حدیث نمبر: 3486
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نَا غَالِبٌ التَّمَّارُ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارُ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَصَابِعُ عَشْرٌ عَشْرٌ " ، لَفْظُ الْمَحَامِلِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمام انگلیاں (برابر کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے ہر ایک کی دیت) دس دس اونٹ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3487
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الإِبِلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے ہر ایک کی دیت دس دس اونٹ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3488
قُرِئَ عَلَى أَبِي وَهْبٍ يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ بِالأُبَلَّةِ ، حَدَّثَكُمْ أَبُو مَحْذُورَةَ ، نَا خَالِدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا غَالِبٌ ، عَنْ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: ”(ان کی دیت) دس دس اونٹ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3489
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا " ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الأَشْعَثِ ، وَلَيْسَ هُوَ عِنْدِي بِمَحْفُوظٍ عَنْ قَتَادَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: ”(ان کی دیت) دس دس اونٹ ہو گی۔“ اسے نقل کرنے میں ابواشعث نامی راوی منفرد ہیں اور میرے نزدیک یہ قتادہ سے نقل کرنے میں محفوظ نہیں ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 3490
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دِيَةُ الأَصَابِعِ سَوَاءٌ ، الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ ، عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ، أَوْ عَدْلُهَا مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمام انگلیوں کی دیت برابر ہو گی، خواہ ہاتھوں کی (انگلیاں ہوں) یا پاؤں کی (انگلیاں ہوں، ان میں ہر ایک کی دیت) دس دس اونٹ یا سونے چاندی کے حساب سے (دس اونٹوں کی) قیمت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3491
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ مِنَ الْمِفْصَلِ وَحَسَمَهَا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أُيُورُ الْحُمُرِ " .
محمد محی الدین
حجیہ بن عدی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ہاتھ جوڑوں سے کٹوا دیے تھے اور (خون کا بہاؤ روکنے کے لیے) ان پر داغ لگوائے تھے، ان لوگوں کے ہاتھوں کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ گویا گدھوں کے عضو مخصوص کی طرح تھے...
حدیث نمبر: 3492
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا وَكِيعٌ ، نَا قَيْسٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا ، " كَانَ يَقْطَعُ الرِّجْلَ وَيَدَعُ الْعَقِبِ يُعْتَمَدُ عَلَيْهَا " .
محمد محی الدین
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ پاؤں کٹوا دیتے تھے، لیکن ایڑی چھوڑ دیتے تھے، تاکہ آدمی اس کا سہارا لے سکے۔
حدیث نمبر: 3493
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّهُ قَطَعَ الْيَدَ وَالرِّجْلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے چور کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے تھے۔
حدیث نمبر: 3494
وَنا وَنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ رِجْلا بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ ، فَقَالَ عُمَرُ : السُّنَّةُ الْيَدُ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (چور کا دوسرا) پاؤں کاٹنے کا ارادہ کیا، (اس چور کا) ایک ہاتھ اور ایک پاؤں پہلے کاٹا جا چکا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سنت یہ ہے (کہ اب تیسری مرتبہ میں) اس کا (دوسرا) ہاتھ کاٹا جائے۔“
حدیث نمبر: 3495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبَانَ الْكَرَابِيسِيُّ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلُ أَبَاهُ فَاقْتُلُوهُ " ، .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے باپ کو قتل کر دے، تو تم (قصاص کے طور پر) اسے قتل کر دو۔“
حدیث نمبر: 3496
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي حَازِمٍ ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيِّ ، وَذَكَرَ سُفْيَانُ فِي آخِرِهِ كَمَا ذَكَرَ إِبْرَاهِيمُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ سفیان ثوری سے کیا، تو وہ بولے: ”میں نے ابوحازم کی زبانی یہ حدیث سن رکھی ہے۔“ ابومحمد بن صاعد نے بھی اسے اسی طرح ذکر کیا ہے، جیسے میں نے یہاں سے نہیں سنی، کہ یہ روایت محمد بن عبداللہ مخرمی سے منقول ہے، سفیان نے اس کے آخر میں اسی طرح ذکر کیا ہے، جیسے ابراہیم نے اسے ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3497
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ مِنْ أَصْلِهِ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْقَلانِسِيُّ ، نَا آدَمُ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّابَّةُ جُرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالرِّجْلُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " ، كَذَا قَالَ : وَالرِّجْلُ جُبَارٌ " ، وَهُوَ وَهْمٌ ، وَلَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهِ أَحَدٌ عَنْ شُعْبَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں جائے گا، کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، معدنیات کی کان میں دب کر مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، (جانور کے) پاؤں مارنے سے مرنے والے کا خون رائیگاں جائے گا، رکاز میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ راوی نے اسی طرح (جانور کے) پاؤں مارنے کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ وہم ہے، شعبہ سے اس لفظ کے منقول ہونے میں کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے۔
حدیث نمبر: 3498
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَصَابَتِ الإِبِلُ بِاللَّيْلِ ضَمِنَ أَهْلُهَا ، وَمَا أَصَابَتْ بِالنَّهَارِ فَلا شَيْءَ فِيهِ ، وَمَا أَصَابَتِ الْغَنَمُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ غَرِمَهُ أَهْلُهَا ، وَالضَّوَارِي يَتَقَدَّمُ إِلَى أَهْلِهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ تُعْقَرُ بَعْدَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اونٹ رات کے وقت جو نقصان پہنچائے گا، تو اس کا مالک اس کا تاوان ادا کرے گا، لیکن وہ دن کے وقت جو نقصان پہنچائے گا، اس کا تاوان اونٹ کا مالک ادا نہیں کرے گا، بکریاں رات کے وقت یا دن کے وقت جو نقصان پہنچائیں گی، ان کا مالک اس کا تاوان ادا کرے گا، اور پالتو جانور کو تین مرتبہ ان کے مالکان کے سپرد کیا جائے گا، (اگر پھر وہ کوئی نقصان پہنچاتے ہیں) تو ان کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 3499
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، نَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ ، جَلَدَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَدَّ ، إِلا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم، نبی التوبہ، صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے زیر ملکیت (غلام یا کنیز) پر زنا کا جھوٹا الزام لگائے اور وہ (غلام یا کنیز) اس سے بری ہو، جو اس شخص نے الزام لگایا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس الزام لگانے والے شخص کو حد جتنے کوڑے لگوائے گا، البتہ اگر وہ (غلام یا کنیز) واقعی مجرم ہوں (تو حکم مختلف ہے)۔“
حدیث نمبر: 3500
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ نَبِيِّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَذَفَ عَبْدَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَمَانِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوالقاسم، نبی التوبہ، صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے زیر ملکیت (غلام یا کنیز) پر زنا کا جھوٹا الزام لگائے اور وہ (غلام یا کنیز) اس سے بری ہو، جو اس شخص نے الزام لگایا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس الزام لگانے والے شخص کو حد کے طور پر اسی کوڑے لگوائے گا۔“
حدیث نمبر: 3501
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا أَبِي ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ بِالْعَقْلِ كَامِلا ، وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ بِنِصْفِ الْعَقْلِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ: ”جب اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے، تو اس کی دیت مکمل (پوری جان کی دیت جتنی) ہو گی، اور اگر اس کے آگے کے حصے کو کاٹا جائے، تو اس کی نصف دیت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3502
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا شَيْبَانُ ، نَا أَبُو هِلالٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي الْيَدِ الشَّلاءِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا خُسِفَتْ ثُلُثُ الدِّيَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”شل ہاتھ کو (کاٹنے کی سزا) ایک تہائی دیت ہو گی، جو آنکھ بے نور ہو چکی ہو، لیکن اپنی جگہ پر موجود ہو، تو اس میں ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3503
نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِيُّ إِمْلاءً ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الزِّيَادِيُّ ، نَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنِ ابْنٍ لِخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَ حَدًّا أُقِيمَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الْحَدُّ ، فَهُوَ كَفَّارَةُ ذَنْبِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی قابل حد جرم کا ارتکاب کرے اور اس پر حد جاری ہو جائے، تو یہ اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3504
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا جَدِّي ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ وَالْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالُوا : نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ الْخَوَّاصُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْهَاشِمِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کسی جرم کا ارتکاب کرے اور پھر اس پر اس جرم کی حد جاری کی جائے، تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3505
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ خَلادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَيْفٍ ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ أَصَابَ شَيْئًا مِمَّا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ كَفَّرَ اللَّهُ ذَلِكَ الذَّنْبَ عَنْهُ " ، وَتَابَعَهُمَا الْوَاقِدِيُّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.
محمد محی الدین
اسی سند کے ہمراہ یہ منقول ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے عمل کا ارتکاب کرے، جس سے اللہ نے منع کیا ہے، اور پھر اس شخص پر اس کی حد جاری کر دی جائے، تو یہ اس کے گنہگار ہونے کا کفارہ بن جائے گی۔“ اسامہ بن زید نامی راوی نے نقل کرنے میں واقدی نے ان دونوں کی متابعت کی ہے۔
حدیث نمبر: 3506
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَايِعُونِي أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا تَسْرِقُوا ، وَلا تَزْنُوا ، وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ ، وَلا تَأْتُونَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ ، وَلا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم اس بات پر میری بیعت کرو، تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دو گے، تم چوری نہیں کرو گے، تم زنا نہیں کرو گے، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، تم کسی پر زنا کا جھوٹا الزام نہیں لگاؤ گے، تم بھلائی کے کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ تم میں سے جو شخص اس (عہد کو) پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا، جو شخص ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کر لے اور اسے سزا دے دی جائے، تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو گی، اور اگر کوئی شخص کسی جرم کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس کا پردہ رکھ لے، تو اب اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو گا، اگر وہ چاہے گا، تو (آخرت میں) اسے سزا دے گا اور اگر چاہے گا، تو اسے معاف کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 3507
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا غُنْدَرٌ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ ، فَقَالَ : " أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلا تَسْرِقُوا ، وَلا تَزْنُوا ، وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ ، وَلا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ ، وَلا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا يَعْنِي : فَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ لَهُ طَهُورٌ ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات پر تم سے بیعت لیتا ہوں، تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دو گے، تم چوری نہیں کرو گے، تم زنا نہیں کرو گے، تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، تم کسی پر زنا کا جھوٹا الزام نہیں لگاؤ گے، تم بھلائی کے کام میں نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جو شخص عہد کرے گا، پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہو گا، اور جو شخص ان میں سے کسی ایک جرم کا ارتکاب کر لے، یعنی اس پر اس کی حد بھی جاری ہو جائے، تو یہ اس کے لیے پاکی کا باعث بنے گی اور جس شخص کی اللہ پردہ پوشی کر لے، تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو گا، اگر وہ چاہے، تو (آخرت میں) اسے عذاب دے گا اور اگر چاہے گا، تو اس کی مغفرت کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 3508
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا أَبُو الْيَمَانِ ، نَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أنا أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ نَحْوَهُ ، فَقَالَ فِيهِ : " وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں اور شب عقبہ کے نقباء میں سے ایک ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جو شخص ان میں سے کسی ایک جرم کا ارتکاب کر لے اور اسے دنیا میں اس کی سزا دے دی جائے، تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گی۔“
حدیث نمبر: 3509
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَذْنَبَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ ، وَمَنْ أَذْنَبَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا ذَنْبًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ ، فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اسے سزا دی جائے، تو اللہ کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ اس بندے کو دوبارہ اس کی سزا دے اور جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کر لے اور اسے معاف کر دے، تو اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ وہ اسے دوبارہ اس چیز کی سزا دے، جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے۔“
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا ابْنُ خُشَيْشٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ الرِّجْلَ بَعْدَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ ، فَقَالَ عُمَرُ : السُّنَّةُ الْيَدِ . ".
محمد محی الدین
قاسم روایت کرتے ہیں کہ: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (ایک چور کا) ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے بعد (اس کے تیسری مرتبہ چوری کرنے پر دوسرا) پاؤں کاٹنا چاہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سنت یہ ہے کہ (اب) ہاتھ کاٹا جائے۔“