حدیث نمبر: 3808
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا حَمْدُونُ بْنُ عَبَّادِ الْفَرْغَانِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً ، وَحِجْرِي لَهُ حُوَاءً ، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً ، وَإِنَّ أَبَاهُ يُرِيدُ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي ، قَالَ : لا ، أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَزَوَّجِي " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی: ”یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میری گود اس کے لیے پناہ گاہ تھی، میری چھاتی اس کے لیے سیرابی کا ذریعہ تھی، اور اب اس کا باپ اسے مجھ سے جدا کرنا چاہتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہو سکتا، تم (اس کی پرورش) کی زیادہ حق دار ہو، جب تک تم (دوسری شادی) نہیں کر لیتی۔“
حدیث نمبر: 3809
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةً خَاصَمَتْ زَوْجَهَا فِي وَلَدِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْأَةُ أَحَقُّ بِوَلَدِهَا ، مَا لَمْ تَزَوَّجْ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک خاتون کا اپنے بچے کے بارے میں اپنے (سابقہ) شوہر سے جھگڑا ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت اپنی اولاد (کی پرورش کرنے) کی زیادہ حق دار ہوتی ہے، جب تک وہ (دوسری) شادی نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 3810
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " بَطْنِي كَانَ لَهُ وِعَاءً ، وَثَدْيِي كَانَ لَهُ سِقَاءً ، وَحِجْرِي كَانَ لَهُ حُوَاءً ، وَإِنَّ أَبَاهُ يُرِيدُ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ ، مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میری چھاتی اس کے لیے سیرابی کا ذریعہ تھی، اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ تھی، اب اس کا باپ اسے مجھ سے الگ کرنا چاہتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس (کی پرورش) کی زیادہ حق دار ہو، جب تک تم (دوسری) شادی نہیں کر لیتی۔“