حدیث نمبر: 3206
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، قَالا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ : أَعْقِلُ مَنْ لا أَكَلَ وَلا شَرِبَ ، وَلا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ ، عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کر دینے) کا تاوان ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر کی ادائیگی مقرر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فریق کے خلاف فیصلہ دیا تھا، ان کے ایک فرد نے کہا: ”کیا میں اس کی دیت ادا کروں؟ جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، کوئی آواز نہیں نکالی، وہ رویا نہیں، اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو شاعروں کی طرح گفتگو کر رہا ہے، اس بارے میں ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر تاوان کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3207
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، ح وَنا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَشَدَ النَّاسَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَأَخَذَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى مِسْطَحًا فَضَرَبَتْ بِهِ رَأْسَهَا فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا " ، وَقَالَ ابْنُ بُهْلُولٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَشَدَ النَّاسَ : مَا تَعْلَمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ ؟ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، قَالَ : كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ ، وَأَمَرَ أَنْ تُقْتَلَ بِهَا " ، وَقَالَ ابْنُ الْجُنَيْدِ : فَقَامَ حَمَلُ أَوْ حَمَلَةُ بْنُ مَالِكٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا: ”پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کرنے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فیصلہ دیا تھا؟“ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ انصاری کھڑے ہوئے، انہوں نے بتایا: ”میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری، اس نے وہ لکڑی اس کے سر میں ماری، جس کے نتیجے میں وہ دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ مر گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اس کے تاوان میں ایک غلام یا کنیز ادا کیا جائے گا، اور عورت کے بدلے میں (قتل کرنے والی) عورت کو قتل کر دیا جائے گا۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا: ”پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کرنے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فیصلہ دیا تھا؟“ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ انصاری کھڑے ہوئے، انہوں نے بتایا: ”میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری، اس نے وہ لکڑی اس کے سر میں ماری، جس کے نتیجے میں وہ دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ مر گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اس کے تاوان میں ایک غلام یا کنیز ادا کیا جائے گا، اور عورت کے بدلے میں (قتل کرنے والی) عورت کو قتل کر دیا جائے گا۔“ ابن جنید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”حملہ بن مالک یا شاید حمل بن مالک کھڑے ہوئے (یعنی ان کے نام کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔“
حدیث نمبر: 3208
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّارُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : " كَانَ شَيْءٌ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا " . فَقُلْتُ لِعَمْرٍو : لا ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ : كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : شَكَّكْتَنِي.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ دینے کے وقت موجود تھے، حمل بن نابغہ انصاری آئے اور بتایا: ”دو عورتوں کے درمیان لڑائی ہو گئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کر دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کا تاوان ادا کرنے اور مقتول عورت کے بدلے میں قاتل کو قتل کر دیے جانے کا فیصلہ دیا۔“ راوی (ابن جریج) بیان کرتے ہیں: میں نے عمرو (بن دینار) سے دریافت کیا، طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے مجھے اس طرح نہیں بتایا، تو عمرو بن دینار بولے: ”تم نے مجھے شک میں مبتلا کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3209
أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُس عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَءًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ ، يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ ، فَجَرَحَتْ ، أَوْ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودٍ ظَلَّتْهَا ، فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذِهِ الْقَضِيَّةَ لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ . قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ ، أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ فَرَسٍ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے پیٹ میں موجود بچے (کو قتل کیے جانے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سنا ہے۔“ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کھڑے ہوئے اور بولے: ”اے امیر المؤمنین! میں دو عورتوں (یعنی دو سکنوں) کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کر اس دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کی (دیت) ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ اکبر! اگر ہم یہ حدیث نہ سنتے، تو مختلف فیصلہ دیتے۔“
حدیث نمبر: 3210
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ : " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ فِي الْمَرْأَةِ ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ ، أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ فَرَسٍ " .
محمد محی الدین
طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ طلب کیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا، اور پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کے طور پر غلام یا کنیز یا گھوڑے کی ادائیگی کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3211
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْجَزَرِيُّ ، نَا عَفَّانُ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُقْتَلُ الْمَرْأَةُ إِذَا ارْتَدَّتْ " ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى كَذَّابٌ ، يَضَعُ الْحَدِيثَ عَلَى عَفَّانَ وَغَيْرِهِ ، وَهَذَا لا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا رَوَاهُ شُعْبَةُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب عورت مرتد ہو جائے، تو اسے قتل نہ کیا جائے۔“ اس روایت کا راوی عبداللہ بن عیسیٰ کذاب ہے، اس نے عفان اور دیگر راویوں کے حوالے سے جھوٹی روایات نقل کی ہیں، اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی درست روایت منقول نہیں ہے، شعبہ نے بھی اسے روایت نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3212
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْعَطَّارُ الْفَقِيهُ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ ، قَالَ : تُجْبَرُ وَلا تُقْتَلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں فرماتے تھے: ”اسے قید کر دیا جائے گا، اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3213
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْمُرْتَدَّةُ عَنِ الإِسْلامِ ، تُحْبَسُ وَلا تُقْتَلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اسلام سے مرتد ہونے والی عورت کو قید کیا جائے گا، اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3214
وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : " ارْتَدَّتِ امْرَأَةٌ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَتَابَ ، فَإِنْ تَابَتْ وَإِلا قُتِلَتْ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: غزوہ احد کے موقع پر ایک عورت مرتد ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ”اسے توبہ کرنے کے لیے کہا جائے، اگر وہ توبہ کر لیتی ہے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3215
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَاءَ ، نَا نَجِيحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا : أُمُّ مَرْوَانَ ارْتَدَّتْ عَنِ الإِسْلامِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرَضَ عَلَيْهَا الإِسْلامُ ، فَإِنْ رَجَعَتْ ، وَإِلا قُتِلَتْ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک عورت، جس کا نام ام مروان تھا، وہ اسلام سے مرتد ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: ”اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے، اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کر لے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3216
نَا ابْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3217
نَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ الْقَرَاطِيسِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَجَلِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الْمَرْأَةِ : إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الإِسْلامِ أَنْ تُذْبَحَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام چھوڑ کر مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”اسے ذبح کر دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 3218
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَزَّازُ ، مِنْ كِتَابِهِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُكَيْرٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَلْمٍ الْعَبْدِيُّ ، نَا الْخَلِيلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْكِنْدِيُّ بِعَبَادَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " ارْتَدَّتِ امْرَأَةٌ عَنِ الإِسْلامِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرِضُوا عَلَيْهَا الإِسْلامَ ، فَإِنْ أَسْلَمَتْ ، وَإِلا قُتِلَتْ ، فَعُرِضَ عَلَيْهَا فَأَبَتْ أَنْ تُسْلِمَ ، فَقُتِلَتْ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک عورت اسلام سے مرتد ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: ”لوگ اس کے سامنے اسلام پیش کریں، اگر وہ اسلام قبول کر لیتی ہے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔“ اس عورت کے سامنے اسلام پیش کیا گیا، تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، تو اسے قتل کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 3219
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ " فِي الْمَرْأَةِ تَكْفُرُ بَعْدَ إِسْلامِهَا ، قَالَ : تُسْتَتَابُ ، فَإِنْ تَابَتْ ، وَإِلا قُتِلَتْ " .
محمد محی الدین
زہری ایسی خاتون کے بارے میں، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کفر اختیار کر لے، یہ فرماتے ہیں: ”اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا، اگر وہ توبہ کر لے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3220
وَعَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ ، قَالَ : تُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَتْ ، وَإِلا قُتِلَتْ " .
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ”اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا، اگر وہ توبہ کر لے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3221
نَا ابْنُ الْبُهْلُولِ ، نَا أَبِي ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : " إِنْ أَسْلَمَتْ ، وَإِلا قُتِلَتْ " .
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ”اگر وہ عورت اسلام قبول کر لے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3222
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " كُلُّ مُرْتَدٍّ عَنِ الإِسْلامِ ، مَقْتُولٌ إِذَا لَمْ يَرْجِعْ ذِكْرًا أَوْ أُنْثَى " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر وہ مرتد، جو دوبارہ اسلام قبول نہ کرے، اسے قتل کر دیا جائے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔“
حدیث نمبر: 3223
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَعُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ قَالُوا : " إِذَا اشْتَبَهَ عَلَيْكَ الْحَدُّ ، فَادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب حد (ثابت ہونے) کا معاملہ تمہارے سامنے مشتبہ ہو جائے، تو جہاں تک ہو سکے، تم حد کو ہٹاؤ (یعنی جاری کرنے سے بچو)۔“
حدیث نمبر: 3224
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ " أُتِيَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ مَصْلِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَهُ امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ ، فَأَكَلَ مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَمَرِضَا مَرَضًا شَدِيدًا عَنْهَا ، ثُمَّ إِنَّ بَشَرًا تُوُفِّيَ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَأُتِيَ بِهَا ، فَقَالَ : حَكِ مَاذَا أَطْعَمْتِنَا ؟ ، قَالَتْ : أَطْعَمْتُكَ السُّمَّ ، عَرَفْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا أَنَّ ذَلِكَ لا يَضُرُّكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَيَبْلُغُ مِنْكَ أَمَرَهُ ، وَإِنْ كُنْتَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُلِبَتْ .
محمد محی الدین
یحییٰ بن عبدالرحمن اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا، جس میں زہر ملا ہوا تھا، یہ گوشت ایک یہودی عورت نے تحفے کے طور پر پیش کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کھایا، تو یہ دونوں حضرات شدید بیمار ہو گئے، پھر سیدنا بشر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، جب ان کا انتقال ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی عورت کو بلایا، اسے لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم نے ہمیں کیا کھلایا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میں نے آپ کو زہر کھلایا ہے، میں نے یہ سوچا، اگر آپ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، کیونکہ اللہ آپ کے حوالے سے اپنے فیصلے کو پورا کرے گا (یعنی اسلام کے غالب ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حیات رہیں گے)، اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں، تو میری یہ خواہش ہے کہ میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے مصلوب کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 3225
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا أَبِي ، سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمَاعِزٍ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ ، لَعَلَّكَ لَمَسْتَ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَلَعَلَّكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : أَمَرَ بِرَجْمِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہو سکتا ہے، تم نے چھوا ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے (زنا ہی کیا ہے)؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3226
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أنا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نَا أَبُو السَّائِبِ ، نَا يَزِيدُ ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ " ، فَقَالَ : لا ، قَالَ : " فَكَذَا ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " . وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ " ، قَالَ : لا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَعَلْتَ كَذَا ؟ " ، لا يُكَنِّي ، قَالَ : نَعَمْ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے زنا کا اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز سے فرمایا: ”ہو سکتا ہے، تو نے صرف بوسہ لیا ہو، یا صرف چھو لیا ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایسا ہی ہے (یعنی تم نے زنا ہی کیا ہے)؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ ابن سنان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو، تم نے ہاتھ لگایا ہو، یا دیکھا ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے یہ یہ (یعنی زنا) کیا ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنایہ کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3227
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحُبُلِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلأَسْلَمِيِّ الَّذِي أَتَاهُ وَقَدْ زَنَى : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ ، أَوْ لَمَسْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے کا جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، جس نے زنا کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ہو سکتا ہے، تم نے صرف بوسہ لیا ہو، یا صرف چھو لیا ہو، یا صرف دیکھا ہو؟“
حدیث نمبر: 3228
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، نَا أَبِي ، نَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، فَقَالَ : انْطَلِقِي حَتَّى تَفْطِمِي وَلَدَكِ ، فَلَمَّا فَطَمَتْ وَلَدَهَا أَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ فِيَّ الْحَدَّ ، فَقَالَ : هَاتِ مَنْ يَكْفُلُ وَلَدَكِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا أَكْفُلُ وَلَدَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَجَمَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد جاری کریں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اس وقت آنا، جب تمہارا بچہ دودھ پینا چھوڑ دے۔“ جب اس عورت کے بچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا، تو وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”میں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ مجھ پر حد جاری کر دیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص لے کر آؤ، جو تمہارے بچے کا کفیل بن سکے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اس کے بچے کا کفیل بنتا ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو سنگسار کروا دیا۔
حدیث نمبر: 3229
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، وَابْنُ قَحْطَبَةَ قَالا : نَا مَحْمُودُ بْنُ خِرَاشٍ ، أنا هُشَيْمٌ ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةَ جَلْدَةٍ ، ثُمَّ رَجَمَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقِيلَ لَهُ جَمَعْتَ عَلَيْهِ حَدَّيْنِ ، فَقَالَ : جَلَدْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے لگوائے، اور جمعے کے دن اسے سنگسار کروا دیا، تو ان سے کہا گیا: ”آپ نے دو سزائیں اکٹھی کیوں کر دیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“
حدیث نمبر: 3230
نَا نَا الْحُسَيْنُ ، وَابْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالا : نَا مَحْمُودُ بْنُ خِرَاشٍ ، نَا هِشَامٌ ، نَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَوْلاةٍ لِسَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ قَدْ فَجَرَتْ فَضَرَبَهَا مِائَةً ثُمَّ رَجَمَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سعید بن قیس کی کنیز کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے لگوائے، پھر اسے سنگسار بھی کروا دیا، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“
حدیث نمبر: 3231
نَا نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدٌ هُوَ الدُّولابِيُّ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " جَلَدَ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَقَالَ : جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے لگوائے اور جمعے کے دن اسے سنگسار کروا دیا، تو ان سے کہا گیا: ”آپ نے دو سزائیں اکٹھی کر دیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“
حدیث نمبر: 3232
نَا نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَوْلاةِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْهَمْدَانِيِّ ، " فَجَلَدَهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ، وَقَالَ : جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سعید بن قیس کی کنیز کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے لگوائے، پھر اسے سنگسار بھی کروا دیا، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“
حدیث نمبر: 3233
نَا نَا أَبُو عُمَرَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو الْجَوَّابِ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بِشِرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ قَدْ فَجَرَتْ ، فَرَدَّهَا حَتَّى وَلَدَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ ، قَالَ : ائْتُونِي بِأَقْرَبِ النِّسَاءِ مِنْهَا ، فَأَعْطَاهَا وَلَدَهَا ثُمَّ جَلَدَهَا وَرَجَمَهَا ، وَقَالَ : جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِالسُّنَّةِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُعِيَ عَلَيْهَا وَلَدُهَا أَوْ كَانَ اعْتِرَافٌ ، فَالإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ ، ثُمَّ النَّاسُ ، فَإِنْ نَعَتَهَا شُهُودٌ ، فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ ، ثُمَّ النَّاسُ " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے شرحہ ہمدانیہ (نامی عورت) کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس بھیج دیا کہ وہ پہلے بچے کو جنم دے، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کی سب سے قریبی رشتہ دار خاتون کو میرے پاس لاؤ۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا بچہ اس خاتون کو دے دیا، اس عورت کو پہلے کوڑے لگوائے، پھر سنگسار کروایا اور فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور سنت کے حکم کے تحت اسے سنگسار کیا ہے۔“ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو عورت ناجائز بچے کو جنم دے یا اعتراف کر لے، تو اسے پہلے امام پتھر مارے گا، پھر دوسرے لوگ پتھر ماریں گے، لیکن جس عورت کا جرم گواہوں کے ذریعے ثابت ہو، اسے پہلے گواہ پتھر ماریں گے، پھر دوسرے لوگ پتھر ماریں گے۔“
حدیث نمبر: 3234
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ ، وَالْمَفْعُولَ بِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ، جو قوم لوط کا سا عمل کر رہا ہو، تو یہ عمل کرنے والے اور جس کے ساتھ یہ عمل کیا گیا ہو، دونوں کو قتل کر دو۔“
حدیث نمبر: 3235
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فِي الْبِكْرِ يُوجَدُ عَلَى اللُّوطِيَّةِ ، قَالَ : يُرْجَمُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایسے کنوارے شخص کے بارے میں، جو قوم لوط کا سا عمل کرتے ہوئے پکڑا جائے، یہ فرماتے ہیں: ”اسے سنگسار کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3236
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : يَا مُخَنَّثُ ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ سَوْطًا ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : يَا يَهُودِيُّ ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ " .
محمد محی الدین
سید شهسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو یہ کہے، ’اے ہیجڑے‘، تو (کہنے والے شخص کو) بیس لاٹھیاں مارو، جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو یہ کہے، ’اے یہودی‘، (تو کہنے والے شخص کو) بیس لاٹھیاں مارو، اور جو شخص کسی محرم عورت کے ساتھ صحبت کر لے، اسے قتل کر دو، جو شخص کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کر لے، اس شخص کو قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی مار دو۔“
حدیث نمبر: 3237
نَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ مَعَهُ ، فَقُلْنَا لابْنِ عَبَّاسٍ : مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ عَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، وَلَكِنْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ ، أَوْ يُنْتَفَعُ بِهَا ، وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرے، اسے قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی مار دو۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس سے کہا: ”جانور کا کیا قصور ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو نہیں سنے، تاہم میرا خیال ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ عمل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے کوئی نفع حاصل کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 3238
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا ، فَقَالَتْ : " إِنِّي حُبْلَى ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِلَيْهَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا ، فَفَعَلَ ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا ؟ ، فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، اس نے بتایا: ”میں حاملہ ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا: ”اس کا اچھی طرح خیال رکھنا، جب یہ بچے کو جنم دے، تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ اس عورت کو لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت) سے فرمایا: ”تم جاؤ اور بچے کو دودھ پلاؤ۔“ اس عورت نے ایسا ہی کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر کپڑوں کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ نے پہلے اسے سنگسار کیا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر وہ اہل مدینہ میں ستر افراد کے درمیان تقسیم کی جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو گی، کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والا شخص کوئی مل سکتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟“
حدیث نمبر: 3239
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ . قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟.
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں: تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: ”کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں گے، حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے؟“
حدیث نمبر: 3240
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِكَ جُنُونٌ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : أَحْصَنْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے کا ایک فرد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے بارے میں یہ گواہی دی (کہ وہ زنا کر چکا ہے)، تو نبی نے فرمایا: ”کیا تم مجنون ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے عیدگاہ میں سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے، وہ بھاگا، لیکن لوگ اس تک پہنچ گئے اور اسے سنگسار کر دیا گیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے الفاظ ذکر کیے، تاہم آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔
حدیث نمبر: 3241
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْحِنَّائِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا ، إِذَا طُمِسَتْ ، بِثُلُثِ دِيَتِهَا ، وَفِي الْيَدِ الشَّلاءِ ، إِذَا قُطِعَتْ بِثُلُثِ ، دِيَتِهَا " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا شخص کی آنکھ کو اس کی مخصوص جگہ سے نکال دینے کی دیت (جان کی دیت) کا تہائی حصہ، جب کہ شل (مفلوج) ہاتھ والے شخص کے ہاتھ کاٹے جانے کی دیت (جان کی دیت) کا تہائی حصہ مقرر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3242
نَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْفَضْلِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، قَالَ : فَقُوِّمَ كُلُّ بَعِيرٍ بِثَمَانِينَ ، وَكَانَتِ الدِّيَةُ ثَمَانِيَةَ آلافٍ ، وَجَعَلَ دِيَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ النِّصْفَ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ ، فَكَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ غَلَتِ الإِبِلُ فَقَوَّمَهَا عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَجَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ، وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا هِيَ ، وَجَعَلَ دِيَةَ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانَمِائَةٍ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں (کی ادائیگی کو جان کی) دیت مقرر کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ نے ہر اونٹ کی قیمت اسی درہم مقرر کی، تو دیت کی مجموعی رقم آٹھ ہزار درہم ہوئی، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی دیت، مسلمان کی دیت کا نصف مقرر کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہی رقم رہی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اونٹ مہنگے ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی قیمت ایک سو بیس درہم (فی اونٹ) مقرر کی، تو دیت کی رقم بارہ ہزار درہم ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کی وہی دیت رہنے دی، جو پہلے تھی، انہوں نے مجوسی کی دیت بھی آٹھ سو درہم مقرر کر دی۔
حدیث نمبر: 3243
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، نَا أَبُو كُرْزٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ وَدَى ذِمِّيًّا دِيَةَ مُسْلِمٍ " ، أَبُو كُرْزٍ هَذَا مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعٍ ، غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کو مسلمان کی دیت جتنی دیت ادا کروائی تھی، اس روایت کا راوی ابوکرز متروک الحدیث ہے، نافع کے حوالے سے اس روایت کو صرف اسی نے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3244
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا زَحْمَوَيْهِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، نَا ابْنُ شِهَابٍ ، " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَا يَجْعَلانِ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ إِذَا كَانَا مُعَاهَدَيْنِ دِيَةَ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ ، وَكَانَ عُثْمَانُ ، وَمُعَاوِيَةُ لا يُقِيدَانِ الْمُشْرِكَ مِنَ الْمُسْلِمِ " .
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دونوں حضرات نے یہودی عیسائی شخص کی دیت آزاد مسلمان شخص کی دیت جتنی مقرر کی، بشرطیکہ وہ شخص معاہد (یعنی ذمی) ہو، جب کہ سیدنا عثمان غنی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما مشرک سے دیت نہیں دلواتے تھے۔
حدیث نمبر: 3245
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ الْمَكِّيُّ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فِي الدِّيَةِ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ : وَإِنَّمَا قَالَ لَنَا فِيهِ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرَّةً وَاحِدَةً ، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ كَانَ يَقُولُ : عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت میں بارہ ہزار درہم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا۔ محمد بن میمون نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے استاد نے اسے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہمارے سامنے بیان کیا، تاہم اکثر مرتبہ انہوں نے اس روایت کو عکرمہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسل) روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
…