حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُجَيْمِيُّ ، نَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّ الْبَعِيرَ الشَّرُودَ يُرَدُّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سرکش اونٹ واپس کر دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2875
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِهَا يَوْمَهَا ، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " ، وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ : فَأَعْطَى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فِي الْمَوْضِعَيْنِ جَمِيعًا وَالْبَاقِي مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کیا کرتا تھا، بعض اوقات میں انہیں دینار کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لیتا تھا اور بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور درہم کی جگہ دینار وصول کر لیتا تھا، یہ اس کی جگہ لے لیتا تھا اور وہ اس جگہ دے دیا کرتا تھا، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ اس وقت سیدہ حفصہ کے گھر میں موجود تھے، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کرتا ہوں، تو بعض اوقات میں دینار کے عوض میں فروخت کرتا ہوں، لیکن درہم وصول کر لیتا ہوں، بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا ہوں اور دینار وصول کر لیتا ہوں، یہ میں اس کی جگہ لے لیتا ہوں اور وہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم اس دن کے بھاؤ کے حساب سے لیتے رہو، جب تک تم دونوں جدا نہیں ہوتے یا تمہارے درمیان کوئی شرط طے نہیں ہوتی۔“ ایک روایت میں الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 2876
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ النُّعْمَانِيِّ ، نَا الْحُسَيْنُ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيّ ، ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، مثلا بِمِثْلٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سونے کو سونے کے عوض میں، چاندی کو چاندی کے عوض میں، کھجور کو کھجور کے عوض میں، گندم کو گندم کے عوض میں، جو کو جو کے عوض میں، نمک کو نمک کے عوض میں صرف دست بہ دست برابر فروخت کیا جا سکتا ہے، لیکن جب ان اصناف میں اختلاف ہو جائے، تو تم جیسے چاہو فروخت کرو، اس وقت کہ جب یہ دست بہ دست لین دین ہو (یعنی ادھار کا سودا نہ ہو)۔“
حدیث نمبر: 2877
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الدَّيْنَوَرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامَهُ بِصَاعِ بُرٍّ ، فَقَالَ : بِعْهُ وَاشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ الصَّاعِ ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ مَعْمَرٌ : " لِمَ فَعَلْتَ ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلا تَأْخُذَنَّ إِلا مثلا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ ، يَعْنِي مثلا بِمِثْلٍ ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ " .
محمد محی الدین
معمر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے: ”اسے ایک صاع فروخت کر دو اور اس کے ذریعے جو خرید کر لے آؤ۔“ وہ غلام گیا اور اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ وصول کر لیا، جب وہ آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو معمر نے کہا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم جاؤ اور اسے واپس کر دو اور صرف برابر کا لین دین کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اناج کو اناج کے عوض میں۔“ ان کی مراد یہ تھی کہ صرف برابر برابر لیا اور دیا جا سکتا ہے، ان دنوں ہماری خوراک جو ہوا کرتی تھی، اس غلام نے کہا: ”یہ تو اس کی مانند نہیں ہیں۔“ تو معمر نے کہا: ”مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ اس کے برابر ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2878
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ ، فَقَالَ : بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : " لِمَ دَخَلْتَ هَذَا ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ ، وَلا تَأْخُذَنَّ إِلا مثلا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مثلا بِمِثْلٍ ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قِيلَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مثلا ، قَالَ : فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ " .
محمد محی الدین
معمر بن عبداللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے: ”اسے ایک صاع فروخت کر دو اور اس کے ذریعے جو خرید کر لے آؤ۔“ وہ غلام گیا اور اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ وصول کر لیا، جب وہ آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو معمر نے کہا: ”تم نے اس میں دخل کیوں کیا؟ تم جاؤ اور اسے واپس کر دو اور صرف برابر کا لین دین کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اناج کو اناج کے عوض میں صرف برابر (لیا اور دیا جا سکتا ہے)۔“ راوی کہتے ہیں: ان دنوں ہماری خوراک جو ہوا کرتی تھی، معمر سے یہ کہا گیا کہ یہ تو اس کی مانند نہیں بنتے، تو انہوں نے فرمایا: ”میرا یہ خیال ہے کہ یہ اس کی مانند ہیں۔“
حدیث نمبر: 2879
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، أنا أَبُو دَاوُدَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الزَّعْفَرَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الآخِذُ وَالْمُعْطِي مِنَ الرِّبَا سَوَاءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سود لینے والا اور دینے والا برابر (کے گناہ گار) ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2880
نَا أَبُو إِسْحَاقَ نَهْشَلُ بْنُ دَارِمٍ التَّمِيمِي ُّ نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّه ْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا ، مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ فَلْيَصْرِفْهَا بِذَهَبٍ ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ ، فَلْيَصْرِفْهَا بِوَرِقٍ ، وَالصَّرْفُ هَاءٌ وَهَاءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دینار کو دینار کے عوض میں، درہم کو درہم کے عوض میں کسی اضافی ادائیگی کے بغیر لیا اور دیا جائے گا، جس شخص کو چاندی کی ضرورت ہو، وہ اسے سونے کے عوض میں لین دین کرے اور جس شخص کو سونے کی ضرورت ہو، وہ چاندی کے عوض میں لین دین کرے، لیکن یہ لین دین دست بہ دست ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 2881
ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْعَكْبَرِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي خُطْبَتِهِ فِي حَجَّتِهِ : أَلا وَإِنَّ الْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لا يَحِلُّ لَهُ دَمُهُ وَلا شَيْءٌ مِنْ مَالِهِ إِلا بِطِيبِ نَفْسِهِ ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”یاد رکھنا، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، اس کے لیے اپنے بھائی کا خون یا اس کے مال میں سے کوئی بھی چیز حلال نہیں ہے، ماسوائے اس کے جو وہ اپنی پسند کے ساتھ اسے دے دے، خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ نبی نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا۔“
حدیث نمبر: 2882
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، نَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاءَ أَخِيهِ ، إِلا بِطَيْبَةٍ مِنْ نَفْسِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی بھی شخص اپنے بھائی کا ساتھی اس وقت تک نہ بنے، جب تک وہ خود اپنی مرضی سے اسے نہ دے۔“
حدیث نمبر: 2883
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْعَلاءِ الْكَاتِبُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَسَنِ الأَحْوَلِ مَوْلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ حَارِثَةَ الضَّمْرِيُّ ، ذَكَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : لا يَحِلُّ لامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ ، فَقُلْتُ حِينَئِذٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمٍّ لِي فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً ، فَاجْتَزَرْتُهَا أَعَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا فَلا تَمَسَّهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں منی میں حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کسی بھی انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال میں سے کوئی بھی چیز لینا جائز نہیں ہے، ماسوائے اس کے جسے وہ (دوسرا شخص) اپنی پسند کے ساتھ دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس وقت عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں، اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریوں کو اپنے سامنے پاتا ہوں اور ان میں سے ایک بکری لے لیتا ہوں اور ذبح کر لیتا ہوں، تو کیا اس بارے میں مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایک بکری کا سامنا کرتے ہو اور اس وقت تمہارے ہاتھ میں چھری بھی ہے اور ہاتھ پاؤں باندھنے کی چیزیں بھی ہیں، تو بھی تم اس بکری کو ہاتھ نہ لگاؤ۔“
حدیث نمبر: 2884
وَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، نَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ ، قَالَ : " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلا وَلا يَحِلُّ لامْرِئٍ مُسْلِمٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلا بِطَيْبَةِ نَفْسٍ مِنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي ، ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِيهِ : إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ أَرْضٌ بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالْجَارِ أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا أُنَيْسٌ " ، وَهَذَا إِلا أَنَّهُ أُسْقِطَ مِنْهُ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، وَالأَوَّلُ أَصَحُّ.
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”خبردار! کسی بھی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، ماسوائے اس چیز کے، جسے وہ خود اپنی پسند سے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اگر مجھے اپنے چچا زاد کی بکریاں ملتی ہیں۔“ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”اگر تمہیں وہ بکری خبت الحمیش (یہ ایک ویرانہ کا نام ہے) میں ملتی ہے اور اس وقت تم نے چھری اور بکری کو باندھنے کا سامان اٹھایا ہوا ہے، تو بھی تم اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ بات بیان کی گئی ہے کہ (خبت الحمیش) مکہ اور اس کے نواح کے درمیان ایک جگہ ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کوئی آبادی نہیں ہے، اس سند میں راوی نے ابن ابی سعید کا تذکرہ نہیں کیا، تاہم پہلی روایت زیادہ مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2885
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي قُتَيْلَةَ ، نَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلا بِطِيبِ نَفْسِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان شخص کا مال صرف اسی کی مرضی سے لینا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 2886
ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْفَضْلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الزُّبَيْدِيُّ جَارُ الْبَعَرَانِيِّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلا عَنْ طَيِّبِ نَفْسٍ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا ابوحرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان کا مال صرف اسی کی مرضی سے لیا جا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2887
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّيَّاتُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2888
ثنا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرْمَةُ مَالِ الْمُؤْمِنِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مومن کا مال اس کی جان کی طرح قابل احترام ہے۔“