حدیث نمبر: 2928
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الظَّهْرِ يُرْكَبُ بِالنَّفَقَةِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی سواری کو گروی رکھا گیا ہو، تو آدمی خرچ ادا کر کے اس پر سواری کر سکتا ہے، اسی طرح جب کسی جانور کو گروی رکھا گیا ہو، تو اس کا دودھ دوہ سکتا ہے، جو شخص اوپر سواری کرتا ہے اور جو شخص اس کا دودھ پیتا ہے، اس کے خرچ اسی شخص کے ذمے ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2929
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا ، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ نَفَقَتُهُ وَيَرْكَبُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی جانور کو رہن رکھا گیا ہو، تو جس شخص کے پاس رہن رکھا گیا ہے، اس کا چارہ اسی شخص کے ذمے ہو گا، اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ وہ شخص پی سکتا ہے، جو شخص دودھ پیتا ہے اور سوار ہوتا ہے، اس جانور کا خرچ اسی شخص کے ذمے ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2930
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رہن (رکھے ہوئے جانور) پر سوار ہو جا سکتا ہے، اس کا دودھ دوہا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2931
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَدَّادُ ، نَا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّة الزَّارِعُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " ، إِسْمَاعِيلُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ ، وَهَذَا لا يَصِحُّ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رہن رکھی ہوئی چیز مکمل طور پر رہن شمار ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2932
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ اللُّؤْلُئِيُّ ، نَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، نَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " أَشْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي دَرَقَةٍ سُلِّحْنَاهَا ، وَأَشْرَكَنَا فِيمَا أَصَبْنَا ، فَأَخْفَقْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ ، وَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، عمار اور سعد بن ابی وقاص کو مشترکہ طور پر ایک ڈھال دی، ہم نے مشرکین کے مال غنیمت میں سے جو چیزیں لی تھیں، آپ نے ان میں ہمیں شریک قرار دیا، میں اور عمار تو کچھ نہ لا سکے، البتہ سعد دو قیدی لے آئے۔
حدیث نمبر: 2933
قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ لُوَيْنٌ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو هَمَّامٍ الأَهْوَازِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَعْنِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِذَا خَانَ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا " ، قَالَ لُوَيْنٌ : لَمْ يُسْنِدْهُ أَحَدٌ ، إِلا أَبُو هَمَّامٍ وَحْدَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں دو شراکت داروں کے ساتھ ہوتا ہوں، جب تک ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہیں کرتا، جب وہ خیانت کر لیتا ہے، تو میں ان دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہوں (یعنی میری رحمت ان کے ساتھ نہیں رہتی)۔“
حدیث نمبر: 2934
ثنا هُبَيْرَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ النَّهَاوَنْدِيُّ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدُ اللَّهِ عَلَى الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِذَا خَانَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ رَفَعَهَا عَنْهُمَا " .
محمد محی الدین
ابوحیان تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ کا کرم دو شراکت داروں پر ہوتا ہے، جب تک ان میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرتا، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے اپنا کرم اٹھا لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2935
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے امانت واپس کر دو اور جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2936
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، وَقَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے وہ امانت ادا کر دو، جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2937
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَالِمٍ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نَا ابْنُ شَوْذَبٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے امانت ادا کرو اور جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2938
ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى وَ ، هِشَامٍ ابْنِي عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ اخْتَصَمَا فِي أَرْضٍ غَرَسَ أَحَدُهُمَا فِيهَا نَخْلا وَالأَرْضُ لِلآخَرِ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَ لِصَاحِبِهَا ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ ، وَقَالَ : مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا ، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ " ، قَالَ : فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ رَأَى النَّخْلَ وَهِيَ عَمٌّ ، تُقْلَعُ أُصُولُهَا بِالْفُؤُوسِ ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : الْعَمُّ : الشَّبَابُ ، وَلَيْسَ لِعَرَقِ ظَالِمٍ حَقٌّ ، قَالَ : " أَنْ تَأْتِيَ أَرْضَ غَيْرِكَ فَتَزْرَعَ فِيهَا ".
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا ہوا، ان دونوں میں سے ایک نے وہاں کھجور کا درخت لگایا تھا اور زمین دوسرے کی ملکیت تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ زمین اس کے مالک کو مل جائے گی، آپ نے کھجور لگانے والے سے کہا کہ تم اپنے درخت کو وہاں سے نکال لو، آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی بے آباد جگہ کو آباد کرتا ہے، وہ اس آباد کرنے والے کو مل جاتی ہے، لیکن کوئی شخص کسی دوسرے کی زمین پر (زبردستی) کچھ نہیں لگا سکتا۔“ راوی کہتے ہیں: جن صاحب نے مجھے یہ روایت سنائی، انہوں نے یہ بتایا کہ انہوں نے اس کھجور کے درخت کو دیکھا ہے کہ بہت اونچا لمبا تھا، جس کی جڑیں کلہاڑی کے ذریعے کاٹی گئی تھیں۔ روایت کے یہ الفاظ کسی ظالم کے لیے نہیں ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ تم کسی دوسرے کی زمین میں جاؤ اور وہاں کاشت شروع کر دو (یعنی اس کی مرضی کے بغیر ایسا کرو)۔
حدیث نمبر: 2939
وثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا تُزْرَعُ ثَلاثَةٌ ، رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا ، أَوْ رَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُهَا ، أَوْ رَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کاشت کاری تین طرح کی ہوتی ہے: ایک یہ کہ کسی شخص کی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے، ایک وہ شخص جسے عطیے کے طور پر کوئی زمین دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور ایک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے عوض میں زمین کرائے پر حاصل کرے (تو وہ اس میں کاشت کر سکتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 2940
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، نَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ " عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ لَهُ أَبَى : الذَّهَبَ وَالْوَرِقَ ؟ ، فَقَالَ : أَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلا بَأْسَ بِهِ " .
محمد محی الدین
حنظلہ بن قیس زرقی یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج سے زمین کرائے پر لینے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے، تو حنظلہ نے ان سے دریافت کیا: ”کیا سونے اور چاندی کے عوض میں بھی؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”سونے اور چاندی کے عوض میں دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2941
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ، إِلا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے، البتہ سونے اور چاندی کے عوض میں (زمین کرائے پر دی جا سکتی ہے)۔
حدیث نمبر: 2942
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " خَرَجَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَإِذَا هُوَ بِزَرْعٍ تَهْتَزُّ ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذَا الزَّرْعُ ؟ ، قَالُوا : لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَكَانَ أَخَذَ الأَرْضَ بِالنِّصْفِ أَوْ بِالثُّلُثِ ، فَقَالَ : انْظُرْ نَفَقَتَكَ فِي هَذِهِ الأَرْضِ فَخُذْهَا مِنْ صَاحِبِ الأَرْضِ ، وَادْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ وَزَرْعَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر جا رہے تھے کہ آپ نے ایک کھیت کو دیکھا، جو لہلہا رہا تھا، آپ نے دریافت کیا: ”یہ کھیت کس کا ہے؟“ تو لوگوں نے بتایا: یہ کھیت سیدنا رافع بن خدیج کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا، وہ نصف یا ایک تہائی پیداوار کے عوض میں زمین (کرائے پر) لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس زمین میں جو خرچ کیا ہے، اس کا حساب لگاؤ اور پھر زمین کے مالک سے اسے لے لو اور اس شخص کی زمین اور اس کا کھیت اس کے سپرد کر دو۔“
حدیث نمبر: 2943
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا إِلَى الْيَهُودِ مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور وہاں کے کھجوروں کے باغات یہودیوں کو دے دیے تھے کہ وہ (مسلمانوں کو) نصف ادائیگی کر دیا کریں۔
حدیث نمبر: 2944
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَفَعَ خَيْبَرَ إِلَى أَهْلِهَا عَلَى الشَّطْرِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر وہاں کے رہنے والوں کو دے دیا تھا، اس شرط پر کہ وہ وہاں کی پیداوار میں سے، خواہ وہ پھل ہوں یا زراعت ہو، نصف (مسلمانوں کو) ادا کر دیا کریں گے۔
حدیث نمبر: 2945
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا ، وَقَالَ : " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ طے کیا تھا کہ وہاں کی جو پیداوار ہو گی، خواہ وہ پھل ہوں یا زراعت ہو (اس کا نصف حصہ وہ لوگ مسلمانوں کو ادا کریں گے)۔
حدیث نمبر: 2946
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو رَوَّادٍ بِمِصْرَ ، نَا وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَجْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، كَانَ يَقُولُ : " كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ : إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ التَّمْرُ مُرَاقٌّ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ ، عَاهَاتٌ كَانُوا يَحْتَجُّونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ : أَمَا لا فَلا تَبْتَاعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُ الثَّمَرِ ، كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے، جب فصل کاٹنے کا وقت ہوتا، تو قرض وصولی کرنے والا آ جاتا، تو جس نے ادائیگی کرنی ہوتی، وہ یہ کہتا تھا: اس دفعہ پیداوار کو فلاں آفت لاحق ہو گئی ہے، اس میں یہ خرابی آ گئی ہے، مختلف طرح کی آفات کا تذکرہ کرتے، جن کی وجہ سے لوگوں کے درمیان مقدمات ہونے لگے، جب یہ مقدمات زیادہ ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم اس وقت تک سودا نہ کرو، جب تک پھل پک کر تیار نہیں ہو جاتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے طور پر یہ بات کی تھی، کیونکہ اس بارے میں لوگوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہونے لگا تھا۔
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ وَالزَّرْعِ " ، وَقَالَ يُوسُفُ : مِنَ النَّخْلِ وَالشَّجَرِ ، قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : وَهِمَ فِي ذِكْرِ الشَّجَرِ ، وَلَمْ يَقُلْهُ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والوں کے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ وہاں پیدا ہونے والی کھجوروں اور زراعت میں سے نصف پیداوار کو وہ لوگ مسلمانوں کو ادا کیا کریں گے۔ روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2948
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا عَمِّي ، نَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَاقَى يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى تِلْكَ الأَمْوَالِ عَلَى الشَّطْرِ ، وَسِهَامُهُمْ مَعْلُومَةٌ ، وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ إِنَّا إِذَا شِئْنَا أَخْرَجْنَاكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والے یہودیوں کو وہاں کی زمینوں پر کام کرنے کی اجازت دی تھی، اس شرط پر کہ وہ نصف پیداوار (مسلمانوں کو ادا کریں گے) اور یہ حصے متعین تھے، آپ نے ان کے لیے یہ شرط رکھی تھی: ”جب ہم چاہیں گے، تمہیں یہاں سے نکال دیں گے۔“
حدیث نمبر: 2949
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، ح وثنا ابْنُ صَاعِدٍ نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبِي سَهْلُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ الْقَرَنِيُّ ، قَالا : نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ " ، زَادَ ابْنُ عُمَرَ : " بِهِ أَعْطَى الْيَهُودَ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین اور وہاں کی کھجوروں کے باغات نصف پیداوار کی ادائیگی کی شرط پر (یہودیوں کو) دیے تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیے تھے۔
حدیث نمبر: 2950
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَلامٍ ، نَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعْطَى خَيْبَرَ عَلَى النِّصْفِ مِنْ كُلِّ نَخْلٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ شَيْءٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں، زرعی پیداوار اور دیگر تمام (قسم کی پیداوار میں) نصف حصے کی ادائیگی کی شرط پر خیبر (کی زمین یہودیوں کو دی تھی)۔