کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3326
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ دِينَارٍ بِمِصْرَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : نَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَدَتْ مِنْ زِنًا ، قَالَ : " فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، قَالَ : فَإِذَا هِيَ لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا وَلَمْ تَطْهُرْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا ، قَالَ : فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ وَقَالَ : أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ، تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكٌ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ وَأَبُو وَكِيعٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز نے زنا کے نتیجے میں بچے کو جنم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں اس پر حد جاری کروں۔“ اس کنیز کی حالت یہ تھی کہ ابھی اس کا نفاس ختم نہیں ہوا تھا، اور وہ پاک نہیں ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ابھی اس کا نفاس ختم نہیں ہوا، اور یہ پاک نہیں ہوئی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے، تو اس پر حد جاری کرنا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں پر) حد قائم کرو۔“ شعبہ، اسرائیل، شریک، ابراہیم بن طہمان، اور ابووکیع نے عبدالاعلی کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں متابع کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3326
درجۂ حدیث محدثین: [إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1705، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8199، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7201، 7227، 7228، 7229، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4473، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1441، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3326، 3327، 3328، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 690»
« قال ابن الملقن : في إسناده عبد الأعلى بن عامر الثعلبي قال فيه أحمد وأبو زرعة ضعيف الحديث ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 627)»
حدیث نمبر: 3327
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، نَا زَائِدَةُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا رَبَّكُمْ ، وَاضْرِبُوا أَرِقَّاءَكُمْ إِذَا زَنَوْا ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ ، " فَإِنَّ وَلِيدَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغَتْ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَهَا ، فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِالنِّفَاسِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ إِنْ أَنَا ضُرِبْتُهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي خَشِيتُ أَنَّهَا تَمُوتُ إِنْ أَنَا ضُرِبْتُهَا ، فَأَدَعُهَا حَتَّى تَبَرَّأَ ثُمَّ أَضْرِبُهَا ؟ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ " ،.
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور تمہارے غلام یا کنیزیں اگر زنا کا ارتکاب کریں، تو ان کو (کوڑے) مارو، خواہ وہ محصن ہوں یا محصن نہ ہوں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اسے کوڑے ماروں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کنیز کے پاس آیا، تو اس کے نفاس (یعنی بچے کو جنم دینے) کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے، تو وہ مر جائے گی، میں واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اگر میں نے اسے مارا، تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مر جائے گی، میں اسے رہنے دیا، جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی، پھر اسے کوڑے ماروں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: [أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1705
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1705، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8199، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7201، 7227، 7228، 7229، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4473، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1441، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3326، 3327، 3328، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 690»
«»
حدیث نمبر: 3328
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : فَوَدَعْتُهَا حَتَّى تَمَاثَلَ وَتَشْتَدَّ.
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے اس کنیز کو چھوڑ دیا، جب تک وہ ٹھیک اور صحت یاب نہیں ہو جاتی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3328
درجۂ حدیث محدثین: [أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1705
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1705، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8199، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7201، 7227، 7228، 7229، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4473، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1441، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3326، 3327، 3328، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 690»
«»
حدیث نمبر: 3329
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ أَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے، تو آدمی اسے کوڑے لگائے، زبانی طور پر برا نہ کہے، اگر وہ دوبارہ اس جرم کا ارتکاب کرے، تو اسے کوڑے لگائے، زبانی طور پر برا نہ کہے، اگر وہ پھر اس جرم کا ارتکاب کرے، تو اسے کوڑے لگائے، زبانی طور پر برا نہ کہے، اگر وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرے، تو اسے فروخت کر دے، خواہ (جانور) کے بالوں سے بنی رسی کے عوض کر دے۔“ (یہاں راوی کو شک ہے کہ رسی کے لیے کون سا لفظ استعمال ہوا ہے، حبل یا ضفیر)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3329
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3330
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3331
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ وَ عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ وَ عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ الْمَيْمُونِيُّ ، قَالُوا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، لَمْ يَقُولُوا : عَنْ أَبِيهِ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں انہوں نے یہ بیان نہیں دیا کہ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3331
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3332
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3332
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3333
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3333
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3334
 نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الْأَزْهَرِ ، نا يَعْقُوبُ ، نا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَضْرِبْهَا بِكِتَابِ اللَّهِ لَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَمِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَمِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَمِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِنْ عَادَتِ الرَّابِعَةَ فَلْيَضْرِبْهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ثُمَّ لِيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ» .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے، تو وہ شخص اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق اسے (کوڑے) مارے، زبانی طور پر برا نہ کہے، اگر وہ دوبارہ ایسا کرے، تو پھر ایسا ہی کرے، اگر وہ پھر ایسا کرے، تو وہ شخص بھی ایسا ہی کرے، اگر وہ کنیز چوتھی مرتبہ ایسا کرے، تو وہ شخص اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق اسے کوڑے مارے اور پھر اسے فروخت کر دے، خواہ بالوں سے بنی ہوئی رسی کے عوض میں فروخت کرے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3334
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3335
 وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَ ذَلِكَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3335
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3336
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ سَمْعَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ : ثُمَّ لِيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ ، وَالضَّفِيرُ هُوَ الْحَبْلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے اور اس کا زنا ثابت ہو جائے، تو وہ شخص اس کنیز کو حد کے طور پر کوڑے مارے، لیکن زبانی طور پر برا نہ کہے۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا: ”پھر وہ اسے فروخت کر دے، خواہ بالوں سے بنی ہوئی رسی کے عوض میں فروخت کرے۔“ اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ، ضفیر، سے مراد رسی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3336
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3337
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُونُسُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَوْ بِنَقِيضٍ مِنْ شَعَرٍ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ولو بنقیض من شعر۔“ (یہاں نقیض کا مطلب بھی رسی ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3337
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1461 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4444، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4469، 4470، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1440، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2371، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2565،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3329، 3330، 3331، 3332، 3333، 3334، 3335، 3336، 3337، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7513»
حدیث نمبر: 3338
نَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ نَذِيرٍ أَبُو الْفَضْلِ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ لِعَانٌ ، لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالأَمَةِ لِعَانٌ ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْعَبْدِ لِعَانٌ ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِيَّةِ لِعَانٌ ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ لِعَانٌ " ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْوَقَّاصِيُّ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”چار طرح کے لوگوں کے درمیان لعان نہیں ہو گا: آزاد مرد (شوہر ہو) اور کنیز (بیوی ہو، تو ان کے درمیان لعان نہیں ہو گا)، آزاد عورت (بیوی ہو) اور غلام (شوہر ہو، تو ان کے درمیان لعان نہیں ہو گا)، مسلمان (شوہر) اور یہودی (بیوی)، مسلمان (شوہر) اور عیسائی (بیوی) کے درمیان بھی لعان نہیں ہو گا۔“ عثمان بن عبدالرحمن نامی راوی وقاصی ہیں اور متروک الحدیث ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3338
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2071، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15396، 15397، 15398، 15399، 15400، 15401، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3338، 3339، 3340، 3341، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12504»
«قال الدارقطني والوقاصي متروك الحديث ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 248)»
حدیث نمبر: 3339
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قُتَيْبَةَ الرَّمْلِيُّ ، نَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لا مُلاعَنَةَ بَيْنَهُمُ : النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ " ، وَهَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ جِدًّا ، وَتَابَعَهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا ، وَرُوِيَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ وَهُمَا إِمَامَانِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَوْلَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چار طرح کی خواتین (اور ان کے شوہروں کے درمیان) لعان نہیں ہو گا: وہ عیسائی عورت جو مسلمان کی بیوی ہو، وہ یہودی عورت جو مسلمان کی بیوی ہو، وہ کنیز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو، وہ آزاد عورت جو کسی غلام کی بیوی ہو۔“ عثمان بن عطاء نامی خراسانی ہیں اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہیں، یزید بن بزیع رملی نامی راوی نے اسے عطاء کے حوالے سے نقل کیا ہے، تاہم یہ بھی ضعیف ہیں۔ یہ روایت امام اوزاعی اور ابن جریج کے حوالے سے عمرو بن شعیب کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کی گئی ہے، یہ دونوں حضرات امام ہیں اور ان دونوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3339
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2071، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15396، 15397، 15398، 15399، 15400، 15401، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3338، 3339، 3340، 3341، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12504»
«قال الدارقطني وعثمان بن عطاء الخراساني ضعيف الحديث جدا ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 248)»
حدیث نمبر: 3340
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّبَرِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْكِسَائِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَالأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ لِعَانٌ : الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ ، وَالأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ " ،.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اور ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کیا ہے، انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا)۔ ایک اور سند کے ہمراہ یہ منقول ہے: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”چار طرح کی خواتین اور ان کے شوہروں کے درمیان لعان نہیں ہو گا: وہ یہودی عورت جو کسی مسلمان کی بیوی ہو، وہ عیسائی عورت جو کسی مسلمان کی بیوی ہو، وہ آزاد عورت جو کسی غلام کی بیوی ہو، اور وہ کنیز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3340
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2071، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15396، 15397، 15398، 15399، 15400، 15401، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3338، 3339، 3340، 3341، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12504»
«قال الدارقطني : فإن راويه عن ابن جريج والأوزاعي عمر بن هارون وليس بالقوي ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 248)»
حدیث نمبر: 3341
نَا الرَّهَاوِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، نَا أَبِي ، نَا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَتَّابَ بْنَ أَسَدٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، وَزَيْدُ بْنُ رُفَيْعٍ ضُعَفَاءُ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتاب بن اسید کو بھیجا (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)۔ اس روایت کے راوی حماد بن عمرو، عمار بن مطر اور زید بن رفیع ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2071، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15396، 15397، 15398، 15399، 15400، 15401، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3338، 3339، 3340، 3341، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12504»
«قال الدارقطني : وتابعه يزيد بن زريع عن عطاء وهو ضعيف أيضا ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 248)»
حدیث نمبر: 3342
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، يَزْعُمُ أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ جَلَدَ رَجُلا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ لَهُ ، وَلَمْ يُطَلِّقْهَا الْعَبْدُ ، كَانَتْ تَحْتَ الْعَبْدِ ، وَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدًا مِنَ امْرَأَةٍ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا ، ثُمَّ اعْتَرَفَ بِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا ، حَتَّى إِذَا وُلِدَ أَنْكَرَهُ ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً لِفِرْيَتِهِ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَلْحَقَ بِهِ وَلَدَهَا " .
محمد محی الدین
قبیصہ بن ذوہیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سو کوڑے لگوائے، جس نے اپنی ایک ایسی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی، جو ایک غلام کی بیوی تھی، اور اس غلام نے اسے طلاق نہیں دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا تھا، جس نے ایک عورت کے بچے (کا اپنی اولاد ہونے) کا پہلے انکار کیا، وہ بچہ اس وقت اس عورت کے پیٹ میں تھا، پھر اعتراف بھی کر لیا، وہ بچہ اس وقت بھی اس عورت کے پیٹ میں تھا، جب وہ بچہ پیدا ہوا، تو اس شخص نے پھر اس کا انکار کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس نے عورت پر جو الزام لگایا ہے، اس کی سزا میں (حد قذف کے طور پر) اسے اسی کوڑے لگائے جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بچے کا نسب اس عورت کے ساتھ لاحق کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3342
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15464، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3342»
«قال ابن حجر: إسناده حسن ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 463)»
حدیث نمبر: 3343
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " لا أَجِدُ أَحَدًا يُصِيبُ حَدًّا فَأُقِيمُهُ عَلَيْهِ فَيَمُوتُ فَأَرَى أَنِّي أَدِيهِ ، إِلا صَاحِبَ الْخَمْرِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُسِنَّ فِيهِ شَيْئًا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص قابل حد جرم کا ارتکاب کرے اور میں اس پر حد جاری کروں اور اس وجہ سے وہ مر جائے، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے اس کی دیت ادا کرنی ہو گی، سوائے اس شخص کے جس پر شراب پینے کی حد جاری ہوئی ہو، کیونکہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بھی (باقاعدہ) مقرر نہیں کی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3343
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6778، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1707، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5252، 5253، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4486، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3343، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1039»
«اختلف فيه و الصحيح عن مطرف عن عمير بن سعيد ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (4 / 92)»
حدیث نمبر: 3344
نَا نَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلافُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ الشُّرَّابَ كَانُوا يُضْرَبُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَبِالْعُصِيِّ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَجْلِدُهُمْ أَرْبَعِينَ حَتَّى تُوُفِّيَ ، فَكَانَ عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَجَلَدَهُمْ أَرْبَعِينَ كَذَلِكَ ، حَتَّى أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ وَقَدْ شَرِبَ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ ، فَقَالَ : لِمَ تَجْلِدُنِي ؟ بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَأَيُّ كِتَابِ اللَّهِ تَجِدُ أَنْ لا أَجْلِدَكَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 ، فَأَنَا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ، ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا سورة المائدة آية 93 ، وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة المائدة آية 93 ، شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا ، وَأُحُدًا ، وَالْخَنْدَقَ ، وَالْمَشَاهِدَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلا تَرُدُّونَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ هَؤُلاءِ الآيَاتِ أنزلت عُذْرًا لِلْمَاضِينَ وَحَجَّةً عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ سورة المائدة آية 90 الآيَةَ ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَنْفَذَ الآيَةَ الأُخْرَى ، فَإِنْ كَانَ مِنَ : الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 الآيَةَ ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ نَهَاهُ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : صَدَقْتَ ، مَاذَا تَرَوْنَ ؟ قَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ ، وَإِذَا سَكِرَ هَذِيَ ، وَإِذَا هَذِيَ افْتَرَى ، وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانُونَ جَلْدَةً ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں شراب پینے والوں کو ہاتھوں، جوتوں اور لاٹھیوں کے ذریعے مارا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے زیادہ تعداد میں شراب پینے کے مقدمات پیش ہوئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو چالیس کوڑے لگوائے۔ جب ان کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے لگوائے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو لایا گیا جنہوں نے شراب پی تھی۔ انہیں کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا، تو وہ بولے: آپ مجھے کیسے کوڑے مار سکتے ہیں جب کہ آپ کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب کا حکم موجود ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آپ کو اللہ کی کتاب کا حکم وہ کہاں سے ملا ہے کہ میں آپ کو کوڑے نہ ماروں؟ تو انہوں نے کہا: اللہ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان پر اس چیز کے حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا جو انہوں نے کھایا پیا۔“ (وہ صاحب بولے) میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ایمان لائے، انہوں نے نیک اعمال کیے، پرہیزگاری اختیار کی اور مومن ہوئے، پھر پرہیزگار ہوئے اور انہوں نے اچھائی کی (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں شریک رہا ہوں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے ہو جو اس نے کہا ہے؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آیت گزرے ہوئے لوگوں کے عذر کے طور پر منافقین کے خلاف حجت کے طور پر نازل ہوئی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے ایمان والو! بیشک شراب اور جوا۔“ سیدنا ابن عباس نے ان دونوں آیتوں کو مکمل پڑھا اور بولے: اگر یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، تو اللہ نے تو انہیں شراب پینے سے منع کیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ (پھر دوسرے لوگوں سے دریافت کیا) آپ لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے، (میں اسے کیا سزا دوں)؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص شراب پیے وہ مدہوش ہو جاتا ہے، جب مدہوش ہو جاتا ہے تو ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان بکتا ہے تو زنا کا جھوٹا الزام لگاتا ہے، اور زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جاتے ہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت ان صاحب کو اسی کوڑے لگائے گئے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3344
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 310، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8224، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5269، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17622، 17623، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3344، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4441، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11550، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 9349»
حدیث نمبر: 3345
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ ، حَدَّثَنِي سَلامَةُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَضَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، " يَضْرِبُ رَجُلا وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ " .
محمد محی الدین
سائب بن یزید بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، جب انہوں نے اس شخص کو کوڑے لگوائے، جس سے شراب کی بو آئی تھی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3345
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1487 ، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5711 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5198، 6814،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3345، 3346، 4615، 4689، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17028»
حدیث نمبر: 3346
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُونُسُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، " أَنَّهُ جَلَدَ رَجُلا وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ الْحَدَّ تَامًّا " .
محمد محی الدین
سائب بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کوڑے لگوائے اور مکمل حد (یعنی اسی کوڑے لگوائے)، اس شخص سے انہیں شراب کی بو آئی تھی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3346
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1487 ، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5711 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5198، 6814،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3345، 3346، 4615، 4689، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17028»
« قال الزیلعي : بسند صحيح ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 349)»
حدیث نمبر: 3347
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ابْنُ أَخِي حَزْمٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنْ يَهُودِيًّا مَرَّ بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا حُلِيٌّ لَهَا ، فَأَخَذَ عَلَيْهَا وَأَلْقَاهَا فِي بِئْرٍ ، فَأُخْرِجَتْ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقِيلَ : مَنْ قَتَلَكِ ؟ ، قَالَتْ : فُلانٌ الْيَهُودِيُّ ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی شخص ایک لڑکی کے پاس سے گزرا، اس لڑکی نے کوئی زیور پہنا ہوا تھا، اس نے (وہ زیور چھین کر لڑکی کو زخمی کر کے) ایک کنویں میں ڈال دیا، جب اس لڑکی کو باہر نکالا، تو اس میں زندگی کی رمق تھی، اس سے دریافت کیا گیا: ”تمہیں کس نے قتل کیا ہے؟“ اس نے بتایا: فلاں یہودی نے، اس یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بھی قتل کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3347
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، 6877، 6879، 6884، 6885، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1672، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4744 ، 4745 ، 4746 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4527، 4528، 4529، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2400، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2665، 2666،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3347، 3348، 3349، 3350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12863»
حدیث نمبر: 3348
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو عُثْمَانَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، أَيْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات چھین کر قتل کر دیا، اس یہودی نے اس لڑکی کو پتھر مار کر قتل کیا، جب اس لڑکی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو اس میں زندگی کی رمق موجود تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے جواب میں سر کے اشارے سے کہا: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے جواب میں سر کے اشارے کے ذریعے کہا: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری مرتبہ اس سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ تو اس نے سر کے اشارے سے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھوا کر کچل کر اسے قتل کروا دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3348
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، 6877، 6879، 6884، 6885، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1672، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4744 ، 4745 ، 4746 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4527، 4528، 4529، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2400، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2665، 2666،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3347، 3348، 3349، 3350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12863»
حدیث نمبر: 3349
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، أنا يَزِيدُ ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، إِلا أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ : " وَاعْتَرَفَ الْيَهُودِيُّ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم قتادہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس یہودی نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3349
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، 6877، 6879، 6884، 6885، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1672، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4744 ، 4745 ، 4746 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4527، 4528، 4529، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2400، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2665، 2666،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3347، 3348، 3349، 3350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12863»
حدیث نمبر: 3350
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَجُلا مِنَ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى تَمَائِمَ لَهَا ، وَرَمَى بِهَا فِي قَلِيبٍ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ ، فَرُجِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کو اس کے ہار چھین کر زخمی کر کے ایک گڑھے میں پھینک دیا اور اس لڑکی کا سر پتھر کے ذریعے کچل دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس (یہودی) کو سنگسار کر کے مارا جائے، تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3350
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، 6877، 6879، 6884، 6885، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1672، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4744 ، 4745 ، 4746 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4527، 4528، 4529، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2400، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2665، 2666،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3347، 3348، 3349، 3350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12863»
حدیث نمبر: 3351
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ رَجُلا زَنَى ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ ، ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ أُحْصِنَ ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے گئے، پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ شخص محصن ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3351
درجۂ حدیث محدثین: موقوف
تخریج حدیث «موقوف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 882، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7173، 7174، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4438، 4439، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17048، 17049، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3351، 3352»
«قال النسائي : لا نعلم أحدا رفعه غير ابن وهب ووقفه هو الصواب ورفعه خطأ ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 328)»
حدیث نمبر: 3352
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، نَا اللَّيْثُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، نَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَجُلا زَنَى بِامْرَأَةٍ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ ، ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ أُحْصِنَ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے گئے، پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ شخص محصن ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3352
درجۂ حدیث محدثین: موقوف
تخریج حدیث «موقوف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 882، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7173، 7174، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4438، 4439، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17048، 17049، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3351، 3352»
«قال النسائي : لا نعلم أحدا رفعه غير ابن وهب ووقفه هو الصواب ورفعه خطأ ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 328)»
حدیث نمبر: 3353
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدَنِيِّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي خَلادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ ، فَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْلِسْ ، فَانْتَهَرَهُ ، فَجَلَسَ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، قَالَ : وَمَا حَدُّكَ ؟ ، قَالَ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَمِنْهُمْ عَلِيٌّ ، وَعَبَّاسٌ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ ، وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تُجْلَدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَاحِبَتُكَ ؟ ، قَالَ : فُلانَةُ ، لامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَدَعَاهَا ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : كَذَبَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيَّةٌ ، اللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شُهَدَاؤُكِ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا ، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ أَنْ تَكُونَ خَابَثْتَهَا ، فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا ، وَإِلا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي شُهُودٌ ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ جَلْدَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، بنو لیث بن بکر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص وہاں آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ پر حد جاری کریں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے اسے ڈانٹا، تو وہ بیٹھ گیا، وہ پھر کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ پر حد جاری کریں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، پھر وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ پر حد جاری کر دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کون سا قابل حد (جرم کا ارتکاب کیا ہے)؟“ اس نے عرض کی: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام صحبت کی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے، جن میں سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، فرمایا: ”اسے لے جا کر کوڑے لگاؤ۔“ بنو لیث سے تعلق رکھنے والا وہ شخص شادی شدہ نہیں تھا، عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! آپ اس عورت کو کوڑے کیوں نہیں لگواتے جس کے ساتھ اس نے گناہ کیا ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کوڑے لگاؤ، پھر میرے پاس لے کر آؤ۔“ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تمہاری ساتھی عورت کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”فلاں عورت۔“ اس نے بنو بکر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا نام لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس بارے میں دریافت کیا، وہ بولی: ”اس نے جھوٹ کہا ہے، اللہ کی قسم! میں تو اسے جانتی بھی نہیں ہوں، اور اس نے جو الزام لگایا ہے، میں اس سے بری ہوں اور میں جو کہہ رہی ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ گواہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا: ”اس بارے میں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم نے اس عورت کے ساتھ گناہ کیا ہے، کیونکہ یہ عورت تو اس بات کی انکاری ہے کہ تم نے اس کے ساتھ کوئی گناہ کیا ہے؟ اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے، تو میں اس عورت کو کوڑے لگواؤں گا، اور اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، تو میں زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی سزا کے طور پر کوڑے لگواؤں گا۔“ اس شخص نے کہا: ”یا رسول اللہ! میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد کے طور پر اسی کوڑے لگائے گئے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3353
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 918، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8203، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7308، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4467، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17101، 17231، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3353، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2649، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10701»
حدیث نمبر: 3354
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمَّا حَجَّ عُمَرُ حَجَّتَهُ الأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلا فِي بَنِي وَادِعَةَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا قَضَى النُّسُكَ ، فَقَالَ لَهُمْ : هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلا مِنْكُمْ ؟ ، قَالَ الْقَوْمُ : لا ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ ، فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللَّهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ ، وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ ، وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، أَنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ ، وَلا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلا ، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ ، فَلَمَّا حَلَفُوا ، قَالَ : أَدُّوا دِيَتِهِ مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ ، أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : سِنَانٌ ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي ؟ ، قَالَ : لا ، إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ " ، عُمَرُ بْنُ صُبَيْحٍ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری مرتبہ حج کیا، جس کے بعد انہیں حج کرنے کا موقع نہیں ملا، تو اس حج کے دوران بنو وداعہ کے رہائشی علاقے میں ایک مسلمان شخص مقتول پایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، یہ حج ادا کر لینے کے بعد ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے درمیان سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے پچاس ہزار افراد کو لیا، اور انہیں حطیم میں کھڑا کر دیا، اور ان سے یہ قسم لی: ”اللہ کے نام کی قسم، جو اس حرمت والے گھر کا پروردگار ہے، اس حرمت والے شہر کا پروردگار ہے، اس حرمت والے مہینے کا پروردگار ہے، تم لوگوں نے اسے قتل نہیں کیا، اور تمہیں اس کے قاتل کے بارے میں بھی علم نہیں ہے۔“ ان لوگوں نے یہ قسم اٹھائی، جب ان لوگوں نے یہ قسم اٹھا لی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم یا تو اونٹوں کے حساب سے اس شخص کی دیت مغلظہ ادا کر دو، درہم دینار کے حساب سے ایک مکمل دیت اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرو۔“ تو ان میں سے ایک شخص، جس کا نام سنان تھا، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”جب ہم نے قسم اٹھا لی ہے، تو کیا یہ اس ادائیگی کی جگہ کافی نہیں ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تمہارے بارے میں تمہارے نبی کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“ تو ان لوگوں نے دیناروں کے حساب سے ایک مکمل دیت ادا کی اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرنے کو اختیار کیا۔ اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک الحدیث ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3354
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3354 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: عمر بن صبيح متروك الحديث ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 394)»
حدیث نمبر: 3355
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا زَائِدَةُ ، نَا مَنْصُورٌ ، عَنْ ثَابِتٍ يُكَنَّى أَبَا الْمِقْدَامِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، " أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ أَرْبَعَةَ آلافٍ ، وَالْمَجُوسِيِّ ثَمَانَمِائَةٍ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودی اور عیسائی شخص کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم مقرر کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3355
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16436، 16438، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3247، 3248، 3290، 3291، 3292، 3355، 3356، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10214»
حدیث نمبر: 3356
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ زَحْمَوَيْهِ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " كَانَ عُمَرُ يَجْعَلُ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ أَرْبَعَةَ آلافٍ أَرْبَعَةَ آلافٍ ، وَدِيَةَ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانَمِائَةٍ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودی اور عیسائی شخص کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم مقرر کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3356
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16436، 16438، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3247، 3248، 3290، 3291، 3292، 3355، 3356، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10214»
حدیث نمبر: 3357
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ سَكِرَ مِنْ نَبِيذِ تَمْرٍ ، فَجَلَدَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا، جو کھجور کی نبیذ پینے کی وجہ سے مدہوش ہو گیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے لگوائے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3357
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1991،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5275، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3467، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2284، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11231، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3357، 4699، 4700، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5162»
حدیث نمبر: 3358
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْعَامِرِيَّيْنِ دِيَةَ الْمُسْلِمِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا دِيَةُ الْمُسْلِمِ ، كَانَ لَهُمَا عَهْدٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر قبیلے کے دو افراد کی دیت مسلمان کی دیت جتنی قرار دی۔ شیخ ابوبکر فرماتے ہیں: یعنی ان میں سے ہر ایک کی دیت مسلمان جتنی تھی، جب کہ وہ دونوں افراد ذمی تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3358
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3220، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1404، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16447، 16448، 16449، 16570، 16571، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3358، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28582، 34115، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8174»
حدیث نمبر: 3359
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ . ح وثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ دِيَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ نِصْفَ دِيَةِ الْمُسْلِمِ " ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ : دِيَةُ الْكَافِرِ مثل نِصْفِ دِيَةِ الْمُسْلِمِ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی دیت، مسلمان کی دیت کا نصف مقرر کی ہے۔ ابن وہب نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے نصف جتنی مقرر کی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3359
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4805 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6976، 6981، 6982، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4541، 4542، 4564، 4583، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1413 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2630، 2644، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3242، 3359، 3360، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6774»
حدیث نمبر: 3360
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفَ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ ، وَهُمُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: دونوں قسم کے اہل کتاب (یعنی یہودیوں اور عیسائیوں) کی دیت، مسلمانوں کی دیت جتنی ہو گی، (راوی کہتے ہیں) اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3360
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4805 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6976، 6981، 6982، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4541، 4542، 4564، 4583، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1413 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2630، 2644، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3242، 3359، 3360، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6774»
«قال البيهقي: هذا لا يحتج بمثله فيه محمد بن راشد وهو ضعيف عند أهل الحديث ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 429)»
حدیث نمبر: 3361
نَا نَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ لاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا ، عِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَعِشْرُونَ حِقَّةً ، وَعِشْرُونَ بَنَاتُ لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت میں (اونٹوں کی) پانچ قسمیں ہوں گی، بیس جذعہ ہوں گے، بیس حقہ ہوں گے، بیس بنت لبون ہوں گی، بیس بنو لبون ہوں گے اور بیس بنات مخاض ہوں گی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3361
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
حدیث نمبر: 3362
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ . ح وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا حَمْزَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الشِّيرَازِيُّ ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " دِيَةُ الْخَطَأِ خَمْسَةُ أَخْمَاسٍ ، عِشْرُونَ حِقَّةً ، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " ، لَفْظُ دَعْلَجٍ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت میں (اونٹوں کی) پانچ قسمیں ہوں گی، بیس جذعہ ہوں گے، بیس حقہ ہوں گے، بیس بنات لبون ہوں گی، بیس بنات مخاض ہوں گی اور بیس بنو لبون نر ہوں گے۔ اس کی سند حسن ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3362
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
حدیث نمبر: 3363
ثنا بِهِ الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
حدیث نمبر: 3364
وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، مِنْهَا عِشْرُونَ حِقَّةً ، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ " ، هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ غَيْرُ ثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ ، مِنْ وُجُوهٍ عِدَّةٍ أَحَدُهَا أَنَّهُ مُخَالِفٌ لَمَّا رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِالسَّنَدِ الصَّحِيحِ عَنْهُ الَّذِي لا مَطْعَنَ فِيهِ ، وَلا تَأْوِيلَ عَلَيْهِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ وَبِمَذْهَبِهِ وَفُتْيَاهُ مِنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ وَنُظَرَائِهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَتْقَى لِرَبِّهِ وَأَشَحُّ عَلَى دِينِهِ مِنْ أَنْ يَرْوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقْضِي بِقَضَاءٍ وَيُفْتِي هُوَ بِخِلافِهِ ، هَذَا لا يُتَوَهَّمُ مِثْلُهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ الْقَائِلُ فِي مَسْأَلَةٍ وَرَدَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَسْمَعْ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَلَمْ يَبْلُغْهُ عَنْهُ فِيهَا قَوْلٌ : أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي ، فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي ، ثُمَّ بَلَغَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ فُتْيَاهُ فِيهَا وَافَقَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِهَا ، فَرَآهُ أَصْحَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَرِحَ فَرَحًا لَمْ يَرَوْهُ فَرِحَ مِثْلَهُ مِنْ مُوَافَقَةِ فُتْيَاهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ كَانَتْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَهَذَا حَالُهُ فَكَيْفَ يَصِحُّ عَنْهُ أَنْ يَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُخَالِفُهُ . وَيَشْهَدُ أَيْضًا لِرِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ مَا رَوَاهُ وَكِيعٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ وَغَيْرُهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں ایک سو اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا، جن میں سے بیس حقہ ہوں گے، بیس جذعہ، بیس بنات لبون، بیس بنات مخاض ہوں گی اور بیس بنو مخاض ہوں گے۔ یہ حدیث ضعیف ہے اور علم حدیث کے ماہرین کے نزدیک یہ کئی اعتبار سے ثابت نہیں ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ روایت اس روایت کی مخالف ہے، جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جس سند پر طعن نہیں کیا جا سکتا، اور اس روایت کی تاویل نہیں کی جا سکتی، ابوعبیدہ اپنے والد کی نقل کردہ حدیث اور ان کے مذہب اور ان کے فتوے کے بارے میں خشف بن مالک اور اس جیسے دیگر افراد سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے پروردگار سے بہت ڈرنے والے تھے اور اپنے دین میں نہایت پختہ تھے، ان کے بارے میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی روایت نقل کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے اور پھر اس کے خلاف فتویٰ دیں، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے بارے میں گمان بھی نہیں کی جا سکتی، حالانکہ جب ان کے سامنے ایک مسئلہ آیا، تو انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہیں سنی ہے اور مجھے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کسی روایت کا کوئی علم نہیں ہے، اس لیے میں اس مسئلہ میں اپنی رائے پیش کروں گا، اگر وہ ٹھیک ہوئی، تو یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہو گی، اور اگر اس میں کوئی غلطی ہوئی، تو وہ میری طرف سے ہو گی۔“ پھر اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا کہ اس مسئلے کے بارے میں ان کا دیا ہوا فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تھا، تو ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ وہ اس بات سے اتنے خوش ہوئے کہ ان کا دیا ہوا فتویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہے، ان کے ساتھیوں نے انہیں اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا، تو جن کی یہ صفت ہو اور یہ حالت ہو، ان کے بارے میں یہ بات کس طرح درست ہو سکتی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی روایت نقل کریں اور پھر اس کے خلاف (فتویٰ دیں)۔ اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ نے نقل کیا ہے اور یہ روایت وکیع، عبداللہ بن وہب اور دیگر محدثین نے سفیان ثوری، منصور، ابراہیم نخعی کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت کی ادائیگی پانچ قسموں کے اونٹوں (کی شکل میں ہو گی)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»
حدیث نمبر: 3365
حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا " ، ثُمَّ فَسَّرَهَا كَمَا فَسَّرَهَا أَبُو عُبَيْدَةَ وَعَلْقَمَةُ عَنْهُ سَوَاءً ، فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَإِنْ كَانَ فِيهَا إِرْسَالٌ فَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ هُوَ أَعْلَمُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَبِرَأْيِهِ وَبِفُتْيَاهُ ، قَدْ أَخَذَ ذَلِكَ عَنْ أَخْوَالِهِ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ يَزِيدَ ، وَغَيْرِهِمْ مِنْ كُبَرَاءِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ الْقَائِلُ : " إِذَا قُلْتُ لَكُمْ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَهُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْهُ ، وَإِذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ سَمَّيْتُهُ لَكُمْ . وَوَجْهٌ آخَرُ : وَهُوَ أَنَّ الْخَبَرَ الْمَرْفُوعَ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ بَنِي الْمَخَاضِ لا نَعْلَمُهُ ، رَوَاهُ إِلا خِشْفُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ إِلا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَرْمَلٍ الْجُشَمِيُّ ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لا يَحْتَجُّونَ بِخَبَرٍ يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ رَجُلٌ غَيْرُ مَعْرُوفٍ ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْعِلْمُ عِنْدَهُمْ بِالْخَبَرِ إِذَا كَانَ رُوَاتُهُ عَدْلا مَشْهُورًا ، أَوْ رَجُلٌ قَدِ ارْتَفَعَ اسْمُ الْجَهَالَةِ عَنْهُ ، وَارْتِفَاعُ اسْمِ الْجَهَالَةِ عَنْهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ رَجُلانِ فَصَاعِدًا ، فَإِذَا كَانَ هَذِهِ صِفَتُهُ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ وَصَارَ حِينَئِذٍ مَعْرُوفًا ، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ انْفَرَدَ بِخَبَرٍ وَجَبَ التَّوَقُّفُ عَنْ خَبَرِهِ ذَلِكَ حَتَّى يُوَافِقَهُ غَيْرُهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَوَجْهٌ آخَرُ أَنَّ خَبَرَ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ لا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْهُ إِلا حَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ ، وَالْحَجَّاجُ فَرَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالتَّدْلِيسِ وَبِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَنْ لَمْ يَلْقَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ قَالَ لِي حَجَّاجٌ لا يَسْأَلْنِي أَحَدٌ عَنِ الْخَبَرِ ، يَعْنِي : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَلا تَسْأَلُونِي مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ : كُنْتُ عِنْدَ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ يَوْمًا فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ ، ثُمَّ قَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ شَيْئًا ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَلا مِنَ الشَّعْبِيِّ إِلا حَدِيثًا وَاحِدًا ، وَلا مِنْ فُلانٍ ، وَلا مِنْ فُلانٍ ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ بَضْعَةَ عَشَرَ كُلُّهُمْ قَدْ رَوَى عَنْهُ الْحَجَّاجُ ، ثُمَّ زَعَمَ بَعْدَ رِوَايَتِهِ عَنْهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَلْقَهُمْ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُمْ ، وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ بَعْدَ أَنْ جَالَسُوهُ وَخَبَّرُوهُ ، وَكَفَاكَ بِهِمْ عِلْمًا بِالرِّجَالِ وَنُبْلا ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ وَسَمِعْتُ كَلامَهُ ، فَذَكَرَ شَيْئًا أَنْكَرْتُهُ ، فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ : رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ بِمَكَّةَ فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا وَلَمْ أَحْمِلْ أَيْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْهُ كَانَ عَدَّهُ مُضْطَرِبًا ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ : الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ ، يَقُولُ : لا يَنْبُلُ الرَّجُلُ حَتَّى يَدَعَ الصَّلاةَ فِي الْجَمَاعَةِ ، وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ ، يَقُولُ : أَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ يُزَاحِمُنِي الْحَمَّالُونَ وَالْبَقَّالُونَ ، وَقَالَ جَرِيرٌ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ ، يَقُولُ : أَهْلَكَنِي حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ . وَوَجْهٌ آخَرُ : وَهُوَ أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الثِّقَاتِ رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِيهِ ، فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْنَا عَنْهُ ، وَوَافَقَهُ عَلَى ذَلِكَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، وَخَالَفَهُمَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَطَأِ أَخْمَاسًا : " عِشْرُونَ جِذَاعًا ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنِي لَبُونٍ ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ " ، فَجَعَلَ مَكَانَ الْحِقَاقِ بَنِي لَبُونٍ .
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے: وہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت کی ادائیگی پانچ قسموں کے اونٹوں (کی شکل میں ہو گی)، پھر اس کے بعد ابراہیم نے اس کی وضاحت میں وہی الفاظ نقل کیے ہیں، جیسے ابوعبیدہ اور علقمہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں۔ اگر اس روایت میں ارسال کو تسلیم کر لیا جائے، تو بھی ابراہیم نخعی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ان کی آراء اور ان کے فتاوی کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اس چیز کا علم اپنے ماموں علقمہ، اسود، اور عبدالرحمن سے حاصل کیا ہے اور ان کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اکابر شاگردوں سے حاصل کیا ہے۔ ابراہیم نخعی یہ فرماتے ہیں: ”جب میں آپ کے سامنے یہ کہوں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے وہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں سے سنی ہے، لیکن اگر میں نے کوئی بات کسی ایک شخص سے سنی ہو، تو میں اس کا نام آپ کے سامنے بیان کر دوں گا۔“ اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ مرفوع روایت، جس میں بنو مخاض کا ذکر ہے، ہمارے علم کے مطابق اسے صرف خشف بن مالک نے سیدنا عبداللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ ایک مجہول شخص ہے، اس کے حوالے سے صرف زید بن جبیر حشمی نے احادیث روایت کی ہیں اور علم حدیث کے ماہرین ایسی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے، جسے نقل کرنے میں ایک مجہول راوی منفرد ہو، ان حضرات کے نزدیک کسی بھی روایت پر عمل کرنا اس وقت ثابت ہو گا، جب اسے روایت کرنے والا شخص عادل اور مشہور ہو یا کوئی ایسا شخص ہو، جسے مجہول قرار نہ دیا جا سکے، اور پھر اس کے حوالے سے دو یا دو سے زیادہ افراد اس روایت کو نقل کریں، کیونکہ اس صورت میں اس راوی کو مجہول قرار نہیں دیا جا سکے گا، اور وہ معروف شمار ہو گا، لیکن اگر اس شخص کے حوالے سے صرف ایک فرد نے روایت کو نقل کیا ہو اور وہ بھی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو، تو ایسی روایت کے بارے میں توقف کیا جائے گا، یہاں تک کہ دوسری روایت اس کے موافق آ جائے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ خشف بن مالک کی روایت کو ہمارے علم کے مطابق زید بن جبیر کے حوالے سے صرف حجاج بن ارطاة نے نقل کیا ہے، اور حجاج ایک ایسا شخص ہے، جو تدلیس کے حوالے سے مشہور ہے اور وہ ان حضرات کے حوالے سے بھی روایت نقل کر دیتا ہے، جن سے اس کی ملاقات نہ ہوئی ہو، اور جن سے اس نے احادیث کا سماع نہ کیا ہو۔ شیخ ابومعاویہ ضریر فرماتے ہیں: حجاج نے مجھ سے یہ کہا تھا: ”کوئی شخص مجھ سے روایت کے بارے میں سوال نہ کرے، یعنی میں جب تمہیں کوئی روایت بیان کروں، تو مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ آپ کو اس بارے میں کس نے بتایا ہے؟“ یحییٰ بن زکریا بیان کرتے ہیں: ایک دن میں حجاج بن ارطاة کے پاس موجود تھا، اس نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا، پھر بولا: ”میں نے زہری سے کوئی روایت نہیں سنی، ابراہیم نخعی اور شعبی سے صرف ایک ایک روایت سنی ہے، میں نے فلاں سے بھی کوئی روایت نہیں سنی، فلاں سے بھی کوئی روایت نہیں سنی۔“ اس طرح اس نے سترہ کے لگ بھگ افراد کا نام لیا، یہ سب حضرات وہ تھے، جن کے حوالے سے حجاج روایات نقل کرتا ہے اور پھر ان کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد اس نے یہ کہا کہ اس نے ان حضرات سے ملاقات نہیں کی اور ان حضرات سے کوئی روایت نہیں سنی۔ سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید القطان اور عیسیٰ بن یونس نے اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے بارے میں جان کر اس کی روایات کو متروک قرار دیا ہے اور آپ کے لیے ان حضرات کا علم رجال میں ماہر ہونا کافی ہے۔ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ حجاج بن ارطاة کے پاس گیا، میں اس کا کلام سن رہا تھا، اس نے ایک ایسی بات کا ذکر کیا، جو میرے نزدیک غلط تھی، تو میں نے اس کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی۔“ یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں: ”میں نے مکہ میں حجاج بن ارطاة کو دیکھا، لیکن میں نے اس سے کوئی حدیث نوٹ نہیں کی، میں نے کسی شخص کے حوالے سے بھی اس سے کوئی حدیث نوٹ نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ یحییٰ بن سعید کے نزدیک حجاج روایات میں اضطراب نقل کرتا ہے۔“ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: ”حجاج بن ارطاة کی نقل کردہ روایت کو استدلال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔“ عبداللہ بن ادریس فرماتے ہیں: ”میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی اس وقت تک سمجھدار نہیں ہوتا، جب تک باجماعت نماز پڑھنا نہ چھوڑ دے۔“ عیسیٰ بن یونس کہتے ہیں: ”میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نماز پڑھنے کے لیے نکلتا ہوں، تو راستے میں مزدور اور سبزی فروش رکاوٹ ڈالتے ہیں۔“ جریر بیان کرتے ہیں: ”میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مال اور مرتبہ کی محبت نے مجھے ہلاکت کا شکار کر دیا۔“ اس مسئلے کا ایک پہلو یہ ہے کہ کئی ثقہ راویوں نے اس حدیث کو حجاج بن ارطاة کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے نقل کرنے میں اس روایت میں اختلاف کیا ہے۔ عبدالرحیم بن سلیمان نے حجاج کے حوالے سے اسے ان الفاظ میں نقل کیا ہے، جو ہم ان کے حوالے سے ذکر کر چکے ہیں، اس بارے میں عبدالواحد بن زیاد نے ان کی موافقت کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل خطا کی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: اس میں پانچ طرح کے اونٹ ادا کیے جائیں گے، بیس جذعہ ہوں گے، بیس بنات لبون ہوں گی، بیس بنو لبون ہوں گے، بیس بنات مخاض ہوں گی، بیس نر بنو مخاض ہوں گے۔ انہوں نے حقہ کی بجائے بنو لبون ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 4806 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6977، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4545، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1386، 1386 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2412، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2631،والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3361، 3362، 3363، 3364، 3365، 3366، 3367، 3368، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3709»
«قال الدارقطني: بالسند الصحيح عنه الذي لا مطعن فيه ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 357)»