حدیث نمبر: 3366
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا ، " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا : خَمْسًا جِذَاعًا ، وَخَمْسًا حِقَاقًا ، وَخَمْسًا بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَخَمْسًا بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَخَمْسًا بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ " ، فَجَعَلَ مَكَانَ بَنِي الْمَخَاضِ بَنِي اللَّبُونِ ، وَوَافَقَ رِوَايَةَ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ وہ پانچ قسم کے اونٹوں پر مشتمل ہو گی، ایک قسم جذعہ، ایک قسم حقہ، ایک قسم بنات لبون، ایک قسم بنات مخاض اور ایک قسم نر بنو لبون ہو گی۔ انہوں نے بنو مخاض کی جگہ بنو لبون کا ذکر کیا ہے، یہ روایت ابوعبیدہ کی سیدنا عبداللہ سے نقل کردہ روایت کے موافق ہے۔
حدیث نمبر: 3367
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَنَزِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِير ُ ،وَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ و َعَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيّ ُ و َأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَر ُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَجَّاج ِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْر ٍ عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِك ٍ عَنْ عَبْدِ اللَّه ِ قَالَ : " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا " ، لَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ تَفْسِيرَ الأَخْمَاسِ .
محمد محی الدین
اس روایت کو احمد بن محمد اور دیگر راویوں نے اپنی سند کے ہمراہ خشف بن مالک کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس بیان کو نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں پانچ اقسام کے اونٹوں کی ادائیگی کو مقرر کیا۔ ان حضرات نے اس کے علاوہ لفظ نقل نہیں کیا اور ان پانچ اقسام کی وضاحت والا جملہ نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3368
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، جَمِيعًا عَنْ حَجَّاجٍ . ح وثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا الْهَرَوِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ، نَا الْحِمَّانِيُّ ، نَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ مِثْلَهُ . وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، وَاخْتَلَفَ عَنْهُ فَرَوَاهُ عَنْهُ سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ بِمُوَافَقَةِ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَخَالَفَهُ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، فَرَوَاهُ عَنْهُ بِمُوَافَقَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرِ وَمَنْ تَابَعَهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا ، لَمْ يُفَسِّرْهَا فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنِ الْحَجَّاجِ كَمَا تَرَى ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الصَّحِيحُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا كَمَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَحَفْصٌ ، وَأَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فِي رِوَايَةِ أَبِي هِشَامٍ عَنْهُ ، لَيْسَ فِيهِ تَفْسِيرُ الأَخْمَاسِ لاتِّفَاقِهِمْ عَلَى ذَلِكَ وَكَثْرَةِ عَدَدِهِمْ ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْحَجَّاجُ رُبَّمَا كَانَ يُفَسِّرُ الأَخْمَاسَ بِرَأْيِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَتَوَهَّمُ السَّامِعُ أَنَّ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِيهِ ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ كَلامِ الْحَجَّاجِ ، وَيُقَوِّي هَذَا أَيْضًا اخْتِلافُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَبْدِ الرَّحِيمِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيِّ عَنْهُ فِيمَا ذَكَرْنَا فِي أَحَادِيثِهِمْ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأُمَوِيَّ حَفِظَ عَنْهُ : عِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ مَكَانَ الْحِقَاقِ ، وَأَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ وَعَبْدَ الرَّحِيمِ حَفِظَا عَنْهُ : عِشْرِينَ حِقَّةً مَكَانَ بَنِي لَبُونٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَوَجْهٌ آخَرُ وَهُوَ : أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَقَاوِيلُ مُخْتَلِفَةٌ ، لا نَعْلَمُ رُوِيَ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ ذِكْرُ بَنِي مَخَاضٍ إِلا فِي حَدِيثِ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ هَذَا ، فَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَوَى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ ثَلاثِينَ حِقَّةً ، وَثَلاثِينَ جَذَعَةً ، وَعِشْرِينَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَعِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، ثَلاثُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَثَلاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَثَلاثُونَ حِقَّةً ، وَعَشْرٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " ، .
محمد محی الدین
محمد بن قاسم زکریا نے ہشام بن یونس کے حوالے سے ابومالک جنبی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، محمد بن قاسم بن زکریا نے ابوسعید اشج کے حوالے سے ابوخالد احمر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ان سب حضرات نے حجاج کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اسماعیل بن محمد صفار نے سعدان بن نصر کے حوالے سے ابومعاویہ کے حوالے سے حجاج سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ ابوبکر نیشاپوری نے محمد بن یزید طیفور کے حوالے سے ابومعاویہ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ احمد بن نجدہ نے حمانی کے حوالے سے حفص اور ابومعاویہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ اس روایت کو یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے حجاج کے حوالے سے نقل کیا ہے، پھر ان سے نقل کرنے کے حوالے سے اختلاف کیا گیا ہے۔ سریح بن یونس نے عبدالرحیم اور عبدالواحد بن زیاد کی موافقت کی ہے۔ ابوہشام رفاعی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے، انہوں نے اسے ابومعاویہ ضریر اور ان کی متابعت کرنے والوں کی موافقت میں نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت (میں اونٹوں کی ادائیگی) پانچ حصوں میں مقرر کی ہے، ان حضرات نے اپنی روایت میں اس کی وضاحت نقل نہیں کی۔ تو حجاج کے حوالے سے نقل کرنے میں اس روایت میں اختلاف ہوا ہے، جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے، لہٰذا یہاں یہ امکان ہو سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر یہ بات ثابت ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں (اونٹوں کی ادائیگی) پانچ اقسام میں مقرر کی ہے، جیسا کہ ابومعاویہ، حفص، ابومالک جنبی، ابوخالد، ابن ابی زائدہ نے ابوہشام کی ان کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں ان پانچ اقسام کی وضاحت نقل نہیں کی ہے، ان سب حضرات پر اس پر اتفاق ہے، ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور یہ سب ثقہ بھی ہیں۔ یہاں یہ امکان بھی ہو سکتا ہے کہ حجاج نامی راوی بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنے کے بعد اپنی رائے کے طور پر ان پانچ اقسام کی وضاحت کرتے ہوں، جس کے نتیجے میں سننے والے کو یہ وہم ہوا کہ شاید یہ بھی حدیث نبوی کا حصہ ہے، حالانکہ وہ الفاظ حدیث کا حصہ نہ ہوں بلکہ وہ حجاج کا کلام ہوں۔ اس احتمال کو اس بات سے تقویت حاصل ہوتی ہے کہ عبدالواحد بن زیاد، عبدالرحیم اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کے حوالے سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے، جیسا کہ ان حضرات کی روایات کو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ یحییٰ بن سعید اموی نے ان کے حوالے سے بیس حقہ کی جگہ بیس بنو لبون کا ذکر کیا ہے، جبکہ عبدالواحد اور عبدالرحیم نے بنو لبون کی جگہ بیس حقہ کے الفاظ نقل کیے ہیں، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، مہاجرین انصار سے تعلق رکھنے والی صحابہ کرام کی ایک جماعت کے بارے میں قتل خطا کی دیت کے مسئلے میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں، اور ہمارے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک کے حوالے سے بھی اس میں بنو مخاض کا ذکر نہیں ہے، ان کا تذکرہ خشف بن مالک کی اس روایت میں ہے۔ جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت کا تعلق ہے، تو اسے اسحاق بن یحییٰ بن ولید بن عبادہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے: قتل خطا کی دیت میں تیس حقہ ہوں گے، تیس جذعہ ہوں گے، بیس بنات لبون ہوں گی اور بیس نر بنو لبون ہوں گے۔ یہ حدیث مرسل ہے، اسحاق بن یحییٰ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے۔ عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو قتل خطا کے طور پر قتل کیا جائے، اس کی دیت ایک سو اونٹ ہو گی، جن میں تیس بنات مخاض ہوں گی، تیس بنات لبون ہوں گی، تیس حقہ ہوں گی اور دس نر بنو لبون ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهَذَا أَيْضًا فِيهِ مَقَالٌ مِنْ وَجْهَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ لَمْ يُخْبِرْ فِيهِ بِسَمَاعِ أَبِيهِ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَالْوَجْهُ الثَّانِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ ، ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مثل مَا رَوَى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهَذَا أَيْضًا فِيهِ مَقَالٌ مِنْ وَجْهَيْنِ ، أَحَدُهُمَا ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ لَمْ يُخْبِرْ فِيهِ بِسَمَاعِ أَبِيهِ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَالْوَجْهُ الثَّانِي ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ ، ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، مثل مَا رَوَى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَادَةَ وَرُوِيَ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالا " فِي دِيَةِ الْخَطَأِ : ثَلاثُونَ حِقَّةً ، وَثَلاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " ،.
محمد محی الدین
اس حدیث میں دو احتمال سے کلام کیا جا سکتا ہے، ایک پہلو یہ ہے کہ عمرو بن شعیب نے اس میں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ ان کے والد نے ان کے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حدیث کا سماع کیا ہے (یا نہیں)، دوسرا پہلو یہ ہے کہ محمد بن راشد نامی راوی محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی اسی طرح کی روایت نقل کی گئی ہے، جو اسحاق بن یحییٰ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت میں تیس حقہ ہوں گے، تیس بنات لبون ہوں گی، بیس بنات مخاض ہوں گی اور بیس نر بنو لبون ہوں گے۔
حدیث نمبر: 3370
نَا بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا النَّضْرُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالا ذَلِكَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ، سیدنا عثمان اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3371
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا حَمْزَةُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حَمَّادٌ ، نَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِذَلِكَ ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : " دِيَةُ الْخَطَأِ أَرْبَاعٌ : خَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ " ، .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3372
نَا بِهِ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا حَمْزَةُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ بِذَلِكَ .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے: وہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت میں چار قسم کے اونٹ (ادا کیے جائیں گے)، پچیس جذعہ ہوں گے، پچیس حقہ ہوں گے، پچیس بنات لبون ہوں گی اور پچیس بنات مخاض ہوں گی۔
حدیث نمبر: 3373
وَعَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے، امام شعبی اور ابراہیم نخعی کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3374
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الدِّيَةَ فِي الْخَطَأِ أَرْبَاعًا : خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت چار قسم کے (اونٹوں کی) شکل میں ادا کی جائے گی، پچیس حقہ ہوں گے، پچیس جذعہ ہوں گے، پچیس بنات لبون ہوں گی اور پچیس بنات مخاض ہوں گی۔
حدیث نمبر: 3375
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا ، دُفِعَ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ ، وَهِيَ ثَلاثُونَ حِقَّةً ، وَثَلاثُونَ جَذَعَةً ، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً ، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ ، وَذَلِكَ شَدِيدُ الْعَقْلِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قتل عمد کے طور پر کسی کو قتل کر دے، اسے مقتول کے ولی کے سپرد کر دیا جائے گا، اور اگر وہ چاہیں، تو اسے قتل کر دیں اور اگر چاہیں، تو دیت وصول کر لیں، جو تیس حقہ، تیس جذعہ، چالیس خلفہ ہوں گے اور اس کے علاوہ وہ جس چیز کی ادائیگی پر مصالحت کریں گے، وہ انہیں ملے گی، یہ ان کی شدید دیت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3376
نَا نَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُسَيْنٍ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " الْعَمْدُ وَالْعَبْدُ ، وَالصُّلْحُ وَالاعْتِرَافُ ، لا تَعْقِلُهُ الْعَاقِلَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل عمد، غلام (کے قتل کرنے)، صلح اور اعتراف کی صورتوں میں خاندان دیت ادا نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 3377
نَا أَبُو عُبَيْدٍ ، نَا سَلْمٌ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : " لا تَعْقِلُ الْعَاقِلَةُ عَمْدًا ، وَلا عَبْدًا ، وَلا صُلْحًا ، وَلا اعْتِرَافًا " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: خاندان کسی غلام، قتل عمد (کے قاتل)، صلح (کے طور پر طے پائے جانے والی ادائیگی) اور (اپنے ذمے کسی ادائیگی کے) اعتراف کو ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 3378
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَجْعَلُوا عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْ دِيَةِ الْمُعْتَرِفِ شَيْئًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اعتراف کرنے والے شخص کی دیت کے کسی حصے (کی ادائیگی) خاندان پر عائد نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 3379
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ " ، يَعْنِي رِجْلَ الدَّابَّةِ ، يَقُولُ : هَدَرٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ہزیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”معدنیات (کی کان) میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، جانور کے مارنے سے مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، رکاز میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی اور جانور کے پاؤں مارنے سے مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا۔“ حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ پاؤں سے مراد جانور کا پاؤں مارنا ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ خون رائیگاں جائے گا۔
حدیث نمبر: 3380
نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الزَّيَّاتُ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا سُفْيَانُ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3381
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرِّجْلُ جُبَارٌ " ، مُرْسَلٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ہزیل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(جانور کے) پاؤں (مارنے سے مرنے والے) کا خون رائیگاں جائے گا۔“ یہ حدیث مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 3382
نَا زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا أَبِي ، نَا قَيْسٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3383
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّجْلُ جُبَارٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(جانور کے) پاؤں (مارنے سے مرنے والے) کا خون رائیگاں جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3384
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، وَخَالَفَهُ الْحُفَّاظُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، مِنْهُمْ مَالِكٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَيُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، وَعُقَيْلٌ ، وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَغَيْرِهِمْ ، كُلُّهُمْ رَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَقَالُوا " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ " . وَلَمْ يَذْكُرُوا الرِّجْلَ ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جانور کے مارنے سے مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، معدنیات (کی کان) میں مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا۔“ ان راویوں نے اس میں جانور کے پاؤں مارنے سے مرنے والے کا ذکر نہیں کیا اور یہی درست ہے۔
حدیث نمبر: 3385
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا أَبُو النَّصْرِ التَّمَّارُ ، عَنْ أَبِي جَزْءٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ ، نَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، نَا أَبُو جَزْءٍ ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَوْقَفَ دَابَّةً فِي سَبِيلٍ مِنْ سُبُلِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِهِمْ فَأَوْطَأَتْ بِيَدٍ ، أَوْ رِجْلٍ فَهُوَ ضَامِنٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے جانور کو مسلمانوں کے راستے یا بازار میں ٹھہرائے اور وہ جانور اپنے ہاتھ یا پاؤں کے نیچے کسی کو روند دے، تو وہ شخص اس کا ضامن ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3386
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمِ بْنَ غَانِمٍ عَلَى الْمَغَانِمِ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَأَصَابَ رَجُلا بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ مُنَقِّلَةً ، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ عَشْرَةَ فَرِيضَةً " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیمان شفاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر سیدنا ابوجہم بن غانم رضی اللہ عنہ کو مال غنیمت کا نگران مقرر کر دیا، انہوں نے ایک شخص کو اپنی کمان کے ذریعے مار کر اس کا سر زخمی کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی مقرر کی۔
حدیث نمبر: 3387
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو حُصَيْنٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ ، نَا عَبْثَرٌ ، نَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيُّ بِسَارِقٍ قَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِهِ إِلَى السِّجْنِ ، وَقَالَ : " دَعُوا لَهُ رِجْلا يَمْشِي عَلَيْهَا ، وَيَدًا يَأْكُلُ بِهَا وَيَسْتَنْجِي بِهَا " .
محمد محی الدین
عامر (شعبی) بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور کو لایا گیا، جس نے چوری کی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا، دوبارہ چوری کرنے کے جرم میں اسے پھر لایا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا پاؤں کٹوا دیا، پھر جب اسے تیسری دفعہ لایا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے قید کرنے کا حکم دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا ایک پاؤں رہنے دو، جس کے ذریعے چل سکے اور ایک ہاتھ رہنے دو، جس سے یہ کچھ کھا سکے اور استنجا کر سکے۔“
حدیث نمبر: 3388
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا سَرَقَ السَّارِقُ قُطِعَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى ، فَإِنْ عَادَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَادَ ضُمِّنَ السِّجْنَ حَتَّى يُحَدِّثَ خَيْرًا ، إِنِّي لأَسْتَحْيِي أَنْ أَدَعَهُ " ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب کوئی چور چوری کرے گا، تو میں اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دوں گا، اگر وہ دوبارہ ایسا کرے گا، تو میں اس کا بایاں پاؤں کٹوا دوں گا، اگر وہ پھر ایسا کرے گا، تو میں اسے اس وقت تک قید رکھوں گا، جب تک وہ ٹھیک نہ ہو جائے، کیونکہ مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میں اسے ایسی حالت میں چھوڑ دوں (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حدیث نمبر: 3389
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّه ِبْنِ يَحْيَى الرَّهَاوِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، نَا أَبِي ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا، اسے دوبارہ چوری کے جرم میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ایک پاؤں کٹوا دیا، اسے پھر چوری کے جرم میں لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی کٹوا دیا، اسے پھر چوری کے جرم میں لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا (دوسرا) پاؤں بھی کٹوا دیا، اسے پھر چوری کے جرم میں لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے قتل کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 3390
نَا ابْنُ الصَّوَّافِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْقَاسِمُ ، نَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3391
نَا أَبُو بَكْرٍ الأَبْهَرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خُرَيْمٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3392
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ ، أنا الْوَاقِدِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، أُرَاهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَرَقَ السَّارِقُ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ " ، كَذَا قَالَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی چور چوری کرے، تو اس کا ہاتھ کاٹ دو، اگر وہ دوبارہ کرے، تو اس کا پاؤں کاٹ دو، اگر وہ پھر کرے، تو اس کا ہاتھ کاٹ دو، اگر وہ پھر کرے، تو اس کا پاؤں کاٹ دو۔“ خالد بن سلمہ نے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے ان کے ماموں حارث کے حوالے سے ابوسلمہ کے حوالے سے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3393
نَا نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " قَطَعَ بَعْدَ يَدٍ وَرَجُلٍ يَدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے (چور کا) ایک ہاتھ اور ایک پاؤں (پہلے سے) کٹا ہونے کے باوجود (دوسرا) ہاتھ کٹوا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 3394
نَا نَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلانِ بِرَجُلٍ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَشَهِدَا عَلَيْهِ بِالسَّرِقَةِ فَقَطَعَهُ ، ثُمَّ جَاءُوا بِآخَرَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالا : هُوَ هَذَا غَلَّطَنَا بِالأَوَّلِ ، فَلَمْ يَقْبَلْ شَهَادَتَهُمَا عَلَى الآخَرِ ، وَغَرَّمَهُمَا دِيَةَ الأَوَّلِ ، وَقَالَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُكُمَا " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: دو آدمی ایک شخص کو لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان دونوں نے اس شخص کے بارے میں یہ گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا، پھر وہ دونوں آدمی ایک اور شخص کو لے کر آئے اور بولے: ”پہلی مرتبہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی، یہ اصل چور ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے شخص کے بارے میں ان کی گواہی کو قبول نہیں کیا، اور پہلے شخص (کے ہاتھ کو ضائع کرنے) کی دیت کی ادائیگی ان پر لازم کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ پتا ہو کہ تم نے جان بوجھ کر (پہلے شخص کا ہاتھ کٹوا دیا تھا)، تو میں تم دونوں کے بھی ہاتھ کٹوا دیتا۔“
حدیث نمبر: 3395
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَخِي الْمِسْوَرُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا غُرْمَ عَلَى السَّارِقِ " ، يَعْنِي : إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب چور پر حد جاری کر دی جائے، تو اب وہ (چوری شدہ سامان) کا تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3396
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، وَأَبُو صَالِحٍ ، قَالا : نَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَخِيهِ مِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا غُرْمَ عَلَى السَّارِقِ بَعْدَ قَطْعِ يَمِينِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب چور پر حد جاری کر دی جائے، تو اب وہ (چوری شدہ سامان) کا تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3397
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَزَّازُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ، نَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَخِيهِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُغَرَّمُ السَّارِقُ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب چور پر حد جاری کر دی جائے، تو اب وہ (چوری شدہ سامان) کا تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3398
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ، نَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قِصَّةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي السَّارِقِ . قَالَ أَبُو صَالِحٍ : قُلْتُ لِلْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ : يَا أَبَا مُعَاوِيَةَ إِنَّمَا هُوَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي ، أَوْ ، قَالَ : فِي كِتَابِي . سَعِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مَجْهُولٌ ، وَالْمِسْوَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَإِنْ صَحَّ إِسْنَادُهُ كَانَ مُرْسَلا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جس میں ایک راوی کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے اور اسے مجہول قرار دیا گیا ہے اور اس احتمال کی نشاندہی کی گئی ہے کہ یہ روایت مرسل ہو سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 3399
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَنْدَقِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ الْفُرَاتِ ، عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، قَالَ : لا غُرْمَ عَلَيْهِ " ، هَذَا وَهْمٌ مِنْ وُجُوهٍ عِدَّةٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ تاوان ادا نہیں کرے گا۔“ اس میں کئی اعتبار سے وہم پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3400
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّرْحِ ، نَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ أَبُو صَالِحٍ ، نَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَخِيهِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُغَرَّمُ السَّارِقُ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ " ، قَالَ أَبُو صَالِحٍ : قُلْتُ لِلْمُفَضَّلِ : إِنَّمَا هُوَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : هَكَذَا فِي كِتَابِي ، أَوْ هَكَذَا ، قَالَ : الشَّكُّ مِنْ أَبِي صَالِحٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب چور پر حد جاری کر دی جائے، تو اب وہ (چوری شدہ سامان) کا تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3401
ثنا ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلا أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ ، نزل عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : " مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ ، مَنْ قَطَعَكَ ؟ ، قَالَ : يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ ظُلْمًا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : لأَكْتُبَنَّ إِلَيْهِ ، وَتَوَعَّدَهُ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ فَقَدُوا حُلِيًّا لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ صَاحِبَهُ ، قَالَ : فَوُجِدَ عِنْدَ صَائِغٍ ، فَأُلْجِئَ حَتَّى أُلْجِئَ إِلَى الأَقْطَعِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَغَرَّتُهُ بِاللَّهِ كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِمَّا صَنَعَ ، اقْطَعُوا رِجْلَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : بَلْ نَقْطَعُ يَدَهُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : دُونَكَ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: ایک شخص جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں (چوری کی سزا میں) کٹا ہوا تھا، وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، وہ رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تم کسی چور کی طرح رات نہیں گزارتے (تم تو نیک آدمی ہو)۔“ تمہارا ہاتھ کس نے کٹوا دیا؟ اس نے جواب دیا: ”یعلی بن منیہ نے ظلم کے طور پر اس کو کاٹا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں اسے اس بارے میں خط لکھوں گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے وعدہ کر لیا، اسی دوران (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ) سیدہ اسماء بنت عمیس کا ایک ہار گم ہو گیا، تو اس شخص نے یہ کہنا شروع کر دیا: ”اے اللہ! اس چور کو پکڑوا دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ ہار ایک سنار کے پاس سے مل گیا، جب اس کی تحقیق کی، تو پتا چلا کہ اسی ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے شخص نے اسے فروخت کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میرے نزدیک اس کی اس حرکت سے زیادہ شدید (ناپسندیدہ) بات یہ ہے کہ وہ اللہ سے یہ دعائیں کر رہا تھا (کہ چور پکڑا جائے)۔“ ”تم لوگ اس کا پاؤں کاٹ دو (تاکہ وہ ہاتھ کے ساتھ کسی کام کے قابل نہ رہے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“
حدیث نمبر: 3402
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّمَا قَطَعَ أَبُو بَكْرٍ رِجْلَ الَّذِي قَطَعَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ ، وَكَانَ مَقْطُوعَ الْيَدِ قَبْلَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کا پاؤں کٹوا دیا تھا، جس (کا ہاتھ) یعلی بن امیہ نے کاٹا تھا، اس سے پہلے ہی اس شخص کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 3403
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرِ فَيُدْنِيهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا ، أَوْ قَالَ سَرِيَّةً ، فَقَالَ : أَرْسَلَنِي مَعَهُ ، قَالَ : بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا ، فَأَبَى ، فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ وَاسْتَوْصَاهُ بِهِ خَيْرًا ، فَلَمْ يُغَبِّرْ عَنْهُ إِلا قَلِيلا ، حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ فَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ ، قَالَ : مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُولِينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ فَخُنْتُهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً فَقَطَعَ يَدَيَّ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ هَذَا يَخُونُ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً ، وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لأُقِيدَنَّكَ بِهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَدْنَاهُ وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ بِاللَّيْلِ فَيَقْرَأُ ، فَإِذَا سَمِعَ أَبُوَ بَكْرٍ صَوْتَهُ ، قَالَ : بِاللَّهِ لَرَجُلُ قَطْعٍ هَذَا ! ، قَالَ فَلَمْ يُغَبِّرْ إِلا قَلِيلا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : طَرَقَ الْحَيِّ اللَّيْلَةَ ، فَقَامَ الأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالأُخْرَى الَّتِي قُطِعَتْ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ مَنْ سَرَقَهُمْ " ، أَوْ نَحْوَ هَذَا ، وَقَالَ مَعْمَرٌ : رُبَّمَا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ " ، قَالَ : فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى عَثَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : " وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللَّهِ " ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک سیاہ فام شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ رہنے لگا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے قرآن سکھانے لگے، ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (زکوٰۃ وغیرہ کی) وصولی کرنے والے شخص کو بھجوانے لگے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) کسی مہم کو روانہ کرنے لگے، تو وہ شخص بولا: ”مجھے بھی اس کے ساتھ بھیج دیں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ہمارے ساتھ رہو۔“ لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے بھی اس (وصولی) کرنے والے کے ساتھ بھیج دیا، اور اسے (اس سیاہ فام) کا خیال رکھنے کی تاکید کی، کچھ عرصے بعد وہ (سیاہ فام) شخص آیا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا، تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”اس (سرکاری اہلکار) نے جو کام میرے ذمے لگایا تھا، میں نے اس میں سے ایک فریضہ (یعنی جانور یا کوئی چیز) کی خیانت کی، تو اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے، اس نے خود بیس سے زیادہ فریضوں میں خیانت کی ہوئی ہے، اللہ کی قسم! اگر تم ٹھیک کہہ رہے ہو، تو میں اس وجہ سے اسے قید کر دوں گا۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ رکھا اور اس کے ساتھ پہلے سا سلوک کرتے رہے، وہ شخص رات کے وقت کھڑا ہو کر (نوافل کے دوران) قرأت کرنے لگا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اس کی آواز سنی، تو دعا کی: ”اے اللہ! جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے، اسے سزا دے۔“ تھوڑے ہی عرصے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کسی کا ہار یا شاید اور کوئی چیز چوری ہو گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”گزشتہ رات ہمارے ہاں چوری ہو گئی۔“ وہ ہاتھ کٹا ہوا (سیاہ فام) کھڑا ہوا، اس نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اس نے اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ دونوں بلند کیے اور دعا کی: ”اے اللہ! جس نے یہ چوری کی ہے، اسے پکڑوا دے (یا اس کی مانند لفظ استعمال کیے)۔“ معمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اے اللہ! اس شخص کو پکڑوا دے، جس نے اس نیک گھرانے کے ہاں چوری کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اگلا دن ابھی آدھا بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ سامان اس شخص کے پاس سے مل گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت تھوڑا علم ہے۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اس شخص کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 3404
قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ . إِلا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی آواز سنی، تو فرمایا: ”تم کسی چور کی رات نہیں گزارتے۔“
حدیث نمبر: 3405
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ عُمَرَ ، " قَطَعَ رِجْلَ رَجُلٍ بَعْدَ يَدٍ وَرِجْلٍ سَرَقَ الثَّالِثَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کا پاؤں کٹوا دیا تھا، جس نے تیسری مرتبہ چوری کی تھی، اس سے پہلے اس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹا جا چکا تھا۔
…