حدیث نمبر: 3446
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ فَغَارَتْ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى فَرَمَتْهَا بِفِهْرٍ ، أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُسْقِطَتْ ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ ، فَقَالَ وَلِيُّهَا : أَنَدِي مَنْ لا صَاحَ ، وَلا اسْتَهَلَّ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا أَكَلَ ؟ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ، وَجَعَلَهَا عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مار کر یا شاید خیمہ کی لکڑی مار کر اس کے پیٹ میں موجود بچے کو ضائع کر دیا، یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو آپ نے اس میں تاوان کی ادائیگی کا حکم دیا، تو اس (قاتل عورت) کے سرپرست نے کہا: ”کیا ہم اس کا تاوان ادا کریں گے؟ جو چیخ مار کر رویا نہیں (یعنی پیدا نہیں ہوا)، جس نے کچھ پیا نہیں، کچھ کھایا نہیں؟“ یا اس کی مانند الفاظ نقل کیے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفع مسجع گفتگو کر رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے رشتہ داروں پر تاوان کی ادائیگی کو لازم قرار دیا۔
حدیث نمبر: 3447
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ ، وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفُ مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ ، فَقَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَوْهُ ، فنزلت : وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 النَّفْسَ بِالنَّفْسِ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50 " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (مدینہ منورہ میں) بنو قریظہ اور بنو نضیر دو قبیلے تھے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ سے زیادہ معزز سمجھے جاتے تھے۔ جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتا، تو وہ کھجور کے ایک سو وسق دیت کے طور پر ادا کرتے تھے۔ جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتا، تو دیت وصول نہ کی جاتی بلکہ قصاص لیا جاتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ بنو قریظہ نے کہا: اسے ہمارے حوالے کر دو، تاکہ ہم اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کر دیں۔ تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اور تمہارے درمیان ہیں، فیصلہ کریں گے۔ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”جب تم نے فیصلہ کرنا ہو تو انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرو، جان کا بدلہ جان ہے۔“ کیا وہ لوگ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں؟
حدیث نمبر: 3448
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ ، نَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي بِمَا أَدَّى مِنْ كِتَابَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے: ”اس نے کتابت کے معاہدے میں سے جس شرح کے ساتھ ادائیگی کی ہو گی، اسی حساب سے اس کی دیت آزاد شخص کی دیت ہو گی اور جتنی ادائیگی اس کے ذمے باقی ہو گی، اسی حساب سے اس کی دیت غلام کی دیت جتنی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3449
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مکاتب شخص کا جتنا حصہ آزاد ہو گا، اس اعتبار سے اس کی دیت آزاد شخص کی دیت ہو گی، اور جتنا حصہ غلام ہو گا، اس اعتبار سے اس کی دیت غلام کی دیت ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3450
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِهَذِهِ الأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178 ، قَالَ : فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ ، وَ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 أَنْ يَقْبَلُوا الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ سورة البقرة آية 178 يَتِّبِعُ ذَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَيُؤَدِّي ذَا بِإِحْسَانٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت کا حکم نہیں تھا۔ تو اللہ نے اس امت سے یہ فرمایا: ”مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص کا حکم مقرر کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے میں آزاد کو، غلام کے بدلے میں غلام کو، عورت کے بدلے میں عورت کو قتل کر دیا جائے گا، اور جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے معاف کر دیا جائے۔“ یہاں معاف کرنے سے مراد یہ ہے کہ دوسرا شخص قتل عمد کے مقدمے میں دیت قبول کرنے پر تیار ہو جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تخفیف ہے۔“ یعنی یہ اس حکم کے مقابلے میں تخفیف ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر عائد کیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے حوالے سے تخفیف عطا کی ہے۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہیں یہ تخفیف ملی ہے۔ تم قتل عمد کے مقدمے میں دیت لے لو۔ (اس نے فرمایا) تو تم مناسب طریقے سے پیروی کرو، یعنی مناسب طریقے سے اس کے پیچھے جاؤ اور احسان کے ساتھ اسے ادا کرو۔
حدیث نمبر: 3451
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ ، فَلا دِيَةَ وَلا قِصَاصَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص کسی سے اجازت لیے بغیر اس کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ (گھر کا مالک) اس (جھانکنے والے) شخص کی آنکھ میں کوئی چیز مار کر اسے پھوڑ دے، تو اس کی کوئی دیت یا کوئی قصاص نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3452
نَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ ، نَا أَبِي ، نَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْيَسَعِ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ، وَلا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشْرَةِ دَرَاهِمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دس درہم (قیمت والی چیز کی چوری) پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3453
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ اللُّؤْلُئِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا أَبُو بَكْرٍ السَّعْدِيُّ سَلَمَةُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ أَنْ يُضْرَبَ عُنُقُهُ " .
محمد محی الدین
معاویہ بن قرعہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایسے شخص کی طرف بھیجا، جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی، تاکہ اس کی گردن اڑا دے۔
حدیث نمبر: 3454
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الصَّاغَانِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَا قَتَادَةُ ، عَنْ خِلاسِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " الْمُرْتَدَّةُ تُسْتَأْنَى وَلا تُقْتَلُ " ، خِلاسٌ ، عَنْ عَلِيٍّ لا يُحْتَجُّ بِهِ لِضَعْفِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مرتد ہونے والی عورت کو مہلت دی جائے گی اور اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔“ خلاس نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو روایات نقل کی ہیں، انہیں دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3455
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَأَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ ، قَالَ : تُسْتَحْيَا " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اسے زندہ رکھا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3456
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ ، يَقُولُ : كَانَ الثَّوْرِيُّ يَعِيبُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ حَدِيثًا كَانَ يَرْوِيهِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ.
محمد محی الدین
ابن ابی خیثمہ بیان کرتے ہیں: یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: سفیان ثوری ایک حدیث کی وجہ سے امام ابوحنیفہ پر اعتراض کیا کرتے تھے، جسے امام ابوحنیفہ نے عاصم کے حوالے سے ابورزین سے نقل کیا ہے اور اسے امام ابوحنیفہ کے علاوہ اور کسی نے بھی نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3457
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْعَطَّارُ أَبُو يُوسُفَ الْفَقِيهُ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ ، قَالَ : تُحْبَسُ وَلا تُقْتَلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اسے قید کیا جائے گا اور قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3458
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ أَبُو جَعْفَرٍ ، ثنا أَبُو قَطَنٍ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا تُقْتَلُ النِّسَاءُ إِذَا هُنَّ ارْتَدَدْنَ عَنِ الإِسْلامِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جب خواتین مرتد ہو جائیں، تو انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3459
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ ، قَالَ : تُسْتَحْيَا " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا ، فَلَمْ أَكْتُبْهُ وَقُلْتُ : قَدْ حَدَّثَتْنَا بِهِ عَنْ سُفْيَانَ يَكْفِينَا . وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ : نَرَى أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ إِنَّمَا دَلَّسَهُ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فَكَتَبْتُهُمَا جَمِيعًا.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اسے زندہ رکھا جائے گا۔“ ابوعاصم فرماتے ہیں: امام ابوحنیفہ نے عاصم کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے، لیکن میں نے اسے نوٹ نہیں کیا، میں نے کہا: یہ روایت سفیان کے حوالے سے ہمیں سنائی جا چکی ہے، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ابوعاصم فرماتے ہیں: ہمارا یہ خیال ہے سفیان ثوری نے امام ابوحنیفہ سے اس کے مقتول ہونے میں تدلیس کی ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کے حوالے سے اسے نوٹ کر لیا ہے۔
حدیث نمبر: 3460
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " فِي الدَّامِيَةِ بَعِيرٌ ، وَفِي الْبَاضِعَةِ بَعِيرَانِ ، وَفِي الْمُتَلاحِمَةِ ثَلاثَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي السِّمْحَاقِ أَرْبَعٌ ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ ، وَفِي الْهَاشِمَةِ عَشْرٌ ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسُ عَشْرَةَ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الرَّجُلِ يُضْرَبُ حَتَّى يَذْهَبَ عَقْلُهُ الدِّيَةُ كَامِلَةٌ ، أَوْ يُضْرَبُ حَتَّى يَغْنَ وَلا يُفْهَمَ الدِّيَةُ كَامِلَةٌ ، أَوْ حَتَّى يُنَحَ فَلا يُفْهَمَ الدِّيَةُ كَامِلَةٌ ، وَفِي جَفْنِ الْعَيْنِ رُبْعُ الدِّيَةِ ، وَفِي حَلَمَةِ الثَّدْيِ رُبْعُ الدِّيَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دامیہ، میں ایک اونٹ کی ادائیگی لازم ہو گی، باضعہ، میں دو اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، متلاحمہ، میں تین اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، سمحاق، میں چار اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، موضحہ، میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، ہاشمہ، میں دس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، منقلہ، میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، مامومہ، میں (جان کی دیت کے) تہائی حصے کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جب کسی شخص کو مارنے کے نتیجے میں اس کی عقل رخصت ہو جائے، تو اس میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، جب کسی شخص کو مارنے کے نتیجے میں اس کی یہ حالت ہو کہ وہ ناک سے آواز نکال کر یوں بولتا ہو کہ اس کی بات کی سمجھ نہ آتی ہو، تو اس میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر (اس ضرب کے نتیجے میں) وہ کھانس کر (یا ہچکی لے کر) یوں بولتا ہو کہ اس کی بات سمجھ نہ آتی ہو، تو اس صورت میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ آنکھ کا پپوٹا زخمی کرنے کی صورت میں ایک چوتھائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔ پستان کا سرا زخمی کرنے کی صورت میں ایک چوتھائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3461
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلا مِنْ جُذَامٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَدِيٌّ : " أَنَّهُ رَمَى امْرَأَةً لَهُ بِحَجَرٍ فَمَاتَتْ ، فَتَبِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ فَقَصَّ عَلَيْهِ أَمْرَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعْقِلُهَا وَلا تَرِثُهَا " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن حرملہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے جذام قبیلے کے ایک فرد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، اس نے اپنے قبیلے کے ایک فرد عدی کے حوالے سے یہ بات نقل کی: سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو پتھر مارا، جس کے نتیجے میں وہ عورت فوت ہو گئی، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تبوک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس عورت کی دیت ادا کرو گے اور تم اس کے وارث نہیں بنو گے۔“
حدیث نمبر: 3462
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْحَنَفِيُّ ، نَا أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ إِذْ كَانَ عَامِلا عَلَى الْمَدِينَةِ أُتِيَ بِرَجُلٍ يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ ثُمَّ يَخْرُجُ بِهِمْ فَيَبِيعَهُمْ فِي أَرْضٍ أُخْرَى ، فَاسْتَشَارَ مَرْوَانُ فِي أَمْرِهِ ، فَحَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ ثُمَّ يَخْرُجُ بِهِمْ فَيَبِيعَهُمْ فِي أَرْضٍ أُخْرَى ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالَّذِي يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ " ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ ، عَلَى هِشَامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں: جب مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر تھا، اس کے سامنے ایک ایسے شخص کو لایا گیا، جو بچے کو اٹھا کر لے جاتا تھا اور کسی دوسری جگہ پر انہیں فروخت کر دیتا تھا، اس شخص کے بارے میں مروان نے لوگوں سے مشورہ کیا، تو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسے شخص کو لایا گیا، جو بچے کو اٹھا کر لے جاتا تھا اور انہیں دوسری جگہ فروخت کر دیتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ بچے چوری کرنے والے کے بارے میں مروان نے بھی یہی حکم دیا اور اس شخص کا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا، عبداللہ بن محمد اس روایت کو ہشام سے نقل کرنے میں منفرد ہیں اور انہوں نے ہشام کے حوالے سے (روایات نقل کرنے میں) بہت غلطیاں کی ہیں، یہ منکر الحدیث ہیں۔
حدیث نمبر: 3463
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ إِنْسَانًا قُتِلَ بِصَنْعَاءَ ، وَأَنَّ عُمَرَ قَتَلَ بِهِ سَبْعَةَ نَفَرٍ ، وَقَالَ : لَوْ تَمَالأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ بِهِ جَمِيعًا " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب فرماتے ہیں: ایک شخص کو (یمن شہر) صنعاء میں قتل کر دیا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بدلے میں (قتل میں شریک) سات افراد کو قتل کروا دیا اور فرمایا: ”اگر اس شخص کے قتل میں صنعاء کے رہنے والے تمام لوگ شریک ہوتے، تو میں اس شخص کے بدلے میں ان سب کو قتل کروا دیتا۔“
حدیث نمبر: 3464
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَبُو سَهْلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ الْوَزَّاعِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَةَ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ يَسْبِقُ النَّاسَ كُلَّ سَنَةٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ وَجَدَ مَعَ وَلِيدَتِهِ سَبْعَةَ رِجَالٍ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، فَأَخَذُوهُ وَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَلْقَوْهُ فِي بِئْرٍ ، فَجَاءَ الَّذِي مِنْ بَعْدِهِ فَسُئِلَ عَنْهُ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ مَضَى بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَذَهَبَ الرِّجَالُ إِلَى الْخَلاءِ فَرَأَى ذُبَابًا يَلِجُ فِي خَرَقَ الرَّحَى ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْهَا ، فَعَرَفَ أَنَّ فِيهَا لَحْمًا ، فَرَفَعَ الرَّحَى وَأَرْسَلَ إِلَى سَرِيَّةِ الرَّجُلِ ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْقَوْمِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ : أَنِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ أَجْمَعِينَ ، وَاقْتُلْهَا مَعَهُمْ ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَهْلُ صَنْعَاءَ اشْتَرَكُوا فِي دَمِهِ قَتَلْتُهُمْ بِهِ " .
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عمیرہ بیان کرتے ہیں: صنعاء کا رہنے والا ایک شخص تھا، جو ہر سال لوگوں سے پہلے (گھر واپس) آیا کرتا تھا، ایک دن وہ اپنے گھر واپس آیا، تو اس نے اپنی کنیز (یا بیوی) کے ساتھ سات آدمیوں کو شراب پیتے ہوئے پایا، ان ساتوں نے اسے پکڑ کر قتل کر کے ایک کنویں میں پھینک دیا، جب اس کے بعد والا شخص آیا اور اس نے پہلے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو ان لوگوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی جا چکا ہے، پھر وہ (بعد میں آنے والا) شخص قضائے حاجت کے لیے گیا، تو اس نے دیکھا کنویں کی چکی میں سے کچھ مکھیاں آ جا رہی ہیں، جس سے اسے اندازہ ہوا کہ اس میں گوشت موجود ہے، اس نے اس چکی کو اٹھایا اور (مقتول) شخص کے خاندان والوں کو بلوایا، انہیں اس بارے میں بتایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے خط لکھا: ”ان سب افراد کی گردنیں اڑا دو اور ان کے ساتھ اس عورت کو بھی قتل کر دو، اگر صنعاء کے رہنے والے سب لوگ اس کے قتل میں شریک ہوتے، تو میں سب کو قتل کروا دیتا۔“
حدیث نمبر: 3465
وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : " كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلاثِينَ دِرْهَمًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلاثِينَ دِرْهَمًا ، أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا ، قَالَ : أَلا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں اپنی چادر پر سویا ہوا تھا، اس چادر کی قیمت تیس درہم تھی، ایک شخص آیا، اس نے میرے نیچے سے اسے نکال لیا (اور چوری کرنے کی کوشش کی)، اسے پکڑ لیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”کیا آپ تیس درہم کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، میں یہ اسے فروخت کرتا ہوں اور اس کی قیمت کا ادھار کر لیتا ہوں (یعنی وہ بعد میں وصول کروں گا)؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟“
حدیث نمبر: 3466
نَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَرَسِيُّ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ ، ثِيَابُهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَهَا ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَرَّ السَّارِقُ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ ، فَقَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَيُقْطَعُ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فِي ثَوْبِي ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْفَعُوا مَا لَمْ يَتَّصِلْ إِلَى الْوَالِي ، فَإِذَا أُوصِلَ إِلَى الْوَالِي فَعَفَا فَلا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَطْعِهِ مِنَ الْمِفْصَلِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، ایک چور آیا، اس نے وہ چادر نکال لی، پھر اس چور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس نے جرم کا اقرار کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، سیدنا صفوان نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میرے کپڑے کی وجہ سے ایک عربی کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں سوچا؟“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک مجرم کو معاف کرنے کی سفارش کرو، جب تک معاملہ حاکم یا قاضی تک نہیں پہنچتا، جب وہ حاکم تک پہنچ جائے اور حاکم اسے معاف کر دے، تو اللہ اس حاکم کو معاف نہیں کرے گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ جوڑ کے پاس سے کاٹنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3467
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا أَبُو عُرَيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَفَعَ الزُّبَيْرُ فِي سَارِقٍ ، فَقِيلَ : حَتَّى يَبْلُغَهُ الإِمَامُ ، فَقَالَ : " إِذَا بَلَغَ الإِمَامَ فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفَّعَ ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا زبیر نے ایک چور کے بارے میں سفارش کی، تو کسی نے کہا: ”پہلے یہ مقدمہ قاضی کے سامنے پیش ہونے دیں، پھر سفارش کر دیجیے گا۔“ تو سیدنا زبیر نے فرمایا: ”جب یہ قاضی تک پہنچ گیا، تو پھر اللہ سفارش کرنے والے پر بھی لعنت کرے گا اور جس سے سفارش کی جائے گی (یعنی جو اسے قبول کرے گا) اس پر بھی لعنت کرے گا۔“ جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 3468
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنِ الْفُرَافِصَةِ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَى الزُّبَيْرِ بِسَارِقٍ فَشَفَعَ لَهُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، " تَشْفَعُ لِلسَّارِقِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ لا بَأْسَ بِهِ مَا لَمْ يُؤْتَ بِهِ الإِمَامُ ، فَإِذَا أُتِيَ بِهِ الإِمَامُ فَلا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ إِنْ عَفَا عَنْهُ " .
محمد محی الدین
فرافصہ حنفی بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ ایک چور کو ساتھ لے کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑنے کے لیے کہا، تو ان لوگوں نے کہا: ”اے ابوعبداللہ! آپ ایک چور کی سفارش کر رہے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جب تک معاملہ قاضی کے سامنے پیش نہ ہو جائے، جب یہ قاضی کے سامنے پیش ہو جائے گا، تو اللہ اسے معاف نہیں کرے گا، خواہ قاضی اسے معاف کر بھی دے۔“
حدیث نمبر: 3469
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ سَرَقَ حُلَّةً لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " هَبْهُ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ ایک شخص کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جس نے ان کا حلہ چوری کیا تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا کا فیصلہ سنایا)، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ (وہ حلہ میری طرف سے) اسے ہبہ شمار کریں (اور یہ سزا نہ دیں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟“
حدیث نمبر: 3470
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ ، نَا جَدِّي ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَشَهِدَ الآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّؤُهَا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْهَا حَتَّى شَرِبَهَا ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِيُّ لِلْحَسَنِ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ ، وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً ، قَالَ : " أَمْسِكْ ، جَلْدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ " ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : أَحْسَبُهُ ، قَالَ : " وَأَبُو بَكْرٍ ، وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ ".
محمد محی الدین
حصین بن منذر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے سامنے ولید بن عقبہ کو لایا گیا، حمران نے اور ایک دوسرے شخص نے ولید کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے کہا: ”اس نے ولید کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اور دوسرے نے یہ کہا: ”اس نے ولید کو (شراب پینے کے بعد) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قے اسی وقت کرے گا، جب اس نے شراب پی رکھی ہو گی۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ اس پر حد جاری کر دیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اس پر حد جاری کرو۔“ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کام وہ کرے، جس کی یہ ذمہ داری ہے۔“ انہوں نے عبداللہ بن جعفر سے کہا: ”تم اس پر حد جاری کرو۔“ عبداللہ بن جعفر نے کوڑا پکڑا اور اسے کوڑے مارنے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتی کرتے رہے، جب چالیس کوڑے ہو گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب رک جاؤ۔“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (شراب پینے والے کو) چالیس کوڑے لگوائے تھے۔ عبدالعزیز نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگوائے تھے، ان میں سے ہر ایک سنت ہے (یعنی قابل عمل ہے)، البتہ میں اسے (چالیس کوڑوں کی سزا کو) پسند کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 3471
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَبَقَ غُلامٌ لابْنِ عُمَرَ ، فَمَرَّ عَلَى غِلْمَةٍ لِعَائِشَةَ فَسَرَقَ مِنْهُمْ جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ ، وَرَكِبَ حِمَارًا لَهُمْ ، فَأُتِيَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : لا نَقْطَعُ آبِقًا ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَائِشَةُ : " إِنَّمَا غِلْمَتِي غِلْمَتُكَ ، وَإِنَّمَا جَاعَ وَرَكِبَ الْحِمَارَ لِيَتَبَلَّغَ عَلَيْهِ ، فَلا تَقْطَعْهُ " ، فَقَطَعَهُ ابْنُ عُمَرَ .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ گیا، اس کا گزر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ غلاموں کے پاس ہوا، اس نے ان غلاموں کی ایک تھیلی چوری کر لی، جس میں کھجوریں موجود تھیں، پھر وہ ان غلاموں کے گدھے پر سوار ہوا اور بھاگ گیا، پھر اسے پکڑ کر سیدنا عبداللہ بن عمر کے پاس لایا گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے اسے سعید بن العاص کے پاس بھیج دیا، جو ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، سعید نے کہا: ”میں مفرور غلام کا ہاتھ نہیں کاٹوں گا۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو پیغام بھیجا: ”میرے غلام بھی آپ کے غلام ہیں، وہ غلام بھوکا تھا (اس لیے اس نے کھجوروں کی تھیلی چوری کر لی)، وہ گدھے پر اس لیے سوار ہوا، تاکہ وہاں سے فرار ہو جائے، اس لیے آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں۔“ لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔
حدیث نمبر: 3472
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي خُطْبَتِهِ : وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں یہ ارشاد فرمایا: ”موضحہ زخم کی دیت پانچ، پانچ (اونٹ) ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3473
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ ، إِلا حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(معاشرتی اعتبار سے) صاحب حیثیت لوگوں کی کوتاہیوں سے درگزر کیا کرو، البتہ حدود کا حکم مختلف ہے (ان پر حد جاری ہو گی)۔“
حدیث نمبر: 3474
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ يَعْنِي ابْنَ نِيَارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرَةَ أَسْوَاطٍ ، إِلا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دس سے زیادہ کوڑے صرف حدود میں مارے جائیں۔“
حدیث نمبر: 3475
نَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى . ح وَنا أُسَامَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالا : نَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَقْدِسِيُّ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ : " أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِيَدِهِ فَقُطِعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ " .
محمد محی الدین
ابن محیریز بیان کرتے ہیں: میں نے فضالہ بن عبید سے دریافت کیا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ چور کے ساتھ اس کی گردن میں لٹکانا، کیا یہ سنت ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔“
حدیث نمبر: 3476
نَا نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، نَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، " يَجْلِدُ فِي التَّعْرِيضِ الْحَدَّ " .
محمد محی الدین
حمزہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تعریض کے طور پر (زنا کا الزام لگانے) پر کوڑے مارا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3477
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ ، " يَضْرِبُ فِي التَّعْرِيضِ الْحَدَّ تَامًّا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب تعریض کے طور پر (زنا کا الزام لگانے) پر مکمل حد جاری کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3478
نَا نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِرَجُلٍ : " يَا ابْنَ شَامَةِ الْوَذْرِ ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا عَنَيْتُ بِهِ كَذَا وَكَذَا " ، فَأَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَجُلِدَ الْحَدَّ " .
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا: ”اے مرد کی شرمگاہ سونگھنے والی عورت (یعنی زنا کرنے والی عورت) کے بیٹے!“ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا، اس نے کہا: ”میں اس کے ذریعے یہ معنی مراد لیے ہیں۔“ تو سیدنا عثمان کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگائے گئے۔
حدیث نمبر: 3479
نَا نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، قَالَتْ : " اسْتَبَّ رَجُلانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : مَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ وَلا أَبِي بِزَانٍ ، فَشَاوَرَ عُمَرُ الْقَوْمَ ، فَقَالُوا : مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَهُمَا مِنَ الْمَدْحِ غَيْرُ هَذَا ، فَضَرَبَهُ " .
محمد محی الدین
عمرہ بیان کرتی ہیں: دو آدمیوں کے درمیان گالی گلوچ ہو گئی، تو ان میں سے ایک نے کہا: ”میری ماں زانیہ نہیں تھی، میرا باپ بھی زانی نہیں تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو انہوں نے کہا: ”اس شخص نے اپنے والد اور والدہ کی تعریف کی ہے (کہ وہ زانی نہیں تھے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تعریف کرنے کے لیے ان دونوں میں اور بھی خوبیاں تھیں۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو (کوڑے) لگوائے۔
حدیث نمبر: 3480
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، قَالَ : كَانَ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ : " فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأَصَابِعِ فِي كُلِّ مَا هُنَالِكَ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأُذُنِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ ، وَفِي الأَنْفِ إِذَا اسْتُؤْصِلَ الْمَارِنُ الدِّيَةُ كَامِلَةٌ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ " .
محمد محی الدین
ابوبکر بن محمد بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران بھیجا، تو آپ کے مکتوب میں یہ بھی تحریر تھا: ”ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہو گی، سب انگلیوں کی دیت دس، دس اونٹ ہو گی، کان کی دیت پچاس اونٹ ہو گی، آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہو گی، پاؤں کی دیت پچاس اونٹ ہو گی، اگر ناک کو ہان سے (یعنی پورے ناک کو) کاٹ دیا جائے، تو اس میں مکمل دیت ہو گی، مامومہ زخم میں جان کی دیت کا تہائی حصہ دینا ہو گا، اور جائفہ کی دیت میں جان کی دیت کا تہائی حصہ دینا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3481
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَتَبَ لَهُ إِذْ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ : فِي الأَنْفِ إِذَا اسْتُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ كَامِلَةٌ ، وَالْعَيْنُ نِصْفُ الدِّيَةِ ، وَالرِّجْلُ نِصْفُ الدِّيَةِ ، وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَالْمُنَقِّلَةُ خَمْسُ عَشْرَةَ مِنَ الإِبِلِ ، وَالْمُوضِحَةُ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ " .
محمد محی الدین
ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا، تو انہیں مکتوب میں یہ لکھا تھا: ”جب ناک کو ہان سے کاٹ دیا جائے، تو اس میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، آنکھ (ضائع کرنے پر) نصف دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، پاؤں میں نصف دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، جائفہ زخم میں ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، مامومہ زخم میں ایک تہائی دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، منقلہ زخم میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، موضحہ زخم میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں سے لے کر وہاں تک (تمام انگلیوں میں سے ہر ایک) کی دیت دس اونٹ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3482
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَتَبَ لَهُمْ كِتَابًا : فِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسُ عَشْرَةَ ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ كَامِلَةٌ ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (خط تحریر کروا کر دیا): ”موضحہ زخم میں پانچ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، مامومہ میں ایک تہائی دیت لازم ہو گی، منقلہ میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، آنکھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی، جب ناک کو ہان سے کاٹ دیا جائے، تو اس میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی، دانت کی دیت پانچ اونٹ ہو گی، پاؤں کی پچاس اونٹ ہو گی، ہاتھ اور پاؤں کی تمام انگلیوں میں سے ہر ایک کی دیت دس، دس اونٹ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3483
نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، نَا أَبُو هِشَامٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ، وَفِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موضحہ زخموں میں پانچ پانچ اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا، جبکہ دانتوں (کی دیت میں) پانچ پانچ اونٹوں کی ادائیگی اور انگلیوں میں سے ہر ایک انگلی کی دیت دس دس اونٹ کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 3484
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، أَيْضًا نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالا : نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَصَابِعِ بِعَشْرٍ عَشْرٍ " ، وَقَالَ النَّضْرُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الإِبِلِ " . كَذَا رَوَاهُ سَعِيدٌ عَنْ غَالِبٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَخَالِدُ بْنُ يَحْيَى ، فَرَوَوْهُ عَنْ غَالِبٍ عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا حُمَيْدًا ، وَذَكَرَ شُعْبَةُ فِيهِ سَمَاعَ غَالِبٍ مِنْ مَسْرُوقٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں میں دیت دس دس کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا۔ نضر نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں میں دس دس اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا۔ سعید نے غالب کے حوالے سے حمید سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ شعبہ نے اسماعیل، علی اور خالد نے اس سے مختلف نقل کیا ہے، انہوں نے غالب کے حوالے سے، مسروق کے حوالے سے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی ہے، انہوں نے حمید نامی راوی کا ذکر نہیں کیا۔ شعبہ نے اس میں یہ ذکر کیا ہے کہ غالب نے مسروق سے احادیث کا سماع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3485
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ ، نَا شَيْخٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ مَسْرُوقُ بْنُ أَوْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتَ : " عَشْرًا عَشْرًا ؟ " ، قَالَ : " نَعَمْ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَعَفَّان وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمْ وَكِيعٌ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَأَبُو النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ شَكَّ فِي مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ ، أَوْ أَوْسِ بْنِ مَسْرُوقٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔“ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: ”(ان میں سے ہر ایک کی دیت) دس دس اونٹ ہو گی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ ابونعیم، عفان، مسلم اور دیگر راویوں نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے۔ وکیع، وہب بن جریر، ابونضر نے شعبہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، انہیں ایک راوی کے نام کے بارے میں شک ہے، اس کا نام مسروق بن اوس ہے، یا اوس بن مسروق ہے۔
…