حدیث نمبر: 2987
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَأَنْ يُبَاعَ الرُّطَبُ بِالْيَابِسِ كَيْلا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ تر کھجور کو خشک کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2988
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، نَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالْيَابِسِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کے عوض میں تازہ کھجور (فروخت کرنے) سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2989
ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيُّ ، نَا أَبُو مَسْلَمَةَ يَعْنِي يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُرْسَلٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الرُّطَبُ بِالتَّمْرِ الْجَافِّ " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ خشک کھجور کو تازہ کھجور کے عوض میں فروخت کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2990
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالُوا : نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلا أَنْ يُعْلَمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے منع کیا ہے اور ثنیا سے منع کیا ہے، البتہ اگر اس کے بارے میں علم ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔
حدیث نمبر: 2991
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادٌ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا حَتَّى يُعْلَمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نامعلوم چیز کا سودا کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اس کے بارے میں آگاہی نہ حاصل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2992
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ ، وَلا تَبَايَعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پھلوں کا اس وقت تک سودا نہ کرو، جب تک وہ پک کر تیار نہ ہو جائیں اور کھجور کے عوض میں پھلوں کو سودا نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2993
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَحَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِهِ سَوَاءٌ.
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مانند سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2994
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً " ، تَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى ، وَخَالَفَهُ مَالِكٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، رَوَوْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَلَمْ يَقُولُوا فِيهِ : نَسِيئَةً . وَاجْتِمَاعُ هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةِ عَلَى خِلافِ ، رَوَاهُ يَحْيَى يَدُلُّ عَلَى ضَبْطِهِمْ لِلْحَدِيثِ ، وَفِيهِمْ إِمَامٌ حَافِظٌ ، وَهُوَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کا ادھار سودا کرنے سے منع کیا ہے۔ اس روایت کے الفاظ کے بارے میں کچھ اختلاف کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 2995
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، نَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ ، مِنْ حِفْظِهِ ، سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ سَأَلَ سَعْدًا ، عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَكَرِهَهُ ، وَقَالَ سَعْدٌ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ، وَقَالَ فِيهِ : إِنَّهُ إِذَا يَبِسَ نَقَصَ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں: شیخ ابوعیاش نے سیدنا سعد سے گندم کی دو قسموں کے بارے میں دریافت کیا (کیا ان کا آپس میں لین دین کیا جا سکتا ہے)، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے مکروہ قرار دیا، بعد میں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجوروں کے عوض خشک کھجوروں کا سودا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب وہ خشک ہو جاتی ہیں، تو کم ہو جاتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 2996
ثنا أَبُو رَوْقٍ ، نَا ابْنُ خَلادٍ ، نَا مَعْنٌ ، نَا مَالِكٌ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ ، نَا الشَّافِعِيُّ ، أنا مَالِكٌ . ح وثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ وَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ بْنُ زِيَادٍ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْقَعْنَبِيُّ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدًا " عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : الْبَيْضَاءُ ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ سَعْدٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَمَّنِ اشْتَرَى التَّمْرَ بِالرُّطَبِ ، فَقَالَ : أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ شیخ ابوعیاش زید نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے گندم کی دو قسموں کے بارے میں پوچھا گیا، تو سیدنا سعد نے ان سے دریافت کیا: ”ان دونوں میں سے کون سی قسم زیادہ بہتر ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”سفید والی۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا، سیدنا سعد نے بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ سے خشک کھجور کے عوض میں تر کھجور کا سودا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا کھجور جب خشک ہو جاتی ہے، تو کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2997
ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ سَعْدٍ بِسُلْتٍ وَشَعِيرٍ ، فَقَالَ سَعْدٌ : " تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِتَمْرٍ وَرُطَبٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلا إِذًا " .
محمد محی الدین
شیخ ابوعیاش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد کے دور میں آدمیوں نے جو کی دو قسموں کے بارے میں سودا کر لیا، سیدنا سعد نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے خشک اور تر کھجور کا سودا کر لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا کھجور جب خشک ہو جاتی ہے، کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(پھر یہ درست نہیں ہے)۔“
حدیث نمبر: 2998
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ شُعَيْبًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ ابْتَاعَ مِنْ رَجُلٍ بَيْعَةً ، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا مِنْ مَكَانِهِمَا ، إِلا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ ، وَلا يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَقْبَلَهُ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص کسی دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کرتا ہے، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہو گا (کہ وہ سودے کو ختم کر دے)، جب تک وہ اپنی جگہ سے جدا نہیں ہو جاتے، ماسوائے اس صورت کے جب اس سودے میں اختیار دیا ہو اور کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس اندیشے کے تحت جدا ہو جائے کہ وہ اس سودے کو ختم کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ قَالَ : قُلْتُ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ سَمِعَ مِنَ أَبِيهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : يَقُولُ ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : قُلْتُ : فَأَبُوهُ سَمِعَ مِنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أُرَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْهُ ، سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : هُوَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَقَدْ صَحَّ سَمَاعُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ شُعَيْبٍ ، وَصَحَّ سَمَاعُ شُعَيْبٍ ، مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3000
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَسْأَلُهُ عَنْ مَحْرَمٍ وَقَعَ بِامْرَأَةٍ ، فَأَشَارَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ فَاسْأَلْهُ ، قَالَ شُعَيْبٌ : فَلَمْ يَعْرِفْهُ الرَّجُلُ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ " بَطُلَ حَجُّكَ " ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : " أَفَأَقْعُدُ ؟ " ، قَالَ : " بَلْ تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ وَتَصْنَعُ مَا يَصْنَعُونَ ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ قَابِلا فَحُجَّ وَاهْدِ " ، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَاسْأَلْهُ " ، قَالَ شُعَيْبٌ : " فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ مثل مَا قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ " ، قَالَ : " أَقُولُ مثل مَا قَالا " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے حالت احرام والے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر کی طرف اشارہ کیا، فرمایا: تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو، شعیب کہتے ہیں: وہ سیدنا عبداللہ بن عمر کو پہچانتا نہیں تھا، تو میں اس شخص کے ساتھ گیا، پھر اس نے عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا: ”تمہارا حج باطل ہو گیا ہے۔“ تو اس شخص نے دریافت کیا: ”کیا پھر اب میں بیٹھ جاؤں؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، تم لوگوں کے ساتھ جاؤ، لوگ جو کام کرتے ہیں، تم بھی کرو، اگلے سال پھر تم آ کر حج کر لینا اور قربانی کا جانور ساتھ لے کر آنا۔“ وہ شخص واپس سیدنا عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور اس بارے میں بتایا، تو سیدنا عبداللہ نے اس سے فرمایا: تم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، ان سے دریافت کرو، شعیب کہتے ہیں: میں اس شخص کے ساتھ گیا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، تو سیدنا عباس نے بھی اسی کی مانند جواب دیا، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا تھا، وہ شخص واپس سیدنا عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، جو سیدنا عباس نے جواب دیا تھا، پھر اس شخص نے دریافت کیا: ”آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: ”میں بھی اسی کی مانند جواب دیتا ہوں، جو انہوں نے بیان کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 3001
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ تَمِيمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ : شُعَيْبٌ وَالِدُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، سَمِعَ مِنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ لَهُ : فَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ يَتَكَلَّمُ النَّاسُ فِيهِ ؟ " ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ ، وَأَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، وَالْحُمَيْدِيَّ ، وَإِسْحَاقَ بْنَ رَاهَوَيْهِ يَحْتَجُّونَ بِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَنْ يَتَكَلَّمُ فِيهِ يَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَكْثَرَ أَوْ نَحْوَ هَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3002
ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ وُهَيْبٍ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ ، قَالَتْ : حَجَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ ، قَالَتْ : خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ لَنَا : مَنْ أَنْتُنَّ ؟ ، قُلْنَا : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَتْ : فَكَأَنَّهَا أَعْرَضَتْ عَنَّا ، فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ مَحَبَّةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، " كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ وَأَنِّي بِعْتُهَا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ الأَنْصَارِيِّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ ، وَإِنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَابْتَعْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةِ دِرْهَمٍ نَقْدًا ، قَالَتْ : فَأَقْبَلَتْ عَلَيْنَا ، فَقَالَتْ : بِئْسَمَا شَرَيْتِ وَمَا اشْتَرَيْتِ ، فَأَبْلِغِي زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلا أَنْ يَتُوبَ ، فَقَالَتْ لَهَا : أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ مِنْهُ إِلا رَأْسَ مَالِي ؟ ، قَالَتْ : فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ سورة البقرة آية 275 " ، قَالَ الشَّيْخُ : أُمُّ مَحَبَّةَ وَالْعَالِيَةُ مَجْهُولَتَانِ لا يُحْتَجُّ بِهِمَا.
محمد محی الدین
یونس بن اسحاق اپنی والدہ عالیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں اور ام قحبہ خاتون مکہ گئیں۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے ہم سے دریافت کیا: آپ کون خواتین ہیں؟ ہم نے جواب دیا: ہم کوفہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب عالیہ بیان کرتی ہیں: تو گویا سیدہ عائشہ نے ہماری طرف توجہ نہیں کی۔ تو ام قحبہ نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! میری ایک کنیز ہے، میں نے اسے سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ سے آٹھ سو درہم کے عوض خریدا جب تک ان کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ پھر جب انہوں نے اس کنیز کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے چھ سو درہم نقد کے عوض اسے خرید لیا۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ہماری طرف متوجہ ہوئیں اور فرمائیں: ”تم نے بہت برا سودا کیا ہے۔ تم زید کو جا کر بتا دینا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جہاد کیا تھا اسے خراب کر لیا ہے، البتہ اگر وہ توبہ کر لیں تو حکم مختلف ہو گا۔“ تو اس خاتون نے سیدہ عائشہ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ان سے اپنی اصل رقم وصول کر لوں؟ تو سیدہ عائشہ نے یہ آیت تلاوت کی: ”جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ جائے اور وہ باز آ جائے تو جو پہلے ہو چکا ہے وہ اس کا ہو گا۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: قحبہ اور عالیہ نامی خواتین مجہول ہیں، ان کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 3003
ثنا ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَتْ مَعَهَا أُمُّ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ الأَنْصَارِيِّ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى ، فَقَالَتْ أُمُّ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنِّي بِعْتُ غُلامًا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ نَسِيئَةً ، وَإِنِّي ابْتَعْتُهُ بِسِتِّمِائَةِ دِرْهَمٍ نَقْدًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : بِئْسَمَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَمَا شَرَيْتِ ، إِنَّ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَطَلَ ، إِلا أَنْ يَتُوبَ " .
محمد محی الدین
شیخ ابواسحاق سبیعی اپنی اہلیہ کا بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، اور ایک دوسری خاتون بھی تھیں، سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد نے عرض کی: ”اے ام المؤمنین! میں نے ایک غلام سیدنا زید بن ارقم سے آٹھ سو درہم ادھار کے عوض میں خریدا، پھر میں نے چھ سو درہم نقد کے عوض میں اسے حاصل کر لیا۔“ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”تم نے بہت برا سودا کیا ہے، ان کا (یعنی سیدنا زید بن ارقم کا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد باطل ہو گیا ہے، یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں (تو حکم مختلف ہو گا)۔“