حدیث نمبر: 3004
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمان کے حساب سے خراج مقرر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3005
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رُخْصَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ شُرَكَائِهِ فَبَاعُوهُ وَرَجُلٌ مِنَ الشُّرَكَاءِ غَائِبٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ ، فَاخْتَصَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ وَيَتَبَايَعُوهُ الْيَوْمَ ، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ الْخَرَاجُ ، وَوُجِدَ الْخَرَاجُ فِيمَا مَضَى مِنَ السَّنَتَيْنِ أَلْفُ دِرْهَمٍ ، قَالَ : فَبِيعَ فِيهِ غُلامَانِ لَهُ ، قَالَ : فَجِئْتُ إِلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " ، فَدَخَلَ عُرْوَةُ عَلَى هِشَامٍ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ فَرَدَّ بَيْعَ الْغُلامَيْنِ ، وَتَرَكَ الْخَرَاجَ.
محمد محی الدین
سیدنا مخلد بن خفاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام کچھ لوگوں کی مشترکہ ملکیت تھا، ان لوگوں نے اسے فروخت کر دیا، شراکت داروں میں سے ایک شخص غیر موجود تھا، جب وہ آیا، تو اس نے اس سودے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، وہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس لے آئے، تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ سودا کالعدم قرار دیا جائے گا اور وہ لوگ اس دن کے ریٹ کے حساب سے سودا کریں گے اور اسے خراج وصول کر لیا جائے گا، پھر جو دو سال گزر چکے تھے، ان کا خراج ایک ہزار درہم بنا، تو اس غلام کے عوض دو غلام فروخت کیے گئے۔ میں عروہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: سیدہ عائشہ نے مجھے یہ حدیث سنائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ خراج زمان کے حساب سے ہو گا، پھر عروہ ہشام کے پاس تشریف لے آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا، اس نے ان دونوں غلاموں کا سودا کالعدم کر دیا اور خراج ترک کر دیا۔
حدیث نمبر: 3006
ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا أَدْرَكَتْهُ الصَّفْقَةُ حَيًّا مَجْمُوعًا فَهُوَ مِنْ مَالِ الْمُبْتَاعِ " .
محمد محی الدین
حمزہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سودا ہو جانے کے وقت جو چیز زندہ ہو اور جمع ہو، وہ خریدار کے مال کا حصہ شمار ہو گی۔
حدیث نمبر: 3007
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " فِي الْبُيُوعِ ، قَالَ : مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ ، فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، إِنْ رَضِيَ أَخَذَ ، وَإِنْ سَخَطَ تَرَكَ " .
محمد محی الدین
طلحہ بن یزید کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے کچھ سودوں کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی (کہ ان کا حکم کیا ہے)، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تمہارے لیے ایسی کوئی چیز نہیں ملی، جو اس سے زیادہ گنجائش والی ہو، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو دی تھی، ان کی نظر کمزور تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی کہ وہ سودے کو کالعدم کرنے کا تین دن کا اختیار رکھے گا اور اگر وہ راضی ہوں گے، تو لے لیں گے، اگر پسند نہیں کریں گے، تو اس کو ترک کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 3008
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ ، رَجُلا ضَعِيفًا ، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا يَشْتَرِي ثَلاثًا ، وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِعْ ، وَقُلْ : لا خِلابَةَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ ، يَقُولُ : لا خِذَابَةُ ، لا خِذَابَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن منقذ ایک عمر رسیدہ آدمی تھے، ان کے سر میں چوٹ لگی تھی، اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا تھا کہ وہ جو سودا کریں گے، اس میں تین دن تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہو گا، ان کی زبان میں کچھ لکنت پائی جاتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: ”تم فروخت کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ لفظ خلابہ کی بجائے خذابہ کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3009
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُ وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي فِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، " احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَاهُ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ : هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا، جو خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اس کی ذہنی حالت میں کچھ خرابی پائی جاتی تھی، ایک مرتبہ اس کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! آپ فلاں شخص کو تصرف کرنے سے روک دیں، کیونکہ وہ سودا کر لیتا ہے، لیکن اس کی ذہنی حالت میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے سودا کرنے سے منع کر دیا، تو اس نے عرض کی: ”میں خرید و فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے ضرور خرید و فروخت کرنی ہے، تو یہ کہا کرو: یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔“
حدیث نمبر: 3010
ثنا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَثْرَمُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ السُّوسِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ لا تَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقُلْ : هَا وَهَا ، وَلا خِلابَةَ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : " يَعْنِي لا يَغْبُنُونَهُ ".
محمد محی الدین
پہلی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم کو ضرور خرید و فروخت ہی کرنی ہے، تو یہ کہا کرو کہ یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔“ عبدالوہاب نامی راوی کہتے ہیں: یعنی لوگ اسے کسی خسارے کا شکار نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 3011
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُ ، " أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ وَكَانَ لا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِذَا بِعْتَ فَقُلْ : لا خِلابَةَ " مَرَّتَيْنِ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک انصاری کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور اس کے ساتھ سودے میں ہمیشہ گھاٹا ہو جایا کرتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو دو مرتبہ یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا برداشت نہیں ہو گا۔“ سیدنا منقذ بن عمرو کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کی زبان میں اثر پڑا تھا، اور اس کی ذہنی کیفیت بھی کچھ تبدیل ہو گئی تھی، وہ تجارت کیا کرتے تھے اور تجارت میں ہمیشہ انہیں خسارہ ہوتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا نہیں ہو گا، پھر تم جس سامان کو خریدتے ہو، اس کے بارے میں تم تین دن تک اختیار رکھو گے، اگر تین دن کے بعد تم راضی ہوئے، تو اسے اپنے پاس رکھنا اور اگر پسند نہ ہوا، تو اس کے مالک کو واپس کر دینا۔“ ان صحابی کی عمر بڑی طویل ہوئی، وہ ایک سو تیرہ سال تک زندہ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ ہر طرف پھیل گئے تھے اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا تھا اور بازار میں خوب سودا ہوا کرتا تھا، اس وقت وہ بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3012
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الصَّلْتِ الأَطْرُوشُ مِنْ أَصْلِهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الرَّاسِبِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، نَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ ، نَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخِيَارُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اختیار تین دن تک ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3013
ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، أنا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي نَظَرْتُ فَلَمْ أَجِدْ لَكُمْ فِي بُيُوعِكُمْ شَيْئًا أَمْثَلَ مِنَ الْعُهْدَةِ الَّتِي جَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ ، ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، وَذَلِكَ فِي الرَّقِيقِ " .
محمد محی الدین
حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا عمر کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے اور میں نے یہ بات پائی ہے کہ تمہارے سودوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سب سے مشابہ جو چیز ہے، وہ اختیار ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو تین دن تک دیا تھا اور یہ واقعہ ایک غلام کے بارے میں پیش آیا تھا۔“
حدیث نمبر: 3014
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَزَارِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَمْدَانُ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَكَّةُ حَرَامٌ ، وَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا ، وَحَرَامٌ أَجْرُ بُيُوتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مکہ حرم ہے، یہاں کی زمین کو فروخت کرنا حرام ہے اور یہاں کے گھروں کو کرائے پر دینا حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 3015
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَزيُّ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، كَذَا قَالَ : عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا ، وَأَكْلُ ثَمَنِهَا ، وَقَالَ : مَنْ أَكَلَ مِنْ أَجْرِ بُيُوتِ مَكَّةَ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ نَارًا " ، كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ مَرْفُوعًا ، وَوَهِمَ أَيْضًا فِي قَوْلِهِ : عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم مقرر کیا ہے، یہاں کی زمین کو فروخت کرنا اور اس کی قیمت کھانا حرام ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص مکہ کے گھروں کے معاوضے (یعنی کرائے) میں سے کچھ بھی کھائے گا، وہ آگ کھائے گا۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس روایت کو اسی طرح مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے، تاہم اس میں انہیں وہم ہوا ہے، اس میں انہیں دوسرا وہم یہ ہوا کہ انہوں نے راوی کا نام عبیداللہ بن ابی یزید نقل کیا ہے، حالانکہ وہ ابن ابی زیاد ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 3016
ثنا ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ كِرَاءَ بُيُوتِ مَكَّةَ ، إِنَّمَا يَأْكُلُ فِي بَطْنِهِ نَارًا " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں آگ ڈالتا ہے (یہ روایت موقوف ہے)۔
حدیث نمبر: 3017
ثنا ابْنُ مُبَشِّرٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا نَجِيحٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : " إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أُجُورَ بُيُوتِ مَكَّةَ " ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 3018
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَكَّةَ مُنَاخٌ لا تُبَاعُ رِبَاعُهَا ، وَلا تُؤَاجَرُ بُيُوتُهَا " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”مکہ مناخ ہے، یہاں کی زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکتا اور گھروں کو کرائے پر نہیں دیا جا سکتا۔“ اسماعیل بن ابراہیم نامی راوی ضعیف ہے، اس روایت کو اس کے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3019
ثنا ثنا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَمَا تُدْعَى رِبَاعُ مَكَّةَ إِلا السَّوَائِبَ ، مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں جس شخص کو ضرورت ہوتی تھی، وہ وہاں ٹھہر جاتا تھا اور جسے ضرورت نہیں ہوتی تھی، وہ دوسرے کو ٹھہرنے کے لیے دے دیتا تھا۔
حدیث نمبر: 3020
ثنا أَخُو زُبَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الآدَمِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ نَضْلَةَ ، مِثْلَهُ وَزَادَ : وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ بات اضافی ہے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 3021
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ الْكِنَانِيِّ ، قَالَ : " كَانَتْ تُدْعَى بُيُوتُ مَكَّةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا السَّوَائِبُ لا تُبَاعُ ، وَمَنِ احْتَاجَ سَكَنَ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ بن نضلہ کنانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے عہد مبارک میں مکہ کے گھروں کو لوگوں کو دے دیا جاتا تھا، انہیں فروخت نہیں کیا جاتا تھا، جس شخص کو ضرورت ہوتی تھی، وہ وہاں رہائش اختیار کر لیتا تھا اور جسے ضرورت نہیں ہوتی تھی، وہ دوسروں کے لیے رہنے کے لیے چھوڑ دیتا تھا۔
حدیث نمبر: 3022
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغَلِّسِ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلا أَرْبَعَةً وَامْرَأَتَيْنِ ، وَقَالَ : اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " .
محمد محی الدین
مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب مکہ فتح ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو خواتین کے علاوہ باقی سب کو امان دے دی (ان چھ افراد کے بارے میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم انہیں خانہ کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا پاؤ، تو بھی انہیں قتل کر دو۔“ (وہ افراد یہ تھے: عکرمہ بن ابوجہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابوسرح)۔
حدیث نمبر: 3023
ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ لِيَفْتَحَهَا ، قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ : اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءُوا كَأَنَّمَا كَانُوا عَلَى مِيعَادٍ ، ثُمَّ قَالَ : اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ وَلا يَشْرُفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلا أنَمْتُمُوهُ ، يَقُولُ : قَتَلْتُمُوهُ ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي الصَّفَا ، فَصَعِدَ الصَّفَا فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَالأَنْصَارُ أَسْفَلَ مِنْهُ ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْوَحْيَ بِمَا قَالَتِ الأَنْصَارُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، تَقُولُونَ : فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَأْفَةٌ بِقَوْمِهِ وَرَغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ ، قَالَ : فَمَنْ أَنَا إِذًا ، كَلا وَاللَّهِ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَقًّا ، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلا مَخَافَةَ أَنْ تُفَارِقَنَا ، قَالَ : أَنْتُمْ صَادِقُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُمْ إِلا مَنْ قَدْ بَلَّ نَحْرَهُ بِالدُّمُوعِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے، تو آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انصار کو بلا کر لاؤ!“ تو انہوں نے اعلان کیا: ”اے انصار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔“ انصار آئے، یوں جیسے وہ پہلے سے طے شدہ ملاقات کے تحت آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس راستے پر چلو، جو بھی تمہارے سامنے آنے کی کوشش کرے، تم اسے قتل کر دو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اللہ نے انہیں فتح نصیب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی، پھر اس دروازے سے باہر نکلے، جو صفا (پہاڑی) کے قریب تھا، پھر آپ صفا پر چڑھے، آپ نے لوگوں سے خطاب کیا، اس وقت (انصار) پہاڑی کے زیریں حصے میں تھے، ان میں سے کسی نے اپنے ساتھی سے کہا: ”اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔“ تو انصار کے لوگوں نے جو یہ بات کہی تھی، اللہ نے وحی کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار! تم نے یہ کہا ہے: اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟ اللہ کی قسم! میں واقعی اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں، میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے۔“ انصار نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے یہ بات صرف اس اندیشے کے تحت کہی تھی کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے علیحدگی اختیار نہ کر لیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں تم لوگ سچے ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس وقت ان میں سے ہر ایک شخص کے آنسو بہتے ہوئے اس کی گردن تک آ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 3024
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَصْنَعُ الطَّعَامَ يَدْعُو أَصْحَابَهُ هَذَا يَوْمًا وَهَذَا يَوْمًا ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي ، قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرَكَ طَعَامُنَا ، قَالَ : فَقَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الأُخْرَى ، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى السَّاقَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، هَذِهِ أَوْبَاشُ قُرَيْشٍ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا ، ثُمَّ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا ، قَالَ : وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَمْ يُشْرِفْ لَهُمْ أَحَدٌ إِلا أَنَامُوهُ ، قَالَ : وَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَتَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَيْهِ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ فَلا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَلْقَى سِلاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ " ، قَالَ : فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ، كَلا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْنَا إِلا ضَنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں: ہم ایک وفد کی شکل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم میں سے کوئی ایک شخص کھانا تیار کرتا تھا، پھر اپنے ساتھیوں کی دعوت کرتا تھا، ایک دن ایک شخص یہ کام کرتا، دوسرے دن دوسرا کر لیتا، جب میری باری آئی، میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنانی ہے، جب تک کھانا نہیں آتا؟“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لشکر کے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے دونوں حصوں میں ایک کا امیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو مقرر کیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دوسرے حصے کا مقرر کیا، لشکر کے پیچھے والے حصے کا امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو وادی کے نشیبی حصے میں تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! انصار کو میرے پاس بلاؤ۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں بلایا، تو وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار! یہ قریش کے اوباش لوگ کل جب تمہارے سامنے آئیں، تو تم انہیں پیس دینا ہے، ہماری تمہاری ملاقات صفا (پہاڑی) پر ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، اگلے دن جس شخص نے مقابلے کے لیے آنے کی کوشش کی، انہوں نے اسے مار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا (پہاڑی) پر تشریف لے آئے اور اس پر کھڑے ہوئے، ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اگر قریش کو اسی طرح مارا جاتا رہا، تو آج کے بعد قریش (کا نام و نشان) نہیں رہے گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا، اسے امان ہے، جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا، اسے امان ہے، جو شخص اپنا ہتھیار ڈال دے گا، اسے بھی امان ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصار نے یہ کہا: ”اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے، اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں وحی نازل کی گئی، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار! تم نے یہ کہا ہے: اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے، یاد رکھنا! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی، میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں یہ بات کہی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3025
ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُسْتَمْلِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ سُرَّقٍ ، قَالَ : " كَانَ لِرَجُلٍ مَالٌ عَلَيَّ ، أَوْ قَالَ : عَلَيَّ دَيْنٌ ، فَذَهَبَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصِبْ لِي مَالا ، فَبَاعَنِي مِنْهُ ، أَوْ بَاعَنِي لَهُ " ، خَالَفَهُ ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
محمد محی الدین
سراقہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی شخص کا کچھ مال دینا تھا (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: کسی شخص کا قرض دینا تھا)، وہ شخص مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میرا جو بھی مال تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس شخص کو (ادائیگی) کے لیے فروخت کر دیا۔ زید بن اسلم کے دونوں بیٹوں نے اسے نقل کرنے میں مختلف بات نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 3026
ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، نَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ كَانَ فِي غَزَاةٍ فَسَمِعَ رَجُلا يُنَادِي آخَرَ ، يَقُولُ : يَا سُرَّقُ يَا سُرَّقُ فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : مَا سُرَّقٌ ؟ فَقَالَ : سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَيْتُ عَنْهُ فَاسْتَهْلَكْتُ ثَمَنَهَا ، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ يَطْلُبُنِي ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ : ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْدِي عَلَيْهِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ : " اطْلُبْهُ " ، قَالَ : فَوَجَدَنِي فَأَتَى بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي ، فَقَالَ : " أَعْطِهِ ثَمَنَهَا " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَهْلَكْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنْتَ سُرَّقٌ " ، ثُمَّ قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ : " اذْهَبْ فَبِعْهُ فِي السُّوقِ وَخُذْ ثَمَنَ نَاقَتِكَ " ، فَأَقَامَنِي فِي السُّوقِ فَأَعْطَى فِيَّ ثَمَنًا ، فَقَالَ لِلْمُشْتَرِي : مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ قَالَ : أُعْتِقُهُ ، فَأَعْتَقَنِي الأَعْرَابِيُّ .
محمد محی الدین
زید بن اسلم کے صاحبزادے عبدالرحمن اور عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، انہوں نے کسی شخص کو سنا، جو کسی دوسرے شخص کو بلند آواز میں پکار رہا تھا: ”اے سراق، اے سراق!“ تو زید بن اسلم نے بلایا اور دریافت کیا: سراق سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے، میں نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹنی خریدی، پھر میں اس سے چھپ گیا، میں نے اس اونٹنی کی قیمت کو بھی ضائع کر دیا، وہ دیہاتی مجھے تلاش کرتا ہوا تھا، تو لوگوں نے اس سے کہا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤ۔“ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایک شخص نے مجھ سے اونٹنی خریدی اور پھر وہ مجھ سے چھپ گیا، میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے تلاش کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے مجھے ڈھونڈ لیا اور مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ وہ شخص ہے، جس نے مجھ سے اونٹنی خریدی تھی اور مجھ سے چھپ گیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قیمت ادا کرو۔“ تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! وہ تو مجھ سے ضائع ہو گئی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سراق ہو!“ پھر آپ نے دیہاتی سے فرمایا: ”تم جاؤ، اسے بازار میں فروخت کرو اور اپنی اونٹنی کی قیمت وصول کرو۔“ تو اس دیہاتی نے مجھے بازار میں کھڑا کیا، میری جو قیمت لگائی گئی، تو اس نے خریدار سے دریافت کیا: ”تم اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے بتایا: ”میں اسے آزاد کر دوں گا۔“ تو اس دیہاتی نے ہی مجھے آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 3027
ثنا عَلِيٌّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا زيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ شَيْخًا ، يُقَالُ لَهُ : سُرَّقٌ ، فَقُلْتُ : " مَا هَذَا الاسْمُ ؟ ، فَقَالَ : اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ أَدَعَهُ ، قُلْتُ : لِمَ سَمَّاكَ ؟ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدُمُ فَبَايَعُونِي فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ ، فَأَتَوْا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " أَنْتَ سُرَّقٌ ، وَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي : مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ ، قَالَ : أُعْتِقُهُ ، قَالُوا : فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ مِنْكَ فِي الأَجْرِ ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ ، وَبَقِيَ اسْمِي " .
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا، جن کا نام سراق تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کیا نام ہوا؟ تو انہوں نے بتایا: میرا یہ نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے، میں اسے ترک نہیں کروں گا، میں نے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا یہ نام کیوں رکھا؟ تو انہوں نے بتایا: میں مدینہ منورہ آیا اور میں نے لوگوں کو بتایا کہ میرا مال آ رہا ہے، ان لوگوں نے میرے ساتھ کچھ سودے کیے، میں نے انہیں ادائیگیاں کرنی تھیں، وہ مال مجھ سے ضائع ہو گیا، وہ لوگ مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: ”تم سراق ہو!“ پھر آپ نے مجھے چار اونٹنیوں کے عوض میں فروخت کروا دیا، ان قرض خواہوں نے مجھے خریدنے والے سے دریافت کیا: ”تم اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے بتایا: ”میں اسے آزاد کر دوں گا۔“ تو ان لوگوں نے کہا: ”ہمیں بھی اجر کی اتنی ضرورت ہے، جتنی تمہیں ہے۔“ تو ان لوگوں نے مل کر مجھے آزاد کر دیا، لیکن میرا یہ نام باقی رہ گیا۔
حدیث نمبر: 3028
ثنا الْقَاسِمُ ، وَالْحُسَيْنُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيِّ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، نَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قِيلَ : أَيْنَ تَنْزِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مَنْزِلِكُمْ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا ، لا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! آپ کہاں پڑاؤ کریں گے، کیا اپنے گھر میں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل (بن ابوطالب) نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟ (کیونکہ) کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بنتا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔“
حدیث نمبر: 3029
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْمَخْرَمِيُّ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالا : نَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مِيرَاثٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! کل آپ کہاں پڑاؤ کریں گے؟“ اگر اللہ نے چاہا (راوی بیان کرتے ہیں: یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے وراثت میں ہمارے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 3030
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا : نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَتَنْزِلُ دَارَكَ بِمَكَّةَ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ؟ " ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ ، وَلَمْ يَرِثْ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا ، لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرِينَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : " وَكَانُوا فِي ذَلِكَ يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا سورة الأنفال آية 74 إِلَى قَوْلِهِ : مِنْ وَلايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ سورة الأنفال آية 72 ".
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام کریں گے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر یا جگہ چھوڑی ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ وہ اور طالب دونوں (ابوطالب کے وارث ہوئے تھے) جبکہ سیدنا علی اور سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہما ان کے وارث نہیں ہوئے تھے کیونکہ یہ دونوں حضرات مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: اہل علم اللہ کے اس فرمان سے یہ مراد لیتے ہیں: ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 3031
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، نَحْوَهُ وَزَادَ ، ثم قال : " نَحْنُ نَازِلُونَ خَيْفَ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ " .
محمد محی الدین
یہی روایت زہری سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”ہم خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ کریں گے، جہاں قریش نے کفر پر ثابت قدم رہنے کی قسم اٹھائی تھی۔“