حدیث نمبر: 3855
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَجُلا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَرَأَى بَيَاضَ الْخَلْخَالِ فِي السَّاقِ فِي الْقَمَرِ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ يَقُولُ : مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا سورة المجادلة آية 3 ، أَمْسِكْ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ حَتَّى تُكَفِّرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ظہار کیا۔ پھر انہوں نے چاندنی رات میں اس عورت کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو (خود پر قابونہ پا سکے) اور اس کے ساتھ صحبت کر لی۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ان دونوں کے ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے (کفارہ ادا کرنا ہو گا)؟“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اب جب تک تم کفارہ ادا نہیں کرتے، اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 3856
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ ، أَنْ يَأْتِيَ بَنِي فُلانٍ فَيَأْخُذَ مِنْهُمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ ، فَيُعْطِيَهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ بنو فلان کے پاس جا کر ان سے ایک وسق کھجوریں وصول کر لیں اور وہ (ایک وسق) ساٹھ مسکینوں کو دے دیں۔“
حدیث نمبر: 3857
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْمَيْمُونِيُّ ، قَالا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ " فِي الْمُظَاهِرِ إِذَا وَطِئَ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ عَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ " ، .
محمد محی الدین
ظہار کرنے والے شخص کے بارے میں سیدنا عمر بن العاص رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”اگر وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کر لیتا ہے، تو اس پر دو کفاروں کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3858
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ : " عَلَيْهِ كَفَّارَتَانِ ".
محمد محی الدین
قبیصہ بن ذویب فرماتے ہیں: ”ایسے شخص پر دو کفاروں کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3859
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ، " أَنَّهُ ظَاهَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ ، قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ تَكْفِيرًا وَاحِدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے انہوں نے اس خاتون کے ساتھ صحبت بھی کر لی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ ایک ہی کفارہ ادا کریں۔“
حدیث نمبر: 3860
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ، قَالَ : كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ ظہار کرنے والے شخص کے بارے میں جو کفارہ ادا کرنے سے پہلے (عورت کے ساتھ) صحبت کر لیتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس کا کفارہ ایک ہی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3861
نَا نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا أَبُو جُرَيٍّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَنْ شَاءَ بَاهَلْتُهُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلأَمَةِ ظِهَارٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص چاہے، میں اس کے ساتھ اس مسئلہ پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ کنیز کے ساتھ ظہار نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 3862
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " لا ظِهَارَ مِنَ الأَمَةِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”کنیز کے ساتھ ظہار نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 3863
وَنا وَنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الأَمَةِ ظِهَارٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”کنیز کے ساتھ ظہار نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 3864
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سُئِلَ " عَنْ رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ ، قَالَ : كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی چار بیویوں کے ساتھ ظہار کر لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا کفارہ ایک ہی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3865
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : " إِذَا كَانَ تَحْتَ الرَّجُلِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَظَاهَرَ مِنْهُنَّ ، تُجْزِيهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان سب کے ساتھ ظہار کرے، تو اسے ایک ہی کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔“
حدیث نمبر: 3866
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ، وَالْمُغِيرَةِ ، وَحُصَيْنٌ ، قَالُوا : سَمِعْنَا الشَّعْبِيَّ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ : إِنْ تَزَوَّجْتُ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَهُوَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أَبِي ، فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً وَتَتَزَوَّجَهُ " .
محمد محی الدین
عائشہ بنت طلحہ بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: ”اگر میں مصعب بن زبیر کے ساتھ شادی کر لوں، وہ میرے لیے میرے والد کی پشت (کی طرح قابل احترام) ہوں۔“ پھر انہوں نے اس کا حکم دریافت کیا، تو انہیں ایک غلام آزاد کرنے کی ہدایت کی گئی، پھر انہوں نے مصعب بن زبیر کے ساتھ شادی کر لی۔