کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: نکاح کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 3551
نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاهِلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعِ ابْنَيْ يَزِيدَ قَالا : أَنْكَحَ خِذَامٌ ابْنَتَهُ خَنْسَاءَ وَهِيَ كَارِهَةٌ رَجُلا وَهِيَ ثَيِّبٌ ، " فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ اور سیدنا مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا خذام رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی خنساء کی شادی کر دی، وہ خاتون اس شخص کو پسند نہیں کرتی تھیں، وہ خاتون ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3551
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5138، 5139، 6945، 6969، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1061 ، وابن الجارود فى "المنتقى"، 770، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3270، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2101،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1873، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3551، 3552، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27428،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16203»
«قال الدارقطني: حديث صحيح ، سنن الدارقطني: (4 / 332) برقم: (3551)»
حدیث نمبر: 3552
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْكُوفِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : كَانَتْ أَيِّمًا مِنْ رَجُلٍ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلا مِنْ بَنِي عَوْفٍ ، فَحَنَّتْ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، فَارْتَفَعَ شَأْنُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهَا أَنْ يُلْحِقَهَا بِهَوَاهَا، فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ " .
محمد محی الدین
سیدہ خنساء رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے: وہ بیوہ تھیں، ان کے والد نے بنو عوف سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ ان کی شادی کر دی، وہ خاتون ابولبابہ بن عبدالمنذر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھیں، اس کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس کی شادی اس کی خواہش کے مطابق کریں، اس خاتون نے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کر لی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3552
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5138، 5139، 6945، 6969، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1061 ، وابن الجارود فى "المنتقى"، 770، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3270، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2101،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1873، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3551، 3552، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27428،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16203»
«قال الدارقطني: حديث صحيح ، سنن الدارقطني: (4 / 332) برقم: (3551)»
حدیث نمبر: 3553
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، يُقَالُ لَهَا : خَنْسَاءُ بِنْتُ خِذَامٍ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ ، فَأَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " الأَمْرُ إِلَيْكِ ، قَالَتْ : فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، فَرَدَّ نِكَاحَهَا ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ " .
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: انصار کے خاندان بنو عمر و بن عوف سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جس کا نام خنساء بنت خذام تھا، ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، وہ خاتون ثیبہ تھیں، انہوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا حق تمہیں حاصل ہے۔“ اس نے عرض کی: ”میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔“ تو نبی نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، اس کے بعد اس خاتون نے سیدنا ابولبابہ بن منذر کے ساتھ شادی کر لی، اور اس کے ہاں سیدنا ابولبابہ کے صاحبزادے سائب پیدا ہوئے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3553
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 566، 567، 568، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13801، 13803، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3553، 3554، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10303، 10304، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16202، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 644»
حدیث نمبر: 3554
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى كُرَيْنِبُ ، نَا أَبُو يَعْقُوبَ الأَفْطَسُ أَخُو أَبِي مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِيُّ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، " فَرَدَّ نِكَاحَهَا ، فَتَزَوَّجَهَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ وَكَانَتْ ثَيِّبًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کے والد نے اس کی شادی کر دی، (اس شوہر کو) وہ خاتون ناپسند کرتی تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، پھر سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر نے اس کے ساتھ شادی کی، اور اس کے ہاں سیدنا ابولبابہ کے صاحبزادے سائب پیدا ہوئے، وہ خاتون ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3554
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 566، 567، 568، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13801، 13803، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3553، 3554، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10303، 10304، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16202، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 644»
حدیث نمبر: 3555
نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَبِي وَنِعْمَ الأَبُ هُوَ زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ مِنْ خَسِيسَتِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءَ ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الآبَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے والد، جو ایک بہترین باپ ہیں، انہوں نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کر دی ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی کم حیثیت بہتر ہو جائے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دیا (کہ وہ نکاح کو کالعدم کر سکتی ہے)، اس نے عرض کی: ”میرے والد نے جو کیا ہے، میں اسے برقرار رکھتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ اس بارے میں باپ کو اختیار نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3555
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا ، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
حدیث نمبر: 3556
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، نَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا . ح وَنا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَوْنٌ يَعْنِي ابْنَ كَهْمَسٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ مِنْ خَسِيسَتِهِ وَإِنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ ، قَالَتِ : اقْعُدِي حَتَّى يَجِيءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَ أَبُوهَا ، وَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا " . فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الأَمْرَ جُعِلَ إِلَيْهَا ، قَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي ، إِنِّي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ هَلْ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لا ؟ . قَالَ ابْنُ الْجُنَيْدِ : فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لا .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی ان کے پاس آئی (اس کے بعد روایت اگلی حدیث میں ہے)۔ عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی: ”میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی کمتر حیثیت بہتر ہو جائے، مجھے یہ پسند نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”نبی کے تشریف لانے تک تم بیٹھی رہو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش کروں گی۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو سیدہ عائشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے والد کو بلایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نکاح کے برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے) کا اختیار لڑکی کو دیا، جب اس لڑکی نے یہ دیکھا کہ اسے اختیار دیا گیا ہے، تو وہ بولی: ”میرے والد نے جو کیا، میں اسے برقرار رکھنا چاہتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے اس بات کا پتہ چل جائے کہ کیا خواتین کو اس بارے میں اختیار ہے۔“ ابن جنید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! انہوں نے جو کیا ہے، میں اسے برقرار رکھتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے یہ پتہ چل جائے کہ خواتین کو اس بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3556
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا ، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
حدیث نمبر: 3557
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ تَلْقَهُ فَجَلَسَتْ تَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ لَهَا : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ ، قَالَتْ : " إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخٍ لَهُ لِيَرْفَعَ خَسِيسَتَهُ بِي وَلَمْ يَسْتَأْمِرْنِي ، فَهَلْ لِي فِي نَفْسِي أَمْرٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : مَا كُنْتُ لأَرُدَّ عَلَى أَبِي شَيْئًا صَنَعَهُ وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَلَهُنَّ فِي أَنْفُسِهِنَّ أَمْرٌ أَمْ لا ؟ " ، هَذِهِ كُلُّهَا مَرَاسِيلُ ابْنُ بُرَيْدَةَ ، لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ شَيْئًا.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں بیٹھ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اس عورت کو آپ سے کوئی کام ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا کام ہے؟“ اس نے بتایا: ”میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی، تاکہ میری وجہ سے اس کی حیثیت بہتر ہو جائے، میرے والد نے اس بارے میں میری مرضی معلوم نہیں کی، تو کیا مجھے اپنی ذات کے بارے میں کوئی اختیار ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس عورت نے عرض کی: ”میرے والد نے جو کیا ہے، میں اسے مسترد نہیں کرنا چاہوں گی، البتہ میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ انہیں اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔“ شیخ فرماتے ہیں: یہ تمام روایات مراسیل ہیں، کیونکہ ابن بریدہ نامی راوی نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3557
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا ، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»
حدیث نمبر: 3558
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ و ، َأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ و َأَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، وَنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ و ، َأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الصُّوفِيُّ وَ غَيْرُهُم ْ ، قَالُوا : نَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَتَهُ بِكْرًا وَلَمْ يَسْتَأْذِنْهَا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " ، لَفْظُ أَبِي بَكْرٍ ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : وَهِيَ بَكْرٌ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهَا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهَا .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی ایک کنواری بیٹی کی شادی کر دی، اس نے لڑکی سے اجازت نہیں لی، وہ لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ لڑکی کنواری تھی (اور اس کی شادی) اس کی اجازت کے بغیر ہوئی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3558
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
حدیث نمبر: 3559
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ صَالِحٍ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَتَهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کی (اس کے بعد حسب سابق حدیث منقول ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3559
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
حدیث نمبر: 3560
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُسْتَمْلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَاسَرْجِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَةً لَهُ بِكْرًا وَهِيَ كَارِهَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " ، الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ ، وَقَوْلُ شُعَيْبٍ وَهْمٌ .
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی کنواری بیٹی کی شادی کر دی، وہ لڑکی اس رشتے کو ناپسند کرتی تھی، وہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ شیخ فرماتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ روایت مرسل ہے اور شعیب نامی راوی کا قول وہم ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3560
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
«قال الدارقطني: الصحيح مرسل وقول شعيب وهم ، سنن الدارقطني: (4 / 337) برقم: (3560)»
حدیث نمبر: 3561
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْخَضِرُ بْنُ دَاوُدَ ، نَا الأَثْرَمُ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثَ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنِ الأَوْزَاعِيّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، مُرْسَلا ، مثل هَذَا عَنْ جَابِرٍ كَالْمُنْكِرِ أَنْ يَكُونَ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ راوی نے یہ روایت عطاء کے حوالے سے مرسل حدیث کے طور پر نقل کی ہے، بالکل اسی طرح جیسے یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3561
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
حدیث نمبر: 3562
ثنا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا أَبُو شُرَحْبِيلَ عِيسَى بْنُ خَالِدٍ ، نَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : " فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَزَوْجِهَا وَهِيَ بَكْرٌ ، أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ " .
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت اور اس کے شوہر کے درمیان علیحدگی کروا دی، وہ عورت کنواری تھی، اس کے والد نے اس کی شادی کی تھی، اس عورت کو یہ رشتہ پسند نہیں تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3562
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5363، 5364، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13789، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3558، 3559، 3560، 3561، 3562»
حدیث نمبر: 3563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوتِيٍّ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوتِيٍّ ، نَا أَبِي ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ الذِّمَارِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ نِكَاحَ بَكْرٍ وَثَيِّبٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا وَهُمَا كَارِهَتَانِ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُمَا " ، هَذَا وَهْمٌ مِنَ الذِّمَارِيِّ ، وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَالصَّوَابُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ ، وَهِمَ فِيهِ الذِّمَارِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنواری لڑکی اور ایک ثیبہ عورت دونوں کے نکاح کو کالعدم قرار دیا تھا، ان کے والد نے ان دونوں کی شادی کی تھی، ان دونوں کو (یہ رشتے) پسند نہیں تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ شیخ فرماتے ہیں: اسے نقل کرنے میں ذماری نامی راوی کو وہم ہوا ہے، وہ اس سند کے ساتھ اسے نقل کرنے میں منفرد ہیں، صحیح یہ ہے کہ روایت یحییٰ بن ابوکثیر کے حوالے سے مہاجر بن عکرمہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3563
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال الدارقطني: هذا وهم والصواب عن يحيى بن أبي كثير عن المهاجر بن عكرمة مرسل وهم فيه الذماري على الثوري وليس بقوي ، سنن الدارقطني: (4 / 338) برقم: (3563)»
حدیث نمبر: 3564
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3564
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات وأعل بالإرسال ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3565
محمد محی الدین
مہاجر بن عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3565
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال الدارقطني: هذا وهم والصواب عن يحيى بن أبي كثير عن المهاجر بن عكرمة مرسل وهم فيه الذماري على الثوري وليس بقوي ، سنن الدارقطني: (4 / 338) برقم: (3563)»
حدیث نمبر: 3566
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ . ح وثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، قَالا : نَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ أَبُو خُرَاسَانَ : إِنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا ، فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ حَبَّانَ عَنْ أَيُّوبَ . وَتَابَعَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ يُرْسِلُهُ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَالصَّحِيحُ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی کے والد نے اس کی شادی کر دی، اس لڑکی کو (یہ رشتہ) پسند نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو (نکاح برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے) کا اختیار دیا۔ ابوخراسان نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ایک لڑکی نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس کے والد نے اس کی اجازت کے بغیر اس کی شادی کر دی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے عکرمہ کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے عکرمہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور درست یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3566
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات وأعل بالإرسال ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3567
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ الرَّقِّيُّ ، نَا مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيَّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : " نَكَحَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُنْذِرِ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " ،.
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: بنو منذر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اپنی صاحبزادی کی شادی کر دی، اس لڑکی کو (وہ رشتہ) پسند نہیں تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3567
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5359، 5367، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3567»
« قال الزیلعي : مرسل ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 182)»
حدیث نمبر: 3568
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3568
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات وأعل بالإرسال ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3569
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کر دی، اس لڑکی کو رشتہ پسند نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3569
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 277، 278، 279، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2096، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1875، 1875 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3563، 3564، 3566، 3568، 3569، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2508، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1098، وأبو داود فى "المراسيل"، 232»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات وأعل بالإرسال ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ ، نَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَجُلا زَوَّجَ ابْنَتَهُ بِكْرًا فَكَرِهَتْ ذَلِكَ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " ، لا يُثْبَتُ هَذَا عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی کنواری بیٹی کی شادی کی، اس لڑکی کو رشتہ پسند نہیں تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ یہ روایت ابن ابی ذئب کے حوالے سے نافع سے منقول ہونے کے اعتبار سے ثابت نہیں ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن ابی ذئب کے حوالے سے عمر بن حسین سے منقول ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3570
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل،وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال أحمد بن حنبل: سئل عن هذا الحديث فقال باطل ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 190)»
حدیث نمبر: 3571
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ بِابْنَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ ابْنَتِي أَبَتْ أَنْ تَزَوَّجَ ، فَقَالَ : أَطِيعِي أَبَاكِ أَتَدْرِينَ مَا حَقَّ الزَّوْجُ عَلَى الزَّوْجَةِ ؟ لَوْ كَانَ بِأَنْفِهِ قُرْحَةٌ تَسِيلُ قَيْحًا وَصَدِيدًا لَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ لا نَكَحْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُنْكِحُوهُنَّ إِلا بِإِذْنِهِنَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: ”میری بیٹی شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا حکم مان لو، کیا تم جانتی ہو؟ شوہر کا بیوی پر حق کیا ہے؟ اگر شوہر کی ناک میں پھوڑا نکل آئے، جس میں سے پیپ اور مواد خارج ہوتا ہو اور عورت زبان کے ذریعے اس کو چاٹ لے، تو بھی وہ شوہر کا حق ادا نہیں کرے گی۔“ تو اس خاتون نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں تو شادی نہیں کروں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان (لڑکیوں) کی شادی ان کی مرضی کے ساتھ کرو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3571
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4164، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2783، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5365، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14824، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3571، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17407»
حدیث نمبر: 3572
نَا نَا أَبُو طَاهِرٍ الْقَاضِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِقَابٍ ، وَأَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : " امْرَأَةٌ أَنَا وَلِيُّهَا تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِي ، فَقَالَ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ : " تَنْظُرُ فِيمَا صَنَعَتْ إِذَا كَانَتْ تَزَوَّجَتْ كُفُؤًا أَجَزْنَا ذَلِكَ لَهَا ، وَإِنْ كَانَتْ تَزَوَّجَتْ مَنْ لَيْسَ لَهَا بِكُفُؤٍ جَعَلْنَا ذَلِكَ إِلَيْكَ " .
محمد محی الدین
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”ایک لڑکی ہے، میں اس کا ولی ہوں، اس نے میری اجازت کے بغیر شادی کر لی ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس لڑکی نے جو حرکت کی ہے، اس کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ اگر اس نے کفو میں شادی کی ہے، تو ہم اسے برقرار رکھیں گے، اور اگر اس نے کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی کی ہے، جو اس کا کفو نہیں ہے، تو ہم (اسے برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے کا اختیار) تمہیں دیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3572
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3572 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3573
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُوهُسْتَانِيُّ نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ، وَلِلثَّيِّبِ نَصِيبٌ مِنْ أَمْرِهَا مَا لَمْ تَدْعُ إِلَى سَخْطَةٍ ، فَإِنْ دَعَتْ إِلَى سَخْطَةٍ ، وَكَانَ أَوْلِيَاؤُهَا يَدْعُونَ إِلَى الرِّضَا ، رُفِعَ ذَلِكَ إِلَى السُّلْطَانِ " ، قَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِعِيسَى : آخِرُ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : هَكَذَا الْحَدِيثُ فَلا أَدْرِي.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنواری لڑکی کی شادی اس وقت تک نہ کی جائے، جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے، اور ثیبہ کو اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہے، جب تک وہ ناراضگی کی طرف دعوت نہ دے، اگر وہ ناراضگی کی طرف بلاتی ہے اور اس کے سرپرست رضامندی کی طرف بلاتے ہیں، تو یہ مقدمہ حاکم وقت کے سامنے پیش ہو گا۔“ اسحاق کہتے ہیں: میں نے عیسیٰ سے دریافت کیا: روایت کا آخری حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”مجھے نہیں پتہ، ویسے روایت اسی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3573
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5136، 6968، 6970، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1419، 1419، وابن الجارود فى "المنتقى"، 767، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3267، برقم: 3269، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5357، 5358، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2092، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1107، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2232، 2233، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1871، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3573، 3574، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7252»
حدیث نمبر: 3574
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْحَنَفِيُّ ، نَا عَبْدَانُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک اس کی مرضی نہ معلوم کر لی جائے، اور کنواری کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے، جب تک اس سے اذن نہ لیا جائے، اور اس کا اذن خاموشی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3574
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5136، 6968، 6970، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1419، 1419، وابن الجارود فى "المنتقى"، 767، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3267، برقم: 3269، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5357، 5358، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2092، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1107، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2232، 2233، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1871، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3573، 3574، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7252»
حدیث نمبر: 3575
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا ، وَالْيَتِيمَةُ تَسْتَأْمِرُهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، أَنَّ تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . وَخَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ فِي إِسْنَادِهِ فَأَسْقَطَ مِنْهُ رَجُلا ، وَخَالَفَهُمَا أَيْضًا فِي مَتْنِهِ فَأَتَى بِلَفْظٍ آخَرَ وَهِمَ فِيهِ ، لأَنَّ كُلِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، وَكُلِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ خَالَفُوا مَعْمَرًا ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلافِهِ دَلِيلٌ عَلَى وَهْمِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) اپنے معاملے کی زیادہ حق دار ہے، اور کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی، اس کا اذن اس کی خاموشی ہے۔“ سعید بن سلمہ نے صالح بن کیسان کے حوالے سے اس کی متابعت کی ہے۔ معمر نے اس کی سند میں ان دونوں سے مختلف بات بیان کی ہے، انہوں نے سند میں سے ایک شخص کا ذکر ساقط کر دیا ہے، اسی طرح معمر نے اس روایت کے متن میں بھی ان دونوں سے مختلف بات نقل کی ہے اور روایت کو دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے، تاہم اس میں انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ ہر وہ راوی، جس نے اسے عبداللہ بن فضل کے حوالے سے نقل کیا ہے، اور ہر وہ راوی، جس نے اسے عبداللہ بن فضل کے ساتھ نافع بن جبیر سے نقل کیا ہے، ان سب نے معمر سے مختلف روایت نقل کی ہے، اور ان سب راویوں کا معمر سے مختلف روایت کرنے پر اتفاق کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ معمر کو اس بارے میں وہم ہوا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3575
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3576
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی، اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3576
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
عبداللہ بن رجاء نے اپنی اسناد کے ذریعے یہی روایت (مذکورہ بالا حدیث) بیان کی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3577
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3578
نَا الْمَحَامِلِيُّ وَالنَّيْسَابُورِيُّ قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْذَنُ ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے، اور کنواری سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3578
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3579
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ ، وَصَمْتُهَا رِضَاهَا " ، كَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحٍ وَالَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ فِي الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ ، لأَنَّ صَالِحًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْهُ ، اتَّفَقَ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ صَالِحٍ ، سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : الَّذِي عِنْدِي أَنَّ مَعْمَرًا أَخْطَأَ فِيهِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہوتا، اور کنواری سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کی رضا ہو گی۔“ معمر نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے، اس سے پہلے جو روایت گزر چکی ہے، وہ سند اور متن کے اعتبار سے زیادہ درست ہے، کیونکہ صالح نامی راوی نے اسے نافع بن جبیر سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے عبداللہ بن فضل سے سنا ہے، اس بارے میں صالح سے نقل کرنے میں ابن اسحاق اور سعید بن سلمہ متفق ہیں۔ میں نے شیخ ابوبکر نیشاپوری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے نزدیک اس بارے میں معمر نے غلطی کی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3579
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3580
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلانِيُّ بِوَاسِطَ مِنْ أَصْلِهِ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَصُمُوتُهَا رِضَاهَا " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَالِكٍ نَحْوَ هَذَا اللَّفْظِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اور اس کی خاموشی اس کی رضامندی شمار ہو گی۔“ ابوداؤد طیالسی نے اپنی سند کے ساتھ اسے اسی طرح نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3580
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3580 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ ، بِمِصْرَ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، بِمِصْرَ ، أنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی اجازت اس کی خاموشی ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3581
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3582
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَبْلُغُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَقَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يَذْكُرُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسَهَا " ، وَزَادَ عَمْرٌو : " وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " . وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا " ، مِنْهُمْ : شُعْبَةُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمِصْرِيُّ ، وَغَيْرُهُمْ .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کا والد (اس کے بارے میں) اس کی مرضی معلوم کرے گا۔“ عمرو نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اس کی اجازت اس کی خاموشی ہو گی۔“ یہ روایت بعض دیگر اسناد کے ساتھ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3582
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
حدیث نمبر: 3583
نَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلادٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ مَالِكٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَكُلُّهُمْ ، قَالَ : الثَّيِّبُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کے تمام راویوں نے لفظ ’’الثیب‘‘ نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3583
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
«قال إبن حجر: لفظة أبوها غير محفوظ ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3584
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فَإِنْ صَمَتَتْ ، فَهُوَ رِضَاهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے، تو یہ اس کی رضامندی شمار ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3584
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
«قال إبن حجر: لفظة أبوها غير محفوظ ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3585
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، لَفْظُ ابْنِ سِنَانٍ ، وَهَذَا خِلافُ لَفْظِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ الشَّيْخُ : وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ " ، إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ الْبِكْرَ الْيَتِيمَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لأَنَّا قَدْ ذَكَرْنَا فِي رِوَايَةِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَمَنْ تَابَعَهُ فِيمَا تَقَدَّمَ مِمَّنْ رَوَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ " ، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ : " وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا " ، فَإِنَّا لا نَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ ابْنَ عُيَيْنَةَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ ، وَلَعَلَّهُ ذَكَرَهُ مِنْ حِفْظِهِ فَسَبَقَ لِسَانُهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى : " أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کا اذن اس کی خاموشی ہو گی۔“ یہ الفاظ ابن سنان نامی راوی کے ہیں اور یہ دونوں اس روایت سے مختلف ہیں، جسے فضل بن موسیٰ نے ابن مہدی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: ”یہاں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ’’کنواری لڑکی‘‘ سے مراد کنواری یتیم لڑکی ہو، ویسے اللہ بہتر جانتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم صالح بن کیسان اور اس کی متابعت میں منقول دیگر روایات میں یہ ذکر کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’یتیم لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی۔‘‘“ ابن عیینہ نے زیاد بن سعد کے حوالے سے جو یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کنواری لڑکی سے اس کا والد اجازت لے گا۔“ تو ہمارے علم کے مطابق کسی بھی راوی نے ان الفاظ کے بارے میں ابن عیینہ کی موافقت نہیں کی ہے، ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی یادداشت کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی ہو اور ان کی زبان غلطی کر گئی ہو، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ ابوبردہ کے حوالے سے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی روایت نقل کی گئی ہے: ”یتیم لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3585
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
«قال إبن حجر: لفظة أبوها غير محفوظ ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330) »
حدیث نمبر: 3586
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، فَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ " ، قَالَ أَبُو قَطَنٍ : قُلْتُ لِيُونُسَ : سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے، تو اس نے اجازت دے دی، لیکن اگر وہ انکار کرے، تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔“ ابوقطن نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یونس سے دریافت کیا: ”کیا آپ نے یہ روایت ان سے سنی ہے؟ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ابوبردہ سے سنی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3586
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4085، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2717، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2231، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13805، 13815، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3586، 3587، 3588، 3589، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19825»
حدیث نمبر: 3587
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ الإِصْطَخْرِيُّ ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنٌ ، وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ وَوَكِيعٌ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ وَأَبُو قُتَيْبَةَ وَغَيْرُهُمْ عَن يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ.
محمد محی الدین
ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے، تو یہ اجازت شمار ہو گی، اور اگر وہ انکار کرے، تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔“ ابن فضیل، وکیع، یحییٰ بن آدم، عبداللہ بن داؤد، ابوقطیبہ اور دیگر راویوں نے اسے یونس بن ابواسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3587
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4085، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2717، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2231، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13805، 13815، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3586، 3587، 3588، 3589، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19825»
حدیث نمبر: 3588
نَا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجٌ نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا " .
محمد محی الدین
ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اور اس کا اذن اس کی خاموشی ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3588
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4085، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2717، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2231، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13805، 13815، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3586، 3587، 3588، 3589، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19825»
حدیث نمبر: 3589
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أنا النَّضْرُ ، أنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ رَضِيَتْ زُوِّجَتْ ، وَإِنْ لَمْ تَرْضَ لَمْ تُزَوَّجْ " .
محمد محی الدین
ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: ”یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اور اگر وہ راضی ہو، تو اس کی شادی کر دی جائے گی، اور اگر وہ راضی نہ ہو، تو اس کی شادی نہیں کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3589
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4085، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2717، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2231، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13805، 13815، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3586، 3587، 3588، 3589، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19825»
حدیث نمبر: 3590
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَيِّمُ أَمْلَكُ بِأَمْرِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) اپنے معاملے کی اپنے ولی سے زیادہ مالک (حق دار) ہوتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی، اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3590
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1421،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1043 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4084، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: برقم: 3262، برقم: 3263، برقم: 3264، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1108، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1870، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3575، 3576، 3577، 3578، 3579، 3581، 3582، 3583، 3584، 3585، 3590، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1913،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16218»
«قال إبن حجر: لفظة أبوها غير محفوظ ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 330)»