کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ ثَلاثِينَ رَاكِبًا ، قَالَ : فَنَزَلْنَا عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا ، قَالَ : فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحَيِّ فَأَتَوْنَا ، فَقَالُوا : أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ أَنَا ، وَلَكِنْ لا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا ، فَقَالُوا : فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلاثِينَ شَاءً ، قَالَ : فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، فَبَرَأَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ ، قَالَ : فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : وَمَا عِلْمُكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ، فَاقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک مہم پر روانہ کیا، ہم نے ایک عرب قبیلے (کی بستی) کے پاس پڑاؤ کیا، ہم نے ان سے مہمان نوازی کی درخواست کی، تو انہوں نے انکار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا، وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور دریافت کیا: ”کیا آپ میں سے کوئی شخص بچھو کے کاٹنے کا دم کر سکتا ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: ”ہاں، میں کر سکتا ہوں، لیکن میں ایسا اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک تم لوگ ہمیں (اس کا معاوضہ) ادا نہیں کرو گے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم آپ لوگوں کو (اس کے معاوضے میں) تیس بکریاں دیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس شخص پر سورہ فاتحہ سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا، جب ہم نے وہ بکریاں وصول کیں، تو ہمیں اس بارے میں کچھ الجھن محسوس ہوئی، ہم نے ان بکریوں کا گوشت استعمال نہیں کیا، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے دریافت کیا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟“ (میں نے جواب دیا: آپ نے بتایا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3034
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»
حدیث نمبر: 3035
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم شعبہ نامی راوی نے اس میں کچھ مختلف نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3035
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»
حدیث نمبر: 3036
ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا حَيًّا مِنَ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ ، فَقَالُوا : أَفِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ ؟ ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا فَلا نَفْعَلُ أَوْ تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ ، فَقَالُوا : لا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ ، وَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ رُقْيَةٌ ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے ان حضرات کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان لوگوں کے سردار کو کسی (زہریلے جانور نے) کاٹ لیا، ان لوگوں نے دریافت کیا کہ ”آپ کے پاس اس کی کوئی دوا ہے یا کوئی دم کرنے والا ہے؟“ تو ان حضرات نے کہا: ”تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے ہم تو ایسا نہیں کریں گے، یا پھر یہ ہے کہ تم اس کا ہمیں معاوضہ ادا کرو۔“ تو ان لوگوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ معاوضہ مقرر کیا، تو انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی، وہ اپنا لعاب منہ میں اکٹھا کرتے اور (جانور کی کاٹی ہوئی جگہ) پر ڈال دیتے، تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا، وہ لوگ بکریاں لے کر ان کے پاس آئے (تو ان میں سے بعض حضرات نے) یہ کہا: ”ہم انہیں اس وقت تک (استعمال نہیں کریں گے)، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لیں۔“ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کے ذریعے دم بھی ہوتا ہے؟ تم انہیں استعمال کرو اور ان میں میرا حصہ بھی رکھو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3036
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»
حدیث نمبر: 3037
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةَ ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ قَنَّةَ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً عَلَيْهَا أَبُو سَعِيدٍ ، فَمَرَّ بِقَرْيَةٍ فَإِذَا مَلِكُ الْقَرْيَةِ لَدِيغٌ ، فَسَأَلْنَاهُمْ طَعَامًا فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُنْزِلُونَا ، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يُحْسِنُ أَنْ يَرْقِيَ ؟ إِنَّ الْمَلِكَ يَمُوتُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَأَفَاقَ وَبَرَأَ ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِالنُّزُلِ وَبَعَثَ إِلَيْنَا بِالشَّاءِ ، فَأَكَلْنَا الطَّعَامَ أَنَا وَأَصْحَابِي ، وَأَبَوْا أَنْ يَأْكُلُوا مِنَ الْغَنَمِ حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَيْءٌ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي ، قَالَ : فَكُلُوا وَأَطْعِمُونَا مِنَ الْغَنَمِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، جس کے امیر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے، ان کا گزر ایک بستی پر سے ہوا، جس کے امیر کو کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا تھا، ہم نے ان لوگوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ہمیں کھانے کے لیے انکار کر دیا، ہمیں پڑاؤ بھی نہیں کرنے دیا (ہم نے بستی سے باہر پڑاؤ کیا)، اس بستی کا ایک فرد ہمارے پاس سے گزرا، تو بولا: ”اے اہل عرب! کیا تم میں سے کسی شخص کو دم کرنا آتا ہے؟ ہمارا سردار مر رہا ہے۔“ تو سیدنا ابوسعید خدری نے فرمایا: میں اس کے پاس آیا اور میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا، ان لوگوں نے ہماری طرف کھانے کا سامان بھیجا اور بکریاں بھیجیں، میں نے اور میرے ساتھیوں نے کھانا کھا لیا، لیکن میرے ساتھیوں نے ان بکریوں (کو ذبح کرنے یا ان کا گوشت کھانے سے) انکار کر دیا، یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے دریافت کیا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ بات میرے ذہن میں آ گئی تھی۔“ تو نبی نے فرمایا: ”تم ان بکریوں (کا گوشت) کھاؤ اور اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3037
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»
حدیث نمبر: 3038
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ، نَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ثُمّ قَالَ : " بَيْنَمَا رَكْبٌ فِيهِمْ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ زَعِيمَ الْحَيِّ لَسَلِيمٌ يَعْنِي لَدِيغًا ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : بِمَ رَقَيْتَهُ ؟ قَالَ : رَقَيْتُهُ بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ؟ فَلَمْ يَقْرَبُوا شَيْئًا مِمَّا أَصَابَ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، فَحَدَّثَهُ الرَّجُلُ بِمَا صَنَعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، يَعْنِي أُمَّ الْكِتَابِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، أُخْرِجَ فِي الصَّحِيحِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کچھ صحابہ کرام کہیں جا رہے تھے، ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا: ”اس قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا ہے، کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟“ تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے، انہوں نے سردار پر دم کیا، اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی، پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”آپ نے کس چیز کے ذریعے دم کیا تھا؟“ تو انہوں نے بتایا کہ ”میں نے سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا تھا۔“ تو ان ساتھیوں نے کہا: ”آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے؟“ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جو انہیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔“ تو ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جو انہوں نے کیا تھا (یعنی سورہ فاتحہ کا دم کیا تھا)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟“ یعنی سورہ فاتحہ کا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم جس بھی چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو، اس میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔“ یہ حدیث صحیح میں نقل کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3038
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5737، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5146، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2051، 11791، 14513، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3038، 3039»
حدیث نمبر: 3039
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الأَحْوَلُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ ، فَقَالُوا : هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ ، فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ بِالشَّاءِ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، قَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَانْطَلَقْتُ فَرَقَيْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، هَذَا صَحِيحٌ ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ الْبَرَاءِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزرے، جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا، کہا: ”کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے؟“ تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے، انہوں نے سردار پر دم کیا، اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی، پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”آپ نے کس چیز کے ذریعے دم کیا تھا؟“ تو انہوں نے بتایا کہ ”میں نے سورہ فاتحہ کے ذریعے دم کیا تھا۔“ تو ان ساتھیوں نے کہا: ”آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے؟“ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جو انہیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔“ تو ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے، جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا، میں گیا اور میں نے معاوضے کے طور پر بکریاں (وصول کرنے کی) شرط پر اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر دم کر دیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو، ان میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔“ یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا بن مضارب کے حوالے سے ابومعشر سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3039
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5737، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5146، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2051، 11791، 14513، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3038، 3039»
حدیث نمبر: 3040
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " قُدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ ، فَأَمَرَنِي بِبَيْعِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا وَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا وَبِعْهُمَا جَمِيعًا وَلا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے، آپ نے مجھے ان میں سے دو بھائیوں کو فروخت کرنے کا حکم دیا، میں نے انہیں فروخت کرتے ہوئے انہیں جدا کر دیا (یعنی دو الگ الگ آدمیوں کو فروخت کیا)، جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے فرمایا: ”تم ان کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو واپس لو، ان دونوں کو ایک ساتھ فروخت کرو، ان میں جدائی نہ ڈالو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3040
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 626، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 651، 652، 653، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2344، 2345، 2589، 2590، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2696، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1284، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2249،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3040، 3041، 3042، 4255، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 771، 814، 1060»
حدیث نمبر: 3041
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " وَهْبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا فَعَلَ الْغُلامَانِ ؟ ، قُلْتُ : بِعْتُ أَحَدَهُمَا ، فَقَالَ : رُدَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام ہبہ کیے، جو دونوں بھائی تھے، میں نے ان دونوں میں سے ایک کو فروخت کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے غلاموں کا کیا حال ہے؟“ میں نے عرض کی: ”میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کر دیا ہے۔“ تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے واپس لو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3041
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 626، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 651، 652، 653، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2344، 2345، 2589، 2590، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2696، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1284، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2249،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3040، 3041، 3042، 4255، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 771، 814، 1060»
حدیث نمبر: 3042
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ . ح وثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي خَالِدٍ الدُلانِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ ، أَنَّهُ بَاعَ فَفَرَّقَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَابْنِهَا ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّهُ " .وَقَالَ عُثْمَانُ : " إِنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَرَدَّ الْبَيْعَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے فروخت کرتے ہوئے ایک عورت اور اس کے بیٹے کو الگ کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس سودے کو کالعدم کر دیں۔ عثمان نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے ایک کنیز اور اس کے بیٹے کے درمیان علیحدگی کر دی تھی، تو نبی نے انہیں اس سے منع کیا، تو انہوں نے وہ سودا کالعدم کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3042
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 626، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 651، 652، 653، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2344، 2345، 2589، 2590، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2696، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1284، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2249،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3040، 3041، 3042، 4255، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 771، 814، 1060»
حدیث نمبر: 3043
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِسَبْيٍ ، فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ كَمَا هُمْ لا يُفَرِّقُ بَيْنَهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب قیدی لائے جاتے، تو آپ پورا گھر انہی (کسی کو) دے دیا کرتے تھے، جیسے وہ لوگ پہلے ہوتے تھے، آپ ان کے درمیان علیحدگی نہیں کرواتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3043
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2248، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18391، 18392، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3043، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3765، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 286، 398، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2007، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15315، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23265، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10201، 10359»
حدیث نمبر: 3044
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَلْعُونٌ مَنْ فَرَّقَ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا مُبْهَمٌ وَهَذَا عِنْدَنَا فِي السَّبْيِ وَالْوَلَدِ.
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”علیحدگی کرنے والا شخص ملعون ہے۔“ ابوبکر نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہ الفاظ مبہم ہیں، ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ کسی قیدی اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی کروائی جائے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3044
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2346، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18389، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3044»
حدیث نمبر: 3045
ثنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الزُّجَاجِ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الأَخِ وَأَخِيهِ ، وَالْوَالِدِ وَوَلَدِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ (غلاموں یا کنیزوں کو فروخت کرتے ہوئے) بھائیوں یا ماں باپ اور اولاد کے درمیان تفریق ڈال دی جائے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3045
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2250، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2658، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18390، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3045، 3046، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 7250، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3140، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23262، 23269، 33857، 34507»
حدیث نمبر: 3046
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا ، وَبَيْنَ الأَخِ وَأَخِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو (غلاموں اور کنیزوں کو فروخت کرتے ہوئے) ماں اور اس کی اولاد یا بھائیوں کے درمیان تفریق ڈال دے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3046
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2250، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2658، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18390، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3045، 3046، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 7250، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3140، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23262، 23269، 33857، 34507»
حدیث نمبر: 3047
ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا ، فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص (غلاموں اور کنیزوں کو فروخت کرتے ہوئے) ماں اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی ڈال دے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص اور اس کے دوستوں کے درمیان علیحدگی رکھے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3047
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2347، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1283، 1566، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2522، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18377، 18378، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3047، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23982، 23996، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4080»
حدیث نمبر: 3048
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعُذْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ السَّبْيِ بَيْنَ الْوَالِدِ وَالْوَلَدِ ، قَالَ : مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمْ ، فَرَّقَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الأَحِبَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
محمد محی الدین
حریث بن سلیم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو قیدیوں میں والد اور اولاد کے درمیان تفریق کر دیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ان کے درمیان تفریق ڈال دے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص اور اس کے دوستوں کے درمیان تفریق رکھے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3048
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3048، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
« قال ابن حجر: وروى ابن منده بإسناد فيه الواقدي ، الإصابة في تمييز الصحابة: (4 / 451)»
حدیث نمبر: 3049
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ الْخَوَّاصُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يَقُولُ : نَا نَافِعُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الأُمِّ وَوَلَدِهَا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَى مَتَى ؟ ، قَالَ : حَتَّى يَبْلُغَ الْغُلامُ وَتَحِيضَ الْجَارِيَةُ " ، عَبْدُ اللَّهِ هَذَا هُوَ الْوَاقِعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، رَمَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِالْكَذِبِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ (غلاموں یا کنیزوں کو فروخت کرتے ہوئے) ماں اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی ڈال دی جائے، عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! یہ حکم کب تک ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک لڑکا بالغ نہیں ہو جاتا اور لڑکی کو حیض نہیں آتا۔“ عبداللہ نامی راوی، واقعی، ہیں اور یہ ضعیف ہیں، علی بن مدینی نے ان پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے، سعید بن عبدالعزیز کے حوالے سے ان کے علاوہ کسی دوسرے نے روایات نقل نہیں کی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3049
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2348، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18394، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3049»
«قال الدارقطني: عبد الله بن عمرو هذا هو الواقعي وهو ضعيف الحديث رماه علي بن المديني بالكذب ولم يروه عن سعيد غيره ۔ سنن الدارقطني: (4 / 33) برقم: (3049)»
حدیث نمبر: 3050
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حَمَّادٌ . ح وَنا مُحَمَّدٌ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا مُوسَى ، نَا أَبَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَقَالَ أَبَانُ : أَنَّ عَامِرَ الشَّعْبِيَّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا فَأَخَذَهَا الرَّجُلُ فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ " ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَقُلْتُ : عَمَّنْ هَذَا ؟ ، قَالَ : عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ.
محمد محی الدین
ابان بیان کرتے ہیں: عامر شعبی نے انہیں یہ حدیث سنائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی ایسے جانور کو پائے، جس کے مالکان اسے چارا نہ کھلا سکتے ہوں اور وہ اس جانور کو چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیں، پھر وہ شخص اس جانور کو لے اور اسے زندگی دے (یعنی خوراک فراہم کرے)، تو وہ اسی کی ملکیت ہو گا۔“ ابان کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: عبیداللہ فرماتے ہیں: میں نے دریافت کیا: انہوں نے کس کے حوالے سے یہ حدیث سنائی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: کئی صحابہ کے حوالے سے (یہ حدیث سنائی ہے)، حماد کی نقل کردہ یہ روایت زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3050
تخریج حدیث «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3524، 3525، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12238، 12239، 12240، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3050، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14919، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22830، 34365»
حدیث نمبر: 3051
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ، وَعَنِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ ، وَقَالَ : أَتَسْقِي زَرْعَ غَيْرِكَ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ، وَعَنْ لَحْمِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اسے فروخت کیا جائے، (یا قید ہونے والی) حاملہ عورتوں کے بچوں کو جنم دینے سے پہلے اس کے ساتھ صحبت نہ کی جائے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم دوسرے کے کھیت کو سیراب کرو گے؟“ (اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) پالتو گدھوں کا گوشت اور درندوں کا گوشت بھی کھانے سے منع کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3051
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1934، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5280،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2285، 2286، 2349، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3803، 3805، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2025، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3234، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3051، 3640، 4782، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2227»
حدیث نمبر: 3052
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : وَلَيْسَ عِنْدَنَا ظَهْرٌ ، قَالَ : فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ ظَهْرًا إِلَى خُرُوجِ الْمُصَدِّقِ ، فَابْتَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ وَبِالأَبْعِرَةِ ، إِلَى خُرُوجِ الْمُصَدِّقِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ لشکر کو سامان فراہم کریں، سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں: اس وقت ہمارے پاس کوئی سواری نہیں تھی، راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ کوئی سواری خرید لیں، اس شرط پر کہ جب صدقہ وصول کرنے والا شخص (صدقات وصول کر کے آئے)، تو اس سواری کی قیمت ادا کر دی جائے گی، تو سیدنا عبداللہ نے دو اونٹوں اور چند بکریوں کے عوض میں ایک اونٹ خریدا، اس شرط پر کہ جب صدقہ وصول کرنے والا شخص آئے گا، تو اس سواری کی قیمت ادا کر دی جائے گی، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت کیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3052
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2353، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3357، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10639، 10640، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3052، 3053، 3054، 3055، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6704، 7146، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14144، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5736، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 14580، 14738»
«قال الحاکم: هذا حديث ضعيف مضطرب الإسناد ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 47)»
حدیث نمبر: 3053
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَرِيشِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قُلْتُ : إِنَّا بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا دِينَارٌ وَلا دِرْهَمٌ ، وَإِنَّمَا نَبْتَاعُ الإِبِلَ وَالْغَنَمَ إِلَى أَجَلٍ فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبِلا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ حَتَّى نَفِدَتْ وَبَقِيَ أُنَاسٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِ لِي إِبِلا بِقَلائِصَ مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا جَاءَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهَا إِلَيْهِمْ ، فَاشْتَرَيْتُ الْبَعِيرَ بِالاثْنَيْنِ وَالثَّلاثِ قَلائِصَ حَتَّى فَرَغْتُ ، فَأَدَّى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن حریش بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو سے سوال کیا: ہم ایسی جگہ رہتے ہیں، جہاں دینار درہم کا رواج نہیں ہے، ہم لوگ مقررہ مدت کے بعد ادائیگی کی شرط پر اونٹ اور بکریاں خرید لیتے ہیں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: تم نے ایسے شخص سے سوال کیا ہے، جو اس بارے میں جانتا ہے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لیے صدقوں کے اونٹوں میں سے اونٹ دیے، یہاں تک کہ اونٹ ختم ہو گئے، لیکن کچھ لوگ بچ گئے، جن کے پاس سواری کے لیے جانور نہیں تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہمارے لیے کچھ اونٹ خرید لو، جو جوان اونٹنیوں کے عوض میں ہوں گے، جو صدقے کے طور پر وصول ہوں گی، جب صدقات آئیں گے، تو ہم ان لوگوں کو وہ ادائیگی کر دیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے دو یا تین جوان اونٹنیوں کے عوض میں ایک اونٹ خریدا، یہاں تک کہ میں فارغ ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں سے اس کی ادائیگی کی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3053
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2353، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3357، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10639، 10640، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3052، 3053، 3054، 3055، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6704، 7146، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14144، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5736، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 14580، 14738»
«قال الحاکم: قوي الإسناد ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 238)»
حدیث نمبر: 3054
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرِيشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الإِبِلُ ، قَالَ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ آخُذَ فِي قَلائِصِ الصَّدَقَةِ ، فَكُنْتُ آخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ " .
محمد محی الدین
عمرو بن حریش، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر کا ساز و سامان فراہم کرنے کی ہدایت کی، تو اونٹ ختم ہو گئے، راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی کہ میں صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض میں کچھ اونٹ حاصل کر لوں، تو میں نے صدقہ کے اونٹوں میں سے دو اونٹوں کے عوض میں ایک اونٹ خریدا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3054
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2353، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3357، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10639، 10640، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3052، 3053، 3054، 3055، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6704، 7146، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14144، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5736، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 14580، 14738»
«قال الحاکم: قوي الإسناد ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 238)»
حدیث نمبر: 3055
ثنا ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِإِسْنَادِهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُجَهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الإِبِلُ ، فَأَمَرَنَا أَنْ يُنْفَذَ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ لشکر کے لیے سامان فراہم کریں، اونٹ تھوڑے پڑ گئے، تو آپ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم صدقہ کے اونٹوں میں سے دو اونٹوں کے عوض میں ایک اونٹ حاصل کریں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3055
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2353، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3357، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10639، 10640، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3052، 3053، 3054، 3055، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6704، 7146، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14144، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5736، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 14580، 14738»
«قال الحاکم: قوي الإسناد ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 238)»
حدیث نمبر: 3056
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ النَّاقِدُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ سُفْيَانَ الْكُوفِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ الْغَنَوِيُّ أَبُو سُفْيَانَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ مَرْوَانَ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ " ، تَفَرَّدَ بِهِ يَزِيدُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ مَالِكٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يُتَابِعْ عَلَيْهِ ، وَصَوَابُهُ فِي الْمُوَطَّأِ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے عوض میں گوشت فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ امام مالک سے، اس سند کے ہمراہ اس روایت کو نقل کرنے میں یزید بن مروان منفرد ہیں، اس بارے میں ان کی متابعت نہیں کی گئی، درست یہ ہے کہ یہ روایت، موطا امام مالک میں، سعید بن مسیب کے حوالے سے، مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3056
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع ، و أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3056 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن عبدالبر : إسناده موضوع لا يصح عن مالك ولا أصل له في حديثه ، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (4 / 322)»
حدیث نمبر: 3057
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ " قَالَ : وَنا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " نُهِيَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ ".
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کے عوض میں جانور فروخت کرنے سے منع کیا ہے، ابن مسیب بیان کرتے ہیں: گوشت کے بدلے میں جانور فروخت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3057
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2265، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10680، 10681، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3057، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1389، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14162، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 177، 178»
«قال الدارقطني: الصحيح في هذا الحديث الإرسال ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 485)»
حدیث نمبر: 3058
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے عوض میں جانور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3058
درجۂ حدیث محدثین: صحيح مرسل
تخریج حدیث «صحيح مرسل ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 664، 665، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5028، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 334، 335، 336، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2354، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10644، 10645، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3058، 3059، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14133، 14135، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5738، 5739، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11996، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5031»
«قال البيهقي: الصحيح في هذا الحديث عن عكرمة مرسل ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 47)»
حدیث نمبر: 3059
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَحْمَدَ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوتِيٍّ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ الذِّمَارِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنِ السَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور کے عوض میں) جانور کی بیع سلف (ادھار سودے) سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3059
درجۂ حدیث محدثین: صحيح مرسل
تخریج حدیث «صحيح مرسل ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 664، 665، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5028، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 334، 335، 336، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2354، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10644، 10645، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3058، 3059، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14133، 14135، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5738، 5739، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11996، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5031»
«قال البيهقي: الصحيح في هذا الحديث عن عكرمة مرسل ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 47)»
حدیث نمبر: 3060
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ ، ثنا الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنْ بَيْعِ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے عوض میں، ادھار سودا کرنے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3060
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2355، 2356، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10647، 10648، 10649، 10650، 10651، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3060، 3061، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6132، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14440، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22563، 22566، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5554»
«قال الدارقطني : وكلا القولين وهم والصحيح عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (13 / 193)»
حدیث نمبر: 3061
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، نَا ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ ، نَا حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ " ، قَالَ اللُّغَوِيُّونَ : هُوَ النَّسِيئَةُ بِالنَّسِيئَةِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ روایت نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کالئی کے عوض میں کالئی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے۔ اہل لغت نے یہ بات بیان کی ہے: اس سے مراد ادھار کے عوض میں ادھار سودا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3061
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2355، 2356، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10647، 10648، 10649، 10650، 10651، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3060، 3061، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6132، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14440، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22563، 22566، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5554»
«قال الدارقطني : وكلا القولين وهم والصحيح عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (13 / 193)»
حدیث نمبر: 3062
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور کتے کی قیمت استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3062
درجۂ حدیث محدثین: موقوف
تخریج حدیث «موقوف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«قال ابن حجر: قال ابن وضاح الأعمش يغلط فيه والصواب موقوف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 41)»
حدیث نمبر: 3063
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَجْرِيُّ ، نَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، نَا خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَهِيَ الْهِرَّةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع کیا ہے، حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ، سور، سے مراد بلی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3063
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«وأومأ الخطابي إلى ضعف الحديث ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 41)»
حدیث نمبر: 3064
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ ، نَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ كُلُّهُنَّ سُحْتٌ : كَسْبُ الْحَجَّامِ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ إِلا الْكَلْبُ الضَّارِي " ، الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تین چیزیں حرام ہیں، پچھنے لگانے والے کی آمدن، فاحشہ عورت کی آمدن اور کتے کی قیمت، البتہ شکاری کتے کا حکم مختلف ہے۔ (اس روایت کا ایک راوی) ولید بن عبیداللہ، ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3064
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4941، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2255،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3484، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2665، 2666، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2160،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3064، 3066، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8091»
«قال الدارقطني: الوليد بن عبيد الله ضعيف ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 52)»
حدیث نمبر: 3065
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالْهِرِّ ، إِلا الْكَلْبَ الْمُعَلِّمَ " ، الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع کیا ہے، البتہ تربیت یافتہ کتے (یعنی شکاری کتے) کا حکم مختلف ہے۔ (اس روایت کا ایک راوی) حسن بن ابوجعفر ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3065
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«وأومأ الخطابي إلى ضعف الحديث ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 41)»
حدیث نمبر: 3066
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلاثٌ كُلُّهُنَّ سُحْتٌ : كَسْبُ الْحَجَّامِ سُحْتٌ ، وَمَهْرُ الزَّانِيَةِ سُحْتٌ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ ، إِلا كَلْبًا ضَارِيًا سُحْتٌ " ، الْمُثَنَّى ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تین چیزیں حرام ہیں، پچھنے لگانے والے کی آمدن، زنا کرنے والی عورت کا معاوضہ حرام ہے، اور کتے کی قیمت حرام ہے، البتہ شکاری کتے کا حکم مختلف ہے۔ (اس روایت کا ایک راوی) مثنیٰ، ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3066
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«قال الدارقطني: المثنى ضعيف ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 52)»
حدیث نمبر: 3067
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، لا أَعْلَمُهُ إِلا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ، إِلا كَلْبَ صَيْدٍ " .
محمد محی الدین
ابوزبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہی بیان کی ہو گی، آپ نے کتے اور بلی کی قیمت (استعمال کرنے) سے منع کیا ہے، البتہ شکاری کتے کا حکم مختلف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3067
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 6)»
حدیث نمبر: 3068
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ الْجَرَّاحِ بِأَذْنَةَ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ، إِلا كَلْبَ صَيْدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کتے اور بلی کی قیمت (استعمال کرنے) سے منع کیا گیا ہے، البتہ شکاری کتے کا حکم مختلف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3068
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 6)»
حدیث نمبر: 3069
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ ، إِلا كَلْبَ صَيْدٍ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کتے اور بلی کی قیمت (استعمال کرنے) سے منع کیا گیا ہے، البتہ شکاری کتے کا حکم مختلف ہے۔ حماد نے اس روایت کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونے کا ذکر نہیں کیا اور یہ روایت پہلے والی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3069
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1569، وابن الجارود فى "المنتقى"، 633، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4940، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2257، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3479، 3480، 3807، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1279، 1280، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2161، 3250، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3062، 3063، 3065، 3067، 3068، 3069، 4787، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14383»
«قال ابن حجر: رجاله ثقات ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 6)»
حدیث نمبر: 3070
ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ أَبُو بَحْرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَا أَيُّوبُ ، وَحَبِيبٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا ، وَصَاعًا مِنْ طَعَامٍ لا سَمْرَاءَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مصراة جانور خرید لے، اسے تین دن تک اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے، تو (اس عرصے کے اندر) اسے اناج کے ایک صاع سمیت واپس کر دے، جو گندم نہ ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3070
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2140، 2148، 2150، 2151، 2160، 2162، 2723، 2727، 5109، 5110، 5152، 6066، 6601، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1408،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4046، 4048،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2065، 2066، 2080، 2176، 3437، 3438، 3443، 3444، 3445، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1125 م، 1126، 1134، 1190، 1221، 1222، 1251، 1252، 1304،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1867، 1929، 2172، 2174، 2175، 2178، 2239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3070، 3071، 3072، 3074، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7254، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1056، 1057، 1058، 1059»
«قال الدارقطني: ورفع الحديث صحيح ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 58)»
حدیث نمبر: 3071
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو عَامِرٍ ، نَا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3071
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2140، 2148، 2150، 2151، 2160، 2162، 2723، 2727، 5109، 5110، 5152، 6066، 6601، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1408،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4046، 4048،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2065، 2066، 2080، 2176، 3437، 3438، 3443، 3444، 3445، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1125 م، 1126، 1134، 1190، 1221، 1222، 1251، 1252، 1304،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1867، 1929، 2172، 2174، 2175، 2178، 2239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3070، 3071، 3072، 3074، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7254، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1056، 1057، 1058، 1059»
«قال الدارقطني: ورفع الحديث صحيح ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 58)»
حدیث نمبر: 3072
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا تَلَقَّوُا السِّلَعَ بِأَفْوَاهِ الطُّرُقِ ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا يَسِمُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلا يَخْطِبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَرُدَّ ، وَلا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا ، وَلا تَبِيعُوا الْمُصَرَّاةَ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، فَمَنِ اشْتَرَاهَا فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، وَالرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ارشاد فرمایا ہے: ”شہری شخص دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، سامان (کے قافلے کو منڈی میں پہنچنے سے پہلے) راستے میں نہ خریدو، مصنوعی بولی نہ لگاؤ، کوئی شخص اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت کے مقابلے میں قیمت نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح کے مقابلے میں پیغام نہ بھیجے، جب تک وہ دوسرا شخص نکاح نہ کر لے یا اس پیغام کو ختم نہ کر دے، کوئی عورت اپنی بہن (سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے، تاکہ اس کے ذریعے وہ اس (سوکن) کے حصے کے فوائد حاصل کر لے، کیونکہ اس عورت کو وہی ملے گا، جو اس کے نصیب میں ہو گا، مصراة اونٹنی اور بکری کو فروخت نہ کرو، جو شخص اسے خرید لے گا، اسے اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے، تو کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے، رہن میں (رکھے ہوئے) جانور کا دودھ دوہا جا سکتا ہے اور اس پر سواری کی جا سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3072
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2140، 2148، 2150، 2151، 2160، 2162، 2723، 2727، 5109، 5110، 5152، 6066، 6601، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1408،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4046، 4048،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2065، 2066، 2080، 2176، 3437، 3438، 3443، 3444، 3445، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1125 م، 1126، 1134، 1190، 1221، 1222، 1251، 1252، 1304،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1867، 1929، 2172، 2174، 2175، 2178، 2239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3070، 3071، 3072، 3074، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7254، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1056، 1057، 1058، 1059»
«حديث ثابت صحيح لا يدفعه أحد من أهل العلم بالحديث ومعناه صحيح في أصول السنة ، الاستذكار الجامع لمذاهب فقها
حدیث نمبر: 3073
ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْخَيَّاطُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وَنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، جَمِيعًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ ، وَلا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ ، وَلا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(ایک ہی سودے میں) سلف اور بیع، ایک سودے میں دو شرائط، جو چیز اپنے پاس موجود نہ ہو، اس کا سودا کرنا، جس چیز کے ضمان کی ذمہ داری نہ ہو، اس کا منافع، (یہ سب چیزیں) جائز نہیں ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3073
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 654، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4321، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2196، 2197، 2881، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3504، 3927، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1234، 1260، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2602، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2188، 2519، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3073، 4213، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6738»
«ليس يصح من حديث عمرو بن شعيب إلا هذا أو هذا أصحها ، الكامل في الضعفاء: (6 / 201)»