کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3996
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 3997
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، نَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " طَلاقُ الْعَبْدِ الْحُرَّةَ تَطْلِيقَتَانِ ، وَعِدَّتُهَا ثَلاثَةُ قُرُوءٍ ، وَطَلاقُ الْحُرِّ الأَمَةَ تَطْلِيقَتَانِ ، وَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”غلام (شوہر) آزاد (بیوی) کو دو طلاقیں دے سکتا ہے اور عورت کی عدت تین قروء ہو گی، آزاد (شوہر) کنیز بیوی کو دو طلاقیں دے سکتا ہے اور اس عورت کی عدت، کنیز کی عدت یعنی دو حیض ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3997
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 3998
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا سُفْيَانُ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَطَلاقُهَا تَطْلِيقَتَانِ ، وَعِدَّتُهَا ثَلاثُ حِيَضٍ ، وَإِذَا كَانَتِ الْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ فَطَلاقُهَا تَطْلِيقَتَانِ ، وَالْعُدَّةُ عَلَى النِّسَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو، تو عورت کو دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں، اور اس کی عدت تین حیض ہو گی اور جب کوئی کنیز کسی آزاد شخص کی بیوی ہو، تو اسے دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت خاتون کی حیثیت کے اعتبار سے (یعنی کنیز کے طور پر دو حیض) ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3998
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 3999
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الرَّبِيعُ ، نَا الشَّافِعِيُّ ، نَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ ثِنْتَيْنِ فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ حُرَّةً كَانَتْ ، أَوْ أَمَةً ، عِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلاثُ حِيَضٍ ، وَعِدَّةُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، تو وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک وہ دوسری شادی کر کے (بیوہ یا مطلقہ) نہ ہو جائے، خواہ عورت آزاد ہو یا کنیز ہو، تاہم آزاد عورت کی عدت تین حیض، جبکہ کنیز کی عدت دو حیض ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3999
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 4000
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْحُرِّ تَبِينُ بِتَطْلِيقَتَيْنِ ، وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ ، وَإِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ بَانَتْ بِتَطْلِيقَتَيْنِ ، وَتَعْتَدُّ ثَلاثَ حِيَضٍ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَغَيْرُهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا ، وَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ . وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتٌ مِنْ وَجْهَيْنِ ، أَحَدُهُمَا : أَنَّ عَطِيَّةَ ، ضَعِيفٌ ، وَسَالِمٌ ، وَنَافِعٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَأَصَحُّ رِوَايَةً ، وَالْوَجْهُ الآخَرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شَبِيبٍ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، لا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ایسی کنیز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو، اس کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ”وہ دو طلاقوں کے ذریعے بائنہ ہو جائے گی، اور دو حیض عدت بسر کرے گی، اور جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو، تو وہ دو طلاقوں کے ذریعے بائنہ ہو جائے گی اور تین حیض تک عدت گزارے گی۔“ یہ روایت دیگر راویوں نے بھی، موقوف، روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہی درست ہے کہ ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی گئی ہے، یہ روایت منکر ہے اور دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، ایک یہ کہ عطیہ نامی راوی ضعیف ہے، جبکہ سالم اور نافع زیادہ ثبت اور صحیح روایت نقل کرنے والے ہیں، دوسرا پہلو یہ ہے کہ عمرو بن شیب، ضعیف الحدیث، ہے، اس کی نقل کردہ روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4000
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2079، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15266، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3994، 3995، 3996، 3997، 3998، 3999، 4000، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18562، 19102»
«قال الدارقطني: صحح الموقوف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
حدیث نمبر: 4001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4 لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا ، أَوْ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ؟ ، قَالَ : هِيَ لِلْمُطَلَّقَةِ ، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ".
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”اور حاملہ عورتوں کی عدت (کا اختتام) یہ ہے کہ وہ حمل کو جنم دے دیں۔“ یہ حکم تین طلاق یافتہ عورت کے لیے ہے؟ یا بیوہ کے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طلاق یافتہ کے لیے بھی ہے اور بیوہ کے لیے بھی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4001
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1213، 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3800، 3801، 4001، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 21496»
« قال الزیلعي : المثنى بن الصباح متروك بمرة ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 256)»
حدیث نمبر: 4002
نَا أَبُو عَمْرٍو يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمُ ، نَا صُغْدِيُّ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَلاقُ الْعَبْدِ تَطْلِيقَتَانِ ، وَلا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا ، وَقُرْءُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ ، وَتَتَزَوَّجُ الْحُرَّةُ عَلَى الأَمَةِ ، وَلا تَتَزَوَّجُ الأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”غلام کی دی ہوئی طلاقیں دو ہوں گی اور پھر وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک دوسری شادی کر کے (بیوہ یا طلاق یافتہ) نہیں ہو جاتی، اور کنیز کی عدت دو حیض ہو گی، کنیز پر آزاد عورت کے ساتھ شادی کی جا سکتی ہے، لیکن آزاد عورت پر کنیز کے ساتھ شادی نہیں کی جا سکتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4002
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2839، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2189، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1182، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2080، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15269 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4002، 4003»
«قال الدارقطني: ومظاهر هذا ضعيف ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (15 / 124)»
حدیث نمبر: 4003
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُظَاهِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَلاقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”کنیز کو دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“ ایک اور سند کے ساتھ یہ منقول ہے، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: ”کنیز کو دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4003
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2839، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2189، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1182، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2080، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15269 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4002، 4003»
«قال الدارقطني: ومظاهر هذا ضعيف ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (15 / 124)»
حدیث نمبر: 4004
قَالَ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : فَلَقِيتُ مُظَاهِرًا فَحَدَّثَنِي ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطَلِّقُ الْعَبْدُ تَطْلِيقَتَيْنِ ، وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي بِهِ كَمَا حَدَّثَهُ ، نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ ، يَقُولُ : لَيْسَ بِالْبَصْرَةِ حَدِيثٌ أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِ مُظَاهِرٍ هَذَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ : وَالصَّحِيحُ عَنِ الْقَاسِمِ خِلافُ هَذَا.
محمد محی الدین
ابوعاصم کہتے ہیں: بصرہ میں، مظاہر کی نقل کردہ اس روایت سے، زیادہ منکر روایت کوئی نہیں ہے، ابوبکر نیشابوری کہتے ہیں: قاسم سے مستند طور پر اس کے برخلاف منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4004
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4004»
حدیث نمبر: 4005
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ : سُئِلَ الْقَاسِمُ " عَنِ الأَمَةِ كَمْ تُطَلَّقُ ؟ ، قَالَ : طَلاقُهَا اثْنَتَانِ ، وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ . قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَبَلَغَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا ؟ ، قَالَ : لا " .
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: قاسم سے کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ اسے کتنی طلاقیں دی جا سکتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”اسے دو طلاقیں دی جا سکتی ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان سے دریافت کیا گیا: کیا اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث آپ تک پہنچی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4005
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15272، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4005»
حدیث نمبر: 4006
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سُئِلَ الْقَاسِمُ ، " عَنْ عِدَّةِ الأَمَةِ ، فَقَالَ : النَّاسُ يَقُولُونَ : حَيْضَتَانِ ، وَإِنَّا لا نَعْلَمُ ذَلِكَ ، أَوْ قَالَ : لا نَجِدُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَلا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَسَالِمٍ ، قَالا : " لَيْسَ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَلا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ عَمَلَ بِهِ الْمُسْلِمُونَ ".
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: قاسم سے کنیز کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”لوگ کہتے ہیں یہ دو حیض ہو گی، ہمیں اس بارے میں علم نہیں ہے (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں)، ہمیں یہ حکم اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت میں نہیں ملتا ہے۔“ ابن وہب نے اپنی سند کے ساتھ قاسم اور سالم کا یہی قول نقل کیا ہے: ”یہ حکم اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت میں نہیں ہے، تاہم مسلمان اس پر عمل کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4006
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15271، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4006»
حدیث نمبر: 4007
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْحَرَامُ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا " .
محمد محی الدین
عکرمہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: (بیوی کے لیے) لفظ حرام کا استعمال کرنا (طلاق نہیں) بلکہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لفظ حرام استعمال کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز کو حرام قرار دیا تھا، اللہ نے فرمایا: ”تم اسے کیوں حرام قرار دیتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”قد فرض اللہ لکم۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور آپ نے لفظ حرام استعمال کرنے کو قسم قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4007
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1695، 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15160، 15171، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4007، 4011، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2001، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18496، 18497، 18507، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9633»