حدیث نمبر: 2835
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، نَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَبِينَ صَلاحُهَا ، أَوْ يُبَاعَ صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ ، أَوْ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل کو فروخت تب کیا جائے، جب تک وہ استعمال کے قابل نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور کی) پشت پر موجود اون کو اور تھن میں موجود دودھ کو اور دودھ میں موجود گھی کو (فروخت کرنے) سے بھی منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2836
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ ، نَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، نَا حبَيْبُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَبْدُوَ صَلاحُهَا وَتَبِينَ ، تَبْيَضَّ أَوْ تَحْمَرَّ ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّبَنِ فِي ضُرُوعِهَا ، وَالصُّوفِ عَلَى ظُهُورِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھلوں کو پک جانے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک یہ بات واضح نہیں ہو جاتی کہ وہ پھل سفید ہو گا یا سرخ ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھن میں موجود دودھ کو فروخت کرنے اور (جانور کی پشت پر موجود) اون کو بھی فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2837
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَكِيلِ ، أنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا قُرَّةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَةٌ حَتَّى يُطْعَمَ ، أَوْ صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ ، أَوْ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ " ، أَرْسَلَهُ وَكِيعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ فَرُّوخَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک وہ کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا، اور آپ نے جانور کی پشت پر موجود اون کو، تھن میں موجود دودھ کو اور دودھ میں موجود گھی کو بھی فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ وکیع نامی راوی نے عمر بن فروخ نامی راوی کے حوالے سے اسے مرسل روایت کے مطابق نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2838
ثنا ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا تَشْتَرُوا اللَّبَنَ فِي ضُرُوعِهَا ، وَلا الصُّوفَ عَلَى ظُهُورِهَا " مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: ”تھن میں موجود دودھ کو فروخت نہ کرو اور جانور کی پشت پر موجود اون کو فروخت نہ کرو۔“ یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 2839
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ ، وَعَنْ شِرَاءِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَةِ حَتَّى تُقْسَمَ ، وَعَنْ شِرَاءِ حُصُولِ الْغَائِصِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں موجود (ان کے بچوں کو) فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک وہ جانور انہیں جنم نہیں دیتے، اور آپ نے مال غنیمت کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اسے تقسیم نہیں کیا جاتا، اور صدقے (کے مال کو) فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اسے تقسیم نہیں کیا جاتا، اور آپ نے غوطہ لگانے کے بعد جو چیز نکلے گی، اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2840
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ الْقَتَّاتُ ، سَمِعَهُ مِنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عکرمہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تھن میں موجود دودھ کو یا دودھ میں موجود گھی کو فروخت کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2841
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَعْرَابِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، نَا شَاذَانُ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ ، قَالَ : إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ حُصُولَ الْغَائِصِ ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الآبِقُ ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ ، وَبَيْعُ مَا يَكُونُ فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ ، وَبَيْعُ تُرَابِ الْمَعَادِنِ ، وَبَيْعُ مَا فِي ضُرُوعِ الأَنْعَامِ إِلا بِكَيْلٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یحییٰ نامی راوی نے بیع غرر کی وضاحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: بیع غرر میں یہ بات شامل ہے کہ غوطہ خور غوطہ لگا کر جو چیز نکال کے لائے گا، اس کا سودا کیا جائے، بیع غرر میں یہ بات شامل ہے کہ بھاگے ہوئے غلام کا سودا کیا جائے، یا بھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کیا جائے، یا جانوروں کے پیٹ میں موجود جو چیز ہے، اس کا سودا کیا جائے، یا معدنیات کے اندر جو کچھ نکلے گا، اس کا سودا کیا جائے، یا جانوروں کے تھنوں میں جو چیز ہے، اس کا سودا کیا جائے، البتہ اگر ماپی ہوئی چیز کا سودا کیا جائے (تو اگر اتنا دودھ نکلے گا، تو سودا ہو گا)، تو ایسا کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2842
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِبُنْدَارٍ ، قَالُوا : نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر اور کنکریوں کی بیع سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2843
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ أَبُو الصَّقْرِ الْوَرَّاقُ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ " غَسِيلِ الْمَلائِكَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ زِنْيَةً " ، رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، فَجَعَلَهُ عَنْ كَعْبٍ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سود کا ایک درہم، جو ایک انسان کھاتا ہے اور جان بوجھ کر کھاتا ہے، یہ اس کے لیے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید ہے (یعنی زیادہ برا ہے)۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم یہ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2844
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : " لأَنْ أَزْنِيَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ زِنْيَةً ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ دِرْهَمًا مِنْ رِبًا ، يَعْلَمُ اللَّهُ تَعَالَى أَنِّي أَكَلْتُهُ أَوْ أَخَذْتُهُ وَهُوَ رِبًا " ، هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْمَرْفُوعِ.
محمد محی الدین
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں تیس مرتبہ زنا کر لوں، یہ میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں سود کا ایک درہم کھاؤں، جس کے بارے میں اللہ کو یہ علم ہو کہ میں نے اسے کھایا ہے، میں نے اسے لیا ہے، وہ سود تھا۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مرفوع روایت کے مقابلے میں یہ روایت زیادہ مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2845
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدِّرْهَمُ رِبًا أَشَدُّ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ زِنْيَةً فِي الْخَطِيئَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں غلطی سے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید گناہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2846
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدٍ أَوْ أَبِي سَعْدٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آزاد شخص کو فروخت کر دیا، جو مفلس ہو گیا تھا۔
حدیث نمبر: 2847
ثنا أَبُو رَوْقٍ الْهَرَّانِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ : بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ بِنَسِيئَةٍ ، فَقُلْتُ لا يَصْلُحُ هَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، فَقَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلا يَصْلُحُ ، وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْلَمَنَا تِجَارَةً ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ مثل ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن مطعم بیان کرتے ہیں: میرے شراکت دار نے کچھ درہم ادھار خریدے، تو میں نے کہا: ”یہ ٹھیک نہیں ہے۔“ تو اس شخص نے کہا: ”میں نے تو یہ بازار میں بیچے ہیں اور کسی شخص نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس بارے میں سیدنا براء بن عازب سے دریافت کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، تو ہم اس طرح کا سودا کر لیا کرتے تھے، تو نبی نے ارشاد فرمایا: ”جو لین دین دست بہ دست ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، جو ادھار کے طور پر ہو، وہ ٹھیک نہیں ہو گا۔“ ”تم سیدنا زید بن ارقم سے مل کر دریافت کرو، کیونکہ تجارت کے مسائل کے بارے میں وہ ہم سب سے زیادہ واقف ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: جب میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی۔
حدیث نمبر: 2848
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : وَكُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلا بَأْسَ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلا يَصْلُحُ " .
محمد محی الدین
شیخ ابومنہال، سیدنا براء اور سیدنا زید بن ارقم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ تجارت کیا کرتے تھے، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا، ارشاد فرمایا: ”اگر وہ دست بہ دست ہو، تو حرج نہیں ہے، ادھار کے طور پر ہو، تو درست نہیں ہے (یعنی دونوں طرف سے درہم یا دینار کا لین دین ہو رہا ہو)۔“
حدیث نمبر: 2849
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " بَعَثَ سَوَادَ بْنَ غَزِيَّةَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَهُ عَلَى خَيْبَرَ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ يَعْنِي الطَّيِّبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ ، قَالَ : لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثَةِ آصُعٍ مِنَ الْجَمْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَفْعَلْ ، وَلَكِنْ بِعْ هَذَا وَاشْتَرِ بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا ، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ " ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ : يُقَالُ : كُلُّ شَيْءٍ مِنَ النَّخْلِ لا يُعْرَفُ اسْمُهُ فَهُوَ جَمْعٌ ، يُقَالُ : مَا أَكْثَرَ الْجَمْعَ فِي أَرْضِ فُلانٍ ، بِفَتْحِ الْجِيمِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سواد بن غزیہ، جو بنی عدی سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر کا نگران مقرر کیا، وہ وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر آتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع اور تین صاع کے عوض میں دو صاع اچھی کھجوریں خریدی ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہ کرو، بلکہ پہلے انہیں فروخت کرو، پھر ان کی قیمت کے ذریعے انہیں (یعنی اچھی کھجوروں کو) خریدو، اسی طرح وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں کرو۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کھجور کی ہر وہ قسم، جس کا کوئی نام متعین نہ ہو، اسے جمع کہا جاتا ہے، جیسے فلاں کی زمین میں جمع (یعنی مختلف قسم کی کھجوریں) ہیں۔
حدیث نمبر: 2850
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ . وَعَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَ، أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ عبدالعزیز بن محمد بن عبدالمجید بن سہیل کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2851
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2852
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الدَّيْنَوَرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَمَذَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2853
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا وُزِنَ مثل بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا ، وَمَا كَيْلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلا بَأْسَ بِهِ " ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ هَكَذَا . وَخَالَفَهُ جَمَاعَةٌ فَرَوَوْهُ عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عُبَادَةَ ، وَأَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِلَفْظٍ غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ چیز، جس کا وزن کیا جاتا ہے، برابر برابر ہونی چاہیے، جب ان دونوں کی قسم ایک ہو، اور جب کسی چیز کو پایا جاتا ہے، وہ بھی اسی طرح ہونی چاہیے، لیکن جب دونوں طرف سے قسمیں مختلف ہوں، تو پھر ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ یہی روایت دیگر اسناد کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2854
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، قَالَ قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنِي صَالِحٌ أَبُو الْخَلِيلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ إِلا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا وَزْنًا تِبْرَهُ وَعَيْنَهُ ، وَذَكَرَ الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ ، وَلا بَأْسَ بِالشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ ، فَمَا زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبِي فَاسْتَحْسَنَهُ.
محمد محی الدین
شیخ ابواشعث بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں: ”سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، اور چاندی کو چاندی کے عوض میں کیا جائے، البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ اپنی اصلی شکل میں ہوں یا سکے کی شکل میں، پھر انہوں نے جو کے عوض میں جو فروخت کرنے کا، گندم کے عوض گندم اور کھجور کے عوض میں کھجور، نمک کے عوض میں نمک فروخت کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ بات بتائی کہ گندم کے عوض میں جو کا سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ دست بہ دست ہو اور اس میں جو زیادہ ہو، لیکن یہ لین دین دست بہ دست ہونا چاہیے، اس کے علاوہ صورتوں میں جو زیادہ وہ دے گا یا لے گا، وہ سود کا کام کرے گا۔“ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ حدیث سنائی، تو انہوں نے اسے مستحسن قرار دیا۔
حدیث نمبر: 2855
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلا شَهَادَةَ بَيْنَهُمَا اسْتُحْلِفَ الْبَايِعُ ، ثُمَّ كَانَ الْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جب فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے اور ان دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، تو فروخت کرنے والے سے حلف لیا جائے گا، پھر خریدار کی مرضی ہے، چاہے تو اسے سودا کرے، چاہے تو ترک کر دے۔“
حدیث نمبر: 2856
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : " حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً ، فَقَالَ هَذَا : أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ الآخَرُ : بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي مثل هَذَا فَقَالَ : حَضَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ مثل هَذَا فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ، ثُمَّ يَخْتَارُ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
محمد محی الدین
عبدالملک بن عبیدہ بیان کرتے ہیں: میں ابوعبیدہ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے ایک چیز کا سودا کیا، انہوں نے کہا: ”میں نے یہ چیز اتنے عوض میں لی ہے۔“ دوسرے نے کہا: ”میں نے اتنے عوض میں فروخت کی ہے۔“ تو سیدنا ابوعبیدہ نے کہا: اسی طرح کی صورت حال سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوئی تھی، تو انہوں نے بتایا تھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب اس طرح کا معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کرنے والے کے بارے میں یہ ہدایت کی تھی: ”اس سے حلف لیا جائے، پھر اس کے بعد خریدار کو اختیار ہو گا، چاہے تو فروخت کرنے والے کے بیان کے مطابق اس چیز کو حاصل کرے اور اگر چاہے، تو اسے ترک کر دے۔“
حدیث نمبر: 2857
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، قَالا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَال : " حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاهُ رَجُلانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً ، فَقَالَ : هَذَا أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ هَذَا : بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مثل هَذَا ، فَقَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مثل هَذَا ، فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ، ثُمَّ يُخَيَّرُ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ : إِنِّي أُخْبِرْتُ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ فِي الْبَيِّعَيْنِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ الأَعْوَرُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ.
محمد محی الدین
عبدالملک بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود کے صاحبزادے ابوعبیدہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے کسی چیز کا سودا کیا تھا، ایک بولا: ”میں نے یہ چیز اتنے عوض میں حاصل کی ہے۔“ دوسرا بولا: ”میں نے یہ چیز اتنے کے عوض میں فروخت کی ہے۔“ تو سیدنا ابوعبیدہ نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تھا، انہوں نے یہ بات بتائی تھی: میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ کے سامنے اس طرح کا مقدمہ پیش کیا گیا تھا، تو آپ نے فروخت کرنے والے کے بارے میں یہ حکم دیا تھا: ”وہ قسم اٹھائے، پھر اس کے بعد خریدار کو یہ اختیار دیا جائے گا، چاہے وہ اس سے لے، چاہے تو ترک کر دے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی موجود ہے۔
حدیث نمبر: 2858
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ فِي ثَمَنِهِمْ ، قَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، فَقَالَ الأَشْعَثُ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَتْ بَيِّنَةٌ ، فَهُوَ مَا قَالَ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ " ،.
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن قیس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ پیغام نقل کرتے ہیں: سیدنا اشعث بن قیس نے خمس کے غلاموں میں ایک غلام بیس ہزار درہم میں سیدنا عبداللہ سے خرید لیا، سیدنا عبداللہ نے اس کی قیمت کے بارے میں یہ پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے تو یہ دس ہزار درہم کے عوض لیا ہے۔“ تو عبداللہ نے کہا: ”آپ کسی ایسے شخص کا نام لیں، جو آپ میں اور مجھ میں فیصلہ کر سکے۔“ تو سیدنا اشعث نے کہا: ”میرے اور آپ کے درمیان آپ ہی فیصلہ کریں گے۔“ تو سیدنا عبداللہ نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب سودا کرنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے اور ان میں کوئی ثبوت نہ ہو، تو وہ قول معتبر ہو گا، جو سامان کے مالک کا ہے، یا دونوں اس سودے کو ترک کر دیں۔“
حدیث نمبر: 2859
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَالأَشْعَثِ ، مثل هَذَا سَوَاءٌ ، وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ موقوف حدیث کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2860
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن أَبِيه ، قَالَ : بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الإِمَارَةِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، يَعْنِي مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ فَجَاءَ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، قَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ وَإِنِّي أَرْضَى فِي ذَلِكَ بِرَأْيِكَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بَيْعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا شُهُودٌ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ : قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیس ہزار کے عوض میں ایک سرکاری غلام کو فروخت کر دیا، یعنی سیدنا اشعث بن قیس کو، وہ دس ہزار لے کر آئے، تو سیدنا عبداللہ نے کہا: ”میں نے تو بیس ہزار کے عوض آپ کو فروخت کیا تھا۔“ تو اشعث نے کہا: ”میں نے یہ دس ہزار کے عوض کیا ہے، میں اس بارے میں آپ کے فیصلہ سے راضی ہوں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ایک حدیث تمہیں سناتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ ابن مسعود نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب دو آدمی سودا کرتے ہیں اور دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، تو اس بارے میں وہ قول معتبر ہوتا ہے، جو فروخت کرنے والا کہتا ہے، پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کر دیں۔“ تو سیدنا اشعث نے کہا: ”میں اس سودے کو ختم کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2861
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي طَاهِرٌ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، فَإِذَا اسْتَهْلَكَ ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُشْتَرِي " ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب سودا کرنے والے دونوں فریقوں میں اختلاف ہو جائے، تو فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا، لیکن اگر وہ چیز ضائع ہو چکی ہے، تو اس بارے میں خریدار کا قول معتبر ہو گا۔“ اس روایت کا راوی حسن بن عمارہ متروک ہے۔
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَايِعَانِ فِي الْبَيْعِ وَالسِّلْعَةِ كَمَا هِيَ لَمْ تُسْتَهْلَكْ ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ،.
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سودا کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان سودے کے بارے میں اختلاف ہو جائے اور سامان اسی صورت میں موجود ہو، ہلاک نہ ہوا ہو، تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا، یا پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 2863
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نَا الْمُغِيرَةُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2864
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2864M
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ مُسْتَهْلَكٌ ، كَانَ الْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " ، تَفَرَّدَ بِهَذَا اللَّفْظِ أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي ، عَنْ هِشَامٍ.
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سودا کرنے والے دو فریقوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان ضائع ہو چکا ہو، تو اب خریدار کو یہ اختیار ہو گا کہ اگر وہ چاہے، تو اسے لے، چاہے تو اسے ترک کر دے۔“ اس روایت کو ان الفاظ میں نقل کرنے میں ابواحوص نامی راوی منفرد ہیں، جنہوں نے ہشام کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2865
وَنا أَبُو الْقَاسِمِ بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُسَبِّحٍ الْجَمَالُ ، نَا عِصْمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ مُسْتَهْلَكٌ ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ " ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب سودا کرنے والے دونوں آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان ضائع ہو چکا ہو، تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا۔“ انہوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 2866
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الأَشْعَثِ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، وَقَالَ الأَشْعَثُ : اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَاتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ : أَرَى أَنْ تُرَدَّ الْبَيْعُ.
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث کو ایک سرکاری غلام فروخت کیا، ان دونوں کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، سیدنا عبداللہ نے کہا: ”میں نے یہ بیس ہزار کے عوض میں آپ کو فروخت کیا ہے۔“ سیدنا اشعث نے کہا: ”میں نے اسے آپ سے دس ہزار کے عوض خریدا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا کہ: ”اگر آپ چاہیں، تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ تو سیدنا اشعث نے کہا: ”سنائیے۔“ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب سودا کرنے والے دو فریقوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اور ان دونوں فریقوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا، یا پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کر دیں گے۔“ تو سیدنا اشعث نے کہا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اس سودے کو ختم کر دیں۔“
حدیث نمبر: 2867
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَمِّي . ح وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حِمْلَ خَبَطٍ ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْتَرْ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا " ، وَقَالَ أَحْمَدُ : فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ : عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا ، قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ : مَعْنَى قَوْلُ الْعَرَبِ : عَمَرَكَ بِفَتْحِ الرَّاءِ : سَأَلْتُ اللَّهَ تَعْمِيرَكَ ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا۔ جب سودا طے کیا گیا، تو نبی نے اس سے فرمایا: ”تمہیں اختیار ہے (کہ اگر تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔“ تو اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو مبارک کرے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو آباد کرے۔ علم لغت کے ماہرین نے کہا ہے: روایت میں استعمال ہونے والے لفظ ”عمرک اللہ“ کا مطلب یہ ہے: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آباد رکھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2868
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا الْمُعَافَى ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، حِمْلَ خَبَطٍ ، فَلَمَّا وَجَبَ لَهُ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْتَرْ ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ : إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مِثْلَهُ بَيْعًا عَمَرَكَ اللَّهُ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : مِنْ قُرَيْشٍ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کوئی چیز خریدی، میرا خیال ہے اس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا، جب سودا طے ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اختیار کر لو (یعنی تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔“ تو دیہاتی نے کہا: ”میں نے آج تک ایسی سودا نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ آپ کے سودے کو آباد رکھے! آپ کا کون سے قبیلہ سے تعلق ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش سے ہے۔“
حدیث نمبر: 2869
ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَكَمًا مِنْ خَبَطٍ مِنْ أَعْرَابِيٍّ ، فَخَيَّرَهُ بَعْدَ الْبَيْعِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہے، تو اس سودے کو ختم کر سکتا ہے۔ راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 2870
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى بِكْرٍ صَعْبٍ لأَبِيهِ ، فَكَانَ يَغْلِبُهُ حَتَّى يَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيحَ بِهِ عُمَرُ ، وَيَغْلِبُهُ الْبِكْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ يَا عُمَرُ ، فَاشْتَرَاهُ ، فَدَعَا ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبَّادٍ.
محمد محی الدین
عمرو نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک ایسے اونٹ پر سوار تھے، جو قابومیں نہیں آتا تھا، وہ ان کی والدہ کی ملکیت تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر اس پر قابونہیں پا سکے، وہ اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ سے آگے نکل گیا، بعد میں انہیں جھڑکا، لیکن وہ اونٹ ان کے قابومیں نہیں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! مجھے فروخت کر دو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا: ”یہ تمہارا ہوا، اب تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن عباد نامی راوی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 2871
نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ الْبُنْدَارُ حَبْشُونَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَاتَبْتُ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ كُلَّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لا وَلَكِنْ إِنْ شِئْتِ عَدَدْتُ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَجَاءَتْ عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَّتْهَا بِمَا قَالَتْ لَهُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لا إِذَنْ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا ، فَقُلْتُ : لا ، إِنْ يَشَاءُ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ ، فَإِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، تَعْلَمُنَّ بِأَنَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنَّ الشَّرْطَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُونَ : اعْتِقْ فُلانًا وَالْوَلاءُ لِي ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، قَالَتْ : وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ نے اپنے لیے نو اوقیہ کی ہر سال ادائیگی کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں، تاکہ ان سے اس بارے میں مدد لیں، تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”نہیں، اگر تم چاہو، تو میں ساری ادائیگی ایک ہی مرتبہ کر دوں گی، البتہ تمہاری ولاء کا حق میرے پاس ہو گا۔“ بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی، ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو ان لوگوں نے اس بات سے انکار کر دیا اور کہا کہ ولاء کا حق ان کے پاس ہی رہے گا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں، اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو بریرہ نے سیدہ عائشہ کو ہلکی آواز میں ساری بات بتائی، جو اس نے اپنے مالکان سے کہی تھی (اور جو جواب انہوں نے دیا تھا)، تو سیدہ عائشہ نے یہی کہا: ”نہیں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا (تو میں اس معاملے کے لیے تیار ہوں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا معاملہ ہے؟“ تو سیدہ عائشہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! بریرہ میرے پاس آئی تھی، تاکہ اپنے کتابت کے معاہدے کے بارے میں مجھ سے مدد لے، تو میں نے یہ کہا کہ اگر مالکان چاہیں، تو میں انہیں ساری ادائیگی ایک ساتھ کر دوں اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، وہ اپنے مالکان کے پاس گئی، تو انہوں نے جواب دیا: نہیں، ولاء کا حق ہمارے پاس ہی رہے گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے خرید کر اسے آزاد کر دو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے، جو آزاد کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: تو میں نے اسے خرید کر آزاد کر دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کر دیتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب نہیں دیتی، یہ بات جان لو کہ جو شخص کسی ایسی شرط عائد کرے، جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں، وہ شرط باطل شمار ہو گی، اگرچہ سو مرتبہ کیوں نہ عائد کی گئی ہو، اللہ کا فیصلہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے اور اللہ نے جس شرط کی اجازت دی ہے، وہ شرط زیادہ مضبوط ہو گی، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، ولاء کا حق اسی شخص کو ہے، جو آزاد کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار نہ دیتے۔
حدیث نمبر: 2872
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَوَّانٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي كُنْتُ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، وَإِنَّ ابْنَهُ وَامْرَأَتَهُ بَاعُونِي وَاشْتَرَطُوا وَلائِي ، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا ؟ ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، دَخَلَتْ عَلَى بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ ، فَقَالَتِ : اشْتَرِينِي ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَهْلِي لا يَبِيعُونَنِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلائِي ، قُلْتُ : لا حَاجَةَ لِي فِيكِ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ ، فَقَالَ : وَمَا قَالَتْ بَرِيرَةُ ؟ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا ، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَلَوِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ " .
محمد محی الدین
عبدالواحد بن ایمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: ”اے ام المؤمنین! میں عتبہ بن ابولہب کے پاس موجود تھا (یعنی ان کا غلام تھا)، اس کے بیٹے اور اس کی بیوی نے مجھے فروخت کر دیا اور میری ولاء کی شرط عائد کی، تو میں کسی کا آزاد کردہ غلام شمار ہوں گا؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! بریرہ میرے پاس آئی، اس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا، اس نے کہا: آپ مجھے خرید لیں، میں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے کہا: میرے مالکان مجھے اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے، جب تک وہ میرے ولاء کی شرط عائد نہ کریں، تو میں نے کہا: پھر تو مجھے تمہارے بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی یا آپ کو اطلاع دی گئی، تو آپ نے دریافت کیا: ”بریرہ کیا کہہ رہی ہے؟“ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو اور ان لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو، وہ جو چاہیں شرطیں[1] عائد کرتے پھریں۔“ (سیدہ عائشہ فرماتی ہیں) تو میں نے اسے خرید کر اسے آزاد کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے، خواہ (دوسرے فریق کے لوگ) سو شرائط عائد کریں۔“
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو قِلابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَجْلانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ الْمَدَنِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ لِبَشِيرٍ الصَّغِيرِ مَقْعَدٌ لا يَكَادُ يُخْطِئُهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَقَدَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا عَادَ إِلَى مَقْعَدِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَشِيرُ لَمْ أَرَكَ مُنْذُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي ابْتَعْتُ بَعِيرًا مِنْ فُلانٍ فَمَكَثَ عِنْدِي ثُمَّ شَرَدَ ، فَجِئْتُ بِهِ فَدَفَعْتُهُ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَبِلَهُ مِنِّي ، قَالَ : فَكَانَ شَرَطَ لَكَ ذَاكَ ؟ ، قَالَ : لا وَلَكِنْ قَبِلَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الشُّرُودَ يُرَدُّ مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بشیر صغیر کے بیٹھنے کی ایک مخصوص جگہ تھی، جہاں وہ باقاعدگی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک انہیں ملاحظہ نہیں فرمایا، جب وہ تین دن کے بعد وہ اپنی مخصوص جگہ پر آئے، تو نبی نے ان سے دریافت کیا: ”اے بشیر! میں نے تمہیں پچھلے تین دن سے دیکھا نہیں ہے۔“ تو انہوں نے عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے فلاں شخص سے اونٹ خریدا تھا، وہ میرے پاس رہا اور اس کے بعد وہ سرکش ہو کر بھاگ گیا، میں اس کے پیچھے گیا (اسے پکڑ کے لا کر) اسے اس کے مالک کے سپرد کر دیا، تو اس نے وہ مجھ سے لے لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئی شرط طے کی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، اس نے ویسے ہی اسے لے لیا ہے۔“ تو نبی نے ان سے فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ سرکش جانور اسی بنیاد پر واپس کیے جاتے ہیں؟“
…