حدیث نمبر: 2889
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ لازِمٌ غَرِيمًا لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " غَرِيمٌ لِي ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ ، يَعْنِي أَنْ تَأْخُذَ النِّصْفَ ؟ وَقَالَ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخَذَ الشَّطْرَ وَتَرَكَ الشَّطْرَ ، أَوْ قَالَ النِّصْفَ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت اپنے ایک مقروض کے ساتھ الجھے ہوئے تھے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ میرا مقروض ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم یہ نہیں کرتے، یعنی تم اس سے نصف وصول کر لو؟“ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے یہ بات ارشاد فرمائی، تو میں نے عرض کی: ”جی ہاں! یا رسول اللہ!“ تو انہوں نے نصف حصہ وصول کر لیا اور نصف حصہ چھوڑ دیا (راوی کو شک ہے کہ شاید روایت میں شطر کی بجائے لفظ نصف منقول ہے)۔
حدیث نمبر: 2890
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، جَمِيعًا عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " ، لَفْظُ يُونُسَ ، وَقَالَ الآخَرُ : " بَيْنَ النَّاسِ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مسلمان آپس کی شرط کے مطابق عمل پیرا ہوں گے اور مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔“ روایت کے یہ الفاظ یونس نامی راوی کے ہیں، جبکہ دیگر راویوں نے لفظ ”لوگوں کے درمیان“ نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2891
ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْفَارِسِيُّ مِنْ أَصْلِهِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " ، هَكَذَا كَانَ فِي أَصْلِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔“ ان کی اصل میں اسی طرح کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 2892
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ الْخَزَّارُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الآدَمِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ ، إِلا شَرْطًا حَرَّمَ حَلالا ، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا " .
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں کی مقرر کردہ شرائط (پوری کی جائیں گی)، ماسوائے ایسی شرط کے، جو کسی حلال چیز کو حرام قرار دے یا حرام چیز کو حلال قرار دے۔“
حدیث نمبر: 2893
ثنا رِضْوَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ جَالِينُوسَ الصَّيْدَلانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زُرَارَةَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”مسلمانوں کی شرائط کی پابندی کی جائے گی، جبکہ وہ حق کے مطابق ہوں۔“
حدیث نمبر: 2894
وَعَنْ وَعَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ مِنْ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں کی شرائط کی پابندی کی جائے گی، جبکہ وہ حق کے مطابق ہوں۔“
حدیث نمبر: 2895
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ مَاهَانَ ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلالِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَنَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ صَدَقَةً ، وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ عِرْضَهُ كُتِبَ لَهُ بِهِ صَدَقَةً ، وَمَا أَنْفَقَ الْمُؤْمِنُ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّ خَلَفَهَا عَلَى اللَّهِ ضَامِنٌ ، إِلا مَا كَانَ فِي بُنْيَانٍ أَوْ مَعْصِيَةٍ " ، فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ : مَا يَعْنِي وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ ؟ ، قَالَ : أَنْ يُعْطِيَ الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ الْمُتَّقَى.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر نیکی صدقہ ہے، آدمی اپنی بیوی پر، اپنی جان پر جو خرچ کرتا ہے، یہ اس کے لیے صدقہ کے طور پر لکھا جاتا ہے، اس چیز کے ذریعے آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے، یہ بات اس کے لیے صدقے کے طور پر لکھی جاتی ہے، آدمی جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، تو اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے (یعنی اس کا اجر و ثواب عطا کرے گا)، ماسوائے اس چیز کے، جو کسی تعمیر میں خرچ کیا جائے یا کسی گناہ کے کام میں خرچ کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے محمد بن منکدر سے دریافت کیا: ”آدمی اس کے ذریعے اپنی عزت کی حفاظت کرے، اس سے مراد کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کہ وہ کسی شاعر کو یا کسی بدزبان آدمی کو (معاوضہ دے، تاکہ وہ اس کے ساتھ بدتمیزی نہ کرے)۔“
حدیث نمبر: 2896
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا مُوسَى بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ أَخَذَهُ ، وَطَلَبَ ذَلِكَ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنا سامان کسی شخص کے پاس پائے، وہ اسے حاصل کرے اور دوسرا شخص اس سے مطالبہ کرے گا، جس سے اس نے خریدا ہے۔“
حدیث نمبر: 2897
نَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ، وَيَتْبَعُ الْبَيْعَ مَنْ بَاعَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اپنا مال بعینہ کسی شخص کے پاس پائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا اور دوسرا شخص اس شخص کے پاس جائے گا، جس سے اسے خریدا تھا۔“
حدیث نمبر: 2898
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْمَيْمُونِيُّ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، فَقَالَ لِي : اذْهَبْ إِلَى حَدِيثٍ رَوَاهُ هُشَيْمٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ، وَيَتْبَعُ الْمُشْتَرِي مَنْ بَاعَهُ " ، قَالَ أَحْمَدُ : حَدَّثَنَاهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا ، عَنْ هُشَيْمٍ ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ هُشَيْمٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ ، وَرَوَى النَّاسُ عَنْهُ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ ، وَكَنَّاهُ أَبَا سَعْدَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کا مال کسی کے پاس بعینہ پایا جائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا اور خریدار اس شخص کے پاس جائے گا، جس نے اسے فروخت کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 2899
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا الْحَجَّاجُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ، وَيَتْبَعُ صَاحِبَهُ مَنِ اشْتَرَى مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اپنے سامان کو بعینہ کسی کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہے اور جس کے پاس وہ سامان تھا، وہ اس شخص کے پیچھے جائے گا، جس سے اس نے سامان کو خریدا تھا۔“
حدیث نمبر: 2900
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ " فِي صَاحِبٍ لَنَا أُصِيبَ لِهَذَا الدَّيْنِ يَعْنِي أَفْلَسَ ، فَقَالَ : ثُمَّ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ ، أَنَّ صَاحِبَ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ أَنْ يَتْرُكَ صَاحِبَهُ وَفَاءً " .
محمد محی الدین
عمر بن خلدہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مرض کی وجہ سے مفلس قرار دیا جا چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا، جو انتقال کر چکا ہو یا جو مفلس ہو چکا ہو: ”سامان کا حقیقی مالک جب اپنے مال کو بعینہ کسی کے پاس پائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا، البتہ وہ اپنے ساتھی کو پوری ادائیگی کرے (یعنی جو اس ساتھی کا حصہ بنتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمْرِو بْنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ ، أَنَّهُ قَالَ : جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ ، فَقَالَ : هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ " .
محمد محی الدین
ابن خلدہ زرقی، جو مدینہ منورہ کے قاضی تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ وہ مسئلہ ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: ”جو شخص فوت ہو جائے یا مفلس قرار دے دیا جائے اور پھر کسی سامان کا مالک بعینہ اپنے سامان کو اس کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2902
وَنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، أنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَرْقَاءِ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعُزِّيُّ ، نَا الْفِرْيَابِيُّ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ سِلْعَةً فَأَفْلَسَ صَاحِبُهَا فَوَجَدَهَا بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے، پھر اس کا ساتھی مفلس قرار دیا جاتا ہے اور پہلا شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پاتا ہے اور اس پہلے شخص نے سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، تو وہ سامان اسی شخص کو مل جائے گا، لیکن اگر اس نے اس قیمت میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، تو پھر وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2903
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْخَبَايِرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلانِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَكُنْ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ ، وَإِنْ كَانَ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، وَقَالَ دَعْلَجٌ : " فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ، وَلا يَثْبُتُ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ مُسْنِدًا ، وَإِنَّمَا هُوَ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے اور پھر اس سامان کو بعینہ کسی شخص کے پاس جائے، جو مفلس قرار دیا جا چکا ہو، اس فروخت کرنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو، تو وہ سامان اس شخص کو مل جائے گا، لیکن اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ وصول کر چکا ہو، تو وہ باقی قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“ یمان بن عدی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر اس شخص نے اس کی قیمت میں سے کچھ ادا کر دی ہو، تو وہ دوسرے شخص باقی قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2904
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ : " وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، خَالَفَهُ الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ فِي إِسْنَادِهِ ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”جو شخص فوت ہو جائے، اس کے پاس کسی دوسرے شخص کا مال موجود ہو، خواہ اس شخص نے اس کے معاوضے میں سے کوئی رقم وصول کی ہو یا نہ کی ہو، وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“ یمان بن عدی نامی راوی نے اس کی سند میں اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2905
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسَدِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ . الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ یمان بن عدی نامی راوی ضعیف الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 2906
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الْبَائِعُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص مفلس ہو جائے اور کوئی فروخت کرنے والا سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کے بارے میں دیگر قرض خواہوں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2907
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجّ ُ نا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وَنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " ، وَالْمَعْنَى قَرِيبٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کو کسی شخص کے پاس بعینہ پاتا ہے، جسے مفلس قرار دیا جا چکا ہو، تو وہ اس سامان کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہو گا۔“ اس کا مفہوم ایک جیسا ہے۔
حدیث نمبر: 2908
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب تم اپنے بھائی کو کوئی پھل فروخت کرتے ہو اور اس پھل کو کوئی آفت لاحق ہو جاتی ہے، تو اب تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم کسی حق کے بغیر اپنے بھائی کے مال کو حاصل کر لو۔“
حدیث نمبر: 2909
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا ، لِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ؟ " ، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ : هَلْ سَمَّى لَكَ الْجَوَائِحَ ؟ ، قَالَ : لا ،.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر تم اپنے بھائی کو کچھ پھل فروخت کرتے ہو اور اس کو کوئی آفت لاحق ہوتی ہے، تو اب تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم اس کا کوئی معاوضہ وصول کرو، تم کسی حق کے بغیر کسی بنیاد پر اپنے بھائی کا مال حاصل کرو گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: روایت میں یہ الفاظ ہیں جوائح؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“
حدیث نمبر: 2910
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، نَا رَوْحٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءٌ ، قُلْتُ : هَلْ سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ ؟ ، قَالَ : لا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، اس میں بھی یہی الفاظ ہیں: میں نے دریافت کیا: ”کیا انہوں نے آپ کے سامنے لفظ الجوائح نقل کیا تھا؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی نہیں۔“
حدیث نمبر: 2911
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا : نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلا تَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا ، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص پھل خریدتا ہے (یا فروخت کرتا ہے) اور اسے کوئی آسمانی آفت لاحق ہو جاتی ہے، تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے، تم کسی حق کے بغیر کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال وصول کرو گے۔“
حدیث نمبر: 2912
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے بارے میں معاوضے میں کمی کی ہدایت کی اور آپ نے کئی سال تک کے بعد کی ادائیگی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2913
ثنا ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ " فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ فَيُضِيعُ ، قَالَ : إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو کوئی چیز گروی رکھتا اور پھر وہ ضائع ہو جاتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس چیز کے عوض اسے گروی رکھا گیا تھا، اگر وہ اس سے کم ہے، تو وہ اپنے پورے حق کو واپس کرے گا اور اگر اس سے زیادہ ہے، تو امانت دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2913M
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ " فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ الرَّهْنَ فَيُضِيعُ ، قَالَ : إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ " .
محمد محی الدین
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا ہے، جو کوئی چیز گروی رکھتا ہے اور پھر اسے ضائع کر دیتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر یہ ایسی چیز سے کم ہو، جس کے عوض میں اسے گروی رکھا گیا تھا، تو اس کے تمام حق کو اسے واپس کیا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہو، تو وہ شخص امانت دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2914
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ الْجَوَائِحَ بِشَيْءٍ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَلا أَدْرِي كَمْ ذَلِكَ الْوَضْعُ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفت کی وجہ سے (معاوضے میں کمی کے حوالے سے) کچھ ذکر کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے کس حد تک کمی کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2915
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مَوْلًى لأُمِّ حَبِيبَةَ أَفْلَسَ ، فَأُتِيَ بِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَضَى فِيهِ عُثْمَانُ ، " أَنْ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ ، وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام کو مفلس قرار دے دیا گیا، اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، تو اس کے بارے میں سیدنا عثمان نے یہ فیصلہ دیا: ”اس کے مفلس ہونے سے پہلے جس شخص نے اپنے حق میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، وہ اس کا ہوا اور جو شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے، وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2916
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " ، لا يَثْبُتُ هَذَا عَنْ حُمَيْدٍ ، وَكُلُّ مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَيْخِنَا ضُعَفَاءُ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گروی رکھی ہوئی چیز مکمل طور پر (گروی شمار ہوتی ہے)۔“
حدیث نمبر: 2917
ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”گروی رکھی ہوئی چیز (مکمل طور پر گروی شمار ہوتی ہے)۔“
حدیث نمبر: 2918
قَالَ : وَحَدَّثَنَا قَالَ : وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ " إِسْمَاعِيلُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ ، وَهَذَا بَاطِلٌ عَنْ قَتَادَةَ ، وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گروی والی چیز اس کے ساتھ ہی ہوتی ہے، جو کچھ اس میں ہو۔“ یہ اسماعیل نامی راوی حدیث گھڑتا تھا اور اس حدیث کا قتادہ اور حماد بن سلمہ سے مروی ہونا باطل ہے، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 2919
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ الْخَبَّازُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ الْقَوَّاسُ ، نَا بِشْرُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ، نَا أَبُو عِصْمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُغَلُّ الرَّهْنُ ، لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " ، أَبُو عِصْمَةَ ، وَبِشْرٌ ، ضَعِيفَانِ ، وَلا يَصِحُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رہن بند نہیں ہوتا (اسے جس کے پاس رکھوایا گیا ہو)، اس کے فوائد وہ حاصل کرے گا اور اس کا تاوان بھی اسی شخص کے ذمے ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2920
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رہن بند نہیں ہوتا، اس کے فوائد وہ حاصل کرے گا اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہو گا (جس کے پاس رہن رکھوایا گیا ہے)۔“
حدیث نمبر: 2921
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ، لِصَاحِبِهِ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رہن اس شخص کے لیے بند نہیں ہوتا، جس کے پاس رکھوایا گیا ہے، اس کا فائدہ وہ حاصل کرے گا اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرَّانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الصَّلْتِ الأَطْرُوشُ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الرَّاسِبِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الرَّقِّيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ حَتَّى يَكُونَ لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْكَ غُرْمُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رہن بند نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کا فائدہ وہ آدمی لے گا اور تم پر اس کا تاوان ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2923
ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَصْرِ بْنِ بُجَيْرٍ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ، لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رہن بند نہیں ہوتا، آدمی اس کا فائدہ لیتا ہے اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2924
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2925
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْحِنَّائِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الرَّوَّاسِ ، نَا كُدَيْرٌ أَبُو يَحْيَى ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ، لَكَ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْكَ غُرْمُهُ " ، أَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَغَيْرُهُ عَنْ مَعْمَرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رہن بند نہیں ہوتا، تمہیں اس کا فائدہ ملے گا اور اس کا تاوان تمہارے ذمے ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2926
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ، لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رہن بند نہیں ہوتا، اس کا فائدہ آدمی لیتا ہے اور اس کا تاوان اس کے ذمے ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2927
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَرِمِيسِينِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِطَرَسُوسَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرٍ الأَصَمُّ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ، وَالرَّهْنُ لِمَنْ رَهَنَهُ ، لَهُ غُنْمُهُ ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”رہن بند نہیں ہوتا ہے، رہن اس شخص کے پاس ہوتا ہے، جس کے پاس اسے رکھوایا گیا ہے، وہ شخص اس کا فائدہ لیتا ہے اور اس کا تاوان بھی اس کے ذمے ہوتا ہے۔“
…