حدیث نمبر: 3591
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " إِنْ كُنَّا لَنَنْكِحُ الْمَرْأَةَ عَلَى الْحَفْنَةِ وَالْحَفْنَتَيْنِ مِنَ الدَّقِيقِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ آٹے کے ایک یادو کپ کے عوض میں کسی عورت کے ساتھ شادی کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3592
نَا أَبُو الأَسْوَدِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا أَبُو هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ صَدَاقِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ : مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ أَهْلُوهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین کے مہر کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی مقدار وہی ہو گی، جو وہ لوگ آپس میں طے کر لیں۔“
حدیث نمبر: 3593
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ الْمَكِّيُّ . ح وَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مِلْءِ كَفٍّ مِنْ طَعَامٍ لَكَانَ ذَلِكَ صَدَاقَهَا " ، قَالَ النَّيْسَابُورِيُّ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلا أَعْطَى امْرَأَةً مِلْءَ يَدَيْهِ طَعَامًا كَانَتْ بِهِ حَلالا ".
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ مٹھی بھر اناج (مہر ہونے کی شرط) پر نکاح کر لیتا ہے، تو یہ مہر (تسلیم) ہو گا۔“ نیشاپوری نے اپنی حدیث میں محمد بن مسلم کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص دونوں مٹھیاں بھر کے اناج (مہر کے طور پر) عورت کو دے دیتا ہے، تو وہ عورت اس شخص کے لیے حلال ہو جائے گی (یعنی وہ اناج نکاح میں مہر تسلیم کیا جائے گا)۔“
حدیث نمبر: 3594
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَنْكِحُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مٹھی بھر اناج کے عوض میں شادی کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3595
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْطَى فِي نِكَاحٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ فَقَدِ اسْتَحَلَّ ، قَالَ : مِنْ دَقِيقٍ أَوْ طَعَامٍ أَوْ سَوِيقٍ " ، وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ : " مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقٍ " ، وَقَالَ : " بُرًّا أَوْ تَمْرًا أَوْ سَوِيقًا أَوْ دَقِيقًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ ".
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نکاح میں دونوں مٹھیاں بھر کر دے، تو اس نے نکاح کو حلال کر لیا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: یہاں شاید آٹے، اناج، یا ستو کے الفاظ ہیں، ابن سنان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جو شخص مہر میں دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: یہاں شاید کھجور، ستو یا آٹے کے الفاظ ہیں۔ روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ”تو اس نے حلال کر لیا۔“
حدیث نمبر: 3596
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَضُرُّ أَحَدُكُمْ أَبِقَلِيلٍ مِنْ مَالِهِ تَزَوَّجَ أَمْ بِكَثِيرٍ بَعْدَ أَنْ يُشْهِدَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص گواہ بنا لے، تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا، خواہ وہ تھوڑے مال (کے بطور مہر) کے عوض میں نکاح کرے یا زیادہ مال کے عوض میں کرے۔“
حدیث نمبر: 3597
نَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الآدَمِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَمَّالُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ جُنَاحٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِمَالِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ إِذَا أَشْهَدَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جب گواہ بنا لے، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنے تھوڑے سے مال (کے بطور مہر ہونے) کے عوض میں شادی کرتا ہے یا زیادہ مال کے مہر ہونے کے عوض میں شادی کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3598
نَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وثنا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ أَيْضًا ، نَا عُبَيْدُ بْنُ هَاشِمٍ الْكَرْمَانِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالا : نَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمَرْءِ جُنَاحٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنْ مَالِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ إِذَا أَشْهَدَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جب گواہ بنا لے، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنے تھوڑے مال (کے بطور مہر ہونے) کے عوض میں شادی کرتا ہے یا زیادہ مال کے مہر ہونے کے عوض میں شادی کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3599
نَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الأَحْوَلُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْفَضْلِ النُّبَيْرَةُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ الطَّالِبِيُّ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْمَازِنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَضُرُّ أَحَدُكُمْ أَبِقَلِيلٍ مِنْ مَالِهِ أَوْ بِكَثِيرٍ تَزَوَّجَ بَعْدَ أَنْ يُشْهِدَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جب گواہ بنا لے، تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ وہ اپنے تھوڑے مال (کے بطور مہر ہونے) کے عوض میں شادی کرتا ہے یا زیادہ مال کے مہر ہونے کے عوض میں شادی کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3600
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، نَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْكِحُوا الأَيَامَى ، ثَلاثًا ، قِيلَ : مَا الْعَلائِقُ بَيْنَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ الأَهْلُونَ ، وَلَوْ قَضِيبٍ مِنْ أَرَاكٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ کی شادی کر دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا، لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ان کا مہر کیا ہونا چاہیے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس پر گھر والے راضی ہوں، خواہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہی ہو۔“
حدیث نمبر: 3601
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ الْبَلَدِيُّ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ الذَّسْعَنِيُّ ، نَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نَا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ إِلا الأَكْفَاءَ ، وَلا يُزَوِّجُهُنَّ إِلا الأَوْلِيَاءُ ، وَلا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " ، مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ أَحَادِيثُهُ لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خواتین کا نکاح صرف کفو میں کرو، ان کی شادی صرف اولیاء کریں، اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔“ اس روایت کا راوی مبشر بن عبید متروک الحدیث ہے، اس کی نقل کردہ احادیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3602
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُطَبَّقِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ جَحْدَرٌ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا صَدَاقَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دس درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3603
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، نَا دَاوُدُ الأَوْدِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " لا يَكُونُ مَهْرًا أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دس درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3604
نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَنْبَسِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لا صَدَاقَ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
شعبی فرماتے ہیں: ”دس درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3605
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَامِرٍ الْبَلْخِيُّ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَنْجُورِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لا مَهْرَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پانچ درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3606
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكِنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَيَّارٍ الْبَغْدَادِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ : لَقَّنَ غِيَاثُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، دَاوُدَ الأَوْدِيَّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ : " لا مَهْرَ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " ، فَصَارَ حَدِيثًا.
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ یہ منقول ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دس درہم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 3607
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَبُو شَيْبَةَ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الصَّدَاقُ مَا تَرَاضَى بِهِ الزَّوْجَانِ " .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مہر وہی ہو گا، جس پر میاں بیوی راضی ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3608
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَهَلَكَ عَنْهَا ، وَكَانَتْ مِمَّنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ عِنْدَهُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ " ، قَالَ الرَّمَادِيُّ : كَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَإِنَّمَا هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ الَّذِي مَاتَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ.
محمد محی الدین
عروہ، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نقل کرتے ہیں: وہ پہلے عبداللہ بن جحش کی اہلیہ تھیں، ان کا انتقال ہو گیا، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی تھی، تو نجاشی نے ان کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی، وہ اس وقت ان لوگوں کے پاس حبشہ میں مقیم تھیں۔ عبدالرزاق نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا پہلا شوہر عبیداللہ بن جحش تھا، جو عیسائی ہو کر مرا تھا۔
حدیث نمبر: 3609
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلافٍ ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ " .
محمد محی الدین
عروہ، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نقل کرتے ہیں: وہ عبیداللہ بن جحش کی اہلیہ تھیں، عبیداللہ کا انتقال حبشہ میں ہو گیا، تو نجاشی نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی اور اپنی طرف سے چار ہزار درہم مہر کے طور پر انہیں ادا کیے، اور پھر سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مدینہ منورہ) بھجوایا۔
حدیث نمبر: 3610
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُتَيْبَةَ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ النَّصْرِ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : حَدِيثُ دَاوُدَ الأَوْدِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " لا مَهْرَ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " ، فَقَالَ سُفْيَانُ : دَاوُدُ مَا زَالَ هَذَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ شُعْبَةَ رَوَى عَنْهُ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ ، وَقَالَ : دَاوُدَ.
محمد محی الدین
عبیداللہ اشجعی بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے کہا: داؤد نے شعبی کے حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا۔“ تو سفیان بار بار ’’داؤد، داؤد‘‘ کہتے رہے، گویا وہ ان کا انکار کر رہے تھے، میں نے کہا: شعبہ نے ان کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں، تو انہوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اور ’’داؤد، داؤد‘‘ کہتے رہے۔
حدیث نمبر: 3611
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تُعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يَرُدَّهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ " زَوِّجْنِيهَا ، قَالَ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : وَلا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ؟ ، قَالَ : وَلا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ وَآخُذُ النِّصْفَ ، قَالَ : لا ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خود کو نکاح کے لیے پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر جھکائی، پھر اٹھائی، لیکن مثبت ردعمل نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری شادی اس کے ساتھ کر دیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس (مہر کے طور پر ادا کرنے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں، البتہ اپنی چادر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے دے دیتا ہوں اور آدھی اپنے پاس رکھ لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، تمہیں جو قرآن آتا ہے، اس (کی تعلیم دینے کے مہر ہونے) کے عوض میں، میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی۔“
حدیث نمبر: 3612
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وثنا الْحُسَيْنُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا : نَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، نَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ . وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : " قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے منقول ہے، اس میں ثوری نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تمہیں جو قرآن آتا ہے، اس (کی تعلیم دینے کے مہر ہونے) پر میں اس کے ساتھ تمہارا نکاح کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 3613
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ، نَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَالَ : مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ ؟ ، فَقَامَ رَجُلٌ عَلَيْهِ بُرْدَةٌ عَاقِدُهَا فِي عُنُقِهِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : اجْلِسْ ، ثُمَّ جَاءَتْ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ ؟ ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ ؟ ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ الْمُفَصَّلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى أَنْ تُقْرِئَهَا وَتُعَلِّمَهَا وَإِذَا رَزَقَكَ اللَّهُ تَعَالَى عَوَّضْتَهَا " ، فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ عَلَى ذَلِكَ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُتْبَةُ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ ایک صاحب کھڑے ہوئے، جنہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی، جو انہوں نے اپنی گردن میں باندھی ہوئی تھی، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں (اس کے ساتھ شادی کروں گا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر وہ خاتون دوبارہ آئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ وہی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر وہ خاتون دوبارہ آئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ وہی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں، سورة بقرہ اور منفصل سورتیں (زبانی یاد ہیں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شرط پر تمہاری شادی اس کے ساتھ کرتا ہوں کہ تم اسے قرآن پڑھنا سکھاؤ گے، اسے تعلیم دو گے، اور جب اللہ تعالیٰ تمہیں رزق عطا کرے گا، تو تم اس کا مہر اسے دے دو گے۔“ تو ان صاحب نے اس شرط پر اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں عتبہ بن سکن نامی راوی منفرد ہیں اور یہ متروک الحدیث ہیں۔
حدیث نمبر: 3614
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " تَزَوَّجْهَا وَلَوْ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اس عورت کے ساتھ شادی کر لو، خواہ لوہے کی انگوٹھی (مہر ہونے) کے عوض میں کرو۔“
حدیث نمبر: 3615
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدَائِنِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ امْرَأَةً فِي مَرَضِهِ ، فَقَالُوا : لا يَجُوزُ وَهَذِهِ مِنَ الثُّلُثِ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : النِّكَاحُ جَائِزٌ ، وَلا يَكُونُ مِنَ الثُّلُثِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری نے بیماری کے دوران ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی، لوگوں نے کہا: ”یہ جائز نہیں ہے اور یہ (وراثت) تہائی حصہ میں شمار ہو گی۔“ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ نکاح جائز ہے اور یہ تہائی حصے میں شمار نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ حُبْلَى ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ، وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ فَإِذَا وَلَدَتْ فَاجْلِدُوهَا " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ صَفْوَانَ ، هُوَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب ایک انصاری صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ اسے دیکھے بغیر شادی کر لی، (رخصتی کے بعد) جب میں اس کے پاس آیا، تو وہ حاملہ تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی شرمگاہ کو جو حلال کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے اسے مہر ملے گا، اور اس کا بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب یہ بچے کو جنم دے، تو لوگ اسے سنگسار کر دینا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے صفوان بن سلیم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3617
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ ، نَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ نَضْرَةَ بْنِ أَبِي نَضْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، " أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا فَوَجَدَهَا حَامِلا ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَأَعْطَاهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ، وَقَالَ : إِذَا وَضَعَتْ فَأَقِيمُوا عَلَيْهَا الْحَدَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ اسے دیکھے بغیر شادی کر لی، بعد میں انہوں نے اس لڑکی کو حاملہ پایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو مہر دلوایا، کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ بچے کو جنم دے، تو اس پر حد جاری کر دینا۔“
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، كَاتِبُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ؟ ، قَالُوا : بَلَى قَالَ : هُوَ الْمُحِلُّ، ثُمَّ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں کرائے کے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا شخص ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حلالہ کرے اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا ہو، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔“
حدیث نمبر: 3619
نَا هُبَيْرَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، نَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، نَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَمِّيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُسَيْلَةُ الْجِمَاعُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عسیلہ سے مراد صحبت کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ ، نَا شَبَابُ بْنُ خَيَّاطٍ ، نَا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَشْرَجٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الإِسْلامُ يَعْلُو وَلا يُعْلَى " .
محمد محی الدین
سیدنا عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام سربلند ہوتا ہے، اسے مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 3621
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَطَبْتُ امْرَأَةً ، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دیکھ لو، کیونکہ اس طرح تم دونوں کے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی۔“ ابوشہاب نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔“ اس کے بعد کے الفاظ حسب سابق ہیں۔
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَرَادَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا ، قَالَ : فَفَعَلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَتَزَوَّجَهَا فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا " ، الصَّوَابَ عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے شادی کرنے کا ارادہ کیا، انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جا کر اس عورت کو دیکھ لو، کیونکہ اس کے نتیجے میں تم دونوں کے درمیان محبت پیدا ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی، اس کے بعد راوی نے ان کی موافقت کا ذکر کیا ہے، صحیح یہ ہے: یہ روایت ثابت کے حوالے سے بکر مزنی سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3623
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْجُرْجَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 3624
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ نِسَاءِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے دیکھ لو، کیونکہ انصار کی خواتین کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3625
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، نَا أَبُو هَاشِمٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ " ، هَذَا لا يُثْبَتُ وَحَجَّاجٌ لا يُحْتَجُّ بِهِ ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّهَا بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيّ فِي قِصَّةِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوبارہ نکاح پڑھوایا تھا۔ یہ روایت ثابت نہیں ہے، حجاج نامی راوی (کی نقل کردہ روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا)، درست روایت وہ ہے، جسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نقل کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ نکاح کی بنیاد پر ہی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو (ان کے شوہر کے پاس) بھیج دیا تھا، امام مالک نے زہری کے حوالے سے صفوان بن امیہ کے واقعے میں اسے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3626
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الأَنْمَاطِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کی بنیاد پر ہی سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس بھجوایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دوبارہ نکاح نہیں پڑھوایا تھا۔
حدیث نمبر: 3627
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ : حَدَّثَكُمْ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ ، نَا مَسْرُوحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَتْ أُخْتِي تَحْتَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَهَا عَلَى حَدِيقَةٍ ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا كَلامٌ فَارْتَفَعَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَيُطَلِّقُكِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ وَأَزِيدُهُ ، قَالَ : رُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَزِيدِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بہن ایک انصاری کی اہلیہ تھی، اس انصاری نے ایک باغ (کی بطور مہر) ادائیگی کی شرط پر اس کے ساتھ شادی کی تھی، ان دونوں کے درمیان ناچاقی ہوئی، انہوں نے اپنا مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اس کا باغ واپس کر دو، یہ تمہیں طلاق دیتا ہے۔“ تو وہ عورت بولی: ”ٹھیک ہے، میں اسے مزید بھی دے سکتی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کا باغ واپس کرو اور اسے مزید ادائیگی بھی کرو۔“
حدیث نمبر: 3628
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلا دِينٍ وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلامِ ، فَقَالَ : أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا ثَابِتُ ، اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں ان کے اخلاق یا دین کے حوالے سے ان سے ناراض نہیں ہوں، لیکن میں مسلمان ہونے کے بعد (شوہر کی) ناشکری کو پسند نہیں کرتی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اس کا باغ اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ثابت! تم اپنا باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔“
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ كَانَتْ عِنْدَهُ زَيْنَبُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بْنِ سَلُولٍ ، وَكَانَ أَصْدَقَهَا حَدِيقَةً فَكَرِهَتْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَعْطَاكِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ وَزِيَادَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلا وَلَكِنْ حَدِيقَتُهُ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخَذَهَا لَهُ وَخَلا سَبِيلَهَا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ ، قَالَ : قَدْ قَبِلْتُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، سَمِعَهُ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ.
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی شادی زینب بنت عبداللہ سے ہوئی، سیدنا ثابت نے اس خاتون کو مہر کے طور پر ایک باغ دیا تھا، وہ خاتون انہیں پسند نہیں کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس نے جو باغ تمہیں دیا تھا، کیا تم اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہو؟“ اس خاتون نے عرض کی: ”جی ہاں، (میں اس کے ساتھ) مزید بھی دے سکتی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مزید ادائیگی کی ضرورت نہیں، صرف اس باغ کو واپس کر دو۔“ اس خاتون نے عرض کی: ”ٹھیک ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کو باغ واپس ملنے اور عورت کو طلاق ہونے کا فیصلہ دیا، جب اس کی اطلاع سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 3630
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَأْخُذْ مِنَ الْمُخْتَلِعَةِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا " .
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی خلع حاصل کرنے والی عورت سے اس سے زیادہ وصول نہ کرے، جو اس نے (مہر کے طور پر) اس عورت کو دیا تھا۔“
…