حدیث نمبر: 3166
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا يَعِيشُ بْنُ الْجَهْمِ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " إِذَا سَرَقَ السَّارِقُ قُطِعَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى ، فَإِنْ عَادَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَادَ ضَمِنَتْهُ السِّجْنُ حَتَّى يُحَدِّثَ خَيْرًا ، إِنِّي أَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ أَنْ أَدَعَهُ لَيْسَ لَهُ يَدٌ يَأْكُلُ بِهَا وَيَسْتَنْجِي بِهَا ، وَرَجُلٌ يَمْشِي عَلَيْهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: جب کوئی شخص چوری کرے، تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے، اگر وہ دوبارہ چوری کرے، تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے، اگر وہ پھر چوری کرے، تو میں اسے قید کر دوں گا، اور اس وقت تک قید رکھوں گا، جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا، مجھے اس بات سے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس (چور) کو ایسی حالت میں کر دوں کہ اس کا کوئی ہاتھ بھی نہ ہو، جس کے ذریعے وہ کچھ کھا سکے یا استنجا کر سکے، یا اس کا کوئی پاؤں نہ ہو، جس کے ذریعے وہ چل سکے۔
حدیث نمبر: 3167
نَا نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَنَّاطِ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا قَتَلَ زَوْجِي ، فَقَالَ الابْنُ : إِنَّ عَبْدِي وَقَعَ عَلَى أُمِّي ، فَقَالَ عَلِيٌّ : خِبْتُمَا وَخَسِرْتُمَا ، إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً يُقْتَلُ ابْنُكِ ، وَإِنْ يَكُنِ ابْنُكِ صَادِقًا نَرْجُمُكِ ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلصَّلاةِ ، فَقَالَ الْغُلامُ لأُمِّهِ : مَا تَنْظُرِينَ أَنْ يَقْتُلَنِي أَوْ يَرْجُمَكِ ؟ فَانْصَرَفَا ، فَلَمَّا صَلَّى سَأَلَ عَنْهُمَا فَقِيلَ : انْطَلَقَا " .
محمد محی الدین
میسرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اور اس کی والدہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ عورت بولی: ”میرے اس بیٹے نے میرے شوہر کو قتل کر دیا ہے۔“ تو بیٹا بولا: ”(مقتول) میرا غلام تھا، جس نے میری ماں کے ساتھ زنا کیا۔“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم دونوں رسوا ہوئے اور خسارے کا شکار ہو گئے، (اے عورت!) اگر تم سچی ہو، تو تمہارے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا، اور اگر تمہارا بیٹا سچا ہے، تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، تو اس لڑکے نے اپنی والدہ سے کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے، یہ مجھے قتل کروا دیں گے یا آپ کو سنگسار کروا دیں؟“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دونوں چلے گئے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے ان دونوں کے بارے میں دریافت کیا، تو بتایا: وہ دونوں جا چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالا : نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ بِشْرٌ : وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ، صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تُعَدُّ وَتُدْعَى وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، غَيْرَ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ ، أَلا وَإِنَّ فِي قَتِيلِ خَطَأِ الْعَمْدِ ، قَتِيلِ السَّوْطِ ، وَالْعَصَا مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا " ،.
محمد محی الدین
عقبہ بن اوس ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ نے یہ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اسی نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے (دشمنوں کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! ہر وہ چیز جو (معاشرے میں) بڑائی اور فضیلت سمجھی جاتی ہو اور شمار کی جاتی ہو، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون (کا بدلہ) اور مال (یعنی ادائیگی) وہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں اسے کالعدم سمجھتا ہوں)، ماسوائے بیت اللہ کی خدمت کے اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے (کیونکہ یہ فضیلت کا معیار ہوں گی)، یاد رکھنا! قتل خطاء شبہ عمدیہ ہے کہ لاٹھی یا عصا کے ذریعے کسی کو مارا گیا ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہیں، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔“
حدیث نمبر: 3169
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَ ذَلِكَ . كَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، لَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبَ بْنَ أَوْسٍ ، وَأَسْنَدَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . كَذَلِكَ رَوَاهُ عَنْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمَعْمَرٌ ، وَخَالَفَهُمَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَرَوَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَذْكُرِ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَأَسْنَدَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَرَوَاهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3170
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو سَلَمَةَ ، نَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ، صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ تُعَدُّ أَوْ تُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا السِّدَانَةَ وَالسِّقَايَةَ ، أَلا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا " ، يَعْنِي مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اس نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے (دشمنوں کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! ہر وہ چیز جو (معاشرے میں) بڑائی (اور فضیلت) سمجھی جاتی ہو اور شمار کی جاتی ہو، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون (کا بدلہ) اور مال (یعنی ادائیگی) وہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں اسے کالعدم قرار دیتا ہوں)، ماسوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے (کیونکہ یہ فضیلت کا معیار ہوں گے)، یاد رکھنا! قتل خطاء شبہ عمدیہ ہے کہ لاٹھی یا عصا کے ذریعے (کسی کو مارا گیا ہو)، اس کی دیت مغلظہ ہے، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔“ (راوی کہتے ہیں:) یعنی اس کی دیت سو اونٹ ہے۔
حدیث نمبر: 3171
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ نَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَقَالَ ابْنُ السُّكَيْنِ : " أَلا إِنَّ قَتِيلَ خَطَأِ الْعَمْدِ ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا " نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن اوس ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے)۔
حدیث نمبر: 3172
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ ، أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ ، وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ ، أَوْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ ، فَإِنِّي أَمْضَيْتُهَا لأَهْلِهَا كَمَا كَانَتْ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ (میں داخل ہوئے)، سیڑھی پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، اپنے بندوں کی مدد کی، اسی نے (کفار کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! قتل خطاء کا مقتول وہ ہے، جسے لاٹھی یا عصا کے ذریعے مارا گیا ہو، اس کی دیت مغلظہ یعنی سو اونٹ ہو گی، جس میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، زمانہ جاہلیت کی ہر ترجیحی وجہ، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون کا بدلہ اور مال کی ادائیگی میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں انہیں کالعدم قرار دیتا ہوں)، ماسوائے (دو چیزوں کے) خانہ کعبہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت، میں انہیں متعلقہ لوگوں کے لیے برقرار رکھتا ہوں، جیسے یہ پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تھیں۔“
حدیث نمبر: 3173
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حدیث نمبر: 3174
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ، نَا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، نَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قَوَدَ إِلا بِالسَّيْفِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف تلوار کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3175
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قَوَدَ إِلا بِالسَّيْفِ " ، قَالَ يُونُسُ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : عَنْ مَنْ أَخَذْتَ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَذْكُرُ ذَلِكَ.
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف تلوار کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔“ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسن بصری سے دریافت کیا: آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 3176
نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو قُتَيْبَةَ ، وَابْنُ بِنْتِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلا السَّيْفَ ، وَفِي كُلِّ شَيْءٍ خَطَأُ أَرْشٍ " عَنِ تَابَعَهُ زُهَيْرٌ وَقَيْسٌ وَغَيْرُهُمَا ، عَنْ جَابِرٍ . وَقَالَ وَرْقَاءُ عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَرَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، فَإِنْ كَانَ حَفِظَ فَهُوَ اسْمُ أَبِي عَازِبٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تلوار کے علاوہ ہر چیز (کے ذریعے کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3177
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلا السَّيْفَ ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ " ، كَذَا قَالَ : عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، وَالَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ.
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تلوار کے علاوہ ہر چیز (کے ذریعے کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3178
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا زُهَيْرٌ ، وَقَيْسٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَيْءٍ سِوَى الْحَدِيدَةِ فَهُوَ خَطَأٌ ، وَفِي كُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوہے (کے ہتھیار کے) علاوہ ہر چیز (کے ذریعے قتل کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3179
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بِنْتِ النُّعْمَانِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3180
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ حَبَّانَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَرَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ ، إِلا مَا كَانَ أُصِيبَ بِحَدِيدَةٍ ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوہے (کے ہتھیار کے) علاوہ ہر چیز (کے ذریعے قتل کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3181
نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الصَّوَّافُ ، نَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقَوَدُ بِالسَّيْفِ ، وَالْخَطَأُ عَلَى الْعَاقِلَةِ " ، كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قصاص صرف اس وقت لیا جائے گا، جب تلوار کے ذریعے قتل کیا گیا، اور قتل خطا میں (دیت کی ادائیگی قاتل کے) خاندان پر عائد ہو گی۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3182
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَمْ أَكُنْ لأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، وَكُنْتُ أقْتُلُهُمْ ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا ، فَقَالَ : وَيْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ . هَذَا ثَابِتٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے کچھ لوگوں کو جلا دیا، اس بات کی اطلاع سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی، تو انہوں نے فرمایا: ”میں ان لوگوں کو آگ میں نہ جلاواتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’اللہ کے عذاب دینے کے طریقے کی طرح (یعنی آگ میں جلا کر) کسی کو عذاب (یعنی سزا) نہ دو۔‘“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں ان لوگوں کو قتل کروا دیتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’جو شخص اپنا دین (یعنی اسلام) تبدیل کر لے، اسے قتل کر دو۔‘“ راوی بیان کرتے ہیں: اس بات کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے فرمایا: ”ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ستیاناس ہو۔“ یہ روایت ثابت ہے اور صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3183
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ثُمَّ أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ ، فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلا ، فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، وَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، وَحُوَيِّصَةُ ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّوا دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ ؟ ، قَالَ : أَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ ؟ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كَفَرُوا ، فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ " ،.
محمد محی الدین
بشیر بن یسار، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: یہ دونوں حضرات خیبر تشریف لے گئے، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کی) صلح چل رہی تھی، یہ دونوں حضرات اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھی سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو وہ خون میں لت پت تھے، اور قتل ہو چکے تھے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کیا، بعد میں جب وہ مدینہ منورہ آئے، تو عبدالرحمن بن سہل، حویصہ بن مسعود اور محیصہ بن مسعود، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمن بن سہل گفتگو کرنے لگے، وہ ان تینوں میں سب سے کم عمر تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے بڑے کو موقع دو۔“ تو وہ خاموش ہو گئے، باقی دونوں حضرات نے بات کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پچاس افراد حلف اٹھا کر اپنے ساتھی کے خون (کے بدلے، راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے قاتل کے خون کے مستحق بننے کے لیے تیار ہو جائیں گے؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم کیسے حلف اٹھا سکتے ہیں؟ جب کہ ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے، ہم نے (قتل ہوتے) دیکھا ہی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم کفار کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں؟“ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو دیت ادا کی۔
حدیث نمبر: 3184
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، نَا أَبِي . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا فَقِيهًا وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ رِجَالا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ : رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثُوهُ ، أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِيهِمْ فِي بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُدْعَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ قُتِلَ بِخَيْبَرَ ، فَذَكَرَ بَشِيرٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنُ زَيْدٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا الْيَهُودُ ، فَتَفَرَّقَ عَبْدُ اللَّهِ وَمُحَيِّصَةُ بِخَيْبَرَ فِي حَوَائِجِهِمَا ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ، .
محمد محی الدین
بنو حارثہ کے آزاد کردہ غلام بشیر بن یسار، جو ایک بزرگ اور سمجھدار آدمی تھے اور انہوں نے اپنے (آقا کے) خاندان بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحابہ کرام کی زیارت بھی کی ہوئی تھی، جن میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ شامل ہیں، بشیر بن یسار ان حضرات کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: قسامت کا حکم بنو حارثہ کے بارے میں آیا تھا، انصار کے ایک فرد سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کر دیے گئے۔ بشیر نے یہ بات ذکر کی: سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خیبر میں تشریف لے گئے، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان) صلح چل رہی تھی، خیبر میں یہودی ہی رہتے تھے، خیبر میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ہم کفار کی قوم کی قسموں کو کیسے قبول کر سکتے ہیں؟“
حدیث نمبر: 3185
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَوْ حُدِّثَا ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ أَتَيَا خَيْبَرَ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
بشیر بن یسار، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی ہے: سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر گئے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 3186
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، عَنْ عَبَّادٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : خَرَجَ مُحَيِّصَةُ ، وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ، إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ فَتَفَرَّقُوا لِحَاجَتِهِمْ ، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ قَتِيلا ، فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا قَسَامَةً تَسْتَحِقُّونَ بِهِ قَاتِلَكُمْ ؟ ، فَكَرِهُوا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ ، نَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ غِبْنَا عَنْهُ ؟ ، قَالَ : فَتَحْلِفُ الْيَهُودُ خَمْسِينَ يَمِينًا فَيَبْرَءُونَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنْ مَالِ الصَّدَقَةِ ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر گئے، وہاں یہ حضرات اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر انہیں سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول ملے، یہ حضرات واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم پچاس افراد قسامت کے طور پر قسم اٹھا کر اپنے قاتل (کو سزا) دے سکتے ہو۔“ تو ان حضرات کو یہ گوارا نہیں ہوا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم غیب کے بارے میں کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں، ہم ایک ایسے معاملے کے بارے میں قسم اٹھائیں، جس میں ہم موجود نہیں تھے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا ہم کفار کی قسموں کو قبول کر لیں؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زکوٰة کا مال آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (اس مقتول) کی دیت ادا کی۔
حدیث نمبر: 3187
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا ، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلا ، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا ؟ ، فَقَالُوا : مَا قَتَلْنَا وَلا عَلِمْنَا قَاتِلا ، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكُبْرَ الْكُبْرَ ، فَقَالَ لَهُمْ : تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ ، فَقَالُوا : مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ، قَالَ : فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ ، قَالُوا : لا نَرْضَى أَيْمَانَ الْيَهُودِ ، وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " ، .
محمد محی الدین
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی، جن کا نام سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے یہ بات بتائی، وہ اپنے قبیلے کے کچھ افراد کے ہمراہ خیبر گئے، وہاں وہ لوگ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر انہوں نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا، تو جن لوگوں کے پاس انہوں نے مقتول کو پایا تھا، ان لوگوں سے انہوں نے کہا: ”تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیوں کیا ہے؟“ تو وہ لوگ بولے: ”ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کے بارے میں علم ہے۔“ پھر یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے، وہاں ہم نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے بڑے کو موقع دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس بارے میں ثبوت پیش کرو کہ کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (وہ یہودی) قسم اٹھا لیں (اور بری الذمہ ہو جائیں گے)۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم یہودیوں کے قسم اٹھانے پر راضی نہیں ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے، اس لیے آپ نے خود زکوٰة کے اونٹوں میں سے ایک سو اونٹ دیت کے طور پر ادا کیے۔
حدیث نمبر: 3188
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَمَّالُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارَسْتَانِيُّ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ ، نَا أَبِي ، نَا قَيْسٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ قَوْمٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ رَجُلٌ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَيِّنَتُكُمْ ، قَالُوا : مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ، قَالَ : فَتَنْفُلُكُمْ أَيْمَانُهُمْ ، فَقَالُوا : إِذًا تَقْتُلُنَا الْيَهُودُ ، قَالَ : فَأَيْمَانُكُمْ أَنْتُمْ ، قَالُوا : لَمْ نَشْهَدْ ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَالٍ أَتَاهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار کے کچھ افراد خیبر گئے، وہاں ان میں سے ایک شخص قتل ہو گیا، یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش آ گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے ثبوت (کہاں ہیں)؟“ انہوں نے عرض کی: ”ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان (یہودیوں کا) قسم اٹھانا (معاملہ ختم کر دے گا)۔“ انہوں نے عرض کی: ”پھر تو یہودی (ایک ایک کر کے) ہمیں قتل کر دیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم قسم اٹھا لو۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم وہاں موجود نہیں تھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو مال آیا تھا، آپ نے اس میں سے اس (مقتول) کی دیت ادا کی۔
حدیث نمبر: 3190
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، قَالُوا : نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ ، إِلا فِي الْقَسَامَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مدعی پر ثبوت پیش کرنا لازم ہو گا اور انکار کرنے والے پر قسم اٹھانا لازم ہو گا، البتہ قسامت کا حکم مختلف ہے۔“
حدیث نمبر: 3191
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَأَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، قَالا : نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُطَرِّفٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَمُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، نَا مُطَرِّفٌ ، قَالا : نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ ، إِلا فِي الْقَسَامَةِ " ،.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مدعی پر ثبوت پیش کرنا لازم ہو گا اور انکار کرنے والے پر قسم اٹھانا لازم ہو گا، البتہ قسامت کا حکم مختلف ہے۔“
حدیث نمبر: 3192
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . خَالَفَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَحَجَّاجٌ ، رَوَيَاهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلامٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، عبدالرزاق نے اس کے برعکس اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3193
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَأَتَى بِأَخِي بَنِي عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِيصَةَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : " مَا حُدِّثْتُ عَنْكَ ؟ ، قَالَ : مَا حُدِّثْتَ عَنِّي ؟ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْكَ أَنَّكَ تَنَصَّرْتَ ، فَقَالَ : أَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : " وَأَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ " ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا تَقُولُ فِيهِ ؟ ، فَتَكَلَّمَ بِكَلامٍ خَفِيَ عَلَيَّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : طَئُوهُ ، فَوُطِئَ حَتَّى مَاتَ ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي : مَا قَالَ ؟ ، قَالَ : الْمَسِيحُ رَبُّهُ " .
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس بنو عجل کا ایک شخص مستورد بن قبیصہ لایا گیا، جو اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تمہارے بارے میں مجھے کیا بتایا گیا ہے؟“ اس نے دریافت کیا: ”آپ کو میرے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم عیسائی ہو گئے ہو۔“ اس نے کہا: ”میں سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے دین پر قائم ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں بھی سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے دین پر قائم ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تم ان (یعنی سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ تو اس شخص نے جو جواب دیا، وہ مجھے سمجھ نہیں آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”اسے قتل کر دو۔“ اسے قتل کر دیا گیا (راوی کہتے ہیں:) میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا: ”اس نے کیا کہا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: ”اس نے کہا تھا: سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام اس کے پروردگار ہیں۔“
حدیث نمبر: 3194
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ . ح وَنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، قَالا : نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، نَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَجُلا كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ مثل اللُّؤْلُؤَتَيْنِ ، فَكَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي ، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا صَبَرَ أَنْ قَامَ إِلَى مِعْوَلٍ فَوَضَعَهُ ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى أَنْفَذَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " ، لَفْظُ ابْنِ كَرَامَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص کی ام ولد تھی، جس سے اس شخص کے دو بیٹے تھے، جو دونوں موتیوں کی طرح تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، اس شخص نے اسے منع کیا، لیکن وہ باز نہیں آئی، اس شخص نے اسے جھڑکا، لیکن وہ پھر بھی باز نہ آئی، ایک رات اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر (گستاخی کے الفاظ کے ساتھ) کیا، تو اس شخص سے صبر نہیں ہوا، اس نے پھاؤڑا لیا اور اس عورت کے پیٹ میں گھونپ دیا (جس سے وہ عورت مر گئی، جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ ہو جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“ یہ الفاظ ابن کرامت نامی راوی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 3195
نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْعَبْدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، قَالا : نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، نَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقَعُ فِيهِ ، فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي ، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ ، فَقَتَلَهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ الأَعْمَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَنَا صَاحِبُهَا ، كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ ، فَأَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي ، وَأَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، وَلِيَ مِنْهَا ابْنَانِ مثل اللُّؤْلُؤَتَيْنِ ، وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً ، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةُ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص، جس کی ام ولد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، اس شخص نے اس عورت کو منع کیا، لیکن وہ باز نہیں آئی، اس شخص نے اس عورت کو ڈانٹ ڈپٹ کی، لیکن وہ پھر بھی باز نہ آئی، ایک رات جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ گفتگو کرنے لگی، تو اس شخص نے اس عورت کو قتل کر دیا، صبح اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا، تو وہ نابینا شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اس عورت کا مالک ہوں، وہ آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، میں نے اسے روکا، لیکن وہ باز نہیں آئی، میں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی، لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آئی، میرے اس عورت سے دو بچے ہیں، جو دونوں موتیوں کی طرح ہیں، وہ میری رفیقہ (محبوبہ) تھی، گزشتہ رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، تو میں نے اسے قتل کر دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“
حدیث نمبر: 3196
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا أَبُو الْيَمَانِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَافَوْا الْحُدُودَ بَيْنَكُمْ ، فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حدود (کی اطلاع) کو اپنی حد تک رکھو، جب یہ مجھ تک پہنچ جائے گی، تو (اسے جاری کرنا) لازم ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3197
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ ، أنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا ، وَقَالَ فِيهِ : " كُلُّ حَدٍّ رُفِعَ إِلَيَّ فَقَدْ وَجَبَ " ، اتَّفَقَ مُسْلِمٌ ، وَابْنُ عَيَّاشٍ فَوَصَلاهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَأَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْهُ وَعَنِ الْمُثَنَّى ، وَتَابَعَهُ ابْنُ عُلَيَّةَ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جب حد (کا مقدمہ) میرے سامنے لایا جائے گا، تو (اسے جاری کرنا) لازم ہو جائے گا۔“ مسلم اور ابن عیاش اس روایت کو موصول کے طور پر نقل کرنے میں متفق ہیں، جب کہ عبدالرزاق نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے، ابن علیہ نے ان کی متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 3198
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَالْمُثَنَّى ، قَالا : نَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مثل قَوْلِ ابْنِ عَيَّاشٍ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 3199
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا ابْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَافَوْا بَيْنَكُمْ قَبْلَ أَنْ تَأْتُونِي ، فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ " ، مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حدود میرے پاس لانے سے پہلے ہی آپس میں معاف کر دو، مجھ تک حد (کا جو مقدمہ) پہنچ جائے گا، (اس حد کو) جاری کرنا لازم ہو جائے گا۔“ (یہ حدیث مرسل ہے)۔
حدیث نمبر: 3200
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَزِيدُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " ، قَالَ يَزِيدُ : تُقْتَلُ الْمُرْتَدَّةُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنا دین (اسلام) تبدیل کر لے، اسے قتل کر دو۔“ (اس روایت کے ایک راوی) یزید نے یہ بات بیان کی ہے: مرتد عورت کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3201
نَا الْمَحَامِلِيُّ نَا الْحَسَّانِيُّ ، نَا يَزِيدُ ، أنا سَعِيدٌ ، قَالَ : وَنا يُوسُفُ ، نَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
عکرمہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3202
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، " قَتَلَ أُمَّ قِرْفَةَ الْفَزَارِيَّةَ فِي رِدَّتِهَا قِتْلَةً مُثْلَةً ، شَدَّ رِجْلَيْهَا بِفَرَسَيْنِ ثُمَّ صَاحَ بِهِمَا فَشَقَّاهَا ، وَأُمُّ وَرَقَةَ الأَنْصَارِيَّةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهَا الشَّهِيدَةَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَتَلَهَا غُلامُهَا وَجَارِيَتُهَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَتَلَهُمَا وَصَلَبَهُمَا " ،.
محمد محی الدین
سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ام قرفہ فزاریہ نامی عورت کو مرتد ہونے کی وجہ سے مثلہ کے طور پر قتل کروا دیا تھا، انہوں نے اس کے دونوں پاؤں دو گھوڑوں سے بندھوا کر اس کے دو ٹکڑے کروا دیے تھے۔ سیدہ ام ورقہ انصاریہ، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شہیدہ“ کا نام دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس خاتون کے غلام اور کنیز نے اسے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو مصلوب کروا کے قتل کروا دیا۔
حدیث نمبر: 3203
نَا بِذَلِكَ ابْنُ الْبُهْلُولِ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ لَيْلَى بِنْتِ مَالِكٍ ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلادٍ ، كِلاهُمَا عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، بِذَلِكَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3204
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ الْوَكِيلُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْخَيْرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جندب الخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جادو کرنے والی کی سزا یہ ہے کہ اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 3205
نَا نَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا هُشَيْمٌ ، أنا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيّ ، " أَنَّهُ قَتَلَ سَاحِرًا كَانَ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، ثُمَّ قَالَ : أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ سورة الأنبياء آية 3 " .
محمد محی الدین
جندب بجلی کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے ولید بن عقبہ کے پاس موجود ایک جادو کرنے والے شخص کو قتل کروا دیا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”کیا تم جادو کو قبول کرتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔“
…