حدیث نمبر: 3874
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا دَاوُدُ الْعَطَّارُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، قَالَتْ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " مَا تَزِيدُ الْمَرْأَةِ فِي الْحَمْلِ عَلَى سَنَتَيْنِ قَدْرَ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ عُودِ الْمِغْزَلِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”کسی عورت کا حمل دو سال سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہ سکتا، خواہ وہ کاتنے کی لکڑی کے سائے جتنا تبدیل ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 3875
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لا يَكُونُ الْحَمْلُ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ قَدْرَ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ الْمِغْزَلِ " ، وَجُمَيْلَةُ بِنْتُ سَعْدٍ ، أُخْتُ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”کسی عورت کا حمل دو سال سے زیادہ پیٹ میں نہیں رہ سکتا، خواہ وہ کاتنے کی لکڑی جتنا تبدیل ہو جائے۔“ جمیلہ بنت سعد نامی خاتون، عبید بن سعد کی بہن ہیں۔
حدیث نمبر: 3876
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَشْيَاخٌ مِنَّا ، قَالُوا : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنِّي غِبْتُ عَنِ امْرَأَتِي سَنَتَيْنِ فَجِئْتُ وَهِيَ حُبْلَى ، فَشَاوَرَ عُمَرُ النَّاسَ فِي رَجْمِهَا ، قَالَ : فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ كَانَ لَكَ عَلَيْهَا سَبِيلٌ فَلَيْسَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا سَبِيلٌ ، فَاتْرُكْهَا حَتَّى تَضَعَ ، فَتَرَكَهَا فَوَلَدَتْ غُلامًا قَدْ خَرَجَتْ ثَنَيَاهُ فَعَرَفَ الرَّجُلُ الشَّبَهَ فِيهِ ، فَقَالَ : ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ يَلِدْنَ مثل مُعَاذٍ لَوْلا مُعَاذٌ هَلَكَ عُمَرُ " .
محمد محی الدین
ابوسفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے کچھ بزرگوں نے یہ بات بیان کی ہے: ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”اے امیر المؤمنین! دو سال کے بعد اپنی بیوی کے پاس آیا، تو وہ حاملہ تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو سنگسار کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المؤمنین! آپ اس عورت کو تو سزا دے سکتے ہیں، لیکن اس کے پیٹ میں موجود بچے کو سزا نہیں دے سکتے، اس لیے آپ اسے اس وقت تک چھوڑے رکھیں، جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا، اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا، جس کے سامنے کے دانت باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں اس شخص کو بچے کی اپنے ساتھ مشابہت کا پتہ چلا، وہ بولا: ”رب کعبہ کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتیں اس بات سے عاجز آ گئی ہیں کہ وہ معاذ جیسے بچے کو جنم دیں، اگر معاذ نہ ہوتا، تو عمر ہلاکت کا شکار ہو جاتا۔“
حدیث نمبر: 3877
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ : إِنِّي حُدِّثْتُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لا تَزِيدُ الْمَرْأَةُ فِي حَمْلِهَا عَلَى سَنَتَيْنِ قَدْرَ ظِلِّ الْمِغْزَلِ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَنْ يَقُولُ هَذَا ؟ هَذِهِ جَارَتُنَا امْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ امْرَأَةُ صِدْقٍ وَزَوْجُهَا رَجُلُ صِدْقٍ ، حَمَلَتْ ثَلاثَةَ أَبْطُنٍ فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً ، تَحْمِلُ كُلَّ بَطْنٍ أَرْبَعَ سِنِينَ " .
محمد محی الدین
ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے امام مالک سے کہا: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ یہ فرماتی ہیں: ”عورت کو زیادہ سے زیادہ دو سال تک حمل رہ سکتا ہے، جتنا چرخے کا سایہ ہوتا ہے۔“ تو امام مالک نے فرمایا: ”سبحان اللہ! کوئی شخص یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے؟ یہ ہماری لڑکی، جو محمد بن عجلان کی بیوی ہے، یہ ایک نیک عورت ہے، اس کا شوہر بھی ایک نیک آدمی ہے، اس نے بارہ سال میں تین بچوں کو جنم دیا ہے، جن میں سے ہر ایک بچہ چار سال تک ماں کے پیٹ میں رہا ہے۔“
حدیث نمبر: 3878
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ شَدَّادِ بْنِ دَاوُدَ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، نَا أَبِي ، نَا الْمُبَارَكُ بْنُ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : " مَشْهُورٌ عِنْدَنَا كَانَتِ امْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ تَحْمِلُ وَتَضَعُ فِي أَرْبَعِ سِنِينَ ، وَكَانَتْ تُسَمَّى حَامِلَةَ الْفِيلِ " .
محمد محی الدین
مبارک بن مجاہد بیان کرتے ہیں: ہمارے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ محمد بن عجلان کی اہلیہ چار سال حاملہ رہنے کے بعد بچوں کو جنم دیتی تھیں، اس عورت کا نام ”حاملۃ الفیل“ رکھا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 3879
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ عِمْرَانَ الدَّعَّاءُ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ غَسَّانَ ، نَا هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى الْفَرَّاءُ الْمُجَاشِعِيُّ ، قَالَ : بَيْنَمَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَوْمًا جَالِسًا ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا يَحْيَى ، " ادْعُ لامْرَأَةٍ حُبْلَى مُنْذُ أَرْبَعِ سِنِينَ ، قَدْ أَصْبَحَتْ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ فَغَضِبَ مَالِكٌ وَأَطْبَقَ الصُّحُفَ ، فَقَالَ : مَا يَرَى الْقَوْمُ إِلا أَنَّا أَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ هَذِهِ الْمَرْأَةُ إِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا رِيحٌ فَأَخْرِجْهُ عَنْهَا السَّاعَةَ ، وَإِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا جَارِيَةٌ فَأَبْدِلْهَا بِهَا غُلامًا ، فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ ، وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ ، ثُمَّ رَفَعَ مَالِكٌ يَدَهُ وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ ، وَجَاءَ الرَّسُولُ إِلَى الرَّجُلِ ، فَقَالَ : أَدْرِكِ امْرَأَتَكَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَمَا حَطَّ مَالِكٌ يَدَهُ ، حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عَلَى رَقَبَتِهِ غُلامٌ جَعْدٌ قَطَطٌ ، ابْنُ أَرْبَعِ سِنِينَ ، قَدِ اسْتَوَتْ أَسْنَانُهُ مَا قُطِعَتْ سُرَارُهُ " .
محمد محی الدین
ہاشم بن یحییٰ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مالک بن دینار بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: ”اے ابویحییٰ! اس عورت کے لیے دعا کیجیے، جو چار سال سے حاملہ ہے اور شدید تکلیف میں ہے۔“ تو مالک بن دینار غصہ میں آ گئے، انہوں نے مصحف بند کیا اور بولے: ”یہ لوگ سمجھتے ہیں ہم انبیاء ہیں۔“ پھر انہوں نے کچھ تلاوت کی، پھر دعا کی اور بولے: ”اے اللہ! اگر عورت کے پیٹ میں ہوا ہے، تو اسے ابھی نکال دے اور اگر اس کے پیٹ میں لڑکی ہے، تو اسے لڑکے میں تبدیل کر دے، کیونکہ تو جسے چاہتا ہے مٹا سکتا ہے اور جسے چاہے برقرار رکھ سکتا ہے، ام الکتاب تیرے پاس ہے۔“ پھر مالک بن دینار نے ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے، اسی دوران ایک پیغام رساں اس شخص کے پاس آیا اور بولا: ”تم اپنی بیوی کے پاس پہنچو۔“ وہ شخص چلا گیا، ابھی مالک بن دینار نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ وہ شخص مسجد کے دروازے سے اندر آیا اور اس نے ایک بچے کو گود میں اٹھا رکھا تھا، جو گھنگریالے بالوں کا مالک تھا، وہ تقریباً چار سال کا تھا، اس کے دانت پورے تھے، لیکن اس کی نال نہیں کاٹی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 3880
نَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، يَقُولُ : " عِنْدَنَا هَاهُنَا امْرَأَةٌ تَحِيضُ غُدْوَةً ، وَتَطْهُرُ عَشِيَّةً " .
محمد محی الدین
اوزاعی فرماتے ہیں: ہمارے ہاں ایک عورت ہے، جسے صبح حیض آتا ہے اور شام کے وقت وہ پاک ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3881
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَحْمُودٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، قَالَ : " أَدْرَكْتُ فِينَا يَعْنِي الْمَهَالِبَةَ امْرَأَةً صَارَتْ جَدَّةً ، وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَلَدَتْ لِتِسْعِ سِنِينَ ابْنَةً ، فَوَلَدَتِ ابْنَتُهَا لِتِسْعِ سِنِينَ ، فَصَارَتْ هِيَ جَدَّةً ، وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ سَنَةً " .
محمد محی الدین
عبادہ بن عباد مہلبی بیان کرتے ہیں: ہمارے مہلب قبیلے میں ایک عورت ہے، جو اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی، اس نے نو برس کی عمر میں بچی کو جنم دیا، اس کی بیٹی نے بھی نو برس کی عمر میں اپنی بیٹی کو جنم دیا، وہ عورت اٹھارہ برس کی عمر میں نانی بن گئی۔
حدیث نمبر: 3882
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ ، قَالَتْ : " زَوَّجْتُ نَفْسِي الْقَعْقَاعَ بْنَ شَوْرٍ ، وَبَاتَ عِنْدِي لَيْلَةً ، وَجَاءَ أَبِي مِنَ الأَعْرَابِ فَاسْتَعْدَى عَلِيًّا ، وَجَاءَتْ رُسُلُهُ فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَدْخَلَتْ بِهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَجَازَ النِّكَاحَ " .
محمد محی الدین
بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ بیان کرتی ہیں: میں نے قعقاع بن سور کے ساتھ شادی کر لی، وہ ایک رات میرے ساتھ رہے، پھر میرے والد، جو دیہاتی آدمی تھے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مقدمہ پیش کر دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قاصد آئے اور انہیں اپنے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم اس عورت کے ساتھ صحبت کر چکے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کو برقرار رکھا۔
حدیث نمبر: 3883
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئٍ الأَعْوَرِ أَنَّهُ سَمِعَهَا ، تَقُولُ : " زَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلا وَهُوَ نَصْرَانِيُّ ، وَزَوَّجَتْ نَفْسَهَا الْقَعْقَاعَ بْنَ شَوْرٍ ، فَجَاءَ أَبُوهَا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَوَجَدَ الْقَعْقَاعَ قَدْ بَاتَ عِنْدَهَا ، وَقَدِ اغْتَسَلَ فَجِئَ بِهِ إِلَى عَلِيٍّ ، وَإِنَّ عَلَيْهِ خَلُوقًا ، فَقَالَ أَبُوهَا : " فَضَحَتْنِي وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ هَذَا ، قَالَ : أَتَرَى بِنَائِي يَكُونُ سِرًّا ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : دَخَلْتَ بِهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَجَازَ نِكَاحَهَا " ، بَحْرِيَّةُ مَجْهُولَةٌ.
محمد محی الدین
بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ بیان کرتی ہیں: ان کے والد نے ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کر دی، جو عیسائی تھا، اس عورت نے خود قعقاع بن سور کے ساتھ شادی کر لی، اس لڑکی کا والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قعقاع کو بلایا، اس وقت وہ اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد غسل بھی کر چکے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا، تو ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا، لڑکی کے باپ نے کہا: ”تم نے مجھے رسوائی کا شکار کیا، میں یہ نہیں چاہتا تھا۔“ تو قعقاع بولے: ”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے چھپ کر شادی کی ہے؟“ ان لوگوں نے اپنا مقدمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم اس عورت کے ساتھ صحبت کر چکے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اپنی شادی خود کر لینے کو درست قرار دیا۔ بحریہ نامی عورت مجہول ہے۔
حدیث نمبر: 3884
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ مُضَارًّا فَوَلَّتْ رَجُلا فَأَنْكَحَهَا ، فَنِكَاحُهُ جَائِرٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب کسی عورت کا ولی ضرر رساں ہو اور وہ عورت کسی دوسرے شخص کو اپنا ولی مقرر کر دے اور وہ اس عورت کا نکاح کروا دے، تو اس کا کروایا نکاح درست ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3885
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : " كَانَ فِينَا امْرَأَةٌ ، يُقَالُ لَهَا : بَحْرِيَّةُ زَوَّجَتْهَا أُمُّهَا وَأَبُوهَا غَائِبٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوهَا أَنْكَرَ ذَلِكَ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، " فَأَجَازَ النِّكَاحَ " ،.
محمد محی الدین
شیبانی بیان کرتے ہیں: ہمارے (محلہ یا قبیلہ میں) ایک عورت تھی، جس کا نام بحریہ تھا، اس کی ماں نے اس کی شادی کر دی، اس کا باپ اس وقت وہاں موجود نہ تھا، جب اس کا باپ آیا، تو اس نے اس رشتے سے انکار کر دیا، اس نے یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کو برقرار رکھا۔
حدیث نمبر: 3886
قَالَ : وَنا شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قَضَى فِيهَا بِذَلِكَ .
محمد محی الدین
ابوقیس بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 3887
قَالَ : وَنا شُعْبَةُ ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، سَمِعَا أَبَا قَيْسٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْهُزَيْلِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى بِذَلِكَ.
محمد محی الدین
ہزیل بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے مطابق فیصلہ دیا تھا۔