حدیث نمبر: 3087
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَافِظُ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَامِرٌ ، ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ، قَالا : نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ قَتْلُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلا فِي ثَلاثٍ خِصَالٍ : زَانٍ مُحْصَنٍ فَيُرْجَمُ ، وَرَجُلٍ يَقْتُلُ مُتَعَمِّدًا فَيُقْتَلُ بِهِ ، وَرَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الإِسْلامِ فَيُحَارِبُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ ، أَوْ يُصْلَبُ ، أَوْ يُنْفَى مِنَ الأَرْضِ " ،.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی بھی مسلمان کو صرف تین صورتوں میں قتل کرنا جائز ہے: شادی شدہ زانی کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا، وہ شخص جو کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دے، تو بدلے میں اسے بھی قتل کر دیا جائے گا، وہ شخص جو اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے، تو اسے قتل کر دیا جائے گا، یا مصلوب کر دیا جائے گا، یا جلاوطن کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 3088
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو حُذَيْفَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ، قَالا : نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، قَالَ النَّيْسَابُورِيُّ : قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى : إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ ؟ ، قَالَ : لا ،.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3089
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَقُولُ : كَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے بھی منقول ہے، تاہم اس کے بعض راویوں کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 3090
نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ ، لا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلا ثَلاثَةَ نَفَرٍ : التَّارِكُ لِلإِسْلامِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس ذات کی قسم، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون بہانا، صرف تین صورتوں میں جائز ہے: جب وہ اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے، یا شادی شدہ زانی، اور (قاتل یعنی) جان کے بدلے میں جان۔“
حدیث نمبر: 3091
قَالَ الأَعْمَشُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3092
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سابقہ روایت کی مانند نقل کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 3093
قَالَ الأَعْمَشُ : فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِيهِ الأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ ،.
محمد محی الدین
اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کو سنائی، تو انہوں نے بتایا: اسود نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے۔
حدیث نمبر: 3094
قَالَ : وَنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الأَوَّلِ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَسْنَدَ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن نامی محدث بیان کرتے ہیں: راوی نے ان دونوں روایات کو ایک ساتھ ملا دیا ہے، یعنی مسروق کی سیدنا عبداللہ سے نقل کردہ روایت اور ابراہیم کی اسود (کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) نقل کردہ روایت۔
حدیث نمبر: 3095
نَا نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو مُوسَى ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ ، إِلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٌ قَتَلَ فَيُقْتَلُ بِهِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ، أَوْ قَالَ : الْخَارِجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ " ، مَوْقُوفٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس امت سے تعلق رکھنے والے کسی بھی مسلمان کو تین میں سے کسی ایک وجہ سے قتل کیا جا سکتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی کو قتل کرے، تو جواب میں اسے قتل کیا جائے گا، شادی شدہ زانی، جماعت سے الگ ہونے والا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جماعت سے نکلنے والا، یہ حدیث موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 3096
نَا ابْنُ الْجُنَيْدِ نَا يُوسُفُ ، نَا جَرِيرٌ . ح وَنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ ، مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 3097
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ . ح وَنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الشَّامِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْرَءُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ عَنِ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِ مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ ، فَإِنَّ الإِمَامَ لأَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جہاں تک تم سے ہو سکے، مسلمانوں سے حدود کو پرے رکھو، اگر تم کسی مسلمان کے لیے کوئی گنجائش پاؤ، تو اسے وہ گنجائش فراہم کرو، کیونکہ حاکم (یا قاضی) کا معاف کرنے میں غلطی کرنا، اس کے لیے سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 3098
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ مُخْتَارٍ التَّمَّارِ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ادْرَءُوا الْحُدُودَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حدود کو پرے رکھنے (کی کوشش کرو)۔“
حدیث نمبر: 3099
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَعُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، قَالُوا : " إِذَا اشْتَبَهَ عَلَيْكَ الْحَدُّ فَادْرَأْهُ مَا اسْتَطَعْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ (یہ تینوں حضرات) فرماتے ہیں: جب حد (ثابت ہونے کا معاملہ) تمہارے سامنے مشکوک ہو جائے، تو جہاں تک تم سے ہو سکے، اسے پرے رکھو۔
حدیث نمبر: 3100
نَا ابْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ ، فَلَمْ يَحُدَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا مقدمہ پیش کیا گیا، جس نے اپنی بیوی کی کنیز کے ساتھ زنا کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری نہیں کی۔
حدیث نمبر: 3101
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْبَصْرِيُّ ، نَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ ، أَوْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ ، أَوْ يُنْشَدَ فِيهِ الشِّعْرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے، اس میں حد قائم کرنے، اس میں شعر سنانے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3102
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ ، أَوْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ " .
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے یا اس میں حد قائم کی جائے۔
حدیث نمبر: 3103
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَلا يُسْتَقَادُ فِيهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مساجد میں حدود قائم نہ کی جائیں اور ان میں قصاص نہ لیا جائے۔“
حدیث نمبر: 3104
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَوِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، أَوْ كِلاهُمَا ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى سورة البقرة آية 178 ، فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178 ، قَالَ : وَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ فِي الْعَمْدِ الدِّيَةَ ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ سورة البقرة آية 178 يُتْبَعُ الطَّالِبُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيُؤَدِّي إِلَيْهِ الْمَطْلُوبُ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وأنا بِهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت کا حکم نہیں تھا۔ تو اللہ نے اس امت سے یہ فرمایا (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے): ”مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص لازم کیا گیا ہے۔“ تو ”جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے معافی مل جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ معافی یوں ہو گی کہ دوسرا فریق قتل عمد میں دیت قبول کرنے میں راضی ہو جائے۔ ”بھلائی کی پیروی کرنا“ یعنی طلب گار شخص بھلائی کی پیروی کرے اور مطلوب شخص احسان کے ساتھ اسے ادائیگی کرے۔ ”یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (ملنے والی) تخفیف اور رحمت ہے۔“ یہی روایت مجاہد کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قَرِينٍ ، نَا فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ الآبِقِ إِذَا سَرَقَ قَطْعٌ ، وَلا عَلَى الذِّمِّيِّ " ، لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ فَهْدٍ ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی مفرور غلام چوری کر لے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور ذمی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر صرف فہد نامی راوی نے نقل کیا ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 3106
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، وَمَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لا نَرَى عَلَى عَبْدٍ آبِقٍ يَسْرِقُ قَطْعًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بات کے قائل تھے کہ اگر مفرور غلام چوری کر لے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3107
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَاضِي خُوَارَزْمَ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ " كَانَ لا يَرَى عَلَى الْعَبْدِ حَدًّا ، وَلا عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصَارَى حَدًّا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بات کے قائل ہیں کہ غلام پر حد جاری نہیں ہو گی، یہودی یا عیسائی سرزمین پر رہنے والے پر بھی حد جاری نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 3108
نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، مِنْ كِتَابِهِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ ، نَا عَاصِمٌ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ وَلا عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ حُدُودٌ " ، الَّذِي قَبْلَهُ مَوْقُوفٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غلام پر اور اہل کتاب پر حد جاری نہیں ہو گی۔“ اس سے پہلے جو روایت موقوف حدیث کے طور پر منقول ہے، وہ اس سے زیادہ مستند ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 3109
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمِصِّيصِيُّ بِكَفْرِيتَا ، نَا عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قَوَدَ إِلا بِالسَّيْفِ " ، سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف تلوار کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔“ اس کا راوی سلیمان بن ارقم متروک ہے۔
حدیث نمبر: 3110
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ سِنِينَ ، نَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، نَا مُعَلَّى بْنُ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قَوَدَ إِلا بِحَدِيدَةٍ ، وَلا قَوَدَ فِي النَّفْسِ وَغَيْرِهَا إِلا بِحَدِيدَةٍ " ، مُعَلَّى بْنُ هِلالٍ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف لوہے (کے ہتھیار) کے ذریعے لیا جا سکتا ہے، جان یا اس کے علاوہ (کسی عضو) کا قصاص صرف لوہے (کے ہتھیار) کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3111
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسَدٍ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قَوَدَ إِلا بِالسَّيْفِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف تلوار کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3112
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصُّغْدِيُّ ، نَا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا قَوَدَ إِلا بِسِلاحٍ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قصاص صرف اسلحے کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3113
قَالَ : وَنا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو مُعَاذٍ هُوَ : سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ هُوَ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ ابومعاذ سلیمان بن ارقم نامی راوی متروک ہے۔
حدیث نمبر: 3114
نَا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ ، نَا الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا طَعَنَ رَجُلا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَقِدْنِي ، قَالَ : حَتَّى تَبْرَأَ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَقِدْنِي ، فَأَقَادَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَرَجْتُ ، قَالَ : قَدْ نَهَيْتُكِ فَعَصَيْتَنِي ، فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ وَبَطَلَ عَرَجُكَ " ، ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّى يَبْرَأَ صَاحِبُهُ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے شخص کے گھٹنے میں تیر مارا، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ۔“ پھر (ٹھیک ہونے کے بعد) وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلوا دیا، پھر وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں لنگڑا ہو گیا ہوں (تو آپ دوسرے فریق کو بھی زیادہ سزا دلوائیں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں منع کیا تھا، تم نے میری بات نہیں مانی، اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے، تمہارا لنگڑا ہونا ضائع گیا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ زخمی کے ٹھیک ہونے سے پہلے اس کا قصاص لیا جائے۔
حدیث نمبر: 3115
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُمَوِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَعُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا جُرِحَ فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَقِيدَ ، " فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ مِنَ الْجَارِحِ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص زخمی ہو گیا، اس نے قصاص لینے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمی کرنے والے سے قصاص لینے، اس وقت تک منع کر دیا، جب تک زخمی شخص ٹھیک نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3116
ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ نَجِيحٍ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْد ٍ ، بِهَذَا ، وَقَالَ : " أَنْ يُمْثَلَ مِنَ الْجَارِحِ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 3117
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ رَجُلا طَعَنَ رَجُلا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقِيدُ ، فَقِيلَ لَهُ : حَتَّى تَبْرَأَ ، فَأَبَى وَعَجَّلَ فَاسْتَقَادَ ، قَالَ : فَعَنَتَتْ رِجْلُهُ وَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ إِنَّكَ أَبِيتَ " ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عُبْدُوسَ : مَا جَاءَ بِهَذَا إِلا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ . قَالَ الشَّيْخُ : أَخْطَأَ فِيهِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَخَالَفَهُمَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرٍو ، مُرْسَلا ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْهُ ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلا .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے شخص کے گھٹنے میں تیر مارا، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ قصاص (لینے کا مقدمہ) پیش کرے، تو اس سے کہا گیا کہ تم پہلے ٹھیک ہو جاؤ، اس نے یہ بات نہیں مانی، اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قصاص لے لیا، تو اس کی ٹانگ ٹھیک نہیں ہوئی، لیکن جس شخص سے قصاص لیا گیا تھا، اس کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی، (قصاص لینے والا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کچھ نہیں ملے گا، تم نے نافرمانی کی تھی۔“ شیخ ابواحمد بن عبدوس نامی راوی فرماتے ہیں: یہ روایت صرف ابوبکر و عثمان (یہ دونوں ابوشیبہ کے صاحبزادے ہیں) نے نقل کی ہے، شیخ فرماتے ہیں: ابوشیبہ کے دونوں صاحبزادوں نے اسے نقل کرنے میں غلطی کی ہے۔ امام احمد بن حنبل اور دوسرے محدثین نے، ابن علیہ کے حوالے سے، ایوب کے حوالے سے، عمرو (بن دینار) سے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔ عمرو بن دینار کے شاگردوں نے اسے ان کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے، اور اس روایت کا مرسل ہونا محفوظ ہے۔
حدیث نمبر: 3118
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ محمد بن طلحہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3119
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ : أَخْبَرَهُمْ " أَنَّ رَجُلا طَعَنَ رَجُلا بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَقِدْنِي ، قَالَ : حَتَّى تَبْرَأَ ، قَالَ : أَقِدْنِي ، قَالَ : حَتَّى تَبْرَأَ ، قَالَ : أَقِدْنِي ، فَأَقَادَهُ ، ثُمَّ عُرِجَ فَجَاءَ الْمُسْتَقِيدُ ، فَقَالَ : حَقِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَقَّ لَكَ " .
محمد محی الدین
محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے کی ٹانگ میں تیر مارا، تو دوسرا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قصاص دلوائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے ٹھیک ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلوا دیا، پھر وہ (قصاص لینے والا شخص) ٹھیک نہ ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”میرا حق (مجھے دلوائیں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3120
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ محمد بن طلحہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3120M
وَعَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْعَدَكَ اللَّهُ أَنْتَ عَجَّلْتَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں دور رکھے، تم نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 3121
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْرَقُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنَ الْجِرَاحِ حَتَّى يَنْتَهِيَ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ زخمی شخص کے ٹھیک ہونے سے پہلے زخم کا قصاص لیا جائے۔
حدیث نمبر: 3122
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا هَانِئُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسْتَأْنِي بِالْجِرَاحَاتِ سَنَةً " ، يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زخم کا قصاص لینے کے لیے ایک سال تک انتظار کیا جائے۔“ یزید بن عیاض نامی راوی ضعیف اور متروک ہے۔
حدیث نمبر: 3123
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، نَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، نَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَذَفَ عَبْدَهُ بِحَدٍّ ، أُقِيمَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلا أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم نے فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے غلام پر زنا کا جھوٹا الزام لگائے، اس شخص پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی، البتہ اگر وہ غلام واقعی ایسا ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 3124
نَا الشَّافِعِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، بِهَذَا . أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، عَنْ مُسَدَّدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ حُفَّاظٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی سند کے ہمراہ نقل کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ اور حافظ ہیں۔
حدیث نمبر: 3125
نَا ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا جَدِّي ، نَا أَبُو الْجَوَّابِ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَذَفَ عَبْدَهُ بِزِنًا ، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ ، أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے غلام پر زنا کا (جھوٹا) الزام لگائے اور پھر اس سے توبہ نہ کرے، اس شخص پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی۔“
…