حدیث نمبر: 3074
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ ، وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ ، فَمَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدُّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شہری شخص، دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، مصنوعی بولی نہ لگاؤ، (اناج کے قافلے کے منڈی پہنچنے سے پہلے) اسے راستے میں نہ ملو، اونٹنی یا بکری کو فروخت کرنے کے لیے ان کا تصریہ نہ کرو، جو شخص اسے خریدے گا، اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، تو اپنے پاس رکھے اور اگر وہ واپس کرنا چاہے، تو اسے واپس کر دے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دے، گندم کا نہیں۔“
حدیث نمبر: 3075
ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ ، نَا الْحُنَيْنِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا جَلَبَ وَلا جَنَبَ وَلا اعْتِرَاضَ ، وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ إِذَا حَلَبَهَا بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ سَخِطَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " ، تَابَعَهُ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُصَرَّاةِ . حَدَّثَ عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ عِيسَى وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ شُعْبَةُ : عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جلب، جنب، اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے، شہری شخص دیہاتی کے لیے کوئی سودا نہ کرے، اونٹنی یا بکری کا تصریہ نہ کیا جائے، جو شخص تصریہ والے جانور کو خرید لے اور اس کا دودھ دوہ لے، تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے، تو اسے واپس کر دے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دے۔“ عاصم بن عبیداللہ نے سالم کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مصراة کے بارے میں اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے، ان کے حوالے سے داؤد بن عیسیٰ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ حسن بن عمارہ نے حکم کے حوالے سے ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ ابوشیبہ نامی راوی نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ شعبہ نامی راوی نے اسے ایک صحابی کے حوالے سے (جن کا نام مذکور نہیں ہے) روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3076
ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ الْكَاتِبُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبِي ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةَ ، الْمُحَاضَرَةِ ، وَالْمُلامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " ، قَالَ عُمَرُ : فَسَّرَهُ أَبِي : الْمُحَاضَرَةُ لا يَشْتَرِي شَيْئًا مِنَ الْحَرْثِ وَالنَّخْلِ حَتَّى يَوْنِعَ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ ، وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ فَيَرْمِي بِالثَّوْبِ وَيَرْمِي إِلَيْكُمْ مِثْلَهُ ، فَيَقُولُ : " هَذَا لَكَ بِهَذَا " ، وَالْمُلامَسَةُ يَشْتَرِي الْمَبِيعَ فَيَلْمَسَهُ لا يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ كِرَاءُ الأَرْضِ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ منع کیا ہے۔ عمر بن یونس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرے والد نے اس کی وضاحت یوں کی ہے: مخاضرہ سے مراد یہ ہے کہ خریدار کسی کھیت یا کھجوروں کے باغ کو اس وقت تک نہیں خریدے گا، جب تک وہ سرخ یا زرد نہیں ہو جاتے (یعنی پیداوار پک نہیں جاتی)۔ منابذہ سے مراد یہ ہے کہ خریدار فروخت کرنے والے کی طرف اور فروخت کرنے والا خریدنے والے کی طرف کپڑا پھینکے گا اور کہے گا: یہ اس کے عوض میں تمہارا ہوا۔ ملامسہ یہ ہے کہ خریدنے والا سامان خریدے گا، حالانکہ اس نے سامان کو دیکھا بھی نہیں ہو گا۔ محاقلہ سے مراد زمین کرائے پر دینا ہے۔
حدیث نمبر: 3077
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو بَكْرٍ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ ، ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، " إِنِّي قَدْ وَرَدَتْ عَلَى الْمِلْحِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهِيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مِلْحٌ ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ ، فَاسْتَقَالَ أَبْيَضُ فِي قَطِيعَةِ الْمِلْحِ ، فَقَالَ أَبْيَضُ : قَدْ أَقَلْتُكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ ، وَهَذَا مثل الْمَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ ، قَالَ : فَقَطَعَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخِيلا بِالْجُرُفِ ، جُرُفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ فِيهِ " ، قَالَ فَرَجٌ : فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ.
محمد محی الدین
ثابت بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ قطعہ اراضی مانگا، جسے ملح شذا کہا جاتا تھا اور یہ مارب میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قطعہ اراضی انہیں عطا کر دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! میں زمانہ جاہلیت میں ملح نامی جگہ گیا تھا، وہ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں نمک نہیں ہے، جو شخص وہاں پہنچ جائے، وہ اسے حاصل کر سکتا ہے، اس کی مثال اس بہتے ہوئے پانی کی ہے، جس کا بہاؤ ختم نہیں ہوتا۔“ پھر اقرع نے ملح کے قطعہ اراضی کے بارے میں ابیض سے اقالہ کی فرمائش کی، تو سیدنا ابیض نے کہا: ”میں اس میں شرط پر تمہارے ساتھ اقالہ کرتا ہوں کہ تم اسے میری طرف سے صدقے کے طور پر استعمال کرو گے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے، اس کی مثال چشمے سے بہتے ہوئے پانی کی ہے، جو شخص اس تک پہنچ جائے گا، وہ اسے استعمال کرے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جرف کے مقام پر کچھ زمین اور کھجور کا باغ عنایت کیا تھا، اس سے مراد جرف مراد ہے، یہ عطا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کی، جب انہوں نے اس میں اقالہ کر لیا۔ فرج بن سعید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: اس کی بھی یہی صورت تھی، جو اس تک پہنچ جائے گا، وہ اسے حاصل کر لے گا۔
حدیث نمبر: 3078
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي جَمِيلٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، " أَنَّ نَفَرًا اشْتَرَكُوا فِي زَرْعٍ ، مِنْ أَحَدِهِمُ الأَرْضُ ، وَمِنَ الآخَرِ الْفَدَّانُ ، وَمِنَ الآخَرِ الْعَمَلُ ، وَمِنَ الآخَرِ الْبَذْرُ ، فَلَمَّا طَلَعَ الزَّرْعُ ارْتَفَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَلْغَى الأَرْضَ وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْفَدَّانِ كُلَّ يَوْمٍ دِرْهَمًا ، وَأَعْطَى الْعَامِلَ كُلَّ يَوْمٍ أَجْرًا ، وَجَعَلَ الْغَلَّةَ كُلَّهَا لِصَاحِبِ الْبَذْرِ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ مَكْحُولا ، فَقَالَ : مَا يَسُرُّنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ وَصِيفٌ ، هَذَا مُرْسَلٌ وَلا يَصِحُّ ، وَوَاصِلٌ هَذَا ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں: چند لوگوں نے ایک زرعی زمین میں مشترکہ طور پر کام کرنے کے بارے میں طے کیا، ان میں سے ایک شخص کی زمین تھی، دوسرے شخص نے زراعت کے آلات فراہم کرنے تھے، تیسرے شخص نے کھیت میں کام کرنا تھا، اور چوتھے نے بیج فراہم کرنا تھا، جب وہ پیداوار تیار ہو گئی، تو یہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے زمین کی ملکیت کو بے حیثیت قرار دیا (یعنی اسے کوئی معاوضہ نہیں ملے گا)، جس شخص نے زراعت کے آلات فراہم کیے تھے، اسے ایک دن کا ایک درہم معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس شخص نے کھیت میں مزدوری کرنی تھی، اس کے لیے معاوضہ مقرر کیا اور آپ نے بیج فراہم کرنے والے شخص کو تمام پیداوار کا مالک قرار دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مکحول کو سنائی، تو انہوں نے فرمایا: اس حدیث کے عوض میں مجھے وصیف بھی ملتا، تو خوشی نہ ہوتی۔ یہ حدیث مرسل ہے اور مستند ہے، اس روایت کا راوی واصل ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3079
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ ، مَنْ ضَارَّ ضَرَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(اسلام میں) ضرار اور ضرر نہیں ہے، جو شخص ضرر پہنچانے کی کوشش کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ضرر میں مبتلا کرے گا اور جو شخص مشقت کا شکار کرنے کی کوشش کرے گا، اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 3080
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ ، وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو خَالِدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : " أَلا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً ، لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ ، وَلا خِبْثَةَ ، بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ : فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا : " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أُمَّةً " ، شَكَّ عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ " لا دَاءَ بِهِ ، وَلا خِبْثَةَ ، وَلا غَائِلَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ ".
محمد محی الدین
ابوہب بیان کرتے ہیں: سیدنا عداء بن خالد نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ تحریر پڑھ کر سناؤں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی؟ (اس کے یہ الفاظ ہیں): ”یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا، جس میں کوئی بیماری نہیں ہے، کوئی دھوکا نہیں ہے، کوئی خرابی نہیں ہے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: پھر انہوں نے میرے سامنے یہ تحریر نکالی: ”یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا (یہاں عباد نامی راوی کو شک ہے)، جس میں کوئی بیماری نہیں ہے، کوئی دھوکا نہیں ہے، کوئی خرابی نہیں ہے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔“
حدیث نمبر: 3081
ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ أَبُو أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ ، نَا أَبُو الْجَارُودِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " إِذَا دَفَعَ مَالا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ ، أَنْ لا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا ، وَلا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا ، وَلا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَا كَبِدٍ رَطْبَةٍ ، فَإِنْ فَعَلَهُ فَهُوَ ضَامِنٌ ، فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَازَهُ " ، أَبُو الْجَارُودِ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب ایک شخص کو اپنا مال مضاربت کے طور پر دیتا، تو ساتھ یہ شرط عائد کی کہ وہ اس مال کو لے کر سمندر میں سفر نہیں کرے گا، اس کے ساتھ کسی (وادی (یعنی بے آب و گیاہ) جگہ پر پڑاؤ نہیں کرے گا، اس کے ذریعے کسی جاندار کو نہیں خریدے گا، اور اگر وہ ایسا کرے گا، تو وہ اس کا ضمان (تاوان) ادا کرے گا، پھر انہوں نے یہ شرط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی، تو آپ نے اسے درست قرار دیا۔
حدیث نمبر: 3082
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْوَصَّافِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ جِنَازَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وُضِعَتْ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَعَدَلَ عَنْهَا ، وَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَلَمَّا رَآهُ عَلِيُّ تَقَفَّى ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَرِئَ مِنْ دِينِهِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَيْهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : يَا عَلِيٌّ ، جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ الْمُسْلِمَ ، لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقْضِي عَنْ أَخِيهِ دَيْنَهُ ، إِلا فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِعَلِيٍّ خَاصَّةً ؟ ، قَالَ : لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک نماز جنازہ میں شریک ہوا، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، جب اسے رکھا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ذمہ کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹنے لگے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ جب سیدنا نے آپ کو واپس جاتے ہوئے دیکھا، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ شخص اپنے قرض سے بری الذمہ ہے، اس کے ذمہ جو ادائیگی ہے، میں اس کا ضامن ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا کرے، جس طرح تم نے اپنے مسلمان بھائی کی ادائیگی اپنی ذمہ لی ہے، اسی طرح اللہ قیامت کے دن تمہاری ادائیگیاں اپنے ذمہ لے، جو بھی شخص اپنے بھائی کی طرف سے اس کا قرض ادا کرتا ہے، تو اللہ قیامت کے دن اس شخص کی ادائیگیوں کا ذمہ دار ہو گا۔“ ایک انصاری شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ حکم سیدنا علی کے ساتھ مخصوص ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“
حدیث نمبر: 3083
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، نَا زَافِرٌ . ح وَنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو حَامِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ أَحْمَدُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، نَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْوَصَّافِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " شَهِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً فَلَمَّا وُضِعَتْ قِيلَ : عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنَا ضَامِنٌ لِدَيْنِهِ ، قَالَ : فَكَّ اللَّهُ عَنْكَ يَا عَلِيٌّ ، رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ عَنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ رِهَانَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً ؟ ، قَالَ : لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے، جب اسے رکھا گیا، تو بتایا گیا: اس کے ذمہ قرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے، تو سیدنا علی نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! میں اس کا ضامن ہوں، قرض دینے میں۔“ تو نبی نے فرمایا: ”اے علی! اللہ تمہاری ضرورتوں کو اسی طرح پورا کرے، جس طرح تم نے اپنے ساتھی مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ حکم سیدنا علی کے ساتھ مخصوص ہے یا تمام اہل ایمان کے لیے عام ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام اہل ایمان کے لیے عام ہے۔“
حدیث نمبر: 3084
ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " مَاتَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَوَضَعْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ مَقَامِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، ثُمَّ آذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعَنَا ، ثُمَّ خَطَّى ، ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلامُ لِعَلِيٍّ : عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، دِينَارَانِ ، فَتَخَلَّفَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُمَا عَلَيَّ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : هُمَا عَلَيْكَ وَفِي مَالِكَ ، وَحَقُّ الرَّجُلِ عَلَيْكَ ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُمَا بَرِيءٌ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : مَا صَنَعْتَ فِي الدِّينَارَيْنِ ؟ ، حَتَّى كَانَ آخِرُ ذَلِكَ ، قَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الآنَ حِينَ بَرَّدْتَ عَلَيْهِ جِلْدَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، ہم نے انہیں غسل دیا، کفن دیا، انہیں خوشبو لگائی اور اسے جبرائیل علیہ السلام کی جگہ کے پاس رکھ دیا، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے، پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چند قدم چل کر آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”شاید تمہارے ساتھی کے ذمہ کچھ قرض تھا۔“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں، دو دینار تھے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑنے لگے، ہم میں سے ایک صاحب، جن کا نام ابوقتادہ تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”یا رسول اللہ! ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کی ادائیگی تمہارے ذمہ ہے اور تمہارے مال میں سے ہو گی، اور (وصول کرنے والے) شخص کا حق تمہارے ذمہ ہے، یہ مرحوم ان دونوں سے بری ہے۔“ تو سیدنا ابوقتادہ نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بھی سیدنا ابوقتادہ سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہی دریافت کیا: ”تم نے ان دو دیناروں کا کیا کیا؟“ آخر کار جب سیدنا ابوقتادہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب اس شخص کو ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے۔“
حدیث نمبر: 3085
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّيُوطِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دَيْنٍ ، وَلَفَقِيهٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ، وَلِكُلِّ شَيْءٍ عِمَادٌ ، وَعِمَادُ هَذَا الدِّينِ الْفِقْهُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لأَنْ أَجْلِسَ سَاعَةً فَأَفْقَهَ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُحْيِيَ لَيْلَةً إِلَى الْغَدَاةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی بندگی کے حوالے سے بھی جو کام کیے جاتے ہیں، ان میں سب سے زیادہ فضیلت دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کو ہے، ایک فقیہ شیطان کے لیے ایک ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ شدید (پریشانی کا باعث) ہوتا ہے، ہر چیز کا ایک ستون ہے، اس دین کا ستون فقہ ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک گھڑی بیٹھ کر دین کا علم حاصل کر لوں، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں رات بھر نوافل ادا کرتا رہوں۔
حدیث نمبر: 3086
ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ التُّرْجُمَانِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَنْبِيَاءُ قَادَةٌ ، وَالْعُلَمَاءُ سَادَةٌ ، وَمَجَالِسُهُمْ زِيَادَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انبیاء قائدین ہیں، فقہاء سردار ہیں، ان کی ہم نشینی (علم اور اجر و ثواب میں) اضافہ کا باعث ہوتی ہے۔“