کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3888
نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَائِشَةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229 ، فَلِمَ صَارَ ثَلاثًا ؟ ، قَالَ : فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229 " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا: ”طلاق دو مرتبہ ہوتی ہے۔“ پھر تیسری کا حکم کیوں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے) ”پھر معروف طریقے سے روکنا ہو گا یا احسان کے ساتھ آزاد کرنا ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3888
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2522، 2523، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3888»
«قال الدارقطني: إن المرسل هو الصواب ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 74)»
حدیث نمبر: 3889
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُقْرِئُ ، نَا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَسْمَعُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229 ، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ ؟ ، قَالَ : فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229 هِيَ الثَّالِثَةُ " ، كَذَا قَالَ : عَنْ أَنَسٍ ، وَالصَّوَابُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، مُرْسَلٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہے: ”طلاق دو مرتبہ ہو گی۔“ پھر تیسری طلاق کا حکم کہاں سے آیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے) ”پھر معروف طریقے سے روکنا ہو گا، یا احسان کے ساتھ آزاد کرنا ہو گا (اس سے مراد تیسری طلاق ہے)۔“ راوی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، تاہم درست یہ ہے کہ یہ روایت اسماعیل بن سمیع کے حوالے سے، ابورزین کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3889
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1456، 1457، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15098، 15099، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3889، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1716، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11091، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19561، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 220»
«قال الدارقطني: إن المرسل هو الصواب ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 74)»
حدیث نمبر: 3890
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " الطَّلاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ ، وَجْهَانِ حَلالٌ ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ ، فَأَمَّا الْحَلالُ : فَأَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ ، وَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَامِلا مُسْتَبِينًا ، وَأَمَّا الْحَرَامُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ حَائِضٌ ، أَوْ يُطَلِّقَهَا حِينَ يُجَامِعَهَا ، لا تَدْرِي أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لا ؟ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”طلاق دینے کے چار طریقے ہیں، ان میں دو طریقے حلال ہیں اور دو حرام ہیں۔ ایک حلال طریقہ یہ ہے: آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو (اور طہر کے دوران اس شخص نے) اس عورت کے ساتھ صحبت نہ کی ہو۔ (دوسرا طریقہ یہ ہے) آدمی حاملہ عورت کو اس وقت طلاق دے، جب اس کا حمل ظاہر ہو چکا ہو۔ (ایک) حرام طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ حیض کی حالت میں ہو۔ (دوسرا حرام طریقہ یہ ہے) آدمی عورت کو طہر کی حالت میں اس وقت طلاق دے، جب وہ اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہو، اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3890
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15028، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3890، 3990، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10930، 10950»
حدیث نمبر: 3891
نَا نَا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْمَحَامِلِيُّ ، قَالا : نَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " طَلاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً ، فَإِذَا كَانَ آخِرُ ذَلِكَ ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کے ہر طہر کے دوران اسے ایک طلاق دے، جب یہ پورا ہو جائے گا، تو یہ وہ عدت ہے، جس کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3891
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3396، 3397، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5557، 5558، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2020، 2021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3891، 3892، 3898، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18021، 18022، 18035، 18064»
حدیث نمبر: 3892
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَنْ أَرَادَ السُّنَّةَ ، فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ وَيُشْهِدُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص سنت کے مطابق طلاق دینا چاہتا ہے، وہ عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو، اور اس شخص نے اس عورت کے ساتھ صحبت نہ کی ہو، (اس شخص کو یہ بھی چاہیے کہ وہ طلاق دینے پر کسی کو) گواہ بنا لے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3892
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3396، 3397، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5557، 5558، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2020، 2021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3891، 3892، 3898، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18021، 18022، 18035، 18064»
حدیث نمبر: 3893
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو قِلابَةَ ، نَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَتُحْتَسَبُ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے (اس مسئلہ کے بارے میں) دریافت کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ رجوع کر لے، جب وہ عورت پاک ہو جائے گی، اس وقت اگر چاہے، تو اسے طلاق دے دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”کیا آپ اس طلاق کو واقع میں شمار کریں گے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3893
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3894
قَالَ : وَنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3894
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3895
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ أَبُو سَعِيدٍ ، وَأَبُو ثَوْرٍ عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ ، قَالا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ ، ثُمَّ تَطْهُرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، فَذَلِكَ الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے بارے میں نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، جو اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو، رجوع کر لے، اور اس وقت تک اپنے ساتھ رکھے، جب تک وہ پاک نہیں ہو جاتی، اور اس کے بعد ایک اور حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہو جاتی، پھر اگر وہ چاہے، تو طہر کی حالت میں اس سے صحبت کیے بغیر اسے طلاق دے دے، یہ اس طریقہ کے مطابق طلاق ہو گی، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3895
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3896
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً مُسْتَقْبَلَةً سِوَى حَيْضَتِهَا الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا مِنْ حَيْضَتِهَا ، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَلِكَ الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً فَحُسِبَ فِي طَلاقِهَا وَرَاجَعَهَا عَبْدُ اللَّهِ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جو حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کیا، اور فرمایا: ”اس عورت سے وہ رجوع کر لے، پھر اسے اس وقت تک اپنے ساتھ رکھے، جب تک اگلا حیض نہیں آ جاتا، جو اس حیض کے علاوہ ہو، جس میں اس نے طلاق دی ہے، پھر اگر اسے مناسب محسوس ہو، تو اس عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ اس اگلے حیض سے پاک ہو جائے اور یہ طلاق اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہو، یہ طلاق اس طریقہ کے مطابق ہو گی، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو ایک طلاق دی تھی، ان کو یہ طلاق شمار کی گئی تھی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے ساتھ رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3896
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3897
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ هُوَ الأَيْلِيُّ ، نَا سَلامَةُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا قَالَ : فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ . وَقَالَ صَالِحٌ : فَتَغَيَّظَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا۔ صالح نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3897
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3898
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " الطَّلاقُ لِلسُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ ، أَوْ حَبَلٍ قَدْ تَبَيَّنَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو، اور (اس طہر کے درمیان آدمی نے) اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا پھر اس وقت طلاق دے، جب عورت کا حمل ظاہر ہو چکا ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3898
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3396، 3397، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5557، 5558، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2020، 2021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3891، 3892، 3898، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18021، 18022، 18035، 18064»
حدیث نمبر: 3899
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي الْحَيْضِ فَذَكَرَ عُمَرُ أَمْرَهُمْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اپنی اہلیہ کو حیض کے دوران طلاق دے دی، سیدنا عمر نے اس مسئلہ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، پھر اس عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر یا حمل کی حالت میں ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3899
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3900
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْحَنَفِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، نَا سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس عورت سے رجوع کرے، جب وہ پاک ہو جائے، تو پھر اس عورت کو طلاق دے، جب وہ عورت طہر یا حمل کی حالت میں ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3900
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3901
نَا دَعْلَجٌ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3901
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3902
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ أَبُو بَكْرٍ بِبَغْدَادَ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي دَارِمٍ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صُبَيْحٍ الأَسَدِيُّ ، نَا طَرِيفُ بْنُ نَاصِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ " عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا وَهِيَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : أَتَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ حَائِضٌ ، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّنَّةِ " ، هَؤُلاءِ كُلُّهُمْ مِنَ الشِّيعَةِ ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً فِي الْحَيْضِ.
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم ابن عمر کو جانتے ہو؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کے مطابق طلاقیں دلوائیں۔“ اس روایت کے تمام راوی شیعہ ہیں، محفوظ روایت یہ ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3902
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
«قال الدارقطني: الخبر م
حدیث نمبر: 3903
نَا أَبُو عُمَرَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةٌ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ ، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الأُخْرَى فَلا يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا ، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا ، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَكَانَ تَطْلِيقَهُ إِيَّاهَا فِي الْحَيْضِ ، أَنَّهُ خَالَفَ السُّنَّةِ.
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دے دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم عبداللہ سے یہ کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، جب وہ عورت غسل کر لے (یعنی پاک ہو جائے)، تو وہ اسے یوں ہی رہنے دے، یہاں تک کہ (اگلی مرتبہ) اسے حیض آ جائے، پھر جب وہ اگلے حیض سے غسل کر لے (یعنی پاک ہو جائے)، تو وہ اس عورت سے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اگر وہ اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے، تو اپنے ساتھ رکھے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ عبیداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اس خاتون کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی، البتہ انہوں نے سنت طریقہ کے برعکس طلاق دی تھی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3903
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
«قال ابن
حدیث نمبر: 3904
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ، فَإِذَا حَاضَتْ أُخْرَى وَطَهُرَتْ ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " ، وَكَذَلِكَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ،وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَجَابِرٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً . وَكَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَيُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَالشَّعْبِيُّ ، وَالْحَسَنُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: ”عبداللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، وہ عورت حیض کی حالت میں تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے اور جب تک وہ اس حیض سے پاک نہیں ہو جاتی، اسے اپنے ساتھ رکھے، جب اسے اگلی مرتبہ حیض آئے اور اس کے بعد وہ پاک ہو جائے، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اور اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ صالح بن کیسان، موسیٰ بن عقبہ، اسماعیل بن امیہ، لیث بن سعد، ابن ابی ذئب، ابن جریج، جابر، اسماعیل بن ابراہیم نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات نقل کی ہے، انہوں نے ایک طلاق دی تھی۔ زہری نے سالم کے حوالے سے ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے یہی بات نقل کی ہے۔ یونس بن جبیر، شعبی اور حسن بصری نے بھی یہی بات نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3904
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3905
قُرِئَ عَلَى ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وَنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو عَلِيٍّ الْقُهُسْتَانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : إِنَّ رَجُلا قَالَ لِعُمَرَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَقَالا جَمِيعًا : فَقَالَ : عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ ، وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ " أَنْ يَرْتَجِعَهَا " ، وَقَالا جَمِيعًا : فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ امْرَأَتَهُ بِطَلاقٍ بَقِيَ لَهُ " ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : " أَنْ يَرْتَجِعَهَا فِي طَلاقٍ بَقِيَ لَهُ ، وَأَنْتَ لَمْ تُبْقِ مَا تَرْتَجِعُ امْرَأَتَكَ " . وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ : وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تَرْتَجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ . قَالَ لَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : رَوَى هَذَا وَاحِدٌ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلامَ عُمَرَ وَلا أَعْلَمُهُ رَوَى هَذَا الْكَلامَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی، جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ ابن صاعد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق بتا دی، جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے الگ ہو چکی ہے۔“ وہ شخص بولا: ”جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے۔“ ابن صاعد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی سے اس کے حیض کے دوران علیحدگی اختیار کی تھی (یعنی اسے طلاق دی تھی)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لیں۔“ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنے کی ہدایت اس طلاق کی وجہ سے کی تھی، جو باقی رہ گئی تھی (یعنی جسے دینے کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابھی اختیار تھا)۔“ ابن صاعد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اس نے اس طلاق کی بنیاد پر رجوع کیا تھا، جس کا اسے حق باقی تھا، اور تم نے اس چیز کو باقی نہیں رہنے دیا، جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکتے۔“ ابن منیع نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تمہارے لیے وہ چیز باقی نہیں رہی، جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکو۔“ شیخ ابوالقاسم نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی ہے: اس روایت کو کئی راویوں نے نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کا تذکرہ نہیں کیا، میرے علم کے مطابق سعید بن عبدالرحمن کے علاوہ اور کسی بھی راوی نے یہ کلام نقل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3905
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3906
وَقُرِئَ عَلَى وَقُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ يُونُسَ أَبِي عَلابٍ ، قَالَ : قِيلَ لابْنِ عُمَرَ : " أَكُنْتَ اعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ ؟ ، فَقَالَ : وَمَالِي لا أَعْتَدُّ بِهَا ، وَإِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ " .
محمد محی الدین
ابوغلاب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا؟“ سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ”میں اسے شمار کیوں نہ کرتا، کیا میں عاجز تھا، یا احمق تھا؟“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3906
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3907
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً فَحَدَّثَنِي مَنْ لا أَتَّهِمُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ثَلاثًا ، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، فَجَعَلْتُ لا أَتَّهِمُهُمْ وَلا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا عَلابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ الْبَاهِلِيَّ ، وَكَانَ ذَا ثَبْتٍ فَحَدَّثَنِي ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، " فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : " أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ ؟ " ، قَالَ : " فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ ".
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: بیس سال پہلے مجھے ایک مستند راوی نے یہ حدیث سنائی: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران تین طلاقیں دیں تھیں، تو انہیں اس عورت سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں اس روایت کو مستند سمجھتا رہا، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں دریافت کیا تھا، تو سیدنا عبداللہ نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی، تو انہیں اس عورت سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ابوغلاب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ سے دریافت کیا: ”کیا اس طلاق کو شمار کیا تھا؟“ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، کیا وہ عاجز تھا؟“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3907
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3908
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ : " كَمْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ ؟ ، قَالَ : وَاحِدَةً " .
محمد محی الدین
یونس بن جبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”آپ نے اپنی اہلیہ کو کتنی طلاقیں دی تھیں؟“ سیدنا ابن عمر نے فرمایا: ”ایک۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3908
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3909
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ ، أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْسِكَ حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو، جب وہ حیض کی حالت میں تھی، ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو نبی نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس عورت سے رجوع کر لے اور اس وقت تک اسے روکے رکھے، جب تک وہ پاک ہونے کے بعد دوبارہ حائضہ نہیں ہو جاتی، پھر مزید انتظار کرے، جب وہ پاک ہو جائے، تو اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے (اسے طلاق دے)، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3909
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3910
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَهَبَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ ، ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا لِلنِّسَاءِ أَنْ يُطَلَّقْنَ لَهَا " ،.
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس عورت سے رجوع کر لینا چاہیے اور پھر اسے یوں ہی رہنے دیا جائے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دو، یہاں تک کہ اسے پھر حیض آ جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دو، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، جب وہ پاک ہو جائے، تو اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، خواتین کو اس کے مطابق طلاق دی جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3910
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3911
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، " إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تِلْكَ وَاحِدَةً ".
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی تھی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3911
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3912
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرَ عُمَرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي حَدِيثِهِ : " هِيَ وَاحِدَةٌ ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ ابن ابی ذئب نامی راوی نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ ایک طلاق تھی، (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، خواتین کو اس کے مطابق طلاق دی جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3912
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3913
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نَا زُهَيْرٌ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3913
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3914
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ " ، لَمْ يَذْكُرْ عُمَرَ .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس عورت کو اس وقت تک اپنے پاس رکھے، جب تک وہ پاک نہ ہو جائے، پھر اگر وہ چاہے، تو اسے طلاق دے دے، اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے۔“ راوی نے اس روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3914
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3915
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هِيَ وَاحِدَةٌ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک (طلاق شمار) ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3915
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3916
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ السَّرَخْسِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا خَالِدٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : رَجُلٌ طَلَّقَ حَائِضًا ؟ ، قَالَ : أَتَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ ؟ فَإِنَّهُ طَلَّقَ حَائِضًا ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قُلْ لَهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا حَاضَتْ ثُمَّ طَهُرَتْ ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ " ، قُلْتُ : اعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
محمد محی الدین
جابر حذاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ایک شخص حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دیتا ہے، تو سیدنا ابن عمر نے فرمایا: ”تم ابن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے حائضہ (بیوی) کو طلاق دی تھی۔“ سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، پھر جب اسے (اگلا) حیض آئے، پھر اس کے بعد جب وہ پاک ہو، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رکھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) دریافت کیا: ”آپ نے اس ایک طلاق کو شمار کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3916
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3917
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلاقَ الثَّلاثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ ، فَقَالَ : طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلاثًا ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ " .
محمد محی الدین
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا مکروہ ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس کو ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دی تھیں، تو ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو، اسی طرح سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی اہلیہ کو (ایک ساتھ) تین طلاقیں دے دی تھیں، لیکن ان پر بھی کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3917
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
حدیث نمبر: 3918
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ الطَّلاقَ فِي عِدَّتِهَا ، وَتُحْتَسَبَ بِهَذِهِ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طَلَّقَ أَوَّلَ مَرَّةٍ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ (یعنی ابن عمر) اس عورت کے ساتھ رجوع کر لیں، پھر اس کی عدت کے دوران اسے اگلی طلاق دیں، سیدنا عبداللہ بن عمر نے جو پہلی مرتبہ طلاق دی تھی، اسے واقع میں شمار کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3918
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3919
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَمُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، فَإِذَا طَهُرَتْ ، ثُمَّ حَاضَتْ ، ثُمَّ طَهُرَتْ ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا ، وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلا يَغْشَاهَا ، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اور وہ اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”عبداللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جبکہ وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ عورت پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے، اس کے بعد پھر جب وہ پاک ہو جائے، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے اور اگر اسے طلاق دینا چاہتا ہے، تو اس کے ساتھ صحبت نہ کرے (بلکہ طلاق دے دے)، یہ وہ طریقہ ہے، جس (کے مطابق طلاق دینے کا) اللہ نے حکم دیا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3919
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
حدیث نمبر: 3920
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو حُمَيْدٍ ، قَالا : نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ : أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلاثًا ، وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي " .
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بیان کرتی ہیں: وہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اہلیہ تھیں، اس شخص نے انہیں تین طلاقیں دے دیں اور خود ایک جنگ میں شرکت کرنے کے لیے چلا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3920
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151 ، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
حدیث نمبر: 3921
ثنا ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُرْجَانِيُّ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، نَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ ، وَهِيَ أُمُّ أَبِي سَلَمَةَ ، ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ عَابَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیوی تماضر بنت اصبع کلبیہ (ان کی کنیت ام سلمہ ہے) کو ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دیں، تو ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ کسی شخص نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3921
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
حدیث نمبر: 3922
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَبَانَهَا مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ " ،.
محمد محی الدین
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حفص بن عمرو بن مغیرہ نے اپنی اہلیہ فاطمہ بنت قیس کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک ہی لفظ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو ان سے الگ قرار دیا (یعنی ان کے درمیان علیحدگی واقع ہو گئی)، ہمیں یہ اطلاع نہیں ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3922
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
حدیث نمبر: 3923
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ ، نَا شَيْبَانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ فِي الْقَضِيَّتَيْنِ جَمِيعًا.
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ یہ دونوں واقعات ایک ساتھ منقول ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3923
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
حدیث نمبر: 3924
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَجُلا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا ، فَقَالَ : يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ ثَلاثٌ ، وَتَدَعُ تَسْعَمِائَةً وَسَبْعًا وَتِسْعِينَ " .
محمد محی الدین
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”ان میں سے تین تمہارے لیے کافی ہوں گی اور بقیہ نو سو ستانوے کو چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3924
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»
حدیث نمبر: 3925
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَاهَانَ يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، فَقَالَ سَعِيدٌ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً ، فَقَالَ : ثَلاثٌ تُحَرِّمُ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ ، وَسَائِرُهُنَّ وِزْرٌ ، اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا " .
محمد محی الدین
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ماہان کو سعید بن جبیر سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو سعید نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن عباس سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو اپنی بیوی کو ایک سو طلاقیں دے دیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں کے ذریعہ تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو جائے گی اور بقیہ (تمہارے لیے) بوجھ بن جائیں گی، کیونکہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3925
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»
حدیث نمبر: 3926
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ " عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً ، قَالَ : عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ ، لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا " .
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو ایک سو طلاقیں دے دیتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: ”تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے اور تم اپنی بیوی سے الگ ہو گئے ہو، تم اللہ سے ڈرتے، تو وہ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3926
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»
حدیث نمبر: 3927
نَا نَا دَعْلَجٌ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا وَأَنَا غَضْبَانُ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبَا عَبَّاسٍ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحِلَّ لَكَ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ عَصَيْتَ رَبَّكَ وَحُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ ، إِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا ، ثُمَّ قَرَأَ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ " ، قَالَ سَيْفٌ : وَلَيْسَ طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ فِي التِّلاوَةِ ، وَلَكِنَّهُ تَفْسِيرُهُ.
محمد محی الدین
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک قریشی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابوعباس! میں نے غصے کے عالم میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو چیز تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے، ابوعباس اسے تمہارے لیے حلال نہیں کر سکتا۔ تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔ تم اللہ سے ڈرے نہیں، ورنہ وہ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور جب تم خواتین کو طلاق دینی ہو، تو انہیں طلاق دو۔“ یعنی ان کی عدت سے پہلے جب وہ طہر کی حالت میں ہوں اور ان کے ساتھ صحبت نہ کی گئی ہو۔ سیف نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: یہ (مذکورہ جملہ) تلاوت کا حصہ نہیں ہے بلکہ (قرآن کے الفاظ) کی وضاحت ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3927
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»