حدیث نمبر: 3818
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " إِذَا أُجِيفَ الْبَابُ وَأُرْخِيَتِ السُّتُورُ ، فَقَدْ وَجَبَ الْمَهْرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب دروازہ بند کر دیا جائے اور پردہ گرا دیا جائے، تو مہر کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3819
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا أَغْلَقَ بَابًا ، وَأَرْخَى سِتْرًا ، أَوْ رَأْي عَوْرَةً ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الصَّدَاقُ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب مرد دروازہ بند کر دے اور پردہ گرا دے یا عورت کے ستر کو دیکھ لے، تو اس پر مہر کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3820
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ أَغْلَقَ بَابًا ، وَأَرْخَى سِتْرًا ، فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب مرد دروازہ بند کر دے اور پردہ گرا دے یا عورت کے ستر کو دیکھ لے، تو اس پر مہر کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3821
قَالَ : وَنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اسی کی مانند منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3822
وَنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں اسی کی مانند منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3823
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِذَا أَغْلَقَ بَابًا ، وَأَرْخَى سِتْرًا ، فَقَدْ وَجَبَ لَهَا الصَّدَاقُ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب مرد دروازہ بند کر دے اور پردہ گرا دے یا عورت کے ستر کو دیکھ لے، تو اس پر مہر کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے اور عورت پر عدت گزارنا لازم ہوتا ہے اور اسے وراثت میں حصہ ملتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3824
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ ، نَا مُعَلَّى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا أَبُو الأَسْوَدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَشَفَ خِمَارَ امْرَأَةٍ ، وَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا " .
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص عورت کی چادر ہٹا کر اسے دیکھ لے، اس پر مہر کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے، خواہ اس نے عورت کے ساتھ صحبت کی ہو یا صحبت نہ کی ہو۔“
حدیث نمبر: 3825
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَلَّى ، نَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ الْحَكَمِ امْرَأَةً فَأَغْلَقَ عَلَيْهَا الْبَابَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَطَلَّقَهَا ، وَقَالَ : لَمْ أَطَأْهَا ، وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : قَدْ وَطِئَنِي فَاخْتَصَمُوا إِلَى مَرْوَانَ فَدَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَى فَإِنَّ الْحَارِثَ عِنْدَنَا مُصَدَّقٌ ؟ ، فَقَالَ زَيْدٌ : أَكُنْتَ رَاجِمَهَا لَوْ حَبِلَتْ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَكَذَلِكَ تُصَدَّقُ الْمَرْأَةُ فِي مثل هَذَا " .
محمد محی الدین
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: حارث بن حکم نے ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی، انہوں نے دروازہ بند کر لیا، پھر وہ کمرے سے باہر نکلے اور اس عورت کو طلاق دے دی، انہوں نے یہ بیان دیا: ”میں نے اس عورت کے ساتھ صحبت نہیں کی۔“ اس عورت کا یہ کہنا تھا: ”انہوں نے میرے ساتھ صحبت کی ہے۔“ وہ لوگ مقدمہ لے کر مروان کے پاس گئے، مروان نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور دریافت کیا: ”آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ ہمارے نزدیک تو حارث کی تصدیق کی جانی چاہیے۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اگر یہ عورت حاملہ ہو جاتی ہے، تو کیا تم اسے سنگسار کر دو گے؟“ مروان نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس طرح کی صورت حال میں عورت کی بات کی تصدیق کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، " أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا إِذَا بَتَّ طَلاقَ امْرَأَتِهِ أَنْ يَتَزَوَّجَ خَامِسَةً ، حَامِلا كَانَتِ امْرَأَتُهُ أَوْ غَيْرِ حَامِلٍ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب کے نزدیک اس بارے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی (چوتھی) بیوی کو طلاق بتہ دینے کے بعد پانچویں شادی کر لے، خواہ وہ (مطلقہ عورت) حاملہ ہو یا حاملہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 3827
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَخِلاسِ بْنِ عَمْرٍو ، ح قَالَ وَنا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : " إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ، وَهِيَ حَامِلٌ إِنْ شَاءَ تَزَوَّجَ أُخْتَهَا فِي عِدَّتِهَا " ،.
محمد محی الدین
حسن بصری، سعید بن مسیب، اور خلاس بن عمرو فرماتے ہیں: جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ عورت حاملہ بھی ہو، تو بھی اگر وہ شخص چاہے، تو اس عورت کی عدت کے دوران اس کی بہن کے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3828
قَالَ : وَنا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
ہمیں حماد نے خبر دی، وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے یہی (مذکورہ بالا حدیث) بیان کیا۔
حدیث نمبر: 3829
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، أنا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَا يَقُولانِ " فِي الرَّجُلِ : يَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ " يَتَزَوَّجُ إِذَا شَاءَ ، وَلا يَنْظُرُ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا " .
محمد محی الدین
قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: جس شخص کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق بتہ دے دے، وہ جب چاہے (چوتھی) شادی کر سکتا ہے، وہ اس بات کا انتظار نہیں کرے گا (کہ اس کی سابقہ بیوی کی) عدت گزر جائے۔
حدیث نمبر: 3830
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " يَنْكِحُ الْعَبْدُ امْرَأَتَيْنِ ، وَيُطَلِّقُ تَطْلِيقَتَيْنِ ، وَتَعْتَدُّ الأَمَةُ حَيْضَتَيْنِ ، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فَشَهْرَيْنِ ، أَوْ شَهْرًا وَنِصْفًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”غلام شخص (بیک وقت زیادہ سے زیادہ) دو شادیاں کر سکتا ہے، اور وہ دو طلاقیں دے سکتا ہے، کنیز کی عدت دو حیض ہو گی اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو، تو دو ماہ ہو گی۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ڈیڑھ ماہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 3831
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، نَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ يَقُولُ " فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ فَيُصِيبُهَا ، ثُمَّ يَظْهَرُ عَلَى عَيْبٍ فِيهَا لَمْ يَكُنْ رَآهُ أَنَّ الْجَارِيَةَ تَلْزَمُهُ ، وَيُوضَعُ عَنْهُ قَدْرُ الْعَيْبِ ، وَقَالَ : لَوْ كَانَ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ ، يَرُدُّهَا وَيَرُدُّ الْعَقْرَ كَانَ ذَلِكَ شِبْهَ الإِجَارَةِ ، وَكَانَ الرَّجُلُ يُصِيبُهَا ، وَهُوَ يَرَى الْعَيْبَ لَمْ يَرُدِّ الْعَقْرَ ، وَلَكِنَّهُ إِذَا أَصَابَهَا لَزِمَتْهُ الْجَارِيَةُ ، وَوُضِعَ عَنْهُ قَدْرُ الْعَيْبِ " .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے اپنے دادا (امام زین العابدین رحمہ اللہ) کے حوالے سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جس نے کوئی کنیز خریدی، اس کے ساتھ صحبت کی، پھر اس کنیز میں موجود کسی عیب کا پتہ چلا، یہ فرماتے ہیں: ”وہ کنیز اس شخص کے پاس رہے گی، اور اس کی قیمت میں سے اس عیب کے حساب سے کمی کر دی جائے گی۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر حکم اسی طرح ہو جیسے بعض لوگ کہتے ہیں، تو وہ شخص اس عورت کو واپس کرے گا، اور اس کے ساتھ عقر (شبہ کے طور پر وطی کرنے کی صورت میں ادا کیا جانے والا معاوضہ) بھی ادا کرے گا، تو یہ اجارہ کے مشابہ ہو جائے گا، تو یہ اس طرح ہو گا جیسے اس نے جب اس کنیز کے ساتھ صحبت کی، اس وقت وہ اس عیب کو دیکھ چکا تھا اور پھر اس نے (اس کے معاوضے کے طور پر) عقر ادا کر دیا، لیکن (حکم یہی ہے) جب وہ اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو وہ کنیز اس کی ہو جائے گی اور عیب کے حساب سے اس کی قیمت کم کر دی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3832
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : " إِذَا ابْتَاعَ الأَمَةَ ، ثُمَّ أَصَابَهَا ، ثُمَّ وَجَدَ بِهَا عَيْبًا بَعْدَ إِصَابَتِهِ ، أَخَذَ قِيمَةَ الْعَيْبِ " ، هَذَا مُرْسَلٌ .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص کوئی کنیز خریدے، پھر اس کے ساتھ صحبت کر لے، اس کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد پھر اس میں کوئی عیب پائے، تو عیب کے حساب سے قیمت (کا حصہ) واپس لے گا۔“ یہ روایت مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 3833
نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لا يَرُدُّهَا وَلَكِنَّهَا تُكْسَرُ ، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَيْبِ " ، وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے امام زین العابدین رحمہ اللہ کے حوالے سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(خریدار، عیب والی اس کنیز) کو واپس نہیں کرے گا، بلکہ اس عیب کے اعتبار سے قیمت میں جو کمی ہو گی، وہ اسے واپس کر دی جائے گی۔“ یہ روایت بھی مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 3834
نَا نَا جَعْفَرٌ ، نَا مُوسَى ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَتْ ثَيِّبًا رُدَّ مَعَهَا نِصْفُ الْعُشْرِ ، وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا رُدَّ الْعُشْرُ " ، وَهَذَا مُرْسَلٌ ، عَامِرٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر وہ کنیز ثیبہ ہو، تو خریدار اس کے ساتھ نصف عشر (یعنی اصل قیمت کا بیسواں حصہ) واپس کرے گا اور اگر وہ کنواری ہو، تو عشر (یعنی اصل قیمت کا دسواں حصہ) واپس کرے گا۔“ عامر نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
حدیث نمبر: 3835
نَا نَا دَعْلَجٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : " إِذَا وَطِئَهَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ ، وَإِذَا رَأَى عَيْبًا قَبْلَ أَنْ يَطَأَهَا ، فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّ " ، هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب مرد (خریدار) کنیز کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو اب یہ سودا طے ہو جائے گا، لیکن اگر اس خریدار نے کنیز کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اس میں عیب پا لیا، تو اسے اختیار ہو گا کہ اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے، تو واپس کر دے۔“ یہ روایت مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 3836
نَا نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، قَالَ : سُئِلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، " عَنْ عِدَّةِ أُمِّ وَلَدٍ ، فَقَالَ : لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا دِينَنَا ، إِنْ تَكُنْ أَمَةً فَإِنْ عِدَّتَهَا عِدَّةُ حُرَّةٍ " ، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَوْقُوفًا أَيْضًا . وَرَفَعَهُ قَتَادَةُ ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ . وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ وَقَبِيصَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو .
محمد محی الدین
رجاء بن حیوہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ام ولد کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم ہمارے سامنے دینی احکام خلط ملط نہ کرو، اگر یہ کنیز شمار ہوتی، تو اس کی عدت تو آزاد عورت کی عدت جتنی ہوتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تک موقوف روایت کے طور پر منقول ہے، قتادہ اور مطر نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، لیکن اس کا موقوف ہونا درست ہے، قبیصہ نامی راوی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3837
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ : " لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا ، عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارے سامنے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) خلط ملط نہ کرو، اس (ام ولد) کی عدت بیوہ عورت کی عدت جتنی، یعنی چار ماہ دس دن ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً . قَبِيصَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو ، وَالصَّوَابُ " لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا دِينَنَا " مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، قبیصہ نامی راوی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا، اس میں صحیح لفظ یہ ہے: ”تم ہمارے سامنے دین کے احکام کو خلط ملط نہ کرو۔“ یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 3839
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : " لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا ، عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي عِدَّةِ أُمِّ الْوَلَدِ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم ہمارے سامنے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) خلط ملط نہ کرو، اس کی عدت بیوہ عورت کی عدت جتنی، یعنی ام ولد کی عدت (چار ماہ دس دن) ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3840
نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ مُعَاذِ التُّسْتَرِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا سَلامُ بْنُ أَبِي خَبْزَةَ وَهُوَ سَلامُ بْنُ مُكَيْسٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3841
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، نَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ : " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، وَإِذَا أُعْتِقَتْ فَعِدَّتُهَا ثَلاثُ حِيَضٍ " ، مَوْقُوفٌ وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، لأَنَّ قَبِيصَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو.
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب ام ولد کے آقا کا انتقال ہو جائے، تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی اور جب اسے آزاد کر دیا جائے، تو اس کی عدت تین حیض ہو گی۔“ یہ روایت موقوف ہے اور یہی درست ہے، یہ روایت مرسل بھی ہے کیونکہ قبیصہ نامی راوی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3842
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا الْوَلِيدُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " إِنَّا لا نَتَلاعَبُ بِدِينِنَا ، الْحُرَّةُ حُرَّةٌ ، وَالأَمَةُ أَمَةٌ ، يَعْنِي فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَكُونُ عَلَيْهَا عِدَّةُ الْحُرَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم اپنے دین کے احکام کے ساتھ کھیلیں گے نہیں (یعنی غلط احکام بیان نہیں کریں گے)، آزاد عورت آزاد ہوتی ہے اور کنیز کنیز ہوتی ہے۔“ اس سے مراد یہ ہے: ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت جتنی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3843
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْحُرَّةِ " ، قَالَ أَبِي : هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت جتنی ہوتی ہے۔“ (عبداللہ بن أحمد نامی راوی کہتے ہیں) میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے: یہ روایت منکر ہے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت جتنی ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3844
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا الْوَلِيدُ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْحُرَّةِ " .
محمد محی الدین
قبیصہ بن ذویب سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ام ولد کی عدت آزاد عورت کی عدت جتنی ہے۔“
حدیث نمبر: 3845
نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو حَفْصٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : اسْتَفْتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ " فِي عَبْدٍ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ، ثُمَّ عُتِقَا جَمِيعًا ، قَالَ : يَخْطُبُهَا إِنْ شَاءَ ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
ابوحسن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے غلام کے بارے میں دریافت کیا، جس کی بیوی کنیز ہو اور پھر وہ اسے دو طلاقیں دے دے، پھر وہ دونوں ایک ساتھ آزاد ہو جائیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اب اگر وہ مرد چاہے، تو اس عورت کو نکاح کا پیغام دے سکتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3846
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ " فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ، وَبَانَتْ مِنْهُ ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ ، هَلْ يَصِحُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ " .
محمد محی الدین
ابوحسن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے غلام کے بارے میں دریافت کیا، جس کی بیوی کنیز ہو اور پھر وہ اسے دو طلاقیں دے دے اور وہ عورت اس سے بائنہ ہو جائے، پھر وہ دونوں ایک ساتھ آزاد ہو جائیں، تو کیا وہ مرد اس عورت کو نکاح کا پیغام دے سکتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3847
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو حَامِدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُنْكَدِرِيُّ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ رَبَاحِ بْنِ يُوسُفَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ سُهَيْلٍ ، قَالا : نَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، نَا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَتِ الأَمَةُ تَحْتَ الرَّجُلِ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ، ثُمَّ اشْتَرَاهَا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی کنیز کسی شخص کی بیوی ہو اور وہ شخص اسے دو طلاقیں دے دے، پھر وہ اس کنیز کو خرید لے، تو وہ کنیز اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسری شادی کر کے (بیوہ یا مطلقہ نہ ہو جائے)۔“
حدیث نمبر: 3848
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا أَبُو غَسَّانَ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَتِ : " اسْتَهْوَتِ الْجِنُّ زَوْجَهَا ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِينَ ، ثُمَّ أَمَرَ وَلِيَّ الَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الْجِنُّ أَنْ يُطَلِّقَهَا ، ثُمَّ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
محمد محی الدین
ابوعثمان بیان کرتے ہیں: ایک خاتون سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی: ”اس کے شوہر کو جنون لاحق ہو گیا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چار سال تک انتظار کرنے کا حکم دیا، اور پھر (چار سال گزرنے کے بعد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس جنون کا شکار شخص کے ولی کو حکم دیا کہ وہ اس عورت کو طلاق دے دے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو یہ ہدایت کی کہ وہ چار ماہ دس دن تک عدت گزارے۔
حدیث نمبر: 3849
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، نَا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ ، امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْخَبَرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مفقود شخص کی اہلیہ اس کی بیوی رہے گی، جب تک اس عورت کے پاس (مفقود کی موت کی) اطلاع نہیں آ جاتی۔“
حدیث نمبر: 3850
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالُوا : نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اخْتَصَمَ سَعْدٌ ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ ، فَقَالَ : إِذَا دَخَلْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَخِي ، ابْنُ أَمَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " ، تَابَعَهُ مَالِكٌ ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَقِيلٌ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَيُونُسُ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَغَيْرُهُمْ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَمَعْمَرٍ ، وَاللَّيْثِ ، وَصَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَابْنِ إِسْحَاقَ ، وَغَيْرِهِمْ : فَمَا رَأَى سَوْدَةَ قَطُّ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے (اس بچے کو اپنی سرپرستی میں) لینے کی ہدایت کی تھی، اس نے کہا تھا: جب تم مکہ میں داخل ہو جاؤ، تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو حاصل کر لینا، کیونکہ وہ میری (ناجائز) اولاد ہے۔“ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! (وہ لڑکا) میرا بھائی ہے، جو میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس بچے) کو عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد زمعہ! یہ تمہیں ملے گا، کیونکہ اولاد صاحب فراش کی شمار ہوتی ہے۔“ اور ”اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو۔“ امام مالک، صالح بن کیسان، ابن اسحاق، شعیب بن ابوحمزہ، ابن جریج، عقیل، زہری کا بھتیجا، معمر بن راشد، یونس، لیث بن سعد، سفیان بن حسین اور دیگر راویوں نے اس کی متابعت کی ہے۔ مالک، معمر، لیث، صالح بن کیسان، ابن اسحاق اور دیگر راویوں کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اس کے بعد اس بچے نے زندگی بھر کبھی بھی سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔“
حدیث نمبر: 3851
نَا نَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الصَّدَفِيُّ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا سورة النساء آية 3 ، قَالَ : ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لا يُكْثِرَ مَنْ تَعُولُونَهُ " .
محمد محی الدین
زید بن اسلم رحمہ اللہ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، ”ذلك أدنى ألا تعولوا“ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگ زیادہ نہ ہوں جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔“
حدیث نمبر: 3852
نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِنْ شَاءَتْ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَمَحْبُوبٌ هَذَا ضَعِيفٌ أَيْضًا.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیوہ کو یہ ہدایت کی تھی: ”اگر وہ چاہے، تو اپنی عدت اپنے گھر کے علاوہ (کسی دوسری جگہ) بسر کر سکتی ہے۔“ اس روایت کو صرف ابومالک نخعی نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے، محبوب نامی راوی بھی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3853
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الأَشْعَثِ ، بِدِمَشْقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ قَتَادَةَ عَنِ الظِّهَارِ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : ظَاهَرَنِي حِينَ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الظِّهَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لأَوْسٍ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً ، قَالَ : مَالِي بِذَلِكَ يَدَانِ ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : أَمَّا إِنِّي إِذَا أَخْطَأَنِي أَنْ آكُلَ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَكِلُّ بَصَرِي ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ : لا أَجِدُ إِلا أَنْ تُعِينَنِي مِنْكَ بِعَوْنٍ وَصِلَةٍ ، قَالَ : فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ لَهُ ، وَاللَّهُ رَحِيمٌ ، قَالَ : وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ مِثْلَهَا ، وَذَلِكَ لِسِتِّينَ مِسْكِينًا " .
محمد محی الدین
سعید بن بشیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے قتادہ سے ظہار کے بارے میں دریافت کیا، تو قتادہ نے بتایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ظہار کر لیا، اس خاتون نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور بولی: ”انہوں نے اس وقت میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے، جب میری عمر زیادہ ہو گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ظہار کے متعلق آیت نازل کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حالت ہے کہ اگر میں ایک دن (کسی وقت) کھانا نہ کھا سکوں، تو میری نظر متاثر ہوتی ہے (یعنی کمزور بڑھ جاتی ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حیثیت بھی نہیں ہے، البتہ اگر آپ میری مدد کریں اور صلہ رحمی سے کام لیں (تو میں ایسا کر سکتا ہوں)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع مدد کے طور پر انہیں دیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جمع کر دیا، اور اللہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ مقدار ہے، کیونکہ یہ اناج ساٹھ مسکینوں کے لیے تھا۔
حدیث نمبر: 3854
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَعْطَاهُ مِكْتَلا فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، فَقَالَ : أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، وَذَلِكَ لِكُلِّ مِسْكِينًا مُدٌّ " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک برتن دیا، جس میں پندرہ صاع (اناج) تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) اس طرح ہر مسکین کو ایک مد ملا تھا۔