حدیث نمبر: 3126
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْبَزَّارُ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنّ الرَّجُلَ إِذَا قَذَفَ عَبْدَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا يَقُولُ ، جُلِدَ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے غلام پر زنا کا (جھوٹا) الزام لگائے اور وہ غلام اس سے بری ہو، جو اس شخص نے (الزام لگایا)، تو اس شخص کو قیامت کے دن حد کے طور پر کوڑے لگائے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 3127
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قَوَدَ فِي شَلَلٍ وَلا عَرَجٍ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شلل اور عرج میں قصاص نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3128
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نَا رَجُلٌ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الْفَاخُورِيُّ ، نَا ضَمْرَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَقْلُ الْمَرْأَةِ مثل عَقْلِ الرَّجُلِ ، حَتَّى تَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عورت کی دیت مرد کی دیت کے برابر ہو گی، جب تک وہ عورت کی دیت کے ایک تہائی تک نہ پہنچ جائے۔“
حدیث نمبر: 3129
نَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الأَسْكَافِيُّ ، قَالا : نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ ، قَالا : نَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " طَهِّرْنِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل ذَلِكَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ ، قَالَ لَهُ : مِمَّا أُطَهِّرُكَ ، قَالَ : مِنَ الزِّنَا ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِهِ جُنُونٌ ؟ ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ ، فَقَالَ : أَشَرِبَ خَمْرًا ؟ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْهَكَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَثَيِّبٌ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ ، تَقُولُ فِرْقَةٌ : لَقَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ ، وَقَائِلٌ يَقُولُ : أَتَوْبَةٌ أَفْضَلُ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ، فَقَالَ : اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَلَبِثُوا عَلَى ذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، قَالَ : وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ، قَالَتْ : إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا ، قَالَ : أَثَيِّبٌ أَنْتِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : إِذًا لا نَرْجُمُكِ حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ ، قَالَ : فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ ، فَقَالَ : إِذًا لا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَرَجَمَهَا " .
محمد محی الدین
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو، اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ واپس گئے اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آ گئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ واپس گئے اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آ گئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی کی مانند فرمایا، یہاں تک کہ چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”میں کس چیز سے تمہیں پاک کروں؟“ انہوں نے عرض کی: زنا سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کیا جنون لاحق ہے؟“ تو آپ کو بتایا گیا: یہ مجنون نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس نے شراب پی رکھی ہے؟“ تو ایک شخص اٹھا، اس نے انہیں سونگھا، تو اسے شراب کی بو محسوس نہیں ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم شادی شدہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) ان کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ کا یہ کہنا تھا: ماعز اپنے سب سے برے عمل کے ذریعے ہلاکت کا شکار ہوئے، ان کے گناہ نے انہیں گھیر لیا۔ دوسرے گروہ کا کہنا تھا: کیا ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ ہو سکتی ہے؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس میں دیا اور عرض کی: آپ مجھے پتھروں کے ذریعے قتل کروا دیں۔ دو تین دن تک یہی صورت حال رہی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا، اور تشریف فرما ہوئے، پھر آپ نے فرمایا: ”ماعز بن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو، اللہ تعالیٰ ماعز بن مالک کی مغفرت کرے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے، اگر وہ ایک امت (اس سے مراد گروہ بھی ہو سکتا ہے) کے درمیان تقسیم کی جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ازد قبیلے کی شاخ غامد قبیلہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو، اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ اس خاتون نے عرض کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اسی طرح واپس کرنا چاہتے ہو، جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کیا تھا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں؟“ تو اس نے بتایا: وہ زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ہم تمہیں اس وقت تک سنگسار نہیں کریں گے، جب تک تم اپنے پیٹ میں موجود (بچے کو) جنم نہیں دیتی۔“ پھر ایک انصاری شخص اس عورت کا سرپرست مقرر ہوا، یہاں تک کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا۔ وہ انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا: اس غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ہم اسے سنگسار نہیں کر سکتے، اور اس کے بچے کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے، اسے دودھ پلانے کے لیے کوئی نہ ہو۔“ تو ایک انصاری نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اس بچے کی رضاعت میرے ذمے ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو سنگسار کروا دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم نے اسے ابوکریب کے حوالے سے، یحییٰ بن یعلی کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے غیلان سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3130
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مَنَّاحٍ أَبُو حَامِدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ ، وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا ، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا " .
محمد محی الدین
عبدالجبار بن وائل نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا، تو آپ نے اس عورت پر حد جاری نہیں کی، البتہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے پر حد جاری کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس میں یہ بات مذکور نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوایا۔
حدیث نمبر: 3131
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ " .
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص مارا جائے (اس کے بعد کے الفاظ اگلی حدیث میں ہیں)۔“
حدیث نمبر: 3132
ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا فَهُوَ خَطَأٌ وَدِيَتُهُ دِيَةُ خَطَإٍ ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
محمد محی الدین
طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا (انجانے) تیر سے مارا جائے، وہ قتل خطاء شمار ہو گا، اور اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا گیا ہو، اس کا قصاص دینا لازم ہو گا، جو شخص اس میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا، اس شخص پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3133
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا رِمِّيَّا بِحَجَرٍ ، أَوْ ضَرْبًا بِعَصًا ، أَوْ سَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ ، وَمَنْ قَتَلَ اعْتِبَاطًا فَهُوَ قَوَدٌ لا يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ ، فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ " .
محمد محی الدین
طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا پتھر سے مارا جائے، یا عصا یا لاٹھی کے ذریعے مارا جائے، تو اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے، اس کا قصاص ہو گا، اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل نہیں ہوا جائے گا، جو اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل ہو گا، اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3134
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ ، قَالا : نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلانِيُّ ، نَا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا رِمِّيَّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِالْحِجَارَةِ ، أَوْ عَصًا ، فَهُوَ خَطَأٌ عَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " ، زَادَ الْحُسَيْنُ : " لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلا عَدْلا " ،.
محمد محی الدین
طاؤس، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو غلطی سے قتل کر دیا جائے، یا اسے پتھر یا عصا مارا جائے، (اور وہ مر جائے)، تو یہ قتل خطاء ہو گا، اور اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، لیکن جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے، اس کا قصاص ہو گا، جو شخص قصاص میں رکاوٹ بنے گا، اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی۔“ حسین نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہیں کرے گا۔“
حدیث نمبر: 3135
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، أنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ حَمْزَةُ . قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند روایت منقول ہے، راوی نے اس کی سند میں حمزہ کا ذکر نہیں کیا۔ بعض راویوں نے اسے طاؤس کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3136
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَمْدُ قَوَدٌ إِلا أَنْ يَعْفُوَ وَلِي الْمَقْتُولِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قتل عمد کا قصاص ہو گا، البتہ اگر مقتول کا ولی چاہے، تو معاف کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3137
نَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا ، أَوْ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ ، أَوْ عَصًا ، أَوْ بِسَوْطٍ عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ " ، مثل قَوْلِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کو انجانے میں پتھر، عصا یا لاٹھی مار کر قتل کر دیا جائے، اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی۔“ یہ حماد بن زید کے بیان کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا كُرْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَمْدُ قَوَدُ الْيَدِ ، وَالْخَطَأُ عَقْلٌ لا قَوَدَ فِيهِ ، وَمَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ ، أَوْ عَصًا ، أَوْ سَوْطٍ فَهُوَ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قتل عمد میں قصاص ہو گا، اور قتل خطاء میں دیت ہو گی، اس میں قصاص نہیں ہو گا، جس شخص کو پتھر یا عصا لاٹھی کے ذریعے غلطی سے قتل کر دیا جائے، اس کی دیت مغلظہ ہو گی، جو مختلف عمر کے اونٹوں (کی شکل میں ہو گی)۔“
حدیث نمبر: 3139
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رِمِّيَّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : أَوْ سِيَاطٍ عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو پتھر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا لاٹھی مار کر غلطی سے قتل کر دیا جائے، اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے، اس کا قصاص ہو گا، جو شخص قصاص میں رکاوٹ بنے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعْهُ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ ، أَوْ رِمِّيَةٍ بِحَجَرٍ ، أَوْ بِسَوْطٍ ، أَوْ عَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ ، مَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا اسے پتھر یا لاٹھی سے مار کر قتل کر دیا جائے، تو اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو عمداً قتل کیا جائے، اس کا قصاص لیا جائے گا، جو شخص اس قصاص میں رکاوٹ بنے گا، اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3141
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : " الرَّجُلُ يُصَابُ فِي الرِّمِّيَّا فِي الْقِتَالِ بِالْعَصَا ، أَوْ بِالسِّيَاطِ ، أَوْ بِالتَّرَامِي بِالْحِجَارَةِ يُودَى وَلا يُقْتَلُ بِهِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لا يَعْلَمُ مَنْ قَاتِلُهُ ، وَأَقُولُ : أَلا تَرَى إِلَى قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهُذَلِيَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا أَنَّهُ لَمْ يَقْتُلْهَا بِهَا وَوَدَاهَا وَجَنِينَهَا " . أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ لَمْ يُجَاوَزْ طَاوُسٌ.
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: لڑائی کے دوران جس شخص کو عصا، لاٹھی، یا پتھر مار کر قتل کر دیا جائے، اس کی دیت ادا کی جائے گی، اس کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ پتہ نہیں ہے کہ اس کا قاتل کون ہے؟ میں یہ کہتا ہوں: کیا تم نے ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مقدمے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ملاحظہ نہیں کیا، ان دو میں سے ایک خاتون نے دوسری کو لاٹھی مار کر قتل کر دیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقتول عورت کے بدلے میں قتل کرنے والی عورت کو قتل نہیں کروایا تھا، بلکہ آپ نے مقتول عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت دلوائی تھی۔ یہ حدیث طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 3142
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عِنْدَ أَبِي كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْعُقُولِ ، جَاءَ بِهِ الْوَحْيُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَقْلٍ أَوْ صَدَقَةٍ فَإِنَّمَا جَاءَ بِهِ الْوَحْيُ فَفِي ذَلِكَ الْكِتَابِ ، وَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَتْلُ الْعَمِيَّةِ دِيَتُهُ دِيَةُ الْخَطَأِ ، الْحَجَرُ ، وَالْعَصَا ، وَالسَّوْطُ مَا لَمْ يَحْمِلْ سِلاحًا " .
محمد محی الدین
طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میرے والد کے پاس ایک تحریر تھی، جس میں مختلف اقسام کی دیت کے احکام تھے، جو وحی کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائے گئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اور صدقے کے بارے میں جو بھی فیصلے دیے، وہ سب وحی کے مطابق تھے، اس کتاب میں یہ تحریر تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے:) ”غلطی سے قتل کیے جانے کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، جیسے پتھر، عصا، یا لاٹھی کے ذریعے (کوئی قتل ہو جائے)، جبکہ قاتل نے ہتھیار نہ اٹھایا ہو۔“
حدیث نمبر: 3143
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ ، أَوْ عَصًا ، أَوْ سَوْطٍ فَفِيهِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ " .
محمد محی الدین
طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جس شخص کو غلطی سے پتھر یا لاٹھی کے ذریعے قتل کر دیا جائے، اس کی دیت مغلظہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 3144
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ ، مثل قَتْلِ الْعَمْدِ ، وَلا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح ہے، البتہ شبہ عمد (کی صورت میں) قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3145
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا ، وَلا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا ، فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قُلْتُمْ : هَذَا الْقَتِيلُ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ ، أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ ، أَوْ يَقْتُلُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص اس میں خون نہ بہائے اور یہاں کے درخت نہ کاٹے، اگر کوئی شخص عذر پیش کرتے ہوئے یہ کہے کہ اللہ کے رسول کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا تھا، تو اللہ نے اسے میرے لیے تھوڑے سے وقت کے لیے حلال قرار دیا تھا، اسے دوسرے لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، میرے لیے بھی یہ تھوڑی سی دیر کے لیے حلال قرار دیا گیا، پھر قیامت قائم ہونے تک یہ حرم رہے گا، اے خزاعہ قبیلے کے لوگو! تم نے ہذیل قبیلے کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، میں اس کی دیت دوں گا، میرے اس بیان کے بعد جن لوگوں کا کوئی شخص قتل ہو جائے، انہیں دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو وہ دیت وصول کر لیں (یا قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیں۔“
حدیث نمبر: 3146
قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ إِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : " إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَدْ قَتَلْتُمْ : هَذَا الْقَتِيلُ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَأَنَا عَاقِلُهُ ، فَمَنْ قُتِلَ بَعْدُ فَأَوْلِيَاءُ الْقَتِيلِ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ ، إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا ، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اے خزاعہ قبیلے کے لوگو! تم لوگوں نے ہذیل قبیلے کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، میں اس کی دیت ادا کروں گا، اس کے بعد جو شخص قتل ہو گا، تو مقتول کے پسماندگان کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ پسند کریں، تو (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیں گے، اور اگر وہ پسند کریں، تو دیت وصول کر لیں۔“
حدیث نمبر: 3147
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ ، وَالْخَبْلُ عَرَجٌ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاثٍ ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ ، بَيْنَ أَنْ يُقْتَصَّ ، أَوْ يَعْفُوَ ، أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ ، فَإِنْ قَبِلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قتل ہو جائے یا اسے خبل لاحق ہو، (راوی کہتے ہیں) خبل سے مراد عرج (یعنی لنگڑا ہو جانا) ہے، تو اسے تین میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ کوئی چوتھی صورت چاہے، تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (وہ تین صورتیں یہ ہیں:) وہ قصاص لے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کر لے، اگر وہ ان میں سے کوئی ایک صورت اختیار کر لے، تو پھر اس کے بعد زیادتی کرے، تو وہ جہنم میں جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔“
حدیث نمبر: 3148
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ رَزِينٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتَى الْخَلْقِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، وَمَنْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو کسی کو ناحق قتل کر دے، اور وہ شخص ہے جو زمانہ جاہلیت کے خون (کے بدلے) کا طلب گار ہے، اور وہ شخص ہے جو اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“
حدیث نمبر: 3149
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَدِمَ عَلَيْنَا فِي الْمَوْسِمِ ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ ، نَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ، وَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي ، فَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلا يُخْتَلَى شَجَرُهَا ، وَلا تَحِلُّ سَقْطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، أَوْ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ " ، الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ " إِمَّا أَنْ يُودِي ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ " ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلا الإِذْخِرَ " ، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، قَالَ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قَالَ الْوَلِيدُ : قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ : مَا قَوْلُهُ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا، تو آپ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ میں ہاتھیوں کو داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کیا، یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں تھا، اور میرے لیے بھی دن کے کسی ایک مخصوص حصے میں حلال قرار دیا گیا، اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے، اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو اسے دیت ادا کر دی جائے، یا (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیا جائے۔“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اذخر (نامی گھاس کاٹنے کی اجازت دیجیے)، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔“ ابوشاہ نامی ایک صاحب جو یمن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھوا دیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔“ ولید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا: (سیدنا ابوشاہ کے) اس جملے سے مراد کیا ہے؟ یہ مجھے لکھوا دیں! تو انہوں نے فرمایا: یعنی وہ خطبہ جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔
حدیث نمبر: 3150
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ . ح وثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالا : نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ امام اوزاعی سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3151
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ ، أَلا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلُّ لأَحَدٍ قَبْلِي ، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي ، أَلا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، أَلا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لا يُخْتَلَى خَلاهَا ، وَلا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ ، وَإِمَّا أَنْ يُفَادِيَ أَهْلَ الْقَتِيلِ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : اكْتُبُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبُوا لأَبِي فُلانٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ : إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلا الإِذْخِرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خزاعہ قبیلے کے لوگوں نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں بنو لیث کے ایک فرد کو قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا، تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کیا، یاد رکھنا! یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، یاد رکھنا! یہ میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصے تک حلال ہوا، اب اس وقت یہ حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جا سکتا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جا سکتا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جا سکتا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، اگر کسی شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے، تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، یا تو (قاتل کو قصاص میں) قتل کر دیا جائے، یا مقتول کے لواحقین کو دیت ادا کر دی جائے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھوا دیں۔“ تو نبی نے فرمایا: ”ابوفلان کو لکھ کر دے دو۔“ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں)، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔“
حدیث نمبر: 3152
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَجْرَدِ ، عَنْ مَالِكٍ الأَشْتَرِ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدَكِ سَمِعْنَا أَشْيَاءَ فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ ؟ ، قَالَ : لا ، إِلا مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِي عِلاقَةِ سَيْفِي ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَجَاءَتْ بِهَا ، فَقَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ فَهِيَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا ، أَنْ لا يُعْضَدَ شَوْكُهَا ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، لا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " ،.
محمد محی الدین
مالک اشتر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر گئے، تو ہم نے کچھ باتیں سنی ہیں، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز بطور خاص آپ کو دی؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، صرف یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار کے دستے میں ہے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کنیز کو بلایا، تو وہ اس صحیفے کو لے کر آئی (اس میں یہ تحریر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے): ”بیشک سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، دونوں طرف کی سنگلاخ زمین کے درمیان موجود (مدینہ منورہ) حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جا سکتا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جا سکتا، جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے، تو اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، دوسروں کے مقابلے میں تمام اہل ایمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں، ان کے خون یکساں اہمیت کے حامل ہیں، ان کے کسی عام فرد کی دی ہوئی پناہ کو تسلیم کیا جائے گا، اور کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 3153
قَالَ حَجَّاجٌ : وَحَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ ، إِلا أَنْ يَخْتَلِفَ مَنْطِقُهَا فِي الشَّيْءِ فَأَمَّا الْمَعْنَى فَوَاحِدٌ.
محمد محی الدین
ابوحجیفہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کیا ہے، اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں، تاہم مفہوم ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 3154
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : إِنَّ أَعْمَى كَانَ يَنْشُدُ فِي الْمَوْسِمِ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ لَقِيتُ مُنْكَرَا هَلْ يَعْقِلُ الأَعْمَى الصَّحِيحَ الْمُبْصِرَا خَرَّا مَعًا كِلاهُمَا تَكَسَّرَا وَذَلِكَ أَنَّ الأَعْمَى كَانَ يَقُودُهُ بَصِيرٌ فَوَقَعَا فِي بِئْرٍ ، فَوَقَعَ الأَعْمَى عَلَى الْبَصِيرِ فَمَاتَ الْبَصِيرُ ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَقْلِ الْبَصِيرِ عَلَى الأَعْمَى " .
محمد محی الدین
موسیٰ بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو سنا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کے موقع پر ایک شخص بلند آواز میں (یہ اشعار پڑھ رہا تھا): ”اے لوگو! ایک غلط صورت حال میرے سامنے آئی ہے، کیا ایک اندھا شخص ایک صحیح دیکھنے والے شخص کی دیت ادا کرے گا، جب کہ وہ دونوں ایک ساتھ گرے تھے اور دونوں زخمی ہوئے تھے۔“ اس کی صورت یوں ہوئی کہ ایک بینا شخص اس اندھے کو ساتھ لے کر جا رہا تھا، وہ دونوں ایک کنویں میں گر گئے، تو وہ نابینا شخص اس بینا شخص کے اوپر گرا، جس کے نتیجے میں وہ بینا شخص فوت ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا: وہ نابینا اس بینا شخص کی دیت ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 3155
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّهُ زُنِيَ بِفُلانَةَ ، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا ، فَأَنْكَرَتْ فَرَجَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرْكَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے۔“ اس نے اس خاتون کا نام بھی لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے پاس آدمی بھیجا، جس نے اس سے (اس الزام کے) بارے میں دریافت کیا، اس خاتون نے انکار کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد کو سنگسار کروا دیا اور اس خاتون کو ترک کر دیا (یعنی اسے سزا نہیں دی)۔
حدیث نمبر: 3156
نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، " أَنَّ وَلِيدَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَتْ مِنَ الزِّنَا ، فَسُئِلَتْ مَنْ أَحْبَلَكِ ؟ ، قَالَتْ : أَحْبَلَنِي الْمُقْعَدُ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَضَعِيفٌ عَنِ الْجَلْدِ ، فَأَمَرَ بِمِائَةِ عُثْكُولٍ فَضَرَبَهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً " ، كَذَا قَالَ ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک لڑکی زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی، اس سے پوچھا گیا: ”تمہیں کس نے حاملہ کیا ہے؟“ اس نے بتایا: مجھے المقعد (نامی صاحب) نے حاملہ کیا ہے۔ ان صاحب سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کوڑے برداشت نہیں کر سکے گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت 100 ٹہنیاں لے کر ان کے ذریعے اس شخص کو ایک ہی ضرب لگائی گئی۔ راوی نے اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ ابوحازم کے حوالے سے، سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3157
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ مَقْعَدٌ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ ، فَفَجَّرَ بِامْرَأَةٍ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضْرَبَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس رہتے تھے، انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ زنا کیا، جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت، انہیں کھجور کی شاخیں ماری گئیں۔ امام دار قطنی فرماتے ہیں: (اس روایت میں لفظ اکثال استعمال ہوا ہے)، لیکن درست لفظ اثکال (یعنی کھجور کی شاخیں) ہے۔
حدیث نمبر: 3158
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّيُوطِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " أَنَّ مَقْعَدًا أُحَيْنَ ، فَذُكِرَ مِنْهُ زَمَاتَةً كَانَ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ فَفَجَرَ بِامْرَأَةٍ حَمَلَتْ ، فَسُئِلَتْ فَقَالَتْ : هُوَ مِنْهُ فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْلَدَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب کا پیٹ کچھ بڑھا ہوا تھا، وہ ام سعد کے گھر کے پاس رہتے تھے، ایک لڑکی حاملہ ہو گئی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو اس نے بتایا وہ ان (مقعد نامی صاحب) سے حاملہ ہوئی ہے، ان صاحب نے بھی اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں کھجوروں کی شاخوں کے ذریعے سزا دی گئی۔
حدیث نمبر: 3159
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " حَمَلَتْ أَمَةٌ فِي بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الزِّنَا ، فَلَمَّا وَضَعَتْ قِيلَ لَهَا مِمَّنْ وَلَدُكِ ؟ ، قَالَتْ : مِنْ فُلانٍ ، إِنْسَانٌ نَضْوٌ مَمْسُوحٌ كَأَنَّهُ خَرْشَاءُ مِنْ ضَعْفِهِ ، فَسُئِلَ الْمَقْعَدُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : صَدَقَتْ هُوَ مِنِّي ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ ، وَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَيْئَةِ الرَّجُلِ وَأَنَّهُ لا مَضْرِبَ فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا لَهُ عُثْكُولا ، يَعْنِي عَذْقًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ ، فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً " ، فَفَعَلُوا.
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو ساعدہ کی ایک کنیز زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی، جب اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو اس سے پوچھا گیا: ”تمہارا بچہ کس کی اولاد ہے؟“ اس نے جواب دیا: فلاں کی۔ وہ (ملزم) ایک نحیف اور کمزور شخص تھا، کمزوری کی وجہ سے اس کی جلد سانپ کی طرح تھی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو وہ بولا: ”اس نے سچ کہا ہے، وہ بچہ میری اولاد ہے۔“ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے مارا نہیں جا سکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے لیے شاخیں لو، جس میں سو ٹہنیاں ہوں اور وہ ایک مرتبہ اسے مار دو۔“ تو لوگوں نے ایسا ہی کیا۔
حدیث نمبر: 3160
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَدَعَا وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِلَيْهَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَأْتِنِي ، فَفَعَلَ ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُدَّتْ أَوْ شُكَّتْ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقِيلَ لَهُ : رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا ؟ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مُذْنِبًا لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ! " .
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی تھی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم کریں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور ہدایت کی: ”تم اس کا خیال رکھو، جب یہ بچے کو جنم دے، تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر لباس کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر اسے سنگسار کر دیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: ”پہلے آپ نے اسے سنگسار کر دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ بھی ادا کر لی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر 70 گناہ گار توبہ کرتے، تو ان کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے؟ جو اپنے آپ کو (اللہ کے حکم کی فرمانبرداری میں) قربان کر دے۔“
حدیث نمبر: 3161
نَا عَبْدُ اللَّهِ ، نَا يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا هِشَامٌ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : رَجَمْتَهَا ، وَقَالَ : " لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ! " ،.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: ”آپ نے اسے سنگسار کر دیا، (اور اب نماز جنازہ بھی ادا کر لی)؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مدینہ کے تمام افراد یہ توبہ کرتے، تو یہ ان سب کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے، جو اللہ کے لیے اپنی جان دے دے؟“
حدیث نمبر: 3162
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَلَّبِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)۔
حدیث نمبر: 3163
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ، ثُمَّ احْسِمُوهُ ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ ، فَقَالَ : تُبْ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : قَدْ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ " ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی اس نے چوری کی ہے؟“ چور نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے داغ لگاؤ (تاکہ خون بہنا بند ہو جائے)، پھر اسے میرے پاس لاؤ۔“ اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ وہ بولا: ”میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی۔“
حدیث نمبر: 3164
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ قَدْ سَرَقَ شَمْلَةً ، فَقَالَ : " أَسَرَقْتَ مَا إِخَالُهُ سَرَقَ ، قَالَ : بَلَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْطَعُوهُ ثُمَّ احْسِمُوهُ ، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُبْ ، فَقَالَ : تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " ،.
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے واقعی چوری کی ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے داغ لگاؤ۔“ لوگوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر اسے داغ لگایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم توبہ کرو۔“ وہ بولا: ”میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر لے۔“
حدیث نمبر: 3165
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے۔
…