حدیث نمبر: 2951
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا صَالِحُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرَاعًا وَسِلاحًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ عارضی طور پر لیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر ہے، جسے واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عارضی طور پر لیا ہے، جسے واپس کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2952
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا مُسْلِمٌ الْجُهَنِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ سِلاحًا ، فَقَالَ صَفْوَانُ : " أَمُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے کچھ اسلحہ ادھار لیا، تو صفوان نے عرض کی: ”کیا یہ واپس کر دیا جائے گا، یا رسول اللہ؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْفَضْلُ الأَعْرَجُ ، نَا نَصْرُ بْنُ عَطَاءٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ كَذَا وَكَذَا ، أُرَاهُ قَالَ : ثَلاثِينَ دِرْعًا ، أَوْ قَالَ : ثَلاثِينَ بَعِيرًا ، قُلْتُ : وَالْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
صفوان بن یعلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب میرا قاصد تمہارے پاس آئے، تو انہیں یہ چیز دے دینا۔“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے تیس زرہوں اور تیس اونٹوں کا ذکر کیا تھا۔ سیدنا یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”کیا یہ ادھار لے رہے ہیں، جسے واپس کر دیں گے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ أَوْ عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : " بَلْ مُؤَدَّاةٌ " .
محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ بھی یہی روایت منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان ادا کیا جائے گا؟ یا یہ اس طرح عارضی طور پر لے رہے ہیں کہ انہیں واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، انہیں واپس کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2955
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَدْرَاعًا ، فَقَالَ : أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ ؟ ، قَالَ : بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ ؟ ، قَالَ : فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْمَنَهَا ، فَقَالَ : أَنَا الْيَوْمَ فِي الإِسْلامِ أَرْغَبُ " .
محمد محی الدین
امیہ بن صفوان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے کچھ زرہیں ادھار مانگیں، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! کیا غصب کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان بھی ادا کیا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان میں سے کچھ زرہیں خراب ہو گئیں، تو نبی نے انہیں یہ پیش کش کی کہ وہ ان کا تاوان لیں، تو انہوں نے عرض کی کہ اب میں اسلام کی طرف راغب ہو چکا ہوں اور مجھے اس میں زیادہ دل چسپی ہے۔
حدیث نمبر: 2956
ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اسْتَعَارَ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَاعًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقُلْتُ : مَضْمُونَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : مَضْمُونَةٌ ، فَضَاعَ بَعْضُهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ غَرِمْتُهَا ، قَالَ : لا ، أَلا إِنَّ فِي قَلْبِي مِنَ الإِسْلامِ غَيْرَ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ " ، .
محمد محی الدین
امیہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے لوہے کی کچھ زرہیں ادھار لیں، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ ضمانت والی ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ضمانت والی ہیں۔“ ان میں سے بعض ضائع ہو گئیں، تو نبی نے ان سے فرمایا: ”تم چاہو تو میں تمہیں اس کا تاوان دے دیتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، اب میرے دل میں اسلام آ چکا ہے اور یہ دل ہر چیز سے زیادہ (سما چکا ہے)۔“
حدیث نمبر: 2957
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا صَفْوَانُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلاحٍ ؟ " ، قَالَ : عَارِيَةً أَمْ غَصْبًا ؟ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ .
محمد محی الدین
عطاء نے عبداللہ بن صفوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے صفوان! کیا تمہارے پاس کچھ اسلحہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”آپ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں یا غصب کریں گے؟“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 2958
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا مُسَدَّدٌ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ نَاسٍ مِنْ آلِ صَفْوَانَ ، قَالَ : اسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
عبدالعزیز نامی راوی نے عطاء کے حوالے سے سیدنا صفوان کی آل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عارضی طور پر (کچھ اسلحہ) لیا۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 2959
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَابْنُ الْعَلاءِ ، قَالُوا : نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الأَوْصَابِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ أَوِ الْمَنِيحَةُ مُؤَدَّاةٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ : فَعُهِدَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : عَهْدُ اللَّهِ أَحَقُّ مَا أَدَّى " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عارضی طور پر لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر (عارضی استعمال کے لیے) ملنے والی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو ایک شخص نے کہا: ”کیا یہ اللہ کے رسول کا فیصلہ ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فیصلہ ہے، جو اس بات کا حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَلا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلا الطَّعَامُ ؟ ، قَالَ : ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا، ثُمَّ قَالَ : الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ نے ہر حق دار کا حق مقرر کیا ہے، اس لیے وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ صاحب فراش کو ملے گا، اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی اور ان لوگوں کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا، جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، تو اس شخص پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے قیامت کے دن تک لعنت ہوتی رہے گی، عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں سے کچھ خرچ نہ کرے۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اناج بھی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارا سب سے اہم مال ہے۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے کی جانے والی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر (عارضی استعمال کے لیے جو چیز دی گئی ہو) وہ بھی واپس کی جائے گی، فرض ادا کیا جائے گا اور نگران شخص تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2961
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا ضَمَانَ عَلَى مُؤْتَمَنٍ " .
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان لازم نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2961M1
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " ، عَمْرٌو ، وَعُبَيْدَةُ ، ضَعِيفَانِ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي ، غَيْرُ مَرْفُوعٍ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے لینے والا شخص تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا، البتہ اگر کوئی شخص دھوکے کے ساتھ اس کا استعمال کرے (تو اس پر تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)، اسی طرح جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر کوئی چیز رکھوائی گئی ہو، وہ بھی تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا، لیکن اگر وہ دھوکہ دیتا ہے (تو اس پر بھی تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)۔“
حدیث نمبر: 2961M2
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، نَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ تَفْسِيرِ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، قَالَ : أَسْلَمَ قَوْمٌ وَفِي أَيْدِيهِمْ عَوَارِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالُوا : قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلامُ مَا بِأَيْدِينَا مِنْ عَوَارِي الْمُشْرِكِينَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الإِسْلامُ لا يُحْرِزُ لَكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمُ ، الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ " ، فَأَدَّى الْقَوْمُ مَا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ تِلْكَ الْعَوَارِي ، هَذَا مُرْسَلٌ وَلا تَقُومُ بِهِ حَجَّةٌ.
محمد محی الدین
عطاء بن ابی رباح نے روایت کے یہ الفاظ (عارضی طور پر لی گئی چیز واپس کی جائے گی) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے کہ ایک قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس کچھ ایسی چیزیں تھیں، جو مشرکین سے انہوں نے عارضی استعمال کے لیے لی تھیں، ان لوگوں نے یہ کہا: اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مشرکین کی یہ اشیاء، جو ہمارے پاس ہیں یا ہمارے پاس آ گئی ہیں، جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام تمہیں ایسی کسی چیز پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جو تمہاری ملکیت نہ ہو، عارضی استعمال کے لیے لی گئی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو پھر ان لوگوں نے (مشرکین کی) وہ چیزیں انہیں واپس کر دیں۔
حدیث نمبر: 2961M3
ثنا ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا رَوْحٌ ، نَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ شُرَيْحًا ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ " .
محمد محی الدین
قاضی شریح بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے عاریت کے طور پر چیز لی ہو اور جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر چیز رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر وہ دھوکے دینے والے ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔
حدیث نمبر: 2961M4
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مثل الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلا إِذَنْ ، وَقَالَ الْمَحَامِلِيُّ : أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور بولے: ”آپ اس بات پر گواہ بن جائیں کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنا مال نعمان کو دے دیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو عطیے کے طور پر اتنی ہی ادائیگی کی ہے، جتنی تم نے نعمان کو دی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ وہ سب (یعنی تمہاری اولاد) تمہارے ساتھ ایک جیسا اچھا سلوک کرے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو۔“ محامل کہتے ہیں: (روایت میں یہ الفاظ ہیں) ”کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“
حدیث نمبر: 2962
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأَبِيهِ : " لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے یہ فرمایا تھا: ”تم زیادتی کے بارے میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔“
حدیث نمبر: 2963
ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، نَا أَبِي ، نَا وَرْقَاءُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَبَاهُ بَشِيرًا عَلَى أَنْ يُعْطِيَ النُّعْمَانَ ابْنَهُ حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ فَفَعَلَ ، فَقَالَ : مَنْ أُشْهِدُ لَكِ ؟ ، فَقَالَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : لَيْسَ مِثْلِي يَشْهَدُ عَلَى هَذَا ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلادِكُمْ ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ أَنْفُسِكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان کے والد سیدنا بشیر سے کہا کہ وہ اپنے صاحب زادے نعمان کو کھجوروں کا ایک باغ دے دیں، تو سیدنا بشیر نے ایسا کر لیا، پھر انہوں نے دریافت کیا کہ میں اس بارے میں کسے گواہ بناؤں؟ تو اس خاتون نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، تو سیدنا نعمان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے جس طرح سے اسے دیا ہے، اسی طرح باقی سب کو بھی دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی نہیں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے جیسا شخص اس طرح کی چیز کا گواہ نہیں بن سکتا، اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے بارے میں انصاف سے کام لو، جس طرح وہ اس بات کو بھی پسند کرتا ہے کہ تم لوگ آپس میں انصاف سے کام لو۔“
حدیث نمبر: 2964
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : " نَحَلَنِي أَبِي غُلامًا فَأَمَرَتْنِي أُمِّي أَنْ أَذْهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُشْهِدَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : فَارْدُدْهُ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے عطیے کے طور پر غلام دیا، تو میری والدہ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں، تاکہ میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے والد سے) دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اسے تم واپس لے لو۔“
حدیث نمبر: 2965
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا سُفْيَانُ بِهَذَا مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2966
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ دَعَاهُ رَجُلٌ فَأَشْهَدَهُ عَلَى وَصِيَّةٍ فَإِذَا هُوَ قَدْ آثَرَ بَعْضَ وَلَدِهِ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْهَدَ عَلَى جَوْرٍ ، وَقَالَ : مَنْ شَهِدَ عَلَى جَوْرٍ فَهُوَ شَاهِدُ زُورٍ ، ثُمَّ أَسْرَعَ الْمَشْيَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص نے انہیں بلایا اور اپنی وصیت کے بارے میں انہیں گواہ بنانا چاہا، تو اس نے وصیت میں اپنی بعض اولاد کو دوسری اولاد پر ترجیح دی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم کسی زیادتی کے کام میں گواہ بنیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی زیادتی کے کام پر گواہ بنتا ہے، وہ جھوٹے گواہ کی مانند ہوتا ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تیزی سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 2967
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهَبَ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلا فِيمَا يُعْطِي الْوَالِدُ وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ ، أَوْ قَالَ : فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ مِنَ الثِّقَاتِ تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ وَعَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُسَيْنٍ ، وَرَوَاهُ عَامِرٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ، جَدِّهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی چیز ہبہ کرنے کے بعد اسے واپس لے، البتہ وہ اپنی اولاد کو جو دیتا ہے (اسے واپس لے سکتا ہے)، اپنے ہبہ کو واپس لینے والے شخص کی مثال (راوی کے شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے عطیے کو واپس لینے والے شخص کی مثال اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرنے کے بعد اپنی ہی قے کو دوبارہ چاٹ لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2968
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالَ : نَا رَوْحٌ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ ، وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " ، عَنِ تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، وَرَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَالْحَجَّاجُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَائِدِ فِي هِبَتِهِ دُونَ ذِكْرِ الْوَالِدِ يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ . وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، مُرْسَلا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَالِدُ يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ ".
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص اپنے ہبہ کو واپس نہیں لے سکتا، صرف والد اپنی اولاد سے (ہبہ کی ہوئی چیز) واپس لے سکتا ہے، اپنے ہبہ کو واپس لینے والا شخص اس کتے کی مانند ہے، جو اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور ایک سند کے ہمراہ یہ روایت مرسل حدیث کے طور پر منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”والد اپنا ہبہ (اولاد سے) واپس لے سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2969
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَهَبَ هِبَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا " ، لا يَثْبُتُ هَذَا مَرْفُوعًا ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی چیز ہبہ کرتا ہے، تو وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہ لے۔“ یہ روایت مرفوع ہونے کے طور پر مستند طور پر ثابت نہیں ہے، درست یہ ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2970
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”آدمی اپنے ہبہ کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہ لے۔“
حدیث نمبر: 2971
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَاهِبُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہیں لیتا۔“
حدیث نمبر: 2972
ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2973
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَتِ الْهِبَةُ لِذِي رَحِمٍ لَمْ يَرْجِعْ فِيهَا " ، انْفَرَدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”آدمی اپنے ہبہ کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہ لے۔“
حدیث نمبر: 2974
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب آدمی کسی رشتے دار کو ہبہ کرے، تو وہ اسے واپس نہ لے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عبداللہ بن جعفر نامی راوی منفرد ہیں۔
حدیث نمبر: 2975
ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَهَبَ هِبَةً فَارْتَجَعَ بِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا ، وَلَكِنَّهُ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی چیز ہبہ کرتا ہے، پھر وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے، تو وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہو گا، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہیں لیتا، تاہم اس کی مثال اس کتے کی مانند ہو گی، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، نَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَأَنَا فِي تِبَاعَةٍ لِي هَكَذَا ، قَالَ : أَبِيعُهَا ، فَمَرَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ تُفْلِحُوا، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ بِالْحِجَارَةِ وَقَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ وَهُوَ ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ لا تُطِيعُوهُ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : هَذَا غُلامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ ؟ ، قَالُوا : هَذَا عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَهُوَ أَبُو لَهَبٍ ، فَلَمَّا ظَهَرَ الإِسْلامُ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ أَقْبَلْنَا فِي رَكْبٍ مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ ؟ ، قُلْنَا : مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ ، قَالَ : وَمَعَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ ، قَالَ : تَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ هَذَا ؟ ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : بِكُمْ ؟ ، قُلْنَا : بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، قَالَ : فَمَا اسْتَوْضَعْنَا شَيْئًا ، وَقَالَ : قَدْ أَخَذْتُهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِ الْجَمَلِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَوَارَى عَنَّا ، فَتَلاوَمْنَا بَيْنَنَا ، وَقُلْنَا : أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ مَنْ لا تَعْرِفُونَهُ ، فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ : لا تَلاوَمُوا فَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ مَا كَانَ لِيَحْقَرَكُمْ ، مَا رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ ، فَلَمَّا كَانَ الْعِشَاءُ أَتَانَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ، وَإِنَّهُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ هَذَا حَتَّى تَشْبَعُوا وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا ، قَالَ : فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَؤُلاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، فَقَالَ : أَلا لا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مرتبہ زیارت کی ہے۔ ایک مرتبہ میں نے آپ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا ہے۔ میں اپنے سامان کے ساتھ وہاں موجود تھا جو میں نے فروخت کرنے کے لیے وہاں رکھا ہوا تھا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو آپ نے سرخ حلہ زیب تن کیا ہوا تھا اور آپ بلند آواز میں یہ ارشاد فرما رہے تھے: ”اے لوگو! لا إله إلا الله پڑھ لو، تو فلاح پا جاؤ گے۔“ ایک شخص پتھر پکڑ کر آپ کے پیچھے جا رہا تھا، جس نے آپ کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ وہ شخص یہ کہتا جا رہا تھا: اے لوگو! ان کی بات نہ مانو کیونکہ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ تو میں نے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ عبدالمطلب کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں۔ میں نے دریافت کیا: یہ ان کے پیچھے جانے والا شخص جو انہیں پتھر مار رہا تھا، یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا عبدالعزیٰ ہے۔ (راوی کہتے ہیں) یہ ابولہب تھا۔ پھر جب اسلام غالب ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے، تو ہم ربدہ سے اور ربدہ کے جنوبی علاقوں سے کچھ سواروں کے ہمراہ آئے اور مدینہ منورہ کے قریب ہم نے پڑاؤ کیا۔ ہمارے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران ایک صاحب ہمارے پاس تشریف لائے جنہوں نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔ انہوں نے سلام کیا، ہم نے انہیں جواب دیا۔ انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگ کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے جواب دیا: ربدہ سے اور ربدہ کے جنوبی علاقوں سے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم اپنے اونٹ فروخت کرو گے؟ تو ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے دریافت کیا: کتنے کے عوض؟ ہم نے کہا: کھجوروں کے اتنے اتنے صاع کے عوض۔ تو انہوں نے ہمیں کوئی کمی کرنے کے لیے نہیں کہا۔ پھر انہوں نے اونٹ کے سر کو پکڑا اور مدینہ کے اندر چلے گئے اور ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ تو ہم لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے کہا: تم لوگوں نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دے دیا جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔ تو وہ عورت (جو ہمارے ساتھ تھی) بولی: تم ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو۔ میں نے ان صاحب کے چہرے میں ایک ایسی چیز دیکھی ہے (جس سے یہ ثابت ہوتا ہے) کہ یہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے۔ میں نے کسی بھی شخص کا چہرہ ایسا نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ چودھویں کے چاند سے مشابہت رکھتا ہو۔ پھر جب عشاء کا وقت ہوا، تو ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: السلام علیکم، میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں جو تمہارے پاس آیا ہوں۔ انہوں نے تمہیں یہ ہدایت کی ہے کہ تم ان کھجوروں کو سیر ہو کر کھاؤ اور پوری طرح سے ماپ بھی لو۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے انہیں سیر ہو کر کھایا اور پھر پوری طرح ماپ لیا۔ اگلے دن ہم مدینہ شہر میں داخل ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ارشاد فرما رہے تھے: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے اور تم اس شخص پر خرچ کا آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہو، تمہاری والدہ، تمہارے والد، تمہاری بہن، تمہارا بھائی اور تمہارے درجہ بدرجہ قریبی عزیز۔“ تو ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ بنو ثعلبہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا، آپ ہمیں ان سے بدلہ دلوا دیں۔ تو نبی نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ لیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”باپ اپنی اولاد کی طرف سے تاوان ادا نہیں کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ ، وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ ، قَالُوا : نَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلا يَصْرِفْهُ فِي غَيْرِهِ " ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ : فَلا يَأْخُذْ إِلا مَا أَسْلَمَ فِيهِ أَوْ رَأْسَ مَالِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی چیز کے بارے میں نقد سودا کرے، تو ادائیگی کے طور پر (دی جانے والی چیز میں کوئی) تبدیلی نہ کرے۔“ ابراہیم بن سعید کہتے ہیں: یعنی وہ اسی چیز کو حاصل کرے، جس کے بارے میں اس نے نقد سودا کیا تھا یا وہی معاوضہ ادا کرے، جس کی شرط پر اس نے نقد سودا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2978
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْحَكَمِ الْبَزَّارُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، وَالْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ عَبْدُ السَّلامِ : وَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنِ اقْتَصَرْتُهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " إِذَا أَسْلَفْتَ فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے) ”جب تم بیع سلف کرو، تو اسے آگے اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک اسے پوری طرح ماپ نہ لو۔“
حدیث نمبر: 2979
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا عَطِيَّةُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي لَوْذَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلا يَشْتَرِطْ عَلَى صَاحِبِهِ غَيْرَ قَضَائِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص بیع سلف کرے، تو طے شدہ ادائیگی کے علاوہ کسی چیز کی ادائیگی کی شرط عائد نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2980
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَذْكُرُهُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ جَاءَهُ أُنَاسٌ مِنْهُمْ ، فَقَالُوا : إِنَّ لَنَا دُيُونًا لَمْ تُحَلَّ ، فَقَالَ : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ سے نکلنے کا حکم دیا، تو ان کے کچھ افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: ہمارے کچھ فرض ہیں، جو ابھی واپس نہیں ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں چھوڑ دو اور جلدی سے یہاں سے نکل جاؤ۔“
حدیث نمبر: 2981
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِجْلاءِ بَنِي النَّضِيرِ ، قَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، " إِنَّ لَنَا دُيُونًا عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلاوطن کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! ہم نے لوگوں سے کچھ قرض لیے ہیں۔“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں معاف کر دو اور جلدی سے یہاں سے چلے جاؤ۔“
حدیث نمبر: 2983
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى ، نَا الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْرِجَ بَنِي النَّضِيرِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّكَ أَمَرْتَ بِإِخْرَاجِنَا وَلَنَا عَلَى النَّاسِ دُيُونٌ لَمْ تُحَلَّ ، قَالَ : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " ، اضْطَرَبَ فِي إِسْنَادِهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، ضَعِيفٌ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ثِقَةٌ إِلا أَنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدِ اضْطَرَبَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو (مدینہ منورہ سے) نکالنے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں نکالنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ہم نے لوگوں سے قرض لیے ہیں، جو ابھی وصول نہیں ہوئے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ معاف کر دو اور تیزی سے یہاں سے نکل جاؤ۔“
حدیث نمبر: 2984
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ السَّكُونِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أُتِيَ بِالْجِنَازَةِ لَمْ يَسْئَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ وَيَسْأَلُ عَنْ دَيْنِهِ ، فَإِنْ قِيلَ : عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلاةِ عَلَيْهِ ، وَإِنْ قِيلَ : لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَلَمَّا قَامَ لِيُكَبِّرَ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ : هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ ، قَالُوا : دِينَارَانِ ، فَعَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، وَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَقَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَرِئَ مِنْهُمَا ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ ، وَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ؟ ، فَقَالَ : بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی جنازہ لایا جاتا، تو آپ اس کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، صرف آپ اس کے قرض کے بارے میں سوال کرتے تھے، اگر یہ بتایا جاتا کہ اس کے ذمے کوئی قرض لازم ہے، تو آپ اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے اور اگر بتایا جاتا کہ اس کے ذمے کوئی قرض لازم نہیں ہے، تو آپ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے، ایک مرتبہ جنازہ لایا گیا، جب آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے ساتھی کے ذمے کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”دو دینار ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑ گئے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، یہ شخص ان دونوں سے بری ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب سے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے اور تمہیں پریشانی سے اسی طرح نجات عطا کرے، جس طرح تم نے اپنے بھائی کی پریشانی کو ختم کیا ہے، جو بھی شخص فوت ہو جاتا ہے اور اس کے ذمے قرض ہوتا ہے، تو وہ اس قرض کے عوض میں گروی رکھا جاتا ہے اور جو شخص کسی میت کے قرض کی پریشانی کو ختم کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی پریشانی کو ختم کرے گا۔“ تو کسی صاحب نے عرض کی: ”یہ بطور خاص سیدنا علی کے لیے حکم ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے؟“ آپ نے فرمایا: ”بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا وَكِيعٌ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ أَبِي كُلَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى عَنْ عَسِيبِ الْفَحْلِ " ، زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ : " وَعَنْ قَفِيزِ الطَّحَّانِ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جفتی کے لیے نر جانور کو (کرائے پر دینے) سے منع کیا گیا ہے، ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: کام ہی میں سے مزدوری دینے (سے بھی منع کیا گیا ہے)۔
حدیث نمبر: 2986
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُبَاعُ الْعِنَبُ حَتَّى يَسْوَدَّ ، وَلا الْحَبُّ حَتَّى يَشْتَدَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تک انگور پک نہیں جاتا، اس وقت تک اسے فروخت نہ کیا جائے، اور جب تک دانہ تیار نہیں ہو جاتا، اس وقت تک اسے فروخت نہ کیا جائے۔“
…