کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: نکاح کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ ، فَنِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا ، قَالَ : وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَلْعَتِهَا : أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ ، وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ ، كَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِبْضَاعِ ، قَالَتْ : وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشْرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا ، فَإِذَا حَمَلَتْ وَضَعَتْ وَمَرَّتْ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا ، فَتَقُولُ لَهُمْ : قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ ، وَقَدْ وَلَدَتْهُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلانُ ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيُلْحَقَ بِهِ وَلَدُهَا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ مِنْهُ الرَّجُلُ ، وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا ، كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُنْ عَلَمًا ، فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا وَدَعَوْا الْقَافَةَ لَهُمْ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا فَالْتَاطَهُ وَدَعَاهُ ابْنَهُ لا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَاكَ ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلِّهِ إِلا نِكَاحَ أَهْلِ الإِسْلامِ الْيَوْمَ " ،.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طریقوں سے ہوتے تھے۔ ایک نکاح کا طریقہ وہ تھا جو آج کل لوگوں میں رائج ہے، آدمی کسی دوسرے شخص کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجتا تھا اور اسے مہر دیتا تھا اور اس کے ساتھ نکاح کر لیتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نکاح کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے، جب وہ اس شخص سے طلاق لینے کے بعد پاک ہو جاتی تھی، یہ کہتا تھا: تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس کے ساتھ صحبت کر لو۔ وہ شخص اس دوران اپنی بیوی سے الگ رہتا تھا، اور اس کی بیوی کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہیں کرتا تھا جب تک اس دوسرے شخص سے اس عورت کا حمل ظاہر نہ ہو جاتا تھا، جس کے ساتھ اس عورت نے صحبت کی تھی۔ جب عورت کا حمل ظاہر ہو جاتا تھا، تو اس کا اصل شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا تھا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی تھی۔ وہ شخص اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد کسی بڑے خاندان کے فرد کا نطفہ ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کا نام دیا جاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نکاح کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ کچھ لوگ اکٹھے ہوتے، ان کی تعداد دس سے کم ہوتی تھی۔ وہ سب کسی عورت کے پاس جاتے اور وہ سب اس کے ساتھ صحبت کرتے۔ پھر وہ حاملہ ہو جاتی اور آخر کار بچے کو جنم دیتی تھی۔ بچے کو جنم دینے کے کچھ دن بعد وہ ان سب کو بلواتی تھی۔ ان سب میں سے کوئی بھی شخص آنے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ جب وہ لوگ اس عورت کے پاس اکٹھے ہوتے، تو وہ عورت ان سے کہتی: تم لوگ جانتے ہو کہ تم نے کیا کیا تھا؟ میں نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اے فلاں! یہ تمہارا بیٹا ہے۔ وہ عورت ان افراد میں سے جس کا چاہتی، اس شخص کا نام لیتی، تو اس کے بچے کا نسب اس شخص کے ساتھ لاحق کر دیا جاتا تھا۔ وہ شخص اب اس بچے کا انکار نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا طریقہ یہ تھا کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر کسی عورت کے پاس جاتے۔ وہ عورت اپنے ہاں آنے والے کسی شخص کو روک نہیں سکتی تھی۔ یہ جسم فروش عورتیں ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے دروازوں پر مخصوص جھنڈے لگائے ہوئے ہوتے تھے جو ان (کے پیشے) کا علامتی نشان ہوتا تھا۔ جو شخص ان کے ہاں جانا چاہتا، وہ چلا جاتا تھا۔ جب ان میں سے کوئی ایک عورت حاملہ ہوتی اور بچے کو جنم دیتی، تو سب لوگوں کو اس کے پاس اکٹھا کیا جاتا تھا۔ پھر کسی قیافہ شناس کو بلایا جاتا تھا۔ وہ اس عورت کے بچے کو اس شخص کے ساتھ لاحق کر دیتا، جس کے ساتھ وہ بچہ مشابہت رکھتا تھا۔ پھر لوگ اس بچے کو اس شخص کے بیٹے کے طور پر بلاتے اور وہ شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3511
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5127، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2272، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13753، 14185، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3511، 3512»
حدیث نمبر: 3512
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : لَمْ يَرْوِهِ إِلا ابْنُ وَهْبٍ ، زَعَمُوا أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ حِينَ ، حَدَّثَهُ بِهِ أَصْبَغُ بَرَكَ مِنَ الْفَرَحِ ، وَقَالَ أَصْبَغُ فِي حَدِيثِهِ : " أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِبْضَاعِ " ، وَقَالَ الصَّاغَانِيُّ : وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَصْبَغَ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : " أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ وَاسْتَرْضِعِي مِنْهُ ، وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَرْضِعُ مِنْهُ ، وَكَانَ هَذَا يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِرْضَاعِ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَقَالَ : فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں چار طرح کے نکاح ہوتے تھے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: (شوہر اپنی بیوی سے یہ کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو، پھر تم اس کے ساتھ صحبت کر لو۔ اس دوران اس عورت کا شوہر اس سے الگ رہتا اور عورت کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کرتا جب تک اس شخص سے حمل ظاہر نہ ہو جاتا جس کے ساتھ عورت نے صحبت کی تھی۔ جب عورت کا حمل ظاہر ہو جاتا، تو شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی۔ وہ ایسا اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد نجیب ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کا نام دیا گیا تھا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: (شوہر بیوی سے کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس سے حاملہ ہو جاؤ۔ عورت کا شوہر عورت سے الگ رہتا، اس وقت تک اس کے ساتھ صحبت نہ کرتا جب تک دوسرے شخص سے عورت کا حمل ظاہر نہ ہو جاتا۔ اس نکاح کو نکاح استرضاع کا نام دیا گیا تھا۔ محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: یہ درست ہے (اس میں یہ الفاظ بھی ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا، تو زمانہ جاہلیت کے نکاح (کے مختلف طریقوں) کو ختم کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3512
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5127، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2272، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13753، 14185، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3511، 3512»
حدیث نمبر: 3513
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ الْبَدَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ تَنْزِلُ عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِي وَأَزِيدُكَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ سورة الأحزاب آية 52 ، قَالَ : فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ ، فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُيَيْنَةُ ، فَأَيْنَ الاسْتِئْذَانُ ؟ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ ، قَالَ : مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَا الَّتِي إِلَى جَنْبِكَ ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : أَفَلا أنزل لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ ؟ ، فَقَالَ : يَا عُيَيْنَةُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَذَا ؟ ، قَالَ : أَحْمَقُ مُطَاعٌ ، وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لِسَيِّدِ قَوْمِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے سے کہتا، تم مجھے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دو میں تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دوں گا اور میں تمہیں مزید فائدہ دوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «وَلَا أَنْ تَبَدَّلُوا بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ حُسْنُهُنَّ»۔ سیدنا عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے، عیینہ اجازت لیے بغیر اندر آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عیینہ! تم نے اجازت کیوں نہیں لی؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب سے میں بالغ ہوا میں نے مضر قبیلہ کے کسی فرد کے ہاں اندر داخل ہونے کی اجازت طلب نہیں کی، اس نے یہ بھی کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عائشہ ہے، جو تمام اہل ایمان کی ماں ہے۔“ اس نے کہا: کیا میں اس کی جگہ تبدیل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ خوبصورت عورت نہ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عیینہ! اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے۔“ جب وہ شخص چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! یہ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک احمق رہنما تھا، تم نے اس کی ذہنی حالت دیکھی ہے اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3513
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3513، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8761»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف جدا ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 88)»
حدیث نمبر: 3514
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ " ،.
محمد محی الدین
ابوبردہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3514
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
« قال البخاري : الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»
حدیث نمبر: 3515
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يُثْبِتُ حَدِيثَ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَيَقُولُ : إِنَّمَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَا فَاتَنِي اتِّكَالا مِنِّي عَلَى حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3515
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
« قال البخاري : الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»
حدیث نمبر: 3516
نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ الْقَاضِي ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ السَّعْدِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، مثل قَوْلِ ابْنِ سِنَانٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ : فَقِيلَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّ شُعْبَةَ ، وَسُفْيَانَ يُوَقِّفَانِهِ عَلَى أَبِي بُرْدَةَ ، فَقَالَ : إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ .
محمد محی الدین
عبدالرحمن ہمذانی نے اپنی سند کے حوالے سے اسے اسرائیل سے اس طرح نقل کیا ہے، جیسے ابن سنان نے نقل کیا ہے۔ محمد بن مخلد کہتے ہیں: عبدالرحمن ہمذانی سے کہا: ”شعبہ اور سفیان دونوں نے اسے ابوبردہ تک، موقوف، روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”اسرائیل نے ابواسحاق کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، وہ میرے نزدیک سفیان اور شعبہ سے منقول روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3516
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
« قال البخاري : الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»
حدیث نمبر: 3517
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ أَبُو عَلِيٍّ ، نَا صَالِحٌ جَزْرَةُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ ، يَقُولُ : كَانَ إِسْرَائِيلُ يَحْفَظُ حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ كَمَا يَحْفَظُ سُورَةَ الْحَمْدُ ، قَالَ صَالِحٌ : إِسْرَائِيلُ أَتْقَنُ فِي أَبِي إِسْحَاقَ خَاصَّةً.
محمد محی الدین
دعلج بن احمر نے اپنی سند کے ہمراہ عبدالرحمن بن مہدی کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”اسرائیل کو ابواسحاق کی روایات اسی طرح یاد تھیں، جس طرح انہیں سورة فاتحہ یاد تھی۔“ صالح فرماتے ہیں: ”اسرائیل بطور خاص ابواسحاق کی روایات کو زیادہ محفوظ طور پر (نقل کرتے ہیں)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3517
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
« قال البخاري : الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»
حدیث نمبر: 3518
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ " .
محمد محی الدین
ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3518
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 760، 761، 762، 763، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4077، 4078،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2725، 2726، 2727، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2085، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1101، 1102 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1881،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3514، 3516، 3518، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3046، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16186، 16188»
« قال البخاري : الزيادة من الثقة مقبولة وإسرائيل ثقة فإن كان شعبة والثوري أرسلاه فإن ذلك لا يضر الحديث ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (2 / 190)»
حدیث نمبر: 3519
نَا نَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، نَا ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشُهُودٍ وَمَهْرٍ ، إِلا مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
ابوسعید فرماتے ہیں: ”ولی، گواہوں اور مہر کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا، البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کا نکاح ان کے بغیر بھی ہو سکتا ہے)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3519
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13488، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3519»
حدیث نمبر: 3520
نَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا ، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو عورت ولی کے بغیر اجازت نکاح کر لے، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر مرد اس کے ساتھ صحبت کر لے، تو مرد کے اس عمل کی وجہ سے اس عورت کو مہر ملے گا، اگر ان کے درمیان آپس میں اختلاف ہو جائے، تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3520
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 759، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4074، 4075، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2721، 2722، 2723، 2724، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5373، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2083، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1102، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1879، 1880، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3520، 3533، 3534، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2297، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 230، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16167، 16182، 37270»
«قال ابن حجر: حديث صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 99)»
حدیث نمبر: 3521
نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، قَالا : نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَنْكَحَهَا وَلِيُّ مَسْخُوطٌ عَلَيْهِ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ " ، رَفَعَهُ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جس عورت کا نکاح ایسا ولی کروائے، جس سے ناراضگی ہو، تو اس عورت کا نکاح باطل ہو گا۔“ عدی بن فضل نامی راوی نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3521
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 505، 223، 224، 354، 277، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1103، 1104، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1880، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 553، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3521، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2296، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16171، 16216»
«قال ابن حجر: في إسناده عدي ضعيف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 334)»
حدیث نمبر: 3522
نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ إِمْلاءً ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ ؟ ، فَقَالَتْ : كَانَ صَدَاقُهُ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةٍ وَنَشٍّ ، قَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ ؟ هُوَ نِصْفُ الأُوقِيَّةِ ، فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ " .
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو کتنا مہر ادا کرتے تھے؟“ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”بارہ اوقیہ اور نش۔“ سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو، نش سے کیا مراد ہے؟“ اس سے مراد نصف اوقیہ ہے اور (مہر کی مجموعی رقم) پانچ سو درہم بنتی ہے۔ امام دارقطنی نے آگے چل کر وہ روایات نقل کی ہیں، جن میں یہ مذکور ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3522
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1426، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2756، 6780، 6846، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3349، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5487، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2105، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1886،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3522، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25265»
حدیث نمبر: 3523
نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ ، وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى ، فَذَلِكَ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہم دس اوقیہ مہر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا: ”یہ چار سو درہم ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3523
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 777، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4097، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2740، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3350، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5484، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14467، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3523، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8929، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8250، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10406، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5053»
حدیث نمبر: 3524
نَا نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ زَوَّجَ أُخْتًا لَهُ فَطَلَّقَهَا الرَّجُلُ ثُمَّ أَنْشَأَ يَخْطُبُهَا ، فَقَالَ : زَوَّجْتُكَ كَرِيمَتِي فَطَلَّقْتَهَا ، ثُمَّ أَنْشَأْتَ تَخْطُبُهَا ، فَأَبَى أَنْ يُزَوِّجَهُ وَهَوِيَتْهُ الْمَرْأَةُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآَيَةَ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232 " ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ . عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ يُونُسَ بِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی شادی کی۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔ میں نے اپنی (معزز بہن) کے ساتھ تمہاری شادی کی اور تم نے طلاق دے دی۔ اب پھر تم نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی شادی اس کے ساتھ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن وہ خاتون اس شخص کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو تم انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ (اپنے سابقہ) شوہروں کے ساتھ شادی کر لیں۔“ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ابومعمر کے حوالے سے عبدالوارث کے حوالے سے یونس سے نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ احمد بن ابوعمرو کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ابراہیم بن طہمان کے حوالے سے یونس سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3524
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
حدیث نمبر: 3525
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : " فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ سورة البقرة آية 232 ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نزلت فِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، ثُمَّ جَاءَ يَخْطُبُهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا ، ثُمَّ جِئْتُ تَخْطُبُهَا لا وَاللَّهِ لا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا ، قَالَ : وَكَانَ الرَّجُلُ لا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ ، فَقُلْتُ : الآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَسَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلٍ .
محمد محی الدین
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ، اللہ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”تو تم ان عورتوں کو اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ (اپنے سابقہ) شوہروں کے ساتھ شادی کر لیں، اگر وہ مناسب طور پر آپس میں (دوبارہ شادی کرنے پر) راضی ہوں۔“ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص کے ساتھ کی۔ اس شخص نے اس خاتون کو طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ اس عورت کی عدت گزر گئی۔ پھر اس شخص نے دوبارہ اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا پیغام بھیجا۔ تو میں نے اس سے کہا: میں نے تمہارے ساتھ (اپنی بہن) کی شادی کی، اسے تمہاری بیوی بنایا، تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے اسے طلاق دے دی۔ اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آ گئے ہو۔ نہیں! اللہ کی قسم تم اسے دوبارہ کبھی بھی حاصل نہیں کر سکو گے۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس شخص میں اور کوئی خرابی نہیں تھی، اور وہ عورت بھی اس کے ساتھ شادی دوبارہ کرنا چاہتی تھی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ (سیدنا معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب میں ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں نے عورت کی شادی اس شخص کے ساتھ کر دی۔ عباد بن راشد نے حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ سعید نے قتادہ کے حوالے سے، حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالے سے، سیدنا معقل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3525
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
حدیث نمبر: 3526
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : " كَانَتْ لِي أُخْتٌ فَخُطِبَتْ إِلَيَّ فَكُنْتُ أَمْنَعُهَا النَّاسَ فَأَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لِي فَخَطَبَهَا فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ ، فَاضْطَجَعَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلاقًا لَهُ رَجْعَةٌ ، ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَخَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ ، فَقُلْتُ : مَنَعْتُهَا النَّاسَ وَزَوَّجْتُكَ إِيَّاهَا ، ثُمَّ طَلَّقْتَهَا طَلاقًا لَهُ رَجْعَةٌ ، ثُمَّ تَرَكْتَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَيَّ أَتَيْتَنِي تَخْطُبُهَا مَعَ الْخُطَّابِ إِنِّي لا أُزَوِّجُكُ أَبَدًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ، أَوْ قَالَ أنزلت وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232 ، فَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ " ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ.
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ایک بہن تھی۔ اس کے ساتھ شادی کے لیے کچھ لوگوں کے رشتے آئے، لیکن میں نے انہیں منع کر دیا۔ پھر میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آیا۔ اس نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے لڑکی کی شادی اس کے ساتھ کر دی۔ جب تک اللہ کو منظور تھا، وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ پھر اس شخص نے اس لڑکی کو طلاق دے دی، جس میں اسے رجوع کرنے کی گنجائش تھی، لیکن اس شخص نے رجوع نہیں کیا۔ یہاں تک کہ لڑکی کی عدت گزر گئی۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ اس نے بھی نکاح کا پیغام بھیجا۔ تو میں نے کہا: میں نے دوسرے لوگوں میں سے کسی کے ساتھ اس لڑکی کی شادی نہیں کی، اور تمہارے ساتھ اس کی شادی کر دی، لیکن تم نے اسے طلاق دے دی، جس میں رجوع کی گنجائش تھی، لیکن تم نے رجوع نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ اب جب اس کے رشتے آ رہے ہیں، تو تم نے بھی رشتہ بھیج دیا۔ میں تمہارے ساتھ اس کی شادی کبھی نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں): ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ (اپنے سابقہ) شوہروں کے ساتھ دوبارہ شادی کر لیں۔“ (سیدنا معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور اس لڑکی کی شادی اس شخص کے ساتھ کر دی۔ اس روایت کا مفہوم (ایک دوسرے کے) قریب ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3526
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
حدیث نمبر: 3527
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا رَوْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : " كَانَتْ لِي أُخْتٌ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا ، ثُمَّ خَلا عَنْهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، ثُمَّ جَاءَ يَخْطُبُهَا ، فَحَمَى مَعْقِلٌ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : خَلا عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232 " .
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بہن ایک شخص کی بیوی تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ پھر اس شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا، تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کو اس بات پر غصہ آیا۔ انہوں نے فرمایا: اس نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا تھا حالانکہ یہ اس سے رجوع کر سکتا تھا۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ اس لڑکی اور اس کے سابقہ شوہر کے درمیان رکاوٹ بن گئے، تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ دوبارہ شادی کر لیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3527
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4529، 5130، 5330، 5331، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4071، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2735، 3125، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 10974، 10975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2087، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، 3526، 3527، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 972»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح»
حدیث نمبر: 3528
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَكِينَةَ بِنْتِ حَنْظَلَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَمْ تَنْقَضِ عِدَّتِي مِنْ مَهْلِكِ زَوْجِي ، فَقَالَ : قَدْ عَرَفْتِ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَابَتِي مِنْ عَلِيٍّ وَمَوْضِعِي فِي الْعَرَبِ ، قُلْتُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ يُؤْخَذُ عَنْكَ تَخْطُبُنِي فِي عِدَّتِي ، قَالَ : إِنَّمَا أَخْبَرْتُكِ لِقَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ عَلِيٍّ وَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ مُتَأَيِّمَةٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِيرَتُهُ وَمَوْضِعِي فِي قَوْمِي " ، كَانَتْ تِلْكَ خُطْبَتَهُ .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن سلیمان اپنی پھوپھی سکینہ بنت حنطلہ کا بیان نقل کرتے ہیں: امام محمد الباقر نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میرے شوہر کے انتقال کی عدت نہیں گزری تھی، انہوں نے فرمایا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے رشتے سے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میرے رشتے اور عربوں کے درمیان میری حیثیت سے واقف ہو (میں تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں)۔“ میں نے کہا: ”اے ابوجعفر، اللہ آپ کی مغفرت کرے، آپ سے استفادہ کیا جاتا ہے، اور آپ میری عدت کے دوران مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں؟“ تو امام محمد الباقر نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے رشتے کے بارے میں تمہیں بتایا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ (کو نکاح کا پیغام دینے کے لیے) ان کے پاس تشریف لے گئے تھے، وہ اس وقت سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (کے انتقال کے بعد بیوگی کی) عدت گزار رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ’’اے ام سلمہ! تم جانتی ہو، میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا برگزیدہ ہوں، میری قوم میں میری حیثیت جو ہے (تم اس سے واقف ہو)۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نکاح کے الفاظ یہ تھے (اور میں نے بھی یہی الفاظ استعمال کیے ہیں)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3528
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14130، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3528»
حدیث نمبر: 3529
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو وَائِلَةَ الْمَرْوَزِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ وَلَدِ بِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْوَضَّاحِ ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بُدَّ فِي النِّكَاحِ مِنْ أَرْبَعَةٍ : الْوَلِيِّ وَالزَّوْجِ وَالشَّاهِدَيْنِ " ، أَبُو الْخَصِيبِ مَجْهُولٌ وَاسْمُهُ : نَافِعُ بْنُ مَيْسَرَةَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”نکاح میں چار چیزیں ضروری ہیں: ولی، شوہر، (یا بیوی) اور دو گواہ۔“ ابوالحصیب نافع بن میسرہ نامی راوی مجہول ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3529
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3529 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: هذا الحديث ضعيف ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 738)»
حدیث نمبر: 3530
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا رَوْحٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : جَمَعَتِ الطَّرِيقُ رَكْبًا فَجَعَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ ثَيِّبٌ أَمْرَهَا بِيَدِ رَجُلٍ غَيْرِ وَلِيٍّ فَأَنْكَحَهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ " فَجَلَدَ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ وَرَدَّ نِكَاحَهَا " .
محمد محی الدین
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں: راستے میں میری ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی، ان میں سے ایک ثیبہ عورت نے اپنے نکاح کا معاملہ ایسے شخص کو سونپا، جو اس کا ولی نہیں تھا (کہ وہ اس عورت کا نکاح کروا دے)، تو اس شخص نے اس عورت کا نکاح کروا دیا، جب اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے نکاح کرنے والے مرد اور نکاح کروانے والے مرد کو کوڑے لگوائے، اور ان دونوں (میاں بیوی) کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3530
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «منقطع ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 530، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13756، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3530، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10486، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16191»
«قال ابن حجر: فيه انقطاع لأن عكرمة لم يدرك ذلك ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 325)»
حدیث نمبر: 3531
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، قَالا : نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3531
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13834، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3531، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10473، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 299»
«قال ابن حجر: في إسناده عبد الله بن محرز وهو متروك ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 322)»
حدیث نمبر: 3532
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَن ِ ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ و ، َمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْعَلافُ و َعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَعْدٍ ، قَالا : نَا إِسْحَاقُ بْنُ هِشَامٍ التَّمَّارُ ، نَا ثَابِتُ بْنُ زُهَيْرٍ ، نَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3532
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3532 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
« قال ابن عبدالبر: حديث ابن عباس وحديث أبي هريرة وحديث ابن عمر في نقلة أسانيدهم ضعفا ، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 72)»
حدیث نمبر: 3533
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ ، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ " ، قَالَ تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ مِثْلَهُ سَوَاءً . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَيَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ وَنُوحَ بْنَ دَرَّاجٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَكِيمٍ أَبَا بَكْرٍ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالُوا فِيهِ " شَاهِدَيْ عَدْلٍ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، اگر وہ ولی آپس میں اختلاف کریں، تو جس کا کوئی ولی نہ ہو گا، حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3533
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 759، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4074، 4075، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2721، 2722، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5373، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2083، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1102، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2230، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1879، 1880،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3520، 3533، 3534، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2297،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 230،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16167، 16182، 37270»
«قال ابن حجر: حديث صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 99) ، حديث صحيح ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 180)»
حدیث نمبر: 3534
نَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبَّادٍ النَّسَائِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3534
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 759، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4074، 4075، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2721، 2722، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5373، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2083، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1102، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2230، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1879، 1880،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3520، 3533، 3534، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2297،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 230،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16167، 16182، 37270»
«قال ابن حجر: حديث صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 99) ، حديث صحيح ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 180)»
حدیث نمبر: 3535
نَا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِيُّ ، مِنْ كِتَابِهِ ، نَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ أَبُو الْحَسَنِ الْجَهْضَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہ کروائے، کوئی عورت خود نکاح نہیں کر سکتی، زنا کرنے والی عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3535
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3536
نَا أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بِالْكُوفَةِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْرُوقِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ . ح وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْخَلالُ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ السَّلامِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ، وَكُنَّا نَقُولُ : إِنَّ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا هِيَ الْفَاجِرَةُ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہ کروائے، کوئی عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی۔“ (راوی کہتے ہیں:) ہم یہ کہا کرتے تھے: ”جو عورت اپنا نکاح خود کر لیتی ہے، وہ فاجرہ (زانیہ، بدکردار) ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3536
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3537
نَا أَبُو وَهْبٍ يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ ، بِالأُبُلَّةِ ، نَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ الأَوَّلِ مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3538
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الآدَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدٌ الدُّولابِيُّ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الَّتِي تُنْكِحُ نَفْسَهَا هِيَ الزَّانِيَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ: ”جو عورت اپنا نکاح خود کروا لیتی ہے، وہ زانیہ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3538
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3539
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، أنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ، وَالزَّانِيَةُ هِيَ الَّتِي تُنْكِحُ نَفْسَهَا بِغَيْرِ إِذَنْ وَلِيِّهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہیں کروا سکتی، کوئی عورت اپنا نکاح خود نہیں کروا سکتی، زانیہ عورت ہی اپنا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر خود کرتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3539
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3540
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ، قَالا : نَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، نَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُنْكِحُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا تُنْكِحُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ، إِنَّ الَّتِي تُنْكِحُ نَفْسَهَا هِيَ الْبَغِيُّ " ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " هِيَ الزَّانِيَةُ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہیں کروا سکتی، کوئی عورت اپنا نکاح خود نہیں کروا سکتی، فاحشہ عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے۔“ ابن سیرین نامی راوی بیان کرتے ہیں: بعض اوقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے لیے لفظ ’’زانیہ‘‘ استعمال کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3540
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3541
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ قَالَ : " لا تُنْكِحُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا تُنْكِحُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَكَانَ يُقَالُ : الزَّانِيَةُ تُنْكِحُ نَفْسَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہیں کروا سکتی، کوئی عورت اپنا نکاح خود نہیں کروا سکتی۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ کہا جاتا تھا: ”زانیہ اپنا نکاح خود کروا لیتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3541
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1882، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3535، 3536، 3537، 3538، 3539، 3540، 3541، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 10058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10494، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16209، 16215»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 175)»
حدیث نمبر: 3542
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا ، أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا ، أَوِ السُّلْطَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عورت اپنے ولی کی اجازت کے ساتھ ہی نکاح کر سکتی ہے، (اگر ولی نہ ہو) تو اپنے خاندان کے کسی سمجھدار شخص یا حاکم وقت (کی اجازت سے نکاح کر سکتی ہے)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3542
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 575، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13754، 13755، 13757، 13840، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3542، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10485، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16168، 16169، 16177، 16180، 16196»
حدیث نمبر: 3543
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : " مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ ، مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ يَضْرِبُ فِيهِ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: ولی کے بغیر (عورت کے) نکاح کرنے کے معاملے میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے سب سے زیادہ سخت سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے، وہ (اس حرکت کے ارتکاب) پر سزا دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3543
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13761، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3543، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16170»
حدیث نمبر: 3544
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " لا نِكَاحَ إِلا بِإِذْنِ وَلِيٍّ ، فَمَنْ نَكَحَ أَوْ أَنْكَحَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ ، فَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جو شخص ولی کے بغیر نکاح کرے یا کروائے، تو اس کا نکاح باطل ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3544
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13758، 13759، 13760، 13762، 13763، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3544، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10476، 10480، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16181»
حدیث نمبر: 3545
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفَرَحِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، قَالَ : فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ ذَلِكَ " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا فَفَارَقَهَا ، وَقَالَ : لا تَنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا ، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدُ عَبْدُ اللَّهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ " ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ مُخْتَصَرًا ، مُرْسَلا . وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ نَافِعٍ ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اپنے ماموں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اس لڑکی کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”میری بیٹی اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لیں (یعنی طلاق دے دیں)، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”لڑکیوں کی شادی اس وقت تک نہ کرو، جب تک ان کی رائے معلوم نہ ہو، اگر وہ (جواب میں) خاموش رہیں، تو یہ ان کی اجازت (شمار) ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مختصر طور پر اور مرسل روایت کے طور پر نافع سے منقول ہے۔ ابن ابی وہب نامی راوی نے نافع سے اس کا سماع نہیں کیا ہے، انہوں نے عمر بن حسین کے حوالے سے نافع سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3545
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال أحمد بن حنبل: سئل عن هذا الحديث فقال باطل ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 190)»
حدیث نمبر: 3546
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، نَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : زَوَّجَنِي خَالِي قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ بِنْتَ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ وَخَطَبَهَا إِلَيْهَا ، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قُدَامَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ابْنَةُ أَخِي وَأَنَا وَصِيُّ أَبِيهَا وَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا ، زَوَّجْتُهَا مَنْ قَدْ عَلِمْتُ فَضْلَهُ وَقَرَابَتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا يَتِيمَةٌ وَالْيَتِيمَةُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا ، فَنُزِعَتْ مِنِّي وَزَوَّجَهَا الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ " ، لَمْ يَسْمَعْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ نَافِعٍ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْهُ ، وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے ماموں سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کی شادی میرے ساتھ کر دی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی والدہ کے پاس تشریف لائے اور اسے زیادہ مال کی پیشکش کر کے اس لڑکی کے لیے نکاح کا پیغام دیا، یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ میری بھتیجی ہے، میں اس کے والد کا وصی ہوں، میں نے اس لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی، میں نے اس کی شادی اس شخص کے ساتھ کی، جس کی فضیلت اور (ہمارے ساتھ) رشتہ داری سے آپ بھی واقف ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ لڑکی ہے اور لڑکی اپنے معاملے میں زیادہ حق دار ہوتی ہے۔“ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:) پھر اس کا مجھ سے رشتہ توڑ دیا گیا اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ شادی کر لی۔ شیخ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق نے اس روایت کو نافع سے نہیں سنا، انہوں نے اسے عمر بن حسین سے سنا ہے۔ ابراہیم بن سعد نے ان کے حوالے سے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے، جبکہ محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے عمر بن حسین سے منقول ہونے کے طور پر اس کی متابعت کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3546
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال الدارقطني: لم يسمعه محمد بن إسحاق من نافع وإنما سمعه من عمر بن حسين عنه وكذلك رواه إبراهيم بن سعد عنه وتابعه محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمر بن حسين ، سنن الدارقطني: (4 / 330) برقم: (3546)»
حدیث نمبر: 3547
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ بِنْتًا لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ ، فَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُمَا خَالايَ فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بِنْتَ عُثْمَانَ فَزَوَّجَنِيهَا ، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ إِلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا ، حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قُدَامَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمٍّ وَلَمْ أُقَصِّرْ بِالصَّلاحِ وَالْكَفَاءَةِ ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَأَنَّهَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ يَتِيمَةٌ وَلا تُنْكَحُ إِلا بِإِذْنِهَا ، فَانْتُزِعَتْ مِنِّي وَاللَّهِ بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا ، فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، انہوں نے (پسماندگان میں) ایک بیٹی چھوڑی، جس کی والدہ سیدہ خولہ بنت حکیم تھیں، سیدنا عثمان بن مظعون نے اپنے بھائی سیدنا قدامہ بن مظعون کو وصیت کی، یہ دونوں حضرات میرے ماموں تھے، میں نے سیدنا قدامہ بن مظعون کو سیدنا عثمان بن مظعون کی بیٹی سے نکاح کا پیغام بھجوایا، تو انہوں نے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی طے کر دی، پھر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی ماں کے پاس گئے اور اسے زیادہ مال کی پیش کش کی، تو وہ عورت ان کی طرف مائل ہو گئی، لڑکی نے ابھی اپنی والدہ کی خواہش کو ترجیح دی، ان لوگوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو سیدنا قدامہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ میری بھتیجی ہے، میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی، میں نے اس کی شادی ابن عمر کے ساتھ کر دی، میں نے اس کی بہتری اور رشتے کے ہم پلہ ہونے میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن یہ اپنی ماں کی خواہش کو ترجیح دے رہی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ لڑکی ہے، اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں کی جا سکتی۔“ (ابن عمر فرماتے ہیں:) اللہ کی قسم، میں اس کا مالک ہو چکا تھا (یعنی نکاح ہو چکا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے) اسے مجھ سے الگ کر دیا گیا اور اس کے گھر والوں نے اس کی شادی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3547
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال الدارقطني: لم يسمعه محمد بن إسحاق من نافع وإنما سمعه من عمر بن حسين عنه وكذلك رواه إبراهيم بن سعد عنه وتابعه محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمر بن حسين ، سنن الدارقطني: (4 / 330) برقم: (3546)»
حدیث نمبر: 3548
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا هَلَكَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : زَوَّجَنِيهَا خَالِي قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَلَمْ يُشَاوِرْهَا فِي ذَلِكَ وَهُوَ عَمُّهَا ، وَكَلَّمْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَرَدَّ نِكَاحَهُ ، فَأَحَبَّتْ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون نے (پسماندگان میں) ایک لڑکی چھوڑی، میرے ماموں سیدنا قدامہ بن مظعون نے اس کے ساتھ میری شادی کر دی، انہوں نے اس بارے میں لڑکی کی مرضی معلوم نہیں کی، وہ اس لڑکی کے چچا تھے، اس لڑکی نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، تو نبی نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، وہ لڑکی یہ چاہتی تھی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے ساتھ اس کی شادی کر دیں، تو (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا سیدنا قدامہ) نے اس لڑکی کی شادی ان (یعنی سیدنا مغیرہ) کے ساتھ کر دی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3548
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«»
حدیث نمبر: 3549
نَا أَبُو عَبْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَمِّي ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ : تَزَوَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ زَيْنَبَ بِنْتَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهَا ، زَوَّجَهُ إِيَّاهَا عَمُّهَا قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ ، فَأَرْغَبَهُمُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي الصَّدَاقِ ، فَقَالَتْ أُمُّ الْجَارِيَةِ لِلْجَارِيَةِ : لا تُجِيزِي ، فَكَرِهَتِ الْجَارِيَةُ النِّكَاحَ وَأَعْلَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ هِيَ وَأُمُّهَا ، فَرَدَّ نِكَاحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَكَحَهَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان بن مظعون کے انتقال کے بعد ان کی صاحبزادی زینب بنت عثمان کے ساتھ شادی کر لی، یہ نکاح اس لڑکی کے چچا سیدنا قدامہ نے کروایا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ نے انہیں زیادہ مہر کی پیشکش کی، تو اس لڑکی کی والدہ نے اس لڑکی سے کہا: ”تم (اپنے چچا کے کیے ہوئے نکاح کو) برقرار نہ رکھو۔“ اس لڑکی نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کے ساتھ نکاح کو پسند نہیں کیا تھا، پھر اس لڑکی اور اس کی والدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو کالعدم قرار دیا، بعد میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3549
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«»
حدیث نمبر: 3550
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ قَرِينٍ ، نَا سَلَمَةُ الأَبْرَشُ ، نَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُنْكَحُ الْيَتِيمَةُ إِلا بِإِذْنِهَا " ، عُمَرُ بْنُ حُسَيْنٍ مَوْلَى آلِ حَاطِبٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لڑکی کی شادی اس کی اجازت سے کی جائے۔“ اس روایت کا راوی عمر بن حسین، آل حاطب کا آزاد کردہ غلام ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3550
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1878، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13773، 13806، 13808، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3545، 3546، 3547، 3548، 3549، 3550، 3570، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6245»
«قال الدارقطني: لم يسمعه محمد بن إسحاق من نافع وإنما سمعه من عمر بن حسين عنه وكذلك رواه إبراهيم بن سعد عنه وتابعه محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عمر بن حسين ، سنن الدارقطني: (4 / 330) برقم: (3546)»