حدیث نمبر: 3710
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15404، 15405، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3709، 3710، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1743»
«قال ابن حجر: سنده ضعيف ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 355)»
حدیث نمبر: 3711
نَا أَبُو عَمْرٍو يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا عَبْدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لاعَنَ بِالْحَمْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حوالے سے لعان کروایا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3711
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15442، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3711، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 1527»
حدیث نمبر: 3712
نَا أَبُو عِيسَى يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِيُّ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ هِلالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا رَأَى أَحَدُنَا الرَّجُلَ عَلَى امْرَأَتِهِ يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْبَيِّنَةُ وَإِلا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ، قَالَ : فَقَالَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ بِهِ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ ، قَالَ : فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9 ، قَالَ : فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا ، قَالَ : فَجَاءَ فَقَامَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ ؟ ، فَقَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ ، ثُمَّ قَالَتْ : لا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ، قَالَ : فَمَضَتْ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْصِرُوهَا فَإِنْ هِيَ جَاءَتْ بِهِ " ، قَالَ هِشَامٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ مثل قَوْلِ مُحَمَّدٍ : " فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ مُدَمَلْجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ " ، قَالَ : فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر یہ الزام لگایا کہ اس کے شریک بن سحماء کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہو گی۔“ ہلال نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھتا ہے، تو کیا وہ ثبوت گواہ تلاش کرنے چل پڑے گا؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں سچ کہہ رہا ہوں اور اللہ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم ضرور نازل کرے گا جس کی وجہ سے مجھ پر حد جاری نہیں ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام لگا دیتے ہیں۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”پانچویں مرتبہ وہ کہے گی: اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا اگر وہ مرد سچا ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ آئے، انہوں نے کھڑے ہو کر گواہی دی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرے گا؟“ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے بھی گواہی دے دی۔ جب وہ پانچواں جملہ استعمال کرنے لگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے روکو، کیونکہ یہ (پانچویں گواہی اس کے لیے آخرت میں عذاب کو) لازم کر دے گی۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں: وہ عورت ہچکچائی، اس نے اپنا سر جھکایا یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ اب وہ رجوع کر لے گی، لیکن پھر اس نے کہا: میں اپنے قبیلے کو کبھی رسوا نہیں کروں گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس نے (گواہی کو) پورا کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کا دھیان رکھنا، اگر یہ ایسے بچے کو جنم دے۔“ ہشام نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے میرے استاد نے یہاں محمد نامی راوی کی مانند لفظ نقل کیے ہیں: ”اور اگر اس عورت نے سرمئی آنکھوں، بھاری سرین اور مضبوط پنڈلی والے بچے کو جنم دیا، تو وہ شریک بن سحماء کی اولاد ہو گا۔“ تو اس عورت نے ایسے ہی بچے کو جنم دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بارے میں اللہ کی کتاب کا حکم پہلے نہ آ چکا ہوتا، تو میرا اس عورت کے ساتھ سلوک مختلف ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3712
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2671، 4747، 5307، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2829، 8204، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8169، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2254، 2256، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3179، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2067، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3712، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2163، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17656، 29675، 37283»
حدیث نمبر: 3713
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُرَيْحًا ، يَقُولُ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ؟ ، قُلْتُ : وَلِيُّ الْمَرْأَةِ ، قَالَ : لا بَلْ هُوَ الزَّوْجُ " .
محمد محی الدین
قاضی شریح بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ میں نے پوچھا: اس سے مراد عورت کا ولی ہے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اس سے مراد شوہر ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3713
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14557، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3713، 3717، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17266»
حدیث نمبر: 3714
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، " تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي نَصْرٍ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِالصَّدَاقِ كَامِلا ، فَقَالَ : " أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ مِنْهَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِلا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سورة البقرة آية 237 ، وَأَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ مِنْهَا " ،.
محمد محی الدین
یحییٰ بن عبدالرحمن اور ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بنو نضیر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی، اور پھر رخصتی سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ سیدنا جبیر نے اس عورت کو پورا مہر بھیجوا دیا، اور فرمایا: معاف کرنے کا اس عورت سے زیادہ حق رکھتا ہوں (کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے): ”ماسوائے اس صورت کہ وہ عورتیں معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ (سیدنا جبیر بن مطعم نے فرمایا) میں معاف کرنے کا اس عورت سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3714
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
حدیث نمبر: 3715
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، بِهَذَا نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3715
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
حدیث نمبر: 3716
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا أَبُو النَّضْرِ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : تَزَوَّجَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَقَرَأَ الآيَةَ " إِلا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سورة البقرة آية 237 ، فَقَالَ : أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ إِلَيْهَا فَسَلَّمَ إِلَيْهَا الْمَهْرَ كَامِلا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ " .
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے شادی کر لی، پھر رخصتی سے قبل اسے طلاق دے دی۔ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”ماسوائے اس صورت کہ وہ عورت معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ سیدنا جبیر بن مطعم نے فرمایا: میں معاف کرنے کا اس عورت سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔ سیدنا جبیر بن مطعم نے اس عورت کو پورا مہر بھیجوا دیا تھا اور اسے ادا کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3716
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
حدیث نمبر: 3717
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَكَانَ ابْنُ شُبْرُمَةَ يَقُولُ : هُوَ الزَّوْجُ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس شخص کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، اس سے مراد شوہر ہے۔“ سفیان بیان کرتے ہیں: ابن شبرمہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3717
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14557، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3713، 3717، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17266»
حدیث نمبر: 3718
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُرْجَانِيُّ مِنْ أَصْلِهِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلِيُّ عُقْدَةِ النِّكَاحِ هُوَ الزَّوْجُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نکاح کی گرہ کے ولی سے مراد شوہر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3718
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3718، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6359»
«قال البيهقي: في إسناده ابن لهيعة وحالته معلومة ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 687»
حدیث نمبر: 3719
نَا نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : " إِلا أَنْ يَعْفُونَ سورة البقرة آية 237 ، قَالَ : أَنْ تَعْفُوَ الْمَرْأَةُ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الْوَلِيُّ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: ”ماسوائے اس صورت کہ وہ عورتیں معاف کر دیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یعنی وہ عورت معاف کر دے یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں: اس سے مراد ولی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3719
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14567، 14568، 14569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3719، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10852، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17280»
حدیث نمبر: 3720
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : هُوَ الزَّوْجُ .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3720
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14558، 14559، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3720، 3721، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17264»
حدیث نمبر: 3721
نَا ابْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : هُوَ الزَّوْجُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3721
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14558، 14559، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3720، 3721، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17264»
حدیث نمبر: 3722
نَا نَا ابْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ ، نَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ " تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرْسَلَ بِالصَّدَاقِ ، وَقَالَ : أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ " .
محمد محی الدین
محمد بن جبیر بیان کرتے ہیں: ان کے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی اور پھر رخصتی سے پہلے اسے طلاق دے دی، انہوں نے (اس عورت کو) مہر بھجوا دیا اور بولے: ”میں معاف کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3722
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
حدیث نمبر: 3723
نَا ابْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ ، نَا عَبْدَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجُ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب فرماتے ہیں: ”جس شخص کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، اس سے مراد شوہر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3723
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14562، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3723، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10860، 10861، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17256»
حدیث نمبر: 3724
نَا نَا ابْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، قَالَ : " هُوَ الزَّوْجُ إِنْ شَاءَ أَتَمَّ لَهَا الصَّدَاقَ " ، وَكَذَلِكَ قَالَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ ، وَطَاوُسٌ ، وَمُجَاهِدٌ ، وَالشَّعْبِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ ، وَعَلْقَمَةُ ، وَالْحَسَنُ : " هُوَ الْوَلِيُّ ".
محمد محی الدین
قاضی شریح فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے، یعنی اگر وہ چاہے، تو عورت کو مکمل مہر ادا کرے۔“ شیخ فرماتے ہیں: نافع بن جبیر، محمد بن کعب، طاؤس، مجاہد، شعبی اور سعید بن جبیر نے اسی کی مانند بیان کیا ہے۔ ابراہیم، علقمہ اور حسن بصری فرماتے ہیں: ”اس سے مراد ولی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3724
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 385، 390، 2141، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14561، 14563، 14564، 14566، 14570، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3724، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10859، 10886، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17252، 17255»
حدیث نمبر: 3725
نَا نَا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ الْبَزَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ " عَنِ الأُخْتَيْنِ مِمَّا مَلَكَتِ الْيَمِينِ ، فَقَالَ : لا آمُرُكَ وَلا أَنْهَاكَ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ ، فَخَرَجَ السَّائِلُ فَلَقِيَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : عَلِيٌّ ، فَقَالَ : مَا سَأَلْتَ عَنْهُ عُثْمَانَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا سَأَلَهُ وَبِمَا أَفْتَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " لَكِنِّي أَنْهَاكَ وَلَوْ كَانَ لِي عَلَيْكَ سَبِيلٌ ثُمَّ فَعَلْتَ لَجَعَلْتُكَ نَكَالا ".
محمد محی الدین
قبیصہ بن ذوئب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ایسی دو بہنوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی کی ملکیت میں ہوں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں ہدایت بھی نہیں کروں گا اور تمہیں منع بھی نہیں کروں گا، کیونکہ ایک آیت انہیں حلال قرار دیتی ہے اور ایک آیت انہیں حرام قرار دیتی ہے۔“ وہ سائل وہاں سے باہر نکلا، تو اس کی ملاقات ایک صحابی سے ہوئی۔ معمر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرا خیال ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے دریافت کیا: ”تم نے سیدنا عثمان سے کس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا؟“ اس شخص نے اپنے سوال کے بارے میں بتایا اور ان کے جواب کے بارے میں بھی بتایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں منع کروں گا، اگر میرا تم پر کوئی (سرکاری تسلط) ہو اور پھر تم اس کا ارتکاب کرو، تو میں تمہیں سزا دوں گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3725
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1068، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14042، 14043،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3725،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16508، 16512، 16519»
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سُئِلَ " عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ، هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الأُخْرَى ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهَا جَمِيعًا وَنَهَاهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا: اگر کوئی ماں اور بیٹی کسی شخص کی ملکیت میں آ جاتی ہیں، تو کیا ان میں سے ایک کے بعد دوسری سے صحبت کی جا سکتی ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ تم ان دونوں کے ساتھ صحبت کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سائل کو ایسا کرنے سے) منع کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3726
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1067، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1733، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14044، 14045، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3726، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1736، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12725، 12726، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16499»
حدیث نمبر: 3727
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ غَرِيبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً وَأُمَّهَا ، وَقَدْ وَلَدَتَا لِي كِلْتَاهُمَا فَمَا تَرَى ، قَالَ : آيَةٌ تَحِلُّ وَآيَةٌ تُحَرِّمُ ، وَلَمْ أَكُنْ أَفْعَلْهُ أَنَا وَلا أَهْلُ بَيْتِي " .
محمد محی الدین
عریب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ایک کنیز اور اس کی ماں میری ملکیت میں ہیں، ان دونوں نے میری اولاد کو جنم دیا ہے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک آیت اسے حلال قرار دیتی ہے اور ایک آیت اسے حرام قرار دیتی ہے، میں ایسا نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے خاندان کا کوئی فرد ایسا کرے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3727
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3727 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3728
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : " أَيَقَعُ الرَّجُلُ عَلَى الْجَارِيَةِ وَابْنَتِهَا ، تَكُونَانِ مَمْلُوكِينَ لَهُ ، قَالَ : حَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ وَأَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ ، وَلَمْ أَكُنْ لأَفْعَلَهُ " .
محمد محی الدین
طارق بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا کوئی شخص اپنی کنیز اور اس کی بیٹی دونوں کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے، جبکہ وہ دونوں اس کی ملکیت ہوں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایک آیت نے ان دونوں کو حرام قرار دیا ہے اور ایک آیت نے ان کو حلال قرار دیا ہے، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3728
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1739، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3728، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16500»
حدیث نمبر: 3729
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ فَلَهَا ثَلاثٌ ثُمَّ تُقْسَمُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص ثیبہ عورت کے ساتھ شادی کرے، تو اس عورت کے ساتھ تین دن رہے، اس کے بعد (بیویوں کے درمیان) تقسیم شروع کرے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3729
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3729 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3730
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لِلْبِكْرِ سَبْعَةُ أَيَّامٍ ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى نِسَائِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کنواری کو سات دن ملیں گے اور ثیبہ کو تین دن ملیں گے، پھر آدمی اپنی بیویوں (کے درمیان برابری کی سطح پر وقت) تقسیم کرے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5213، 5214، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1461، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1051 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4208، 4209، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2124، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1139، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2255، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1916،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3730،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17221، 17223، 17227»
« قال ابن الملقن : طريق صحيحة ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 43)»
حدیث نمبر: 3731
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ بِثَوْبِهِ : " كُنْ عِنْدِي الْيَوْمَ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتِ كُنْتُ عِنْدَكِ الْيَوْمَ وَقَاصَصْتُكِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلثَّيِّبِ ثَلاثٌ ، وَلِلْبِكْرِ سَبْعُ لَيَالٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام کر (یہ کہا): ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج کا دن میرے ہاں رہیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں آج کا دن تمہارے پاس ٹھہر جاتا ہوں اور پھر تم سے اس کے بدلے میں (پھر کسی دن تقسیم میں سے تمہارا دن منہا کر لوں گا)۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ کو تین دن ملیں گے اور کنواری کو سات دن ملیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3731
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3731 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3732
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ وَجَمَعَهَا فِي شَوَّالٍ ، وَقَالَ : إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ عِنْدَكِ وَأُسَبِّعَ عِنْدَ صَوَاحِبَاتِكِ وَإِلا فَثَلاثَتُكِ ، ثُمَّ أَدُورَ عَلَيْكِ فِي لَيْلَتِكِ، قَالَتْ : بَلْ ثَلِّثْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
عبدالملک بن ابوبکر بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی، شوال کے مہینے میں ان کی رخصتی ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں سات دن تمہارے ساتھ رہتا ہوں اور پھر سات، سات دن تمہاری ساتھی خواتین (سوکنوں) کے ساتھ رہوں گا، ورنہ (دوسری صورت یہ ہے) میں تین دن تمہارے ساتھ رہتا ہوں اور پھر تمہاری باری کے دن تمہارے پاس آ جاؤں گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! (ابھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن میرے ساتھ رہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3732
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1460، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1050 ، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 776، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14873، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3732، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10645»
حدیث نمبر: 3733
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : وَنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ بِهَا : " لَيْسَ بِكِ هَوَانٌ عَلَى أَهْلِكِ إِنْ شِئْتِ أَقَمْتُ مَعَكِ ثَلاثًا خَالِصَةً لَكِ ، وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ثُمَّ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي ، فَقَالَتْ تُقِيمُ مَعِي ثَلاثًا خَالِصَةً " . فَأَخَذَ مَالِكٌ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، " بِسَبْعٍ لِلْبِكْرِ ، وَبِثَلاثٍ لِلثَّيِّبِ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے: عبدالملک بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب ان کی رخصتی ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک کم حیثیت کی مالک نہیں ہو، اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ تین دن قیام کرتا ہوں، جو صرف تمہارے لیے ہوں گے (دوسری ازواج کو اپنی باری کے حساب سے ایک، ایک دن ملے گا)، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ سات دن رہوں، لیکن پھر اپنی تمام بیویوں (میں سے ہر ایک کے ساتھ) سات، سات دن رہوں گا۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”آپ میرے ساتھ تین دن رہیں۔“ امام مالک اور ابن ابی ذئب نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے: کنواری کے ساتھ سات دن رہا جائے گا اور ثیبہ کے ساتھ تین دن رہا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3733
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 918، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 514 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2949، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3256 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2122، 3119، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3511، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2256، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1598، 1917، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3733، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16602، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17224»
«في إسناده الواقدي وهو ضعيف جدا ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 194)»
حدیث نمبر: 3734
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ رَيْطَةَ بِنْتِ هِشَامٍ ، وَأُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتُ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَنا مُحَمَّدٌ ، نَا أَحْمَدُ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبِكْرُ إِذَا نَكَحَهَا رَجُلٌ وَلَهُ نِسَاءٌ لَهَا ثَلاثُ لَيَالٍ ، وَلِلثَّيِّبِ لَيْلَتَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (حدیث کا متن اگلی سند کے بعد ہے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب آدمی کسی کنواری کے ساتھ شادی کرے اور آدمی کی پہلی سے بیویاں موجود ہوں، تو اس کنواری کو سات دن ملیں گے اور اگر ثیبہ (کے ساتھ شادی کرے، تو اسے) دو دن ملیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3734
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3734، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: بسند ضعيف جدا ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 224)»
حدیث نمبر: 3735
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " قَلَّ مَا كَانَ يَوْمٌ ، أَوْ قَالَتْ : قَلَّ يَوْمٌ إِلا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ فِي مَجْلِسِهِ فَيُقَبِّلُ وَيَمَسُّ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ وَلا مُبَاشَرَةٍ ، قَالَتْ : ثُمَّ يَبِيتُ عِنْدَ الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا " ،.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اکثر ایسا ہوتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو اپنے پاس بٹھاتے تھے، ان کو بوسہ دیتے، انہیں چھوتے تھے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ صحبت یا مباشرت نہیں کرتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس اہلیہ کے ہاں بسر کرتے تھے، جس کی باری کا دن ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3735
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5212، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1463، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4211، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 468، 2366، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8885، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1972،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3735، 3736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25033، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16733»
«قال بدرالدین العیني : هذا ضعيف ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (14 / 115)»
حدیث نمبر: 3736
نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخُو زَنْبَرٍ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحبت نہیں کرتے تھے، صرف چھوتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3736
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5212، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1463، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4211، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 468، 2366، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8885، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1972،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3735، 3736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25033، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16733»
«قال بدرالدین العیني : هذا ضعيف ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (14 / 115)»
حدیث نمبر: 3737
وَنا وَنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ ، نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا تَزَوَّجَتِ الْحُرَّةُ عَلَى الأَمَةِ قَسَمَ لَهَا يَوْمَيْنِ وَلِلأَمَةِ يَوْمًا ، إِنَّ الأَمَةَ لا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ عَلَى الْحُرَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم کسی آزاد عورت کے ساتھ شادی کرو اور تمہاری پہلی بیوی کنیز ہو، تو تم آزاد عورت کو دو دن دو گے اور کنیز کو ایک دن دو گے، البتہ اگر پہلی بیوی آزاد عورت ہو، تو کسی کنیز کے ساتھ شادی کرنا مناسب نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3737
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 725، 738، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14115، 14867، 14868، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3737، 3738، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13087، 13090، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16325، 16341، 16342»
« قال الزیلعي : والمنهال بن عمرو فيه مقال وعباد الأسدي ضعيف قال في التنقيح قال البخاري فيه نظر وحكى ابن الجوزي عن ابن المديني أنه ضعفه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 215)»
حدیث نمبر: 3738
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرَّةَ عَلَى الأَمَةِ ، قَسَمَ لِلأَمَةِ الثُّلُثَ وَلِلْحُرَّةِ الثُّلُثَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب پہلی بیوی کنیز ہو اور پھر کوئی آزاد عورت کے ساتھ شادی کر لے، تو تقسیم میں کنیز کا حصہ ایک تہائی ہو گا اور آزاد عورت کا حصہ دو تہائی ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3738
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 725، 738، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14115، 14867، 14868، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3737، 3738، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13087، 13090، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16325، 16341، 16342»
« قال الزیلعي : والمنهال بن عمرو فيه مقال وعباد الأسدي ضعيف قال في التنقيح قال البخاري فيه نظر وحكى ابن الجوزي عن ابن المديني أنه ضعفه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 215)»
حدیث نمبر: 3739
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، قَالا : نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حُبَيْشُ بْنُ مُبَشِّرٍ الْفَقِيهُ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3739
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1958، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3739، 3740، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2099، 5642»
حدیث نمبر: 3740
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمُبَارَكِ يُعْرَفُ بِالأَعْرَابِيِّ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کر لی اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3740
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1958، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3739، 3740، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2099، 5642»
حدیث نمبر: 3741
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ الدَّقِيقِيُّ ، مِنْ كِتَابِهِ إِمْلاءً ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کر لی اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3741
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 371، 610، 947، 2228، 2235، 2943، 2944، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 382، 1365، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 351، 400، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4091، 4745، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 69، 546، 3344،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2054، 2634، 2995، 2996، 2997، 2998، 3009، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1115، 1550، 1618 ، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1957، 2272، 3196، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3741، 3742، 3743، 3744، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12138، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1232، 1234،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16402، 20821، 24817، 33746، 33750، 37327، 38031، 38044،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 386، 1093»
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا ، وَجَعَلَ مَهْرَهَا عِتْقَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کر لی اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3742
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 371، 610، 947، 2228، 2235، 2943، 2944، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 382، 1365، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 351، 400، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4091، 4745، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 69، 546، 3344،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2054، 2634، 2995، 2996، 2997، 2998، 3009، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1115، 1550، 1618 ، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1957، 2272، 3196، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3741، 3742، 3743، 3744، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12138، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1232، 1234،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16402، 20821، 24817، 33746، 33750، 37327، 38031، 38044،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 386، 1093»
حدیث نمبر: 3743
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا قُرَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ : مَا أَصْدَقَهَا ، قَالَ : أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی۔ ثابت بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مہر ادا کیا تھا؟“ تو سیدنا انس نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی ذات مہر کے طور پر ادا کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کی تھی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3743
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 371، 610، 947، 2228، 2235، 2943، 2944، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 382، 1365، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 351، 400، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4091، 4745، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 69، 546، 3344،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2054، 2634، 2995، 2996، 2997، 2998، 3009، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1115، 1550، 1618 ، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1957، 2272، 3196، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3741، 3742، 3743، 3744، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12138، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1232، 1234،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16402، 20821، 24817، 33746، 33750، 37327، 38031، 38044،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 386، 1093»
حدیث نمبر: 3744
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ السَّوَّاقُ ، نَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " عَنِ الرَّجُلِ يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا ، فَقَالَ : أَلَمْ يُعْتِقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ ، وَجُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ وَجَعَلَ عِتْقَهُمَا مَهْرَهُمَا وَتَزَوَّجَهُمَا " .
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو اپنی کنیز کو آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا اور سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو آزاد نہیں کیا تھا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دے کر ان کے ساتھ شادی کر لی تھی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3744
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 371، 610، 947، 2228، 2235، 2943، 2944، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 382، 1365، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 351، 400، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4091، 4745، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 69، 546، 3344،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2054، 2634، 2995، 2996، 2997، 2998، 3009، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1115، 1550، 1618 ، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1957، 2272، 3196، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3741، 3742، 3743، 3744، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12138، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1232، 1234،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16402، 20821، 24817، 33746، 33750، 37327، 38031، 38044،وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 386، 1093»
حدیث نمبر: 3745
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَابِتٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں، جو اپنی بیوی کے حیض کے دوران اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، یہ فرمایا: ”وہ شخص ایک دینار (راوی کو شک ہے، شاید) نصف دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3745
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 118، 119، 121، 122، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 616، 617، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 288، 368 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 278، 9050، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 264، 265، 266، 2168، 2169، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 136، 137، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 640، 650، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3745، 3746، 3747، 3748، 3749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2060، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12507، 12508، 12509، 12511، 12519»
«قال النوي: حديث ضعيف باتفاق الحفاظ ، المنهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (3 / 534)»
حدیث نمبر: 3746
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَيَّانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَرَّرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكِ ، وَخُصَيْفٍ ، وَعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی کے حیض کے دوران اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، وہ ایک دینار (راوی کو شک ہے، شاید) نصف دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3746
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 118، 119، 121، 122، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 616، 617، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 288، 368 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 278، 9050، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 264، 265، 266، 2168، 2169، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 136، 137، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 640، 650، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3745، 3746، 3747، 3748، 3749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2060، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12507، 12508، 12509، 12511، 12519»
«قال النوي: حديث ضعيف باتفاق الحفاظ ، المنهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (3 / 534)»
حدیث نمبر: 3747
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْقَطَّانُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، وَعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، وَخُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي الدَّمِ فَعَلَيْهِ دِينَارٌ ، وَفِي الصُّفْرَةِ نِصْفُ دِينَارٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت صحبت کرے، جب اس کا (حیض کا) خون (خارج ہو رہا ہو)، اس پر ایک دینار (صدقہ کرنا) لازم ہو گا اور (اگر) زرد (مواد خارج ہو رہا ہو)، تو نصف دینار (صدقہ کرنا) لازم ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3747
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 118، 119، 121، 122، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 616، 617، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 288، 368 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 278، 9050، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 264، 265، 266، 2168، 2169، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 136، 137، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 640، 650، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3745، 3746، 3747، 3748، 3749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2060، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12507، 12508، 12509، 12511، 12519»
«قال النوي: حديث ضعيف باتفاق الحفاظ ، المنهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (3 / 534)»
حدیث نمبر: 3748
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ الدَّمُ عَبِيطًا فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، وَإِنْ كَانَ صُفْرَةً فَبِنِصْفِ دِينَارٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت صحبت کرے، جب اس کا (حیض کا) عبیط (گہرے سرخ رنگ کا مواد خارج ہو رہا ہو)، اس پر ایک دینار (صدقہ کرنا) لازم ہو گا اور (اگر) زرد (مواد خارج ہو رہا ہو)، تو نصف دینار (صدقہ کرنا) لازم ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3748
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 118، 119، 121، 122، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 616، 617، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 288، 368 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 278، 9050، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 264، 265، 266، 2168، 2169، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 136، 137، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 640، 650، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3745، 3746، 3747، 3748، 3749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2060، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12507، 12508، 12509، 12511، 12519»
«قال النوي: حديث ضعيف باتفاق الحفاظ ، المنهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (3 / 534)»
حدیث نمبر: 3749
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، أنا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَصْرِيِّ ، ،أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ الْوَاطِئَ فِي الْعِرَاكِ بِصَدَقَةٍ دِينَارٍ ، وَإِنْ وَطِئَهَا بَعْدَ أَنْ تَطْهُرَ وَلَمْ تَغْتَسِلْ بِصَدَقَةٍ نِصْفِ دِينَارٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (عورت کے) حیض کے دوران صحبت کرنے والے شخص (کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دینار صدقہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور کوئی شخص عورت کے پاک ہو جانے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے عورت کے ساتھ صحبت کر لے، تو اسے نصف دینار صدقہ کرنا ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3749
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 118، 119، 121، 122، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 616، 617، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 288، 368 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 278، 9050، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 264، 265، 266، 2168، 2169، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 136، 137، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 640، 650، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3745، 3746، 3747، 3748، 3749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2060، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12507، 12508، 12509، 12511، 12519»
«قال النوي: حديث ضعيف باتفاق الحفاظ ، المنهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج: (3 / 534)»