حدیث نمبر: 3671
نَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الْخَصِيبِ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَنْصُورُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْتَنِبُوا فِي النِّكَاحِ أَرْبَعَةً : الْجُنُونَ ، وَالْجُذَامَ ، وَالْبَرَصَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چار طرح کے لوگوں سے شادی کرنے سے بچو: جنون (پاگل پن)، جذام (کوڑھ)، برص (پھلہری)۔“
حدیث نمبر: 3671M
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصْرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، نَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِنْ شَاءَتْ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَمَحْبُوبٌ ، ضَعِيفٌ أَيْضًا.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ عورت کو یہ ہدایت کی کہ ”اگر وہ چاہے، تو اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسری جگہ عدت بسر کر سکتی ہے۔“ اس روایت کو ابومالک نخعی کے علاوہ اور کسی نے سند کے ساتھ نقل نہیں کیا اور یہ راوی ضعیف ہے۔ اس روایت کا دوسرا راوی محبوب (بن محرز تمیمی) بھی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3672
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ غُرَّ بِهَا رَجُلٌ بِهَا جُنُونٌ ، أَوْ جُذَامٌ ، أَوْ بَرَصٌ فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا ، وَصَدَاقُ الرَّجُلِ عَلَى وَلِيِّهَا الَّذِي غَرَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس عورت کی شادی کسی شخص سے دھوکے کے ساتھ کر دی جائے اور اس عورت کو جنون، جذام، یا برص ہو، تو عورت کو مہر ملے گا، کیونکہ اس مرد نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے، اور مرد مہر کی وہ رقم عورت کے ولی سے وصول کرے گا، جس نے دھوکے کے ساتھ اس کی شادی کروائی۔“
حدیث نمبر: 3673
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " قَضَى عُمَرُ فِي الْبَرْصَاءِ ، وَالْجَذْمَاءِ ، وَالْمَجْنُونَةِ ، إِذَا دُخِلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ، وَالصَّدَاقُ لَهَا لِمَسِيسِهِ إِيَّاهَا ، وَهُوَ لَهُ عَلَى وَلِيِّهَا ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے برص، جذام، جنون کا شکار خاتون کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر وا دی جائے گی، عورت کو مرد کے صحبت کرنے کی وجہ سے مہر ملے گا، اور مرد وہ مہر عورت کے سرپرست سے وصول کرے گا۔
حدیث نمبر: 3674
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعٌ لا يَجُوزُ فِي بَيْعٍ وَلا نِكَاحٍ : الْمَجْنُونَةُ ، وَالْمَجْذُومَةُ ، وَالْبَرْصَاءُ ، وَالْغَلْفَاءُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: چار طرح کی خواتین (کنیز ہوں) تو ان کو فروخت کرنا (اور آزاد یا کنیز ہوں) ان کی شادی کرنا جائز نہیں ہے: مجنون عورت، جذام کا شکار عورت، برص کا شکار عورت، اور شرمگاہ پھولی ہونے کی بیماری میں مبتلا عورت۔
حدیث نمبر: 3675
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مَجْنُونَةً ، أَوْ جَذْمَاءَ ، أَوْ بِهَا بَرَصٌ ، أَوْ بِهَا قَرْنٌ ، فَهِيَ امْرَأَتَهُ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص کسی پاگل، جذام کا شکار، پھلہری کا شکار، یا شرمگاہ میں رکاوٹ والی عورت کے ساتھ شادی کر لے، تو وہ عورت اس کی بیوی شمار ہو گی، اگر وہ مرد چاہے، تو اس عورت کو اپنے ساتھ رہنے دے، ورنہ اسے طلاق دے دے۔“
حدیث نمبر: 3676
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، " كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مُسَلْسَلٍ يَخَافُ عَلَى امْرَأَتِهِ مِنْهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ، أَنْ يُؤَجِّلَ سَنَةً فَإِنْ بَرَأَ ، وَإِلا فَرَّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مسلسل کے بارے میں خط لکھا تھا، جس کی وجہ سے اس کی بیوی کو نقصان ہونے کا اندیشہ تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا: ”اسے ایک سال کی مہلت دی جائے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے، تو ٹھیک، ورنہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کر وا دی جائے۔“
حدیث نمبر: 3677
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ الْيَمَانِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُفْسَدُ الْحَلالُ بِالْحَرَامِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی حلال چیز کسی حرام کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 3678
نَا أَبُو بَكْرٍ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ " عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ الْمَرْأَةَ حَرَامًا ثُمَّ يَنْكِحُ ابْنَتَهَا ، أَوْ يَتْبَعُ ، الابْنَةَ ، ثُمَّ يَنْكِحُ أُمَّهَا ، قَالَ : لا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلالَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی عورت کے ساتھ حرام فعل کرتا ہے اور پھر بعد میں اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لیتا ہے یا کسی عورت کے ساتھ حرام فعل کرنے کے بعد اس کی ماں کے ساتھ بعد میں شادی کر لیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی حرام چیز کسی حلال کو حرام نہیں کرتی۔“
حدیث نمبر: 3679
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَارِبِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَامٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلالَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی حرام چیز کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتی۔“
حدیث نمبر: 3680
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ رَجُلٍ زَنَى بِامْرَأَةٍ ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا أَوِ ابْنَتَهَا ، قَالَ : لا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلالَ ، إِنَّمَا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بِنِكَاحٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس نے کسی عورت کے ساتھ پہلے زنا کیا تھا اور پھر بعد میں وہ اسی عورت کے ساتھ یا شاید اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی حرام چیز کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتی، حرمت تب ثابت ہوتی ہے، جب پہلے نکاح ہوا ہو۔“
حدیث نمبر: 3681
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، " عَنِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يُصِيبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الآخَرِ حَرَامًا ، ثُمَّ يَبْدُو لَهَا فَيَتَزَوَّجَانِ ؟ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ أَوَّلُهُ سِفَاحٌ وَآخِرُهُ نِكَاحٌ " .
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے مرد کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو حرام فعل کا ارتکاب کرتے ہیں، پھر بعد میں وہ شادی کرنا چاہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ان کا فعل زنا تھا، لیکن دوسرا عمل نکاح (قرار دیا جائے گا)۔“
حدیث نمبر: 3682
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ نَظَرَ إِلَى فَرْجِ امْرَأَةٍ وَابْنَتِهَا " ، مَوْقُوفٌ لَيْثٌ ، وَحَمَّادٌ ، ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ ایسے کسی شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا، جس نے کسی عورت اور اس کی بیٹی کی شرمگاہ کو دیکھا ہو۔“ (یہ روایت موقوف ہے، لیث بن ابوسلیم اور حماد بن ابوسلیمان نامی راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے)۔
حدیث نمبر: 3683
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَسْلَمَ غَيْلانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَ أَرْبَعًا وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ ، قَالَ : وَأَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَ أَرْبَعًا ، وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، ان کی دس بیویاں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ ان میں سے چار کو اپنے ساتھ رکھیں اور بقیہ سے علیحدگی اختیار کریں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا، اس وقت ان کی آٹھ بیویاں تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ ”وہ ان میں سے چار کو اپنے ساتھ رکھیں اور بقیہ سے علیحدگی اختیار کریں۔“
حدیث نمبر: 3684
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَسْلَمَ غَيْلانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، ان کی دس بیویاں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”تم ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔“
حدیث نمبر: 3685
نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سَعِيدٌ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، نَا سَعِيدٌ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَسْلَمَ غَيْلانُ بْنُ سَلَمَةَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " ، قَالَ الرَّمَادِيُّ : هَكَذَا يَقُولُ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا، تو ان کی زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں، ان خواتین نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ ان میں سے چار کو اختیار کر لیں۔“ رمادی نامی راوی بیان کرتے ہیں: اہل بصرہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3686
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِغَيْلانَ بْنَ سَلَمَةَ حِينَ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ : " خُذْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ " ،.
محمد محی الدین
عثمان بن ابوسوید بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا، جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور ان کی اس وقت دس بیویاں تھیں: ”تم ان میں سے چار کو اپنے ساتھ رکھو اور بقیہ سے علیحدگی اختیار کر لو۔“
حدیث نمبر: 3687
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الصَّاغَانِيُّ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، نَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3688
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الصَّغَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، نَا مَالِكٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ : بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے یہ فرمایا تھا: (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 3689
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَسْلَمَ غَيْلانُ بْنُ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3690
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَحْرِ النَّيْرُوزِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ . ح وَنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : وَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، كِلاهُمَا عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب انہوں نے اسلام قبول کیا، تو ان کی آٹھ بیویاں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔“
حدیث نمبر: 3691
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، وَالْكَلْبِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " ، فَجَعَلَ يَقُولُ : أَقْبِلِي يَا فُلانَةُ مَرَّتَيْنِ ، أَدْبِرِي يَا فُلانَةُ أَدْبِرِي يَا فُلانَةُ.
محمد محی الدین
قیس بن حارث کلبی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مرفوع حدیث نقل کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اسلام قبول کیا، اس کی آٹھ بیویاں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔“ تو وہ صاحب کہنے لگے: ”اے فلاں عورت! تم آ جاؤ، اے فلاں عورت! تم آ جاؤ، اے فلاں عورت! تم چلی جاؤ، اے فلاں عورت! تم چلی جاؤ۔“
حدیث نمبر: 3692
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، أنا هُشَيْمٌ ، أنا مُغِيرَةُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ قَيْسٍ الأَسَدِيَّ " أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
محمد محی الدین
مغیرہ نامی راوی، سیدنا حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: جب سیدنا حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، اس وقت ان کی آٹھ بیویاں تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ ان میں سے چار کا اختیار کریں۔“
حدیث نمبر: 3693
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الصَّاغَانِيُّ ، نَا مُعَلَّى ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ قَيْسٍ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " .
محمد محی الدین
مغیرہ نامی راوی، ربیع بن قیس کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ان کے جد اعلیٰ سیدنا حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا، اس وقت ان کی آٹھ بیویاں تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ ”وہ ان میں سے چار کو اختیار کر لیں۔“
حدیث نمبر: 3694
نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالا : نَا سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَرْمِيُّ ، نَا سِرَارُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ غَيْلانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ " أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُمْسِكَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ، فَلَمَّا كَانَ زَمَانُ عُمَرَ طَلَّقَهُنَّ ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَرْتَجِعَهُنَّ ، وَقَالَ : لَوْ مُتَّ لَوَرَّثْتُهُنَّ مِنْكَ وَلأَمَرْتُ بِقَبْرِكَ يُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ ، وَقَالَ ابْنُ نُوحٍ : فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : رَاجِعْهُنَّ ، وَإِلا وَرَّثْتُهُنَّ مَالَكَ وَأَمَرْتُ بِقَبْرِكَ " ، زَادَ ابْنُ نُوحٍ : فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس میں سے چار کو اپنے ساتھ رکھیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سیدنا غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان خواتین کو طلاق دے دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ ”وہ ان خواتین سے رجوع کر لیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم مر گئے، تو میں ان خواتین کو تمہارا وارث قرار دوں گا، اور میں تمہاری قبر کو سنگسار کراؤں گا، بالکل اسی طرح، جیسے ابورغال کی قبر کو سنگسار کر دیا گیا تھا۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم ان سے رجوع کر لو، ورنہ میں انہیں تمہارے مال کی وارث قرار دوں گا اور تمہاری قبر کے بارے میں حکم دوں گا۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: انہوں نے اسلام قبول کیا، تو ان کے ساتھ ان خواتین نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
حدیث نمبر: 3695
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ . ح وَنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو مُوسَى ح وَنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالُوا : نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا أَبِي ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَلِّقْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " .
محمد محی الدین
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان میں سے ایک کو، جسے تم چاہو، طلاق دو۔“
حدیث نمبر: 3696
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلَى الْوَرَّاقُ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي أُخْتَانِ ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَا " ،.
محمد محی الدین
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب میں نے اسلام قبول کیا، تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی: ”میں ان دونوں میں سے ایک کو طلاق دے دوں۔“
حدیث نمبر: 3697
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَكَ الْقَزَّازُ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3698
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا الشَّافِعِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ ، عَنِ الدَّيْلَمِيِّ أَوِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ : " أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنِي ، أَنْ أُمْسِكَ أَيَّتَهُمَا شِئْتُ وَأُفَارِقَ الأُخْرَى " .
محمد محی الدین
دیلمی (راوی کو شک ہے، یا شاید ابن دیلمی) بیان کرتے ہیں: میں نے اسلام قبول کیا، تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان میں سے جسے چاہوں اپنے ساتھ رکھوں اور دوسری کو الگ کر دوں۔“
حدیث نمبر: 3699
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا أَبُو وَهْبٍ الْجَيْشَانِيُّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي أُخْتَانِ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَ إِحْدَاهُمَا " .
محمد محی الدین
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب میں نے اسلام قبول کیا، تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی: ”میں ان دونوں میں سے ایک سے علیحدگی اختیار کر لوں۔“
حدیث نمبر: 3700
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ ، قَالَ : " لَوْلا الْحَدِيثُ الَّذِي جَاءَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَهُ ، لَقُلْتُ : يُمْسِكُ الأُولَى " .
محمد محی الدین
اوزاعی سے ایسے حربی شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو دو بہنوں کا شوہر ہو، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر اس بارے میں وہ حدیث نہ ہوتی، جس میں یہ منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں شوہر کو اختیار دیا تھا، تو میں یہ فتویٰ دیتا کہ وہ شخص (اس عورت کے ساتھ رہے گا، جس کے ساتھ) پہلے شادی ہوئی تھی۔“
حدیث نمبر: 3701
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيُّ ، قَالا : عَنِ الشَّافِعِيِّ ، قَالَ : " إِذَا أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ خُيِّرَ أَيَّهُمَا شَاءَ ، فَإِنِ اخْتَارَ وَاحِدَةً ثَبَتَ نِكَاحُهَا ، وَانْفَسَخَ نِكَاحُ الأُخْرَى ، وَسَوَاءٌ كَانَ نَكَحَهُمَا فِي عُقْدَةٍ أَوْ فِي عَقْدٍ " .
محمد محی الدین
امام شافعی فرماتے ہیں: جب کوئی شخص مسلمان ہو اور اس کی بیویاں سگی بہنیں ہوں، تو وہ شخص ان دونوں میں سے کسی ایک، جسے وہ چاہے، اختیار کر لے گا، تو اس عورت کے ساتھ اس کا نکاح برقرار رہے گا، دوسری عورت کے ساتھ اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا، اس میں اس حوالے سے فرق نہیں ہو گا (اسلام قبول کرنے سے پہلے) اس نے ان دونوں کے ساتھ ایک ساتھ شادی کی تھی یا ایک کے بعد دوسری کی تھی۔
حدیث نمبر: 3702
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُلاعَنَةِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا ، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهَا فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ بِهَا ؟ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ، فَتَلاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، وَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَهُ ، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ مِنْهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی فرد کو پاتا ہے، اگر وہ اس عورت کو قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے، ایسے شخص کو اس عورت کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکم نازل کیا، جو لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی وہاں موجود تھا (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد اسی میاں بیوی کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: وہ عورت حاملہ تھی، مرد نے اس کے حمل کا انکار کیا، تو اس کے بعد اس عورت کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے بلایا جاتا تھا، اس کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا کہ ایسی عورت اپنے اس بچے کی وارث بنتی تھی، اور وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا، جو اس نے بیٹے کی وراثت کے طور پر مقرر کیا تھا۔
حدیث نمبر: 3703
نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِنَّائِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْمُلاعَنَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ السَّائِلُ قَدْ نزل مِنَ اللَّهِ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، فَأَبَى الرَّجُلُ إِلا أَنْ يُلاعِنَهَا ، وَأَبَتْ إِلا أَنْ تَدْرَأَ عَنْ نَفْسِهَا الْعَذَابَ ، فَتَلاعَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا هِيَ تَجِيءُ بِهِ أُصَيْفِرَ أُخَيْنِسَ مَنْسُولَ الْعِظَامِ فَهُوَ لِلْمُلاعِنِ ، وَأَمَّا تَجِيءُ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الأَوْرَقِ فَهُوَ لِغَيْرِهِ ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الأَوْرَقِ ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ ، وَقَالَ : لَوْلا الأَيْمَانُ الَّتِي مَضَتْ لَكَانَ لِي فِيهِ كَذَا وَكَذَا " ، لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ اسے واپس کر دیا، پھر اللہ نے لعان کے حکم سے متعلق آیات نازل کیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اللہ کی طرف سے ایک عظیم حکم نازل ہوا ہے۔“ پھر اس شخص نے لعان کرنے پر اصرار کیا اور عورت نے بھی یہ طے کر لیا کہ اپنی ذات سے عذاب کو دور کرے گی، راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا، (بعد میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ عورت زرد رنگ، چوڑے ناک اور کمزور جسم کے مالک بچے کو جنم دے، تو یہ لعان کرنے والے شخص کی اولاد ہو گا، اور اگر یہ عورت خاکستری اونٹ جیسے (مضبوط جسم کے مالک) سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دے، تو یہ دوسرے شخص کی اولاد ہو گا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اس عورت نے سیاہ فام بچے کو جنم دیا، جو خاکستری (یعنی گہرے رنگ) کے اونٹ جیسا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو بلا کر اسے اس کی ماں کے رشتہ داروں کے سپرد کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بارے میں قسم (یعنی لعان) نہ ہو چکی ہوتی، تو میرا رویہ اس بارے میں مختلف ہوتا۔“ ان دونوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔
حدیث نمبر: 3704
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : " حَضَرْتُ الْمُتَلاعِنَيْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلاعِنَيْنِ ، يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کرنے والے (میاں بیوی) کے واقعہ میں موجود تھا، اس مرد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں، تو نبی نے ان کو نافذ قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جو کچھ بھی کیا جائے، تو وہ سنت ہوتا ہے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر انکار نہ کریں۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان یہی سنت رائج ہوئی کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی اور پھر وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔
حدیث نمبر: 3705
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا الْوَلِيدُ ، وَعُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلانِيَّ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ : " سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَتَلاعَنَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ : لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عویمر عجلانی نے اپنے قبیلے کے ایک فرد سے یہ کہا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرو، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور فرد کو پاتا ہے۔“ اس کے بعد انہوں نے لعان کرنے والوں کا واقعہ بیان کیا، جس میں یہ الفاظ ہیں: ان دونوں نے لعان کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کر وا دی اور ارشاد فرمایا: ”یہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
حدیث نمبر: 3706
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، نَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُتَلاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لعان کرنے والے (میاں بیوی) جب ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں، تو پھر وہ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
حدیث نمبر: 3707
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، قَالا : " مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْمُتَلاعِنَيْنِ أَنْ لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (انہوں نے جو فرمایا ہے، وہ اگلی روایت میں ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں حضرات فرماتے ہیں: ”لعان کرنے والوں کے بارے میں یہی سنت رائج ہے کہ وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
حدیث نمبر: 3708
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هَانِئٍ ، نَا أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، قَالا : " مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لا يَجْتَمِعَ الْمُتَلاعِنَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، دونوں حضرات فرماتے ہیں: ”یہی سنت رائج ہے کہ لعان کرنے والے بعد میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
حدیث نمبر: 3709
نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْقَارِيُّ ، أنا قَعْنَبُ بْنُ مُحْرِزٍ أَبُو عَمْرٍو ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : " حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ لاعَنَ بَيْنَ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلانِيِّ وَامْرَأَتِهِ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا ، وَقَالَ : هُوَ لابْنِ السَّحْمَاءِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَاتِ امْرَأَتَكَ فَقَدْ نزل الْقُرْآنُ فِيكُمَا ، فَلاعَنَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَلَى خَمْلٍ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر عجلانی اور اس کی اہلیہ کے درمیان لعان کروایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے واپس تشریف لائے، تو عویمر نے اس عورت کے پیٹ میں موجود حمل (کا اپنی اولاد ہونے) کا انکار کر دیا اور یہ بولا: ”یہ ابن سحماء کی اولاد ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو لے کر آؤ، تم دونوں کے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہو چکا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد منبر کے قریب اس حمل کے بارے میں ان دونوں سے لعان کروایا۔
…