حدیث نمبر: 3790
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : " يُزَوِّجُ الرَّجُلُ كَرِيمَتَهُ مِنْ ذِي الدِّينِ إِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَنْصِبُ مِثْلَهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
اسحاق بن بہلول بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے کہا: ”اگر منصب کے اعتبار سے کوئی شخص لڑکی کا ہم پلہ نہ ہو، تو کیا کوئی شخص کسی دین دار (کم تر مالی، یا خاندانی حیثیت کے مالک) شخص کے ساتھ اپنی (بہن یا بیٹی) کی شادی کر سکتا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 3791
نَا الْحُسَيْنُ ، نَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : سَأَلْتُ وَكِيعًا ، عَنِ الْكُفْؤِ ، فَقَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : " الْكُفْؤُ فِي الدِّينِ وَالْمَنْصِبِ " ، قَالَ وَكِيعٌ : سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ ، يَقُولُ : " الْكُفْؤُ فِي الدِّينِ وَالْمَنْصِبِ ، وَالْمَالِ ".
محمد محی الدین
ابن ابی لیلی فرماتے ہیں: دین اور منصب میں کفو کا اعتبار کیا جائے گا، وکیع بیان کرتے ہیں: میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دین، منصب اور مال میں کفو کا اعتبار کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3792
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَوَّجْتُ الْمِقْدَادَ وَزَيْدًا لِيَكُونَ أَشْرَفُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا " .
محمد محی الدین
شعبی روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے مقداد اور زید (کے ساتھ تمہاری خواتین کی) شادی کروائی ہے، کیونکہ اللہ کی بارگاہ میں تم میں زیادہ معزز وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3793
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ النَّحَّاسِ ، نَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، وَابْنِ سَمْعَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا هِنْدَ مَوْلَى بَنِي بَيَاضَةَ كَانَ حَجَّامًا " فَحَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ صَوَّرَ اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قَلْبِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي هِنْدَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْكِحُوهُ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بنو بیاضہ کا غلام ابوہند پچھنے لگانے کا کام کرتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص کسی ایسے فرد کو دیکھنا چاہتا ہو، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو نقش کر دیا ہے، وہ ابوہند کو دیکھ لے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اس کے ساتھ (اپنی رشتہ دار خاتون) کا نکاح کرو، اور اس سے رشتہ قائم کرو۔“
حدیث نمبر: 3794
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هِنْدَ " حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بَنِي بَيَاضَةَ ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں پچھنے لگائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو بیاضہ! ابوہند کی شادی کروا دو اور (اپنی کسی لڑکی کے ساتھ) اس کی شادی کر دو۔“
حدیث نمبر: 3795
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ نَوَّرَ اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قَلْبِهِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي هِنْدَ ، وَقَالَ : أَنْكِحُوهُ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ ، وَكَانَ حَجَّامًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص ایسے فرد کو دیکھنا چاہتا ہو، جس کے دل کو اللہ نے ایمان سے منور کر دیا ہو، وہ ابوہند کو دیکھ لے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی شادی کروا دو اور (اپنی کسی لڑکی کا) اس کے ساتھ رشتہ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص پچھنے لگانے کا کام کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 3796
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، نَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ : " خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلَتْ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَشِيرُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا ؟ " ، قَالَتْ : وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا ، وَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُزَوِّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ مَوْلاكَ ؟ ، قَالَتْ : وَجَاءَتْنِي فَأَخْبَرَتْنِي فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36 ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوِّجْنِي مِمَّنْ شِئْتَ ، فَزَوَّجَنِي زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي ، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے اپنی بہن حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”وہ اس شخص کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی، جس نے اسے اس کے پروردگار کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی تعلیم دی ہے؟“ حمنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون شخص ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زید بن حارثہ۔“ تو حمنہ کو غصہ آیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا زاد کی شادی اپنے (آزاد شدہ، سابقہ) غلام کے ساتھ کریں گے؟ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حمنہ میرے پاس آئی اور مجھے اس بارے میں بتایا، تو مجھے اس سے زیادہ غصہ آیا اور میں نے اس سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”کسی بھی مومن مرد یا عورت کو (اس بارے میں اختیار نہیں ہے) کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دیں، تو انہیں اپنے اس معاملے میں (اس فیصلے سے مختلف کام کرنے) کا اختیار ہو۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے ساتھ چاہیں میری شادی کروا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری شادی کروا دی۔ میں نے ان کے ساتھ تیز مزاجی کا مظاہرہ کیا، تو انہوں نے میری شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھو (یعنی اسے طلاق دینے کا نہ سوچو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔“ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 3797
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقِ ، نَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ أُخْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ تَحْتَ بِلالٍ " .
محمد محی الدین
حنظلہ بن ابوسفیان اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھی۔
حدیث نمبر: 3798
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالا : نَا سَلامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَبُ : الْمَالُ ، وَالْكَرَمُ : التَّقْوَى " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسب مال ہے، اور کرم تقویٰ ہے۔“
حدیث نمبر: 3799
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَبُ الْمَالُ ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسب مال ہے، اور کرم تقویٰ ہے۔“
حدیث نمبر: 3800
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَهَذِهِ الآيَةُ مُشْتَرَكَةٌ ؟ ، قَالَ : أَيُّ آيَةٍ ؟ ، قُلْتُ : وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4 ، الْمُطَلَّقَةُ ، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس آیت کا حکم طلاق یافتہ عورت اور بیوہ عورت کے لیے مشترک طور پر ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کون سی آیت؟“ میں نے کہا: (یہ آیت) ”اور حاملہ عورتوں کی عدت کا اختتام ان کے ہاں بچے کی پیدائش پر ہو گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 3801
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ سورة الطلاق آية 4 ، أَمُبْهَمَةٌ هِيَ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا ، أَوْ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ، قَالَ : هِيَ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا ، وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا: ”اور حاملہ عورتوں کی عدت کا اختتام ان کے ہاں بچے کی پیدائش پر ہو گا۔“ یہ مبہم ہے کہ یہ تین طلاق یافتہ عورت کے لیے ہے یا بیوہ کے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تین طلاق یافتہ عورت اور بیوہ دونوں کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 3802
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَحَسَبِهَا ، وَدِينِهَا ، وَجَمَالِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت کے ساتھ چار وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کا مال، اس کا نسب، اس کی دینداری اور اس کی خوبصورتی، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، تم دیندار عورت (کو ترجیح دے کر) کامیابی حاصل کرو۔“
حدیث نمبر: 3803
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَائِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى ثَلاثِ خِصَالٍ : عَلَى مَالِهَا ، وَدِينِهَا ، وَجَمَالِهَا ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کے ساتھ تین وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کا مال، اس کی خوبصورتی اور اس کا دین، تو تم دیندار عورت کو ترجیح دو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“
حدیث نمبر: 3804
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَرَمُ الْمَرْءِ دِينُهُ ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی کی عزت اس کا دین ہے، اس کی بزرگی اس کی عقل ہے اور اس کی خوبی اس کا اخلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 3805
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَابُ أَهْلِ الدُّنْيَا هَذَا الْمَالُ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل دنیا کے نزدیک فضیلت کا معیار مال ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3806
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ حُدَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : " حَسَبُ الْمَرْءِ دِينُهُ ، وَمُرُوءَتُهُ خُلُقُهُ ، وَأَصْلُهُ عَقْلُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدمی کی فضیلت اس کا دین، اس کی مروت اور اس کا اخلاق، اور اس کی اصل (خوبی) اس کی عقل ہے۔“
حدیث نمبر: 3807
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ فَائِدٍ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ : قَالَ عِمْرَانُ : " الشَّجَاعَةُ وَالْجُبْنُ ، غَرَائِزُ فِي الرِّجَالِ ، وَالْكَرَمُ وَالْحَسَبُ ، فَكَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ ، وَإِنْ كَانَ فَارِسِيًّا أَوْ نَبَطِيًّا " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بہادری اور بزدلی مردوں میں سمائی ہوتی ہے، جبکہ کرم اور حسب (کی بھی یہی صورت ہے)، آدمی کا کرم اس کا دین ہے، اور آدمی کا حسب اس کا اخلاق ہے، خواہ وہ کوئی ایرانی شخص ہو یا شامی ہو۔“