حدیث نمبر: 3406
ثنا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عِيسَى ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي قِيمَةِ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ درہم قیمت والی چیز (کی چوری پر) ہاتھ کٹوا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 3407
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عَزَّةَ ، بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3408
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا وَكَانَ حَافِظًا ، مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَلاسُ ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " قُطِعَ الْخَمْسُ إِلا فِي خَمْسٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پانچ (انگلیاں یعنی ہاتھ) پانچ (درہم قیمت والی چیز کی چوری) پر کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3409
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَلاسُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لا تُقْطَعُ الْخَمْسُ إِلا فِي خَمْسٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پانچ (انگلیاں یعنی ہاتھ) پانچ (درہم قیمت والی چیز کی چوری) پر کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3410
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَلاسُ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا أَبُو هِلالٍ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي شَيْءٍ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ " ، قَالَ أَبُو هِلالٍ : فَقَالُوا لِي : إِنَّ ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، يَقُولُ : هُوَ عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ : فَلَقِيتُ هِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : هُوَ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو هِلالٍ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز (کی چوری) پر ہاتھ کٹوا دیا تھا، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ ابوہلال نامی راوی بیان کرتے ہیں: بعض محدثین نے مجھے یہ بتایا: ابن ابوعروبہ نے اس روایت کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، میری ملاقات بعد میں ہشام سے ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ قتادہ کے حوالے سے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ابوہلال فرماتے ہیں: اگر یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہ ہو، تو یہ یا نبی کریم سے منقول ہے یا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہو گی۔
حدیث نمبر: 3411
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ ، وَلا عَلَى الْمُخْتَلِسِ ، وَلا عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خیانت کرنے والے، اچک لینے والے اور (سرعام) ڈاکہ ڈالنے والے شخص کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3412
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِغُلامٍ لِي ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اقْطَعْ هَذَا ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُهُ ؟ ، قُلْتُ : سَرَقَ مَرْآةً لامْرَأَتِي خَيْرٌ مِنْ سِتِّينَ دِرْهَمًا ، قَالَ : خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ ، لا قَطْعَ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن عمرو حضرمی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے غلام کو لے کر آیا، میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! اس کا ہاتھ کٹوا دیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اس نے کیا کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”اس نے میری بیوی کا آئینہ چوری کیا ہے، جو ساٹھ درہم سے زیادہ قیمت کا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے خادم نے تمہارا سامان چوری کیا ہے، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3413
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمَيِّتِ مَيْتًا ، مثل كَسْرِهِ حَيًّا فِي الإِثْمِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی مردہ شخص کی ہڈی کو توڑنا، زندہ شخص کی ہڈی توڑنے جتنا گناہ ہے۔“
حدیث نمبر: 3414
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ وَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمَيِّتِ مَيْتًا ، مثل كَسْرِهِ حَيًّا " ، يَعْنِي : فِي الإِثْمِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی مردہ مسلمان کی ہڈی کو توڑنا، زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی مانند ہے (راوی کہتے ہیں: یعنی اس جتنا گناہ ہے)۔“
حدیث نمبر: 3415
نَا أَبُو الأَسْوَدِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا الْحُنَيْنِيُّ ، نَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مردہ شخص کی ہڈی کو توڑنا، زندہ شخص کی ہڈی توڑنے کی مانند ہے۔“
حدیث نمبر: 3416
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ وَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالا : نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُقْطَعُ السَّارِقُ فِيمَا دُونَ ثَمَنِ الْمِجَنِّ ، قَالَ : فَقِيلَ لِعَائِشَةَ : مَا ثَمَنُ الْمِجَنِّ ؟ ، قَالَتْ : رُبْعُ دِينَارٍ " . قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ڈھال کی قیمت سے کم قیمتی چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا: ڈھال کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”ایک چوتھائی دینار۔“ ایک اور سند کے حوالے سے سیدہ عائشہ کا یہ بیان منقول ہے: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3417
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا عُمَرُ بْنُ مَعْمَرٍ الْعَمْرَكِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3418
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، نَا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ مَوْلَى الأَخْنَسِيِّينَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : كَانَتْ عَائِشَةُ تُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلا فِي الْمِجَنِّ أَوْ ثَمَنِهِ " ، قَالَ : وَزَعَمَ أَنَّ عُرْوَةَ ، قَالَ : وَثَمَنُ الْمِجَنِّ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : " لا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَمَا فَوْقَ ".
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”ڈھال یا اس کی قیمت جتنی قیمتی چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ عروہ بیان کرتے ہیں: ڈھال کی قیمت چار درہم ہوتی ہے۔ سلیمان بن یسار فرماتے ہیں: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (قیمت والی چیز کی چوری) پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3419
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاثَةُ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال چوری کرنے پر ہاتھ کٹوا دیا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدیث نمبر: 3420
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا ثَابِتٌ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَجُلا سَرَقَ مِجَنًّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُوِّمَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ فَقَطَعَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے ایک ڈھال چوری کر لی، جس کی قیمت پانچ درہم تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشْرَةَ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3422
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ ، عَشَرَةَ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ان دنوں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔ عطاء فرماتے ہیں: ان دنوں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3423
قَالَ الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي مَنْ ، سَمِعَ عَطَاءً ، يَقُولُ : " ثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ ، عَشَرَةُ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
ولید بیان کرتے ہیں کہ مجھے عطاء رحمہ اللہ سے سننے والے نے بتایا کہ ان دنوں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 3424
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشَرَةَ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3425
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ الْمِجَنُّ يُقَوَّمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشَرَةَ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3426
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ يُقَوَّمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشَرَةَ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3427
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ ، سَمِعَ عَطَاءً ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ ثَمَنَ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ ، عَشَرَةَ دَرَاهِمَ " ، خَالَفَهُ مَنْصُورٌ ، رَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَيْمَنَ ، وَأَيْمَنُ لا صُحْبَةَ لَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان دنوں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3428
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ، عَنْ حَجَّاجٍ . ح وَنا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ ، نَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ ، نَا يَهُودُ بْنُ الْهُذَيْلِ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " ، وَقَالَ أَبُو مَالِكٍ : فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةٍ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(کم از کم) دس درہم کی چوری پر، چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3429
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، بِإِسْنَادِهِ : " لا يُقْطَعُ السَّارِقُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ ، وَكَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ ، عَشْرَةَ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ یہ منقول ہے: ”ڈھال کی قیمت سے کم (قیمت والی چیز) کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ (راوی کہتے ہیں) ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔
حدیث نمبر: 3430
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشْرَةَ دَرَاهِمَ " ،.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ڈھال کی قیمت دس درہم ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 3431
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَرْبِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ هُوَ أَبُو نَشِيطٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3432
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، وَأَبُو مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لا يُقْطَعُ السَّارِقُ فِي أَقَلِّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دس درہم سے کم قیمت والی چیز پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3433
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مِثْلَهُ ، أَرْسَلَهُ الْمَسْعُودِيُّ . وَقَالَ الشَّعْبِيُّ : عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، ایک سند کے حوالے سے یہ منقول ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ درہم (قیمت والی چیز کی) چوری پر ہاتھ کٹوا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 3434
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُبَيْعٍ ، أَوْ تَبِيعٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ وَصَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ ، وَيَعْلَمُ مَا يَقْتَرِئُ فِيهِنَّ كُنَّ لَهُ بِمَنْزِلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ " ، أَسْنَدَهُ عَطَاءٌ ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُبَيْعٍ أَوْ تَبِيعٍ ، وَأَيْمَنُ هَذَا هُوَ الَّذِي يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ ثَمَنَ الْمِجَنِّ دِينَارٌ ، وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ ، وَلَمْ يُدْرِكْ زَمَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا الْخُلَفَاءِ بَعْدَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرنے کے بعد عشاء کی نماز ادا کرے اور اس کے بعد چار رکعت (نوافل) ادا کرے، جن میں رکوع اور سجدے مکمل ادا کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ان میں کیا پڑھ رہا ہے، تو اس کو شب قدر میں یہ رکعات ادا کرنے کا ثواب ملے گا۔“ اس روایت کو عطاء نے ایمن کے حوالے سے، سیع یاتبیع کے حوالے سے نقل کیا ہے، ایمن نامی راوی وہی ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں) ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی، یہ تابعین کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے خلفاء کا زمانہ نہیں پایا۔
حدیث نمبر: 3435
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ أَيْمَنَ ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ : وَكَانَ عَطَاءٌ ، وَمُجَاهِدٌ قَدْ رَوَيَا عَنْ أَبِيهِ .
محمد محی الدین
عبدالواحد بن ایمن اپنے والد کے حوالے سے اسے ذکر کیا ہے، عطاء اور مجاہد دونوں نے ان کے والد کے حوالے سے احادیث روایت کی ہیں:...
حدیث نمبر: 3436
كَتَبَ إِلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِي الأَرْضِ الْمَسْكُونَةِ وَالسَّبِيلِ الْمِيتَاءِ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَهِيَ لَكَ ، وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ ، فَقَالَ : فِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، فَقَالَ : دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ ، قَالَ : يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ، وَقَالَ : إِذَا كَانَ مِنَ الْمِرَاحِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَهُوَ الدِّينَارُ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، فَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ، وَسُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ فِي أَكْمَامِهَا ، قَالَ : يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ، قَالَ : فَإِذَا كَانَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَهُوَ الدِّينَارُ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، فَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی رہائشی جگہ یا عام گزرگاہ سے ملتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”تم ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے، تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ تمہاری ہو گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو دشمن کی سرزمین سے ملتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس میں اور رکاز میں سے پانچویں حصے کی (بیت المال) کو ادائیگی لازم ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے پکڑو، کیونکہ وہ یا تو تمہیں ملے گی، یا تمہارے کسی بھائی کو مل جائے گی، یا پھر بھیڑیے کو ملے گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت (کے پتے) کھا لے گا۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہاڑ سے چوری کرنے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس کی اچھی طرح پٹائی کی جائے اور اس سے دگنا تاوان لیا جائے۔“ اگر مویشیوں کی حفاظت کی جگہ سے جانور چرایا گیا ہے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت جتنی یعنی ایک دینار ہو، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، آپ سے شگوفے میں سے پھل چوری کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسی چور کی پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگنا تاوان وصول کیا جائے گا۔“ آپ نے فرمایا: ”اگر کھجوریں خشک کرنے کی جگہ سے چوری کی جائیں، اور چوری شدہ سامان کی قیمت ڈھال جتنی ہو، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس سے کم ہو، تو (چور کی) پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگنا تاوان وصول کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3437
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُقْرِئُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا أَبُو عَتَّابٍ الدَّلالُ ، نَا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ ، نَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ فِي بَيْضَةٍ مِنْ حَدِيدٍ قِيمَتُهَا إِحْدَى وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کے ایک خود (کی چوری) پر ہاتھ کٹوا دیا تھا، جس کی قیمت اکیس درہم تھی۔
حدیث نمبر: 3438
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ الطِّبُّ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَهُوَ ضَامِنٌ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی کا علاج کرے اور وہ معالج نہ ہو (اور اس کے علاج کی وجہ سے مریض کو نقصان ہو)، تو وہ شخص تاوان ادا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 3439
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يَكُنْ بِالطِّبِّ مَعْرُوفًا فَأَصَابَ نَفْسًا فَمَا دُونَهَا فَهُوَ ضَامِنٌ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، مُرْسَلا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی کا علاج کرے اور وہ معالج نہ ہو (اور اس کے علاج کی وجہ سے مریض کو) جانی یا اس سے کم نقصان ہو، تو وہ شخص تاوان ادا کرے گا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے، مرسل، روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3440
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ ، نَا هِشَامٌ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَقِيتُ خَالِي فَقُلْتُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ " ، زَادَ حَفْصٌ : " وَآتِيهِ بِرَأْسِهِ ".
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری اپنے ماموں سے ملاقات ہوئی، میں نے دریافت کیا: ”آپ کہاں جا رہے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔“ حفص نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میں اس کا سر لے کر نبی کی خدمت میں آؤں۔“
حدیث نمبر: 3441
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ يَضْرِبَ عُنُقَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک ایسے فرد کی طرف بھیجا، جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی، تاکہ اس شخص کی گردن اڑا دی جائے۔
حدیث نمبر: 3442
نَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " جَاءَ الأَسْلَمِيُّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ ، فَقَالَ كَلِمَةً : أَنِكْتَهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ ، وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَى ؟ ، قَالَ : نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلالا ، قَالَ : فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ ؟ ، قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكِلابِ ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ ، قَالا : نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : انْزِلا فَكُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ، قَالا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ، مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا ؟ ، قَالَ : مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلِ الْمَيْتَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے چار مرتبہ اپنے بارے میں یہ گواہی دی کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کیا ہے، ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، جب وہ پانچویں مرتبہ آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(اس طرح سے کہ) تمہاری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں یوں داخل ہو گئی، جیسے سلائی سرمہ دانی کے اندر چلی جاتی ہے، یا ڈول کنویں کے اندر چلا جاتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو زنا کسے کہتے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں، میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طریقے سے وہ عمل کیا ہے، جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس بات کے ذریعے کیا چاہتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کر دیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں دو آدمیوں کو گفتگو کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا: ”بھلا اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ رکھا، لیکن اس نے خود اسے نہیں رہنے دیا اور اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا، جس کی ایک ٹانگ اوپر کی طرف اٹھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم یہاں ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں یہاں اترو، تم دونوں نے اس مردار گدھے میں سے اپنے حصے کا گوشت لینا ہے۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”اے اللہ کی نبی! اللہ آپ کی مغفرت کرے، اس کا گوشت کون کھائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے، وہ مردار کھانے سے زیادہ شدید ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ شخص اس وقت جنت کی نہروں میں ڈبکیاں لگا رہا ہے۔“
حدیث نمبر: 3443
نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُوَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " .
محمد محی الدین
عباد بن تمیم اپنے چچا، جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں، کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے کوڑے مارو، اگر وہ دوبارہ زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے کوڑے مارو، اگر وہ پھر اس کا ارتکاب کرے، تو اسے کوڑے مارو، اور پھر اسے فروخت کرو، خواہ ایک رسی (کے عوض میں فروخت کرو)۔“
حدیث نمبر: 3444
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : " ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا ، قَالَ : وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ ، وَغُرَّةً لَمَا فِي بَطْنِهَا ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ : أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لا أَكَلَ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ، وَجَعَلَ عَلَيْهِمَا الدِّيَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی کے ذریعے ضرب لگائی، وہ دوسری عورت حاملہ تھی، راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میں سے ایک عورت کا تعلق بنو لحیان سے تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت کی ادائیگی قاتل عورت کے خاندان پر عائد کی اور اس مقتول کے پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کی ادائیگی کا حکم دیا، تو قاتل عورت کے خاندان میں سے ایک شخص بولا: ”کیا ہم اس بچے کا تاوان ادا کریں؟ جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، جو رویا نہیں (یعنی پیدا نہیں ہوا)، اس طرح کا خون رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفع و مسجع گفتگو کر رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی۔
حدیث نمبر: 3445
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، " أَنَّ امْرَأَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ : أَنَدِي مَنْ لا أَكَلَ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا صَاحَ ، وَاسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ، وَقَضَى فِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً " .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو عورتیں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی مار کر قتل کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقتول عورت کی دیت کی ادائیگی، قاتل عورت کے خاندان پر عائد کی اور اس مقتول عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کی ادائیگی کا حکم دیا، تو ایک دیہاتی بولا: ”کیا میں اس کا تاوان ادا کروں؟ جس نے کچھ کھایا پیا نہیں، وہ چیخ مار کر رویا نہیں، اس طرح کا خون رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دیہاتیوں کی طرح مقفع مسجع گفتگو کر رہے ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کی ادائیگی کو لازم قرار دیا۔
…