حدیث نمبر: 3750
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَحْيُوا فَإِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، لا يَحِلُّ مَأْتَاكَ النِّسَاءَ فِي حُشُوشِهِنَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم حیا کرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ حق بات (بیان کرنے) سے حیا نہیں کرتا، خواتین کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنا جائز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3751
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهُ كَانَ لَهَا غُلامٌ وَجَارِيَةٌ فَأَرَادَتْ عِتْقَهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْدَئِي بِالْغُلامِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے: ان کا ایک غلام اور ایک کنیز تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے غلام کو آزاد کرو۔“
حدیث نمبر: 3752
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ سُهَيْلٍ الأَعْرَجُ ، وَنا حُسَيْنٌ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَ لَهَا غُلامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ أَعْتَقْتِهِمَا فَابْدَئِي بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے: ان کا ایک غلام اور ایک کنیز تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں انہیں آزاد کرنا چاہتی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہو، تو عورت سے پہلے مرد کو آزاد کرو۔“
حدیث نمبر: 3753
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالا : أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِبَرِيرَةَ : " إِنْ شِئْتِ أَنْ تَستَقَرِّي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ ، وَإِنْ شِئْتِ فَارِقْتِيهِ فَفَارَقَتْهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر تم اس غلام کی بیوی رہنا چاہتی ہو، تو ٹھیک ہے، اور اگر تم اس سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہو، تو (تو بھی تمہاری مرضی ہے)۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔
حدیث نمبر: 3754
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، بِإِسْنَادِهِ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقْتُهَا ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ ، وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ فَارَقْتِهِ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: وہ (بریرہ رضی اللہ عنہا) ایک غلام کی بیوی تھی، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے آزاد کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تم چاہو، اس غلام کی بیوی رہو، اور اگر چاہو، تو اس سے علیحدگی اختیار کر لو۔“
حدیث نمبر: 3755
ثنا أَخُو زُبَيْرٍ ، نَا يُوسُفُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالا : ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ نَحْوَهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَارِي إِنْ رَضِيتِ أَنْ تَكُونِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ فَارِقْتِيهِ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اگر تم اس غلام کی بیوی رہنے پر راضی ہو، تو اسے اختیار کر لو، اور اگر تم چاہو، تو اس سے علیحدگی اختیار کر لو۔“
حدیث نمبر: 3756
نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ حَبْشُونَ الْبُنْدَارُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا ، وَلَوْ كَانَ زَوْجُهَا حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو) اختیار دیا تھا، اس کا شوہر غلام تھا (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 3757
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَالزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَأُعْتِقَتْ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، جب اسے (سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو) آزاد کیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (بریرہ رضی اللہ عنہا) کی ذات کے بارے میں اسے اختیار دیا۔
حدیث نمبر: 3758
نَا نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، صَاحِبُ أَبِي صَخْرَةَ ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ مَمْلُوكًا لآلِ أَبِي أَحْمَدَ " ، لَفْظُ ابْنِ مُجَاهِدٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر آل ابوأحمد کا غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3759
ثنا ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا يَوْمَ أُعْتِقَتْ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا گیا، تو اس وقت اس کا شوہر آزاد شخص تھا۔
حدیث نمبر: 3760
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ خَرَّزَاذَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِبَرِيرَةَ : " اذْهَبِي فَقَدْ عُتِقَ مَعَكِ بَضْعُكِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم جاؤ، تمہاری شرمگاہ بھی آزاد ہو گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 3761
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، كِلاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعُتِقَتْ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، وہ آزاد ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ذات کے بارے میں اسے اختیار دیا۔
حدیث نمبر: 3762
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3763
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا وُهَيْبٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3764
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " وَخُيِّرَتْ يَعْنِي بَرِيرَةَ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اسے (راوی کہتے ہیں، یعنی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو) اختیار دیا گیا، اس کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3765
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبَّادٍ ، أَخُو حَمْدُونَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ مَمْلُوكًا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عُتِقَتِ : اخْتَارِي ".
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا، جب اسے (بریرہ رضی اللہ عنہا کو) آزاد کیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا) سے فرمایا: ”تمہیں اختیار ہے۔“
حدیث نمبر: 3766
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا شَاذَانُ بْنُ مَاهَانَ ، نَا شَيْبَانُ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَهَا ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تھا، اس کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3767
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا الشَّافِعِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا، شیخ ابوبکر نیشاپوری فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدیث نمبر: 3768
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْعَلاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَازِنُ ، نَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3769
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَحَامِلِيُّ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا وُهَيْبٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا " .
محمد محی الدین
نافع، سیدہ صفیہ بنت ابوعبید رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3770
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، نَا النَّصْرُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ بَرِيرَةَ قَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ ، وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا: (اس کی عدت) تین (حیض) ہو گی، وہ ایک غلام کی بیوی تھی۔
حدیث نمبر: 3771
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حدیث نمبر: 3772
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ لِبَنِي الْمُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ ، وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا ، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَتَحَدَّرُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتْبَعُهَا يَتَرَضَّاهَا لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر، بنو مغیرہ کا سیاہ فام غلام تھا، جس دن بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا گیا، اللہ کی قسم، مجھے آج بھی وہ منظر اچھی طرح یاد ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے راستوں اور گلیوں سے جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے اس کے پیچھے جا رہا تھا، تاکہ بریرہ اسے اختیار کر لے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3773
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هُشَيْمٌ ، أنا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ ، قَالَ : رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي أَزِقَّةِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، قَالَ : فَكَلَّمَ الْعَبَّاسَ لِيَتَكَلَّمَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ : إِنَّهُ زَوْجُكِ ، قَالَتْ : أَتَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ ، قَالَ : فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدًا لِبَنِي الْمُغِيرَةِ ، يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا، وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”آپ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ تمہارا شوہر ہے (تمہیں اس کے ساتھ رہنا چاہیے)۔“ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، راوی بیان کرتے ہیں: (اس کا شوہر) بنو مغیرہ کا غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا۔
حدیث نمبر: 3774
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نَا عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ إِذْ خُيِّرَتْ كَانَ مَمْلُوكًا لِبَنِي الْمُغِيرَةِ ، لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ يَتْبَعُهَا يَتَرَضَّاهَا ، وَإِنَّ دُمُوعَهُ تَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، وَهِيَ تَقُولُ لا حَاجَةَ لِي فِيكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، تو اس کا شوہر بنو مغیرہ کا غلام تھا، مجھے یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے راستوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے اس کے پیچھے جا رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لیکن بریرہ رضی اللہ عنہا یہی کہہ رہی تھی: ”مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3775
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاهِدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَمْرٍو الشَّهْرُزُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِبَرِيرَةَ : " إِنْ وَطِئَكِ فَلا خِيَارَ لَكِ " ، وَقَالَ ابْنُ مُجَاهِدٍ : " إِنْ قَرِبَكِ فَلا خِيَارَ لَكِ ".
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر اس نے تمہارے (آزاد ہونے کے بعد) تمہارے ساتھ صحبت کر لی، تو تمہیں اختیار نہیں ہو گا۔“ ابن مجاہد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اگر اس نے تمہارے ساتھ قربت کر لی، تو تمہیں اختیار نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3776
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةَ بَرِيرَةَ حِينَ فَارَقَهَا زَوْجُهَا عِدَّةَ الْمُطَلَّقَةِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت طلاق یافتہ عورت کی عدت (جتنی، یعنی تین حیض) مقرر کی۔
حدیث نمبر: 3777
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ " اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ فَأَعْتَقَتْهَا وَاشْتَرَطُوا الْوَلاءَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ، وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ عَلَيْهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : جَوَّدَ حَبَّانُ فِي قَوْلِهِ : عِدَّةُ الْحُرَّةِ ، لأَنَّ عَفَّانَ بْنَ مُسْلِمٍ ، وَعَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ رَوَيَاهُ ، فَقَالا : وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ ، وَلَمْ يَذْكُرَا : عِدَّةَ الْحُرَّةِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر اسے آزاد کر دیا اور اس کی ولاء کی شرط رکھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی اور بریرہ رضی اللہ عنہا (کی عدت) آزاد عورت کی عدت (جتنی) مقرر کی۔ بعض راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عدت گزارنے کی ہدایت کی، ان راویوں نے ”آزاد عورت کی عدت“ کے الفاظ نقل نہیں کیے۔
حدیث نمبر: 3778
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ فِي هَذِهِ الآيَةِ : " وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا سورة النساء آية 35 ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَأَمَرَهُمْ فَبَعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا وَقَالَ لِلْحَكَمَيْنِ : هَلْ تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا ؟ إِنَّ عَلَيْكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا ، أَنْ تُفَرِّقَا ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ بِمَا عَلَيَّ فِيهِ وَلِيَّ ، وَقَالَ الرَّجُلُ : أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلا ، فَقَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَذَبْتَ وَاللَّهِ ، حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ الَّذِي أَقَرَّتْ بِهِ " .
محمد محی الدین
عبیدہ بیان کرتے ہیں: اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور اگر تمہیں آپس میں ناچاکی کا اندیشہ ہو، تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو۔“ (عبیدہ بیان کرتے ہیں) ایک شخص اور ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ لوگ تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ مرد کے گھر والوں میں سے ایک ثالث اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک ثالث مقرر کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ثالثوں سے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو تم پر کیا بات لازم ہے؟ تم پر لازم ہے کہ اگر تم سمجھو کہ ان دونوں میں علیحدگی ہو جانی چاہیے، تو تم ان میں علیحدگی کروا دو۔ تو وہ عورت بولی: مجھ پر جو ادائیگی لازم ہے اور مجھے جو حق ملنا ہے، میں اس کے حوالے سے اللہ کی کتاب کے فیصلے سے راضی ہوں (یعنی اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں)۔ وہ مرد بولا: میں علیحدگی کو تسلیم نہیں کروں گا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم! تمہیں بھی وہی اعتراف کرنا ہو گا جو اس عورت نے کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3779
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَلَمَّا بَعَثَ الْحَكَمَيْنِ ، قَالَ : " رُوَيْدَكُمَا حَتَّى أُعْلِمَكُمَا مَاذَا عَلَيْكُمَا ، هَلْ تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا ؟ إِنَّكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا جَمَعْتُمَا ، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا فَرَّقْتُمَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، وَقَالَ : أَرَضِيتِ بِمَا حَكَمَا ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ قَدْ رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَيَّ وَلِيَّ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ ، فَقَالَ : قَدْ رَضِيتَ بِمَا حَكَمَا ، قَالَ : لا وَلَكِنِّي أَرْضَى أَنْ يَجْمَعَا ، وَلا أَرْضَى أَنْ يُفَرِّقَا ، فَقَالَ لَهُ : كَذَبْتَ وَاللَّهِ لا تَبْرَحُ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ الَّذِي رَضِيَتْ بِهِ " .
محمد محی الدین
عبیدہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اور ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو لوگوں کو ثالث مقرر کیا، تو فرمایا: ”ابھی ٹھہرو، میں تمہیں یہ بتا دوں کہ تم پر کیا لازم ہے، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ تم پر کیا بات لازم ہے؟ تم پر یہ لازم ہے کہ اگر تم دونوں یہ مناسب سمجھو کہ یہ دونوں میاں بیوی اکٹھے رہیں، تو تم ان کے اکٹھے رہنے کا فیصلہ دو، اگر تم یہ مناسب سمجھو کہ ان دونوں میں علیحدگی کروا دی جائے، تو تم ان میں علیحدگی کروا دینا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ دونوں جو فیصلہ کریں گے، تم اس پر راضی ہو گی؟“ اس عورت نے جواب دیا: ”جی ہاں، مجھ پر جو عائد ہوتا ہے اور مجھے جو ملے گا، میں اس کے بارے میں اللہ کی کتاب کے فیصلے پر راضی ہوں۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مرد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ دونوں ثالث جو فیصلہ کریں گے، تم اس پر راضی ہو گے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں، اگر یہ دونوں اکٹھے رکھنے کا فیصلہ کریں گے، تو میں راضی ہوں، اور اگر یہ علیحدگی کا فیصلہ کریں گے، تو میں راضی نہیں ہوں گا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تم نے غلط کہا، اللہ کی قسم! تمہیں بھی اسی طرح راضی ہونا پڑے گا، جس طرح یہ عورت اس پر راضی ہے۔“
حدیث نمبر: 3780
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، قَالَ : وَمَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : امْرَأَتُكَ تَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَإِلا فَارِقْنِي ، خَادِمُكَ يَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي ، وَلَدُكَ يَقُولُ : إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي ؟ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے (یعنی صدقہ دینے کے بعد آدمی خود تنگ دست نہ ہو)، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، (تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے) اس سے آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے زیر کفالت کون ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری بیوی جو یہ کہے گی: تم مجھے کھانے کے لیے دو، ورنہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لو، تمہارا غلام جو یہ کہے گا: پہلے مجھے کھانے کے لیے دو، پھر مجھ سے کام لینا، اور تمہاری اولاد جو یہ کہے گی: تم مجھے کس کے آسرے پر چھوڑ کر جا رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 3781
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ ، نَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَرْأَةُ تَقُولُ لِزَوْجِهَا : أَطْعِمْنِي أَوْ طَلِّقْنِي ، وَيَقُولُ عَبْدُهُ : أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي ، وَيَقُولُ وَلَدُهُ : إِلَى مَنْ تَكِلُنَا ؟ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت اپنے شوہر سے یہ کہے گی: تم مجھے کھانے کے لیے دو، ورنہ مجھے طلاق دے دو، آدمی کا غلام یہ کہے گا: پہلے تم مجھے کھانے کے لیے دو، پھر مجھ سے کام لینا، اور اولاد یہ کہے گی: تم مجھے کس کے آسرے پر چھوڑ رہے ہو؟“
حدیث نمبر: 3782
قَالَ : وَنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ،أَنَّهُ قَالَ " فِي الرَّجُلِ يَعْجِزُ عَنْ نَفَقَةِ امْرَأَتِهِ ، قَالَ : إِنْ عَجَزَ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنی بیوی کا خرچ ادا کرنے کے قابل نہ رہے، وہ فرماتے ہیں: اگر وہ شخص خرچ ادا کرنے کے قابل نہ رہے، تو ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3783
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، وَنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالُوا : نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاوَرْدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، " فِي الرَّجُلِ لا يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ ، قَالَ : يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا " ،.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی کا خرچ ادا کرنے کے قابل نہ رہے، اس کے بارے میں فرماتے ہیں: ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 3784
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالُوا : نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3785
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ ، قَالَ : قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ : يُزَوِّجُ الرَّجُلُ كَرِيمَتَهُ مِنْ ذِي الدِّينِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الْحَسَبِ مِثْلُهُ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " لأَمْنَعَنَّ تَزَوُّجَ ذَوَاتِ الأَحْسَابِ ، إِلا مِنَ الأَكْفَاءِ " .
محمد محی الدین
اسحاق بن بہلول فرماتے ہیں: عبداللہ بن داؤد سے کہا: ”اگر آدمی کو اپنی زیر پرورش لڑکی کے لیے ہم پلہ خاندان کا رشتہ نہیں ملتا، تو کیا وہ اس کی شادی (کم تر خاندان کے) دین دار شخص سے کروا دے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں اچھے خاندانوں کی خواتین کی صرف ہم پلہ خاندان میں شادی کی اجازت دوں گا۔“
حدیث نمبر: 3786
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عُمَرُ بْنُ أَبِي الرُّطَيْلِ ، نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَارُوا لِنُطَفِكُمُ الْمَوَاضِعَ الصَّالِحَةَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے نطفے کے لیے صالح مقامات (یعنی نیک بیویاں) اختیار کرو۔“
حدیث نمبر: 3787
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ مَاهَانَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْكِحُوا إِلَى الأَكْفَاءِ وَأَنْكِحُوهُمْ ، وَاخْتَارُوا لِنُطَفِكُمْ ، وَإِيَّاكُمْ وَالزَّنْجَ فَإِنَّهُ خَلْقٌ مُشَوَّهٌ " ، قَالَ تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کفو میں نکاح کرو اور ان کا نکاح کرواؤ، اپنے نطفے کے لیے (صالح بیویاں) اختیار کرو، اور حبشیوں سے اجتناب کرو، کیونکہ ان کی ظاہری شکل اچھی نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 3788
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ لا تَضَعُوهَا إِلا فِي الأَكْفَاءِ " ، قَالَ الأَشَجُّ : " تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ ، وَأَنْكِحُوا الأَكْفَاءَ ، وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ ".
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے نطفے کے لیے بہترین (یعنی نیک بیویاں) اختیار کرو اور اسے صرف کفو میں رکھو۔“ اشج نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اپنے نطفے کے لیے بہترین (یعنی نیک بیویاں) اختیار کرو اور کفو میں نکاح کرو، اور ان (کفو والوں) کے ساتھ نکاح کرواؤ۔“
حدیث نمبر: 3789
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، نَا الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، قَالَ : " الْكُفْؤُ فِي الْحَسَبِ وَالدِّينِ " .
محمد محی الدین
سفیان کہتے ہیں: حسب اور دین میں کفو کا اعتبار کیا جائے گا۔
…