حدیث نمبر: 3667
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أَخِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشْرِكُهُ فِي مَالِهِ ، وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا ، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا مَا يُعْطِيهَا مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ أَوْ يَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ فِي الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، وَذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ الآيَةَ الأُولَى ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فِي الآيَةِ الأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ : فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَنْ رَغِبُوا فِي مَالِهِ وَجَمَالِهِ مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ " ، تَابَعَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ . وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تمہیں جو خواتین پسند ہوں، دو یا تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی۔ تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی، تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تھا، تو لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یا پھر یہ کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہر ادا کریں۔ ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کر لیں جو انہیں پسند آتی ہیں۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بتایا: اس آیت کے بعد لوگوں نے اس بارے میں مختلف سوالات کیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”لوگ تم سے خواتین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تم فرماؤ، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب کے جو احکام تلاوت کیے گئے ہیں، جن یتیم لڑکیوں کو تم وہ چیز ادا نہیں کرتے جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو۔“ اللہ نے یہاں جو یہ بات ذکر کی ہے کہ کتاب اللہ کی جو آیات تمہارے سامنے تلاوت کی گئی ہیں، اس سے مراد پہلے والی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو جو خواتین تمہیں اچھی لگتی ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”وترغبون أن تنكحوهن۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ جن یتیم لڑکیوں کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی ہے، وہ ان کے ساتھ اسی وقت شادی کر سکتے ہیں جب وہ انصاف کے مطابق انہیں ادائیگی کریں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر ایسی لڑکیاں تھوڑے مال یا کم خوبصورتی کی مالک ہوتیں، تو ان سرپرستوں نے ان میں دلچسپی نہیں لینی تھی۔
حدیث نمبر: 3668
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ : " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيهَا مثل مَا يُعْطَى غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الآيَةِ الأُخْرَى : وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ ، تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا فِي يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " .
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تمہیں جو خواتین پسند ہیں، دو یا تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی۔ تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی، تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تھا، تو لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یا پھر یہ کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہر ادا کریں۔ ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کر لیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور تم ان کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔“ یعنی کوئی شخص ایسی یتیم لڑکی کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا جو اس کے زیر پرورش ہوتی ہے، جس کا مال اور خوبصورتی کم ہوتے ہیں۔ تو لوگوں کو ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے سے منع کر دیا گیا جن کے مال اور خوبصورتی میں لوگوں کو دلچسپی ہوتی ہے (کیونکہ دوسری صورت میں) ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر وہ انصاف کے مطابق انہیں مہر ادا کریں، تو (حکم مختلف ہو گا)۔
حدیث نمبر: 3669
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نَا أَبُو الْيَمَانِ ، أنا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ ، نَا جَدِّي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْحَافِظُ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، نَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 3 ؟ ، قَالَتْ : أَيِ ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا ، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ ، إِلا أَنْ تُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَبَيَّنَ اللَّهُ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَلَمْ يُلْحِقُوهَا بِسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، فَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَالْتَمَسُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ ، يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا ، إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ " ، مَعْنَاهُمْ مُتَقَارِبٌ.
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تمہیں جو خواتین پسند ہوں، دو، یا تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی۔ تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی، تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تھا، تو لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یا پھر یہ کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہر ادا کریں۔ ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کر لیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے، تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”لوگ تم سے خواتین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تم فرماؤ، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب کے جو احکام تلاوت کیے گئے ہیں، جن یتیم لڑکیوں کو تم وہ چیز ادا نہیں کرتے جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور تم اس کے ساتھ نکاح کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے یہ حکم بیان کیا ہے، اگر کوئی خوبصورت ہو اور مالدار بھی ہو، تو یہ لوگ اس کے ساتھ نکاح میں دلچسپی لیتے ہیں، لیکن عام رواج کے مطابق اسے مکمل مہر ادا نہیں کرتے۔ لیکن اگر خوبصورتی اور مال کے اعتبار سے لڑکی میں کمی ہو، تو یہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرتے، بلکہ دوسری خواتین تلاش کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب ان لوگوں کو ایسی لڑکیوں میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی اور وہ انہیں ترک کر دیتے ہیں، تو اب انہیں اس بات کا بھی حق نہیں ہو گا کہ جب انہیں اس طرح کی لڑکیوں میں دلچسپی محسوس ہو، تو وہ ان کے ساتھ شادی کر لیں۔ البتہ اگر مہر کے حوالے سے وہ ان کے ساتھ انصاف سے کام لیں اور پوری ادائیگی کریں (تو حکم مختلف ہو گا)۔ ان کا مضمون باہمی طور پر قریب ہے۔
حدیث نمبر: 3670
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ هُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا ، وَلا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا ، فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثَلاثَ وَرُبَاعَ " .
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) کے حوالے سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو اللہ کے اس فرمان کے بارے میں ہے: ”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تم ان خواتین کے ساتھ شادی کر لو جو تمہیں پسند آتی ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ شخص اس لڑکی کا سرپرست ہوتا تھا، اور پھر اس کے مال کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کر لیتا تھا، لیکن وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تھا اور مال میں بھی اس کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیتا تھا۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ دوسری کسی خاتون کے ساتھ شادی کرے، خواہ دو شادیاں کرے یا تین کرے یا چار کرے۔