حدیث نمبر: 3928
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا ، قَالَ : أَمَّا ثَلاثٌ فَتُحَرِّمُ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ ، وَبَقِيَّتُهُنَّ وِزْرٌ اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا " ، .
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تین طلاقوں کی وجہ سے تمہاری بیوی تم پر حرام ہو گئی ہے، اور بقیہ طلاقیں تمہارے لیے گناہ بن گئی ہیں، کیونکہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے۔“
حدیث نمبر: 3929
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا سُفْيَانُ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3930
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا طَلاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ ، وَلا نَذَرَ فِيمَا لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شادی سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے بارے میں نذر نہیں مان سکتا۔“
حدیث نمبر: 3931
نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَجُوزُ طَلاقٌ ، وَلا عَتَاقٌ ، وَلا بَيْعٌ ، وَلا وَفَاءُ نَذْرٍ ، فِيمَا لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اسے طلاق نہیں دے سکتا، آزاد نہیں کر سکتا، فروخت نہیں کر سکتا، اور اس کی نذر پوری نہیں کر سکتا (یعنی نذر نہیں مان سکتا)۔“
حدیث نمبر: 3932
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ صَاحِبُ أَبِي صَخْرَةَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالا : نَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ طَلاقٌ فِيمَا لا يَمْلِكُ ، وَلا بَيْعٌ فِيمَا لا يَمْلِكُ ، وَلا عِتْقُ فِيمَا لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جو چیز کا مالک نہ ہو، اسے طلاق نہیں دے سکتا، جس کا مالک نہ ہو، اسے فروخت نہیں کر سکتا، جس کا مالک نہ ہو، اسے آزاد نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 3933
نَا مُحَمَّدُ بْنُ نَيْرُوزٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَجُوزُ عَتَاقٌ ، وَلا طَلاقٌ فِيمَا لا يَمْلِكُ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْبَيْعَ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جس کا مالک نہ ہو، اسے آزاد کرنا یا طلاق دینا جائز نہیں ہے۔“ راوی نے اس میں فروخت کرنے کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3934
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُطَلِّقُ مَا لا يَمْلِكُ فَلا طَلاقَ لَهُ ، وَمَنْ أَعْتَقَ مَا لا يَمْلِكُ فَلا عَتَاقَ لَهُ ، وَمَنْ نَذَرَ فِيمَا لا يَمْلِكُ فَلا نَذْرَ لَهُ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةٍ فَلا يَمِينَ لَهُ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى قَطِيعَةِ رَحِمٍ فَلا يَمِينَ لَهُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسی طلاق دے، جس کا وہ مالک نہ ہو، تو وہ طلاق نہیں ہو گی، جو شخص اسے آزاد کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو، تو وہ آزاد نہیں ہو گا، جو شخص اس چیز کے بارے میں نذر مانے، جس کا وہ مالک نہیں ہے، تو اس کی نذر (معتبر) نہیں ہو گی، اور جو شخص کسی گناہ کے بارے میں قسم اٹھائے، اس کی قسم کا اعتبار نہیں ہو گا، اور جو شخص قطع رحمی کے بارے میں قسم اٹھائے، اس کی قسم کا اعتبار نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3935
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، بِبَلْخَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الأَزْدِيُّ ، نَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، فَكَانَ فِيمَا عَهَدَ إِلَيْهِ ، أَنْ لا يُطَلِّقَ الرَّجُلُ مَنْ لا يَتَزَوَّجُ ، وَلا يُعْتِقَ مَنْ لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہیں یہ ہدایت کی: ”(یعنی حکم یہ ہے) آدمی اس وقت تک طلاق نہیں دے سکتا، جب تک شادی نہ کر لے اور اسے آزاد نہیں کر سکتا، جس کا وہ مالک نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3936
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ عَلَى نَجْرَانَ الْيَمَنِ عَلَى صَلاتِهَا وَحَرْبِهَا وَصَدَقَاتِهَا ، وَبَعَثَ مَعَهُ رَاشِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكَانَ إِذَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَاشِدٌ خَيْرٌ مِنْ سُلَيْمٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ خَيْرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ، فَكَانَ فِيمَا عَهَدَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَقَالَ : لا يُطَلِّقُ رَجُلٌ مَا لا يَنْكِحُ ، وَلا يُعْتِقُ مَا لا يَمْلِكُ ، وَلا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کو یمن کے شہر نجران بھیجا، تاکہ وہ وہاں نماز پڑھائیں، جنگ کریں، صدقات وصول کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ راشد بن عبداللہ کو بھی بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کا ذکر کرتے تھے، یہ فرماتے تھے: ”راشد، پورے سلیم قبیلہ سے بہتر ہے اور ابوسفیان پورے عرینہ قبیلے سے بہتر ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کو جو تلقین کی تھی، اس میں انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی اور یہ ہدایت کی: ”کوئی شخص اسے طلاق نہیں دے سکتا، جس کے ساتھ اس کا نکاح نہ ہوا ہو، اور کوئی شخص اسے آزاد نہیں کر سکتا، جس کا وہ مالک نہ ہو، اور اللہ کی نافرمانی کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3937
نَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْهِرٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : " يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلانَةَ ، فَهِيَ طَالِقٌ ، قَالَ : طَلَّقَ مَا لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نقل کرتے ہیں: آپ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو یہ کہتا ہے: ”جس دن فلاں عورت کے ساتھ شادی کروں گا، اسے طلاق ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے وہ طلاق دی ہے، جس کا وہ مالک نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3938
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نَذْرَ إِلا فِيمَا أُطِيعُ اللَّهُ فِيهِ ، وَلا يَمِينَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلا عَتَاقَ ، وَلا طَلاقَ فِيمَا لا يَمْلِكُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نذر صرف اسی چیز کے بارے میں ہوتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کی جائے، قطع رحمی کے بارے میں قسم اٹھانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، آدمی جو چیز کا مالک نہ ہو، اس کے بارے میں آزاد کرنے یا طلاق دینے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3939
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ أَبُو أُمَيَّةَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاقَ الضَّرِيرُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا طَلاقَ إِلا بَعْدَ نِكَاحٍ ، وَإِنْ سَمَّيْتَ الْمَرْأَةَ بِعَيْنِهَا " ، يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طلاق صرف نکاح کے بعد ہی دی جا سکتی ہے، اگرچہ عورت کا متعین طور پر نام لیا گیا ہو۔“ یزید بن عیاض نامی راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3940
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا ابْنُ أَرْدَكَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلاقُ ، وَالرَّجْعَةُ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں، جن میں سنجیدگی بھی سنجیدگی شمار ہو گی اور مذاق بھی سنجیدگی شمار ہو گا: طلاق، نکاح، اور رجعت (یعنی رجوع کرنا)۔“
حدیث نمبر: 3941
نَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3942
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْمَارَسْتَانِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الْقَيْسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ آبَائِهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أُمِّي عَرَضَتْ عَلَيَّ قَرَابَةً لِي أَتَزَوَّجُهَا ، فَقُلْتُ : هِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا إِنْ تَزَوَّجْتُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ مِلْكٍ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : لا بَأْسَ فَتَزَوَّجْهَا " .
محمد محی الدین
امام زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری والدہ نے میرے سامنے اپنی ایک رشتہ دار لڑکی کا ذکر کیا کہ میں اس کے ساتھ شادی کر لوں، تو میں نے کہا: اگر میں نے اس عورت سے شادی کر لی، تو اسے تین طلاقیں ہیں، (اب کیا حکم ہو گا؟)“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس سے پہلے آپ کی ملکیت میں تھی؟“ اس نے عرض کیا: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس شخص نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔
حدیث نمبر: 3943
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَلاحٍ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ ، وَصَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا ، فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا ، فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا ، بَانَتْ مِنْهُ بِثَلاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ ، وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ " ، رُوَاتُهُ مَجْهُولُونَ وَضُعَفَاءُ ، إِلا شَيْخُنَا ، وَابْنُ عَبْدِ الْبَاقِي.
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبیداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ان کے بزرگوں میں سے کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، اس کے بچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں، کیا ان کے لیے کوئی گنجائش ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ اللہ سے ڈرا نہیں ہے، ورنہ وہ اس کے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا، وہ عورت اس شخص سے تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہو جائے گی، جو طلاقیں سنت کے خلاف ہیں اور (بقیہ) نو سو ستانوے طلاقیں اس کی گردن میں گناہ کے طور پر ہوں گی۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) ہمارے استاد ابن عبدالباقی (ان دو حضرات کے علاوہ) اس روایت کے تمام راوی مجہول اور ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 3944
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَدَّادُ ، نَا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الدَّارِعُ . ح وَنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، مَنْ طَلَّقَ فِي بِدْعَةٍ وَاحِدَةٍ ، أَوِ اثْنَتَيْنِ ، أَوْ ثَلاثًا أَلْزَمْنَاهُ بِدْعَتَهُ " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْقُرَشِيُّ ، ضَعِيفٌ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! جو شخص بدعت کے طور پر (یعنی سنت کے خلاف) ایک، دو، یا تین طلاقیں دے دے، ہم اس کی بدعت کو اس پر لازم کر دیں گے۔“ اسماعیل بن ابوامیہ بصری نامی راوی، متروک الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 3945
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْغَفُورِ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجُلا طَلَّقَ الْبَتَّةَ فَغَضِبَ ، وَقَالَ : تَتَّخِذُونَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ، أَوْ دِينَ اللَّهِ هُزُوًا وَلَعِبًا ، مَنْ طَلَّقَ الْبَتَّةَ أَلْزَمْنَاهُ ثَلاثًا ، لا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، هَذَا كُوفِيُّ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (یا ایک شخص کے بارے میں) سنا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ کے دین (کے احکام) سے کھیل کود کرتے ہو، جو شخص طلاق بتا دے گا، ہم اس کی تین طلاقوں کو لازم قرار دیں گے اور وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسری شادی (کرنے کے بعد بیوہ یا مطلقہ) نہ ہو جائے۔“ اسماعیل بن ابوامیہ نامی راوی کوفی ہیں اور ضعیف الحدیث ہیں۔
حدیث نمبر: 3946
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا ، قَالَ عَلِيٌّ : يُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ ثَلاثٌ ، وَسَائِرُهُنَّ اقْسِمْهُنَّ بَيْنَ نِسَائِكَ " .
محمد محی الدین
حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔“ سیدنا علی نے فرمایا: ”تین طلاقوں نے اسے تم پر حرام کر دیا ہے اور باقی طلاقیں تم اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کر دو۔“
حدیث نمبر: 3947
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، بِمِصْرَ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، نَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ الْمُلائِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ " سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَدَدَ النُّجُومِ ، فَقَالَ : أَخْطَأَ السُّنَّةَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ " .
محمد محی الدین
سعید بن جبیر اور مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو ستاروں کی تعداد میں اپنی بیوی کو طلاقیں دیتا ہے، تو سیدنا ابن عباس نے فرمایا: ”اس شخص نے سنت کی خلاف ورزی کی اور اس کی بیوی اس کے لیے حرام ہو گئی۔“
حدیث نمبر: 3948
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا مُسْلِمٌ الأَعْوَرُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَجُلا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَدَدَ النُّجُومِ ، فَقَالَ : أَخْطَأَ السُّنَّةَ ، وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ " .
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد جتنی طلاقیں دے دیں، تو اس کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس شخص نے سنت کی خلاف ورزی کی، اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔“
حدیث نمبر: 3949
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو قِلابَةَ ، نَا أَبِي ، نَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لَهَا السُّكْنَى ، وَالنَّفَقَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حاملہ بیوہ کو خرچ نہیں ملے گا۔“
حدیث نمبر: 3950
نَا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَاهِرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادٍ الأَيْلِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، نَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ لِلْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا نَفَقَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حاملہ بیوہ کو خرچ نہیں ملے گا۔“
حدیث نمبر: 3951
نَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، نَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا : لا نَفَقَةَ لَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ بیوہ کے بارے میں یہ فرمایا: ”اسے خرچ نہیں ملے گا۔“
حدیث نمبر: 3952
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْحَوَارِبِيُّ ، نَا يَزِيدُ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لا سُكْنَى لَهَا وَلا نَفَقَةَ ، إِنَّمَا السُّكْنَى ، وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ " .
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں، اسے رہائش اور خرچ نہیں ملیں گے، رہائش اور خرچ (مطلقہ کو اس وقت ملے گا) جب شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار باقی ہو۔“
حدیث نمبر: 3953
نَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قالَ لِفَاطِمَةَ : " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ ، لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ (بنت قیس) سے یہ فرمایا: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملے گا، جس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا حق باقی ہو۔“
حدیث نمبر: 3954
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا زُهَيْرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَقُلْنَا لَهَا : حَدِّثِينَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكِ ، قَالَتْ : " دَخَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعِي أَخُو زَوْجِي ، فَقُلْتُ : إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي ، وَإِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنْ لَيْسَ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةٌ ، فَقَالَ : بَلْ لَكِ سُكْنَى وَلَكِ نَفَقَةٌ ، قَالَ : إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ " فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ طَلَبَنِي الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ ، وَأَنَّ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَيَقُولُونَ : لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ ".
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں: ہم سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث سنائیں، جس میں آپ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کا ذکر ہے، تو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میرے ساتھ میرا دیور بھی تھا، میں نے عرض کی: ”میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس (یعنی میرے دیور) کا یہ کہنا ہے کہ مجھے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں رہائش اور خرچ ملے گا۔“ (اس کے دیور) نے عرض کی: ”اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتا ہے، جس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا اختیار ہو۔“ شعبی بیان کرتے ہیں: جب میں کوفہ آیا، تو اسود بن یزید نے مجھے بلایا، تاکہ اس بارے میں مجھ سے دریافت کریں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد یہ فرماتے ہیں: ایسی عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا۔
حدیث نمبر: 3955
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ " لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : لا نُجِيزُ فِي الْمُسْلِمِينَ قَوْلَ امْرَأَةٍ ، فَكَانَ يَجْعَلُ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ " .
محمد محی الدین
اسود بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بیان کا پتہ لگا، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم کسی عورت کے بیان کی وجہ سے مسلمانوں پر حکم عائد نہیں کریں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں یافتہ عورت کو رہائش اور خرچ کا حق دیا۔
حدیث نمبر: 3956
نَا نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، قَالا : نَا وَكِيعٌ ، عَنْ دَاوُدَ الأَوْدِيِّ الزَّعَافِرِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : لَقِيَنِي الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، فَقَالَ : " يَا شَعْبِيُّ ، اتَّقِ اللَّهَ وَارْجِعْ عَنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَإِنَّ عُمَرَ ، كَانَ يَجْعَلُ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ ، فَقُلْتُ : لا أَرْجِعُ عَنْ شَيْءٍ حَدَّثَتْنِي بِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: اسود بن یزید کی مجھ سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے شعبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کرنے سے باز آ جاؤ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کو رہائش اور خرچ کا حق دیا ہے۔“ تو میں نے کہا: ”میں اس سے باز نہیں آؤں گا، کیونکہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث مجھے سنائی ہے۔“
حدیث نمبر: 3957
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، وَحُصَيْنٍ ، وَمُغِيرَةَ ، وَأَشْعَثَ ، وَدَاوُدَ ، وَمُجَالِدٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا " عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَتْ : فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةَ ، وَقَالَ : إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ " ، خَالَفَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ جَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ ، عَنْ مُجَالِدٍ وَحْدَهُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے، ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں طلاق بتا دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتے ہیں، جس کے شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہو۔“
حدیث نمبر: 3958
ثنا بِهِ الْمَحَامِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّرَنِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا مُغِيرَةُ ، وَحُصَيْنٌ ، وَأَشْعَثُ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَدَاوُدُ ، وَسَيَّارٌ ، وَمُجَالِدٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ بِهَذَا . قَالَ هُشَيْمٌ : قَالَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ : " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ ، لِمَنْ كَانَ لَهَا عَلَى زَوْجِهَا رَجْعَةٌ ".
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، اور مجالد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتے ہیں، جس کا شوہر اس سے رجوع کر سکے۔“
حدیث نمبر: 3959
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَ : " لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ ، لَعَلَّهَا نَسِيَتْ " .
محمد محی الدین
اسود بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بیان کا پتہ چلا، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم اللہ کی کتاب کے حکم کو ایک عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، ہو سکتا ہے وہ بھول گئی ہو۔“
حدیث نمبر: 3960
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى ، وَلا نَفَقَةً ، فَأَخَذَ الأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصَى فَحَصَبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا ، قَالَ عُمَرُ : لا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا نَدْرِي حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ ، لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الآيَةَ .
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ شعبی بھی موجود تھے۔ شعبی نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا تھا۔ تو اسود نے مٹھی میں کنکریاں پکڑ کر شعبی کو مارتے ہوئے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم اس طرح کی روایتیں سنا رہے ہو، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے: ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے حکم کو کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، کیونکہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس عورت کو (اصل بات) یاد ہے یا وہ بھول گئی ہے۔ ایسی (تین طلاق یافتہ) عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا، کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں۔“
حدیث نمبر: 3961
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : " طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاثًا فَأَرَدْتُ النَّفَقَةَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الأَسْوَدُ ، وَقَالَ : وَيْحَكَ تُحَدِّثُ ، أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا ، قَدْ أَتَتْ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِلا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الآيَةَ . وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ : وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ ، لأَنَّ هَذَا الْكَلامَ لا يُثْبَتُ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ وَأَثْبَتُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَقَدْ تَابَعَهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ .
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے خرچ حاصل کرنا چاہا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ نے فرمایا: ”تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جاؤ۔“ ابواسحاق بیان کرتے ہیں: جب شعبی نے یہ روایت بیان کی، تو اسود نے انہیں کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم یہ روایت بیان کر رہے ہو یا اس روایت کی بنیاد پر فتویٰ دیتے ہو۔ وہ خاتون سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئی تھی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: اگر تو تم دو ایسے گواہ لے کر آتی ہو، جو اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم ایک عورت کے بیان کی وجہ سے اللہ کی کتاب کے حکم کو ترک نہیں کریں گے (وہ حکم یہ ہے): ”تم انہیں ان کے گھر سے نہ نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں۔“ اس روایت میں راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے: اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) ترک نہیں کریں گے۔ یہ روایت اس سے پہلے روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے، کیونکہ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ یحییٰ نامی راوی نے ابواحمد زبیری کے مقابلے میں بڑے حافظہ اور زیادہ مستند ہیں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 3962
نَا بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، نَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، نَا قَبِيصَةُ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، مثل قَوْلِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ سَوَاءً.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3963
نَا أَبُو أَحْمَدَ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِلَيْلٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْبِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : ذُكِرَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا السُّكْنَى وَلا النَّفَقَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ " ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن خلیل حضرمی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان ذکر کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے۔“ حسن بن عمارہ نامی راوی متروک ہے۔
حدیث نمبر: 3964
نَا نَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، بِمِصْرَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِ امْرَأَةٍ : الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ " ، أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ . وَرَوَاهُ الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ وَلَمْ يَقُلْ : " وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا " . وَقَدْ كَتَبْنَاهُ قَبْلَ هَذَا ، وَالأَعْمَشُ أَثْبَتُ مِنْ أَشْعَثَ ، وَأَحْفَظُ مِنْهُ .
محمد محی الدین
اسود، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں، اسے رہائش اور خرچ ملے گا۔“ اشعث بن سوار نامی راوی ضعیف ہے۔ اعمش نے ابراہیم کے حوالے سے اسود سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے: ”اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔“ لیکن ہم یہ روایت اس سے پہلے نوٹ کر چکے ہیں: اعمش، اشعث کے مقابلے میں زیادہ ثبت اور زیادہ بڑے حافظ الحدیث ہیں۔
حدیث نمبر: 3965
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ وَلِيدٍ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَسْوَدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالا : نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، وَقَدْ كَتَبْتُ لَفْظَهُ قَبْلَ هَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3966
نَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو الْجَهْمِ الْعَلاءُ بْنُ مُوسَى ، نَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا ، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا ، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ ، وَعَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلاقِ امْرَأَتِكَ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس خاتون سے رجوع کر لیں، پھر اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر جب اسے اگلی مرتبہ حیض آئے، تو اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دینا چاہتے ہیں، تو جب وہ عورت پاک ہو، اس وقت اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق خواتین کو طلاق دی جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر سے جب اس بارے میں سوال کیا جاتا تھا، تو وہ فرماتے تھے: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں (تو تمہیں رجوع کرنا چاہیے)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم دیا تھا، لیکن اگر تم اس عورت کو تین طلاقیں دے چکے ہو، تو وہ اب تمہارے لیے اس وقت تک حرام رہے گی، جب تک وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہیں ہو جاتی، اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیوی کو طلاق دینے کا جو حکم دیا تھا، تم نے اس بارے میں اللہ کی نافرمانی کی ہے۔“
حدیث نمبر: 3967
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَرَفَةَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، يَقُولُ : أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا طَلْقَةً وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلاقِ امْرَأَتِكَ ، وَبَانَتْ مِنْكَ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔ ابن عرفہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن عمر) کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون سے رجوع کر لیں، پھر اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ اسے اگلی مرتبہ حیض آ جائے، پھر بھی اسے یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیں، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق خواتین کو طلاق دی جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جاتا، جس نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دی ہوتی، تو سیدنا ابن عمر یہ فرماتے: ”اگر تم نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، پھر اسے یوں ہی رہنے دے، یہاں تک کہ اسے اگلی مرتبہ حیض آ جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اگر تم نے اس عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تو اللہ نے بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں تمہیں جو حکم دیا تھا، تم نے اس بارے میں اس کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے بائنہ طور پر جدا ہو گئی ہے۔“
…