حدیث نمبر: 2796
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، وَجَدِّي ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مُغْلَفَةٌ بِذَهَبٍ ، فَابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا " ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ ، فَقَالَ : لا ، رُدَّ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار لایا گیا، جس پر سونا چڑھا ہوا تھا اور قیمتی پتھر بھی لگے ہوئے تھے، ایک شخص نے سات یا شاید نو دینار کے عوض خرید لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، جب تک ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔“ تو وہ شخص بولا: ”میں پھر پتھر لے لوں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، تم اسے واپس کرو، جب تک ان دونوں (یعنی پتھر اور سونے) کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔“
حدیث نمبر: 2797
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِلادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ ، فَأَمَرَ بِالذَّهَبِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ، وَقَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار لایا گیا، جس پر سونا اور پتھر لگے ہوئے تھے، تو آپ کے حکم کے تحت سونے اور پتھر کو اتار لیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”سونے اور سونے کے عوض میں برابر وزن کے ساتھ فروخت کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 2798
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الزَّيَّاتِ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِمُونَ فِي الثِّمَارِ ، فَقَالَ : " أَسْلَمُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " ، وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثِ ، فَقَالَ : سَلِّفُوا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ پھلوں میں بیع سلم کیا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”طے شدہ مقدار کے عوض میں متعین مدت کے پھلوں میں بیع سلم کیا کرو۔“ ابن مہدی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: لوگ دو یا تین سال تک بیع سلم کیا کرتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”متعین شدہ پیمائش اور وزن کے عوض میں سلف کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 2799
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ، وَأَجَلٍ مَعْلُومٍ " ، لَفْظُ النَّيْسَابُورِيِّ ، فَقَالَ الْمَحَامِلِيُّ : فِي الطَّعَامِ وَالتَّمْرِ أَوِ النَّخْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، وَكَيْلٍ مَعْلُومٍ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ ایک سال یا دو سال کے لیے بیع سلف کیا کرتے تھے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے سلف (ادھار) سودا کرنا ہو، تو وہ متعین پیمائش اور متعین وزن کے عوض میں متعین مدت کے لیے سودا کرے۔“ روایت کے یہ الفاظ نیشاپوری نامی راوی کے ہیں، محالی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ اناج، کھجور یا کھجور کے درختوں کے بارے میں بیع سلف کیا کرتے تھے، تو نبی نے ارشاد فرمایا: ”متعین مدت کے لیے کرو اور ماپی ہوئی چیز کی بیع کرو۔“
حدیث نمبر: 2800
ثنا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ الأَهْوَازِيُّ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَثِيرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثَ ، فَقَالُ : مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، أَوْ وَزْنٍ مَعْلُومٍ ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ دو سال یا تین سال کے لیے کھجوروں کا ادھار سودا کیا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے ادھار سودا کرنا ہو، تو وہ متعین شدہ ماپی ہوئی چیز، متعین شدہ وزن کی ہوئی چیز کے عوض میں متعین مدت تک کے لیے ادھار کرے۔“
حدیث نمبر: 2801
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِيُّ أَبُو طَلْحَةَ ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو هِشَامٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ ایک سال یا دو سال تک کے لیے ادھار سودا کیا کرتے تھے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کھجوروں کا ادھار سودا کرنا ہو، متعین ماپی ہوئی یا متعین وزن کی ہوئی چیز کا ادھار سودا کرے۔“
حدیث نمبر: 2802
ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْقُدُّوسِ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ فِي السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلِفُوا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ، وَأَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ دو سال یا تین سال تک کے لیے پھلوں کا ادھار سودا کیا کرتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”متعین ماپی ہوئی اور متعین وزن کی ہوئی چیز کا متعین مدت تک کے لیے ادھار سودا کرو۔“
حدیث نمبر: 2803
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهْ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ ، إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ " ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : هَذَا مُرْسَلٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
مکحول مرفوع حدیث کے طور پر یہ روایت نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کوئی ایسی چیز خریدتا ہے، جسے اس نے دیکھا نہیں ہے، تو اسے اختیار ہے، جب وہ اسے دیکھ لے گا، تو اگر چاہے اسے وصول کرے اور اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔“ ابوالحسن (یعنی دارقطنی) فرماتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے اور اس کا راوی ابوبکر مریم ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2803M
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا سَعِيدٌ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، مِثْلَهُ سَوَاءٌ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2804
قَالَ هُشَيْمٌ : وَأَنَا يُونُسُ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى مَا وَصَفَهُ لَهُ فَقَدْ لَزِمَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ابن سیرین بیان کرتے ہیں: جب وہ چیز اس وقت کے مطابق نہ ہو، جو اس شخص نے خریدار کے سامنے بیان کی تھی، تو بھی یہ سودا لازم ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 2805
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَادَ الْقَاضِي الأَهْوَازِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانَ ، نَا دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا وَهْبٌ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ " ، قَالَ عُمَرُ : وَأَخْبَرَنِي فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ عُمَرُ : وَأَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يُقَالُ لَهُ : الْكُرْدِيُّ يَضَعُ الأَحَادِيثَ ، وَهَذَا بَاطِلٌ لا يَصِحُّ لَمْ يَرْوِهَا غَيْرُهُ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ سِيرِينَ مَوْقُوفًا مِنْ قَوْلِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص ایسی چیز خریدتا ہے، جسے اس نے دیکھا نہیں ہے، تو جب اسے دیکھے گا، تو اسے اختیار ہو گا (اگر وہ چاہے، تو اس سودے کو ختم کر دے)۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جبکہ بعض راویوں نے اسے ابن سیرین تک موقوف روایت کے طور پر، یعنی ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2806
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ التِّنِّيسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، نَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اشْتَرَى بَيْعًا فَوَجَبَ لَهُ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ صَاحِبُهُ ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ فَارَقَهُ فَلا خِيَارَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز خریدتا ہے، تو وہ لینا اس کے لیے لازم ہو جائے گا اور اسے اس وقت تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہو گا، جب تک اس کا ساتھی اس سے جدا نہیں ہو جاتا، اگر وہ چاہے، تو اس چیز کو وصول کرے اور اگر چاہے، تو اس ساتھی سے جدا ہو جائے، پھر اسے اختیار باقی نہیں رہے گا۔“
حدیث نمبر: 2807
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا اللَّيْثُ ، أَنَّ نَافِعًا ، حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَيَتَبَايَعَانِ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب دو آدمی سودا کر لیتے ہیں، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہو گا، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور ایک ساتھ رہتے ہیں یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار نہیں دے دیتا، جب وہ دونوں اس صورت میں سودا کر لیں گے، تو سودا لازم ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2808
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ فِي الْبَيِّعَيْنِ . تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے، تاہم یہ دو سودوں کے بارے میں ہیں اور اس کو نقل کرنے میں ابن وہب نامی راوی منفرد ہیں۔
حدیث نمبر: 2809
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَاضِي ، نَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ فِي عَسْكَرٍ فَأَتَى رَجُلٌ مَعَهُ فَرَسٌ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا : أَتَبِيعُ هَذَا الْفَرَسَ بِهَذَا الْغُلامِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَاعَهُ ثُمَّ بَاتَ مَعَنَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَامَ إِلَى فَرَسِهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُنَا : مَا لَكَ وَلِلْفَرَسِ ؟ أَلَيْسَ قَدْ بِعْتَنِيهَا ؟ ، قَالَ : مَا لِي فِي هَذَا الْبَيْعِ مِنْ حَاجَةٍ ، قَالَ : مَا لَكَ ذَلِكَ ، لَقَدْ بِعْتَنِي ، فَقَالَ لَهُمَا الْقَوْمُ : هَذَا أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَاهُ ، قَالَ لَهُمَا : " أَتَرْضَيَانِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالا : نَعَمْ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَإِنِّي لأَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا " ،.
محمد محی الدین
شیخ ابووصی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنگی مہم میں شریک تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس کے ساتھ اس کا گھوڑا بھی تھا، ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ”کیا تم یہ گھوڑا اس غلام کے عوض میں اسے فروخت کرو گے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر اس نے اس کو فروخت کر دیا، پھر وہ رات ہمارے ساتھ رہا، تو جب صبح ہوئی، تو وہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھا، تو ہمارے ساتھی نے اسے کہا: ”تمہارا اس گھوڑے کے ساتھ کیا تعلق ہے، کیا تم نے یہ مجھے فروخت نہیں کر دیا ہے؟“ تو وہ شخص بولا: ”مجھے اس سودے کی ضرورت نہیں ہے۔“ تو ہمارے ساتھی نے کہا: ”اب تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، تم اسے مجھے فروخت کر چکے ہو۔“ وہاں موجود لوگوں نے ان دونوں سے کہا: ”یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبردہ موجود ہیں۔“ وہ دونوں لوگ ان کے پاس آئے، تو سیدنا ابوبرزہ نے ان دونوں سے کہا: ”کیا تم اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سودا کرنے والوں کو سودا ختم کرنے اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے۔“ اور تم دونوں کے بارے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔
حدیث نمبر: 2810
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : كُنَّا فِي بَعْضِ مَغَازِينَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا ، فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ عَلَى فَرَسِهِ فَسَاوَمَهُ صَاحِبٌ لَنَا بِفَرَسِهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
شیخ ابووصی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنگ میں شریک تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، لشکر کی جانب سے ایک شخص ہمارے پاس آیا اور وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، اس نے ہمارے ایک ساتھی کے ساتھ اپنے گھوڑے کا سودا کیا۔ اس کے بعد راوی نے سیدنا ابوبرزہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 2811
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " كُنَّا إِذَا تَبَايَعْنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقِ الْمُتَبَايِعَانِ ، قَالَ : فَتَبَايَعْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ ، فَبِعْتُهُ مَا لِي بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ ، قَالَ فَلَمَّا بِعْتُهُ طَفِقْتُ أَنْكُصُ الْقَهْقَرَى خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي عُثْمَانُ الْبَيْعَ قَبْلَ أَنْ أُفَارِقَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم آپس میں کوئی سودا کیا کرتے تھے، تو دونوں فریقوں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا تھا، جب تک سودا کرنے والے دونوں فریق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے اور سیدنا عثمان نے ایک سودا کیا، میں نے اپنی زمین، جو وادی میں موجود تھی، وہ ان کی زمین، جو خیبر میں موجود تھی، فروخت کر دی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب میں نے انہیں وہ فروخت کر دی، تو اس کے بعد میں الٹے قدم تیزی سے واپس ہوا، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میرے ان سے جدا ہونے سے پہلے سیدنا عثمان اس سودے کو ختم نہ کر دیں۔
حدیث نمبر: 2812
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا : نَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَقَالَ الْفَضْلُ : " مَعَ النَّبِيِّينَ ، وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سچا امانت دار تاجر شہدا کے ساتھ ہو گا۔“ فضل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2813
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَفْصِ بْنِ شَاهِينَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ ، وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2814
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، نَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، نَا أَبِي ، نَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ الرَّبَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَمَنُ الْخَمْرِ حَرَامٌ ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ حَرَامٌ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ حَرَامٌ ، وَإِنْ أَتَاكَ صَاحِبُ الْكَلْبِ يَلْتَمِسُ ثَمَنَهُ فَامْلأْ يَدَيْهِ تُرَابًا ، وَالْكُوبَةُ حَرَامٌ ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ حَرَامٌ ، وَالْخَمْرُ حَرَامٌ ، وَالْمَيْسِرُ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ روایت نقل کرتے ہیں: ”شراب کی قیمت حرام ہے، فاحشہ عورت کی کمائی حرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، اگر کتے کا مالک تمہارے پاس آئے اور اپنے کتے کی قیمت کا طلب گار ہو، تو تم اس کے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو اور اگر کتے کا مالک تمہارے پاس آئے اور اپنے کتے کی قیمت مانگے، تو اس کے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو، چوسر حرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، جو احرام ہے، کتے کی قیمت حرام ہے، نشہ آور چیز حرام ہے، شراب حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 2815
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا حَرَّمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو حرام قرار دے دیتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس چیز کی قیمت کو بھی حرام قرار دے دیا۔“
حدیث نمبر: 2816
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا ، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا ، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”بیشک اللہ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، خنزیر اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2817
ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، نَا شَبَابَةُ ، نَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لا يَحِلُّ ثَمَنُ شَيْءٍ ، لا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَشُرْبُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی ایسی چیز کی قیمت لینا جائز نہیں ہے، جس کو کھانا پینا جائز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2818
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ، قَالُوا : نَا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُنْقِذٍ مَوْلَى سُرَاقَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعُثْمَانَ : " إِذَا ابْتَعْتَ فَاكْتَلْ ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان سے فرمایا: ”جب تم کوئی چیز خریدو، تو اسے ماپ لو اور جب فروخت کرو، تو اسے ماپ کر دو۔“
حدیث نمبر: 2819
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالُوا : نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ ، صَاعُ الْبَائِعِ ، وَصَاعُ الْمُشْتَرِي " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ نے اناج کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اس کو دو طرف سے ماپ لیا جائے، فروخت کرنے والے کی طرف سے اور خریدنے والے کی طرف سے۔
حدیث نمبر: 2820
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِصْمَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي هَذِهِ الْبُيُوعَ فَمَا تُحِلُّ لِي مِنْهَا ، وَمَا تُحَرِّمُ عَلِيَّ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے رسول اللہ سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں خرید و فروخت کرتا ہوں، تو کون سا کام میرے لیے حلال ہے اور کون سا کام میرے لیے حرام ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بھتیجے! تم کوئی چیز خریدو اور اسے اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک اس پر تمہارا اپنا قبضہ نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 2821
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ ، قَالا : نَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، نَا أَبَانُ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، ثُمَّ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : " فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور صحابی سے منقول ہے: ”جب کوئی چیز تولو، اس کو اس وقت تک آگے فروخت نہ کرو، جب تک ماپ نہ لو۔“
حدیث نمبر: 2822
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا هَمَّامٌ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، نَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِصْمَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " إِذَا بِعْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کوئی چیز خریدو اور اسے تب تک آگے فروخت نہ کرو، جب تک تم اس کا ماپ نہ لے لو۔“
حدیث نمبر: 2823
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالا : نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً ، فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ فَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ ، ثُمَّ أَشْتَرِي أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَأُضْحِيَّةٍ ، فَتَصَدَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّينَارِ ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ نے ایک دن ان کو ایک دینار عطا کیا اور فرمایا: ”اس سے قربانی کا جانور خرید لو۔“ تو انہوں نے ایک دینار کے عوض میں قربانی کا جانور خرید لیا، جب اسے دو دینار قیمت میں فروخت کر دیا، پھر ایک دینار کے عوض میں قربانی کا جانور خرید لیا، وہ پھر ایک دینار اور قربانی کا جانور لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی نے اس ایک دینار کو صدقہ کر دیا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔
حدیث نمبر: 2824
ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَقِيَ جَلْبًا فَأَعْطَاهُ دِينَارًا ، فَقَالَ : اشْتَرِ لَنَا شَاةً ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَبَاعَهُ شَاةً بِدِينَارٍ ، قَالَ : فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ فِي صَفْقَةِ يَمِينِكَ ، قَالَ : فَإِنْ كُنْتُ لأَقُومُ بِالْكُنَاسَةِ فَمَا أَبْرَحُ حَتَّى أَرْبَحَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا " .
محمد محی الدین
عروہ بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوداگروں کے قافلے کے بارے میں پتا چلا، تو انہوں نے ایک صحابی کو ایک دینار دیا اور حکم دیا: ”اس سے میرے لیے ایک بکری کو خرید کر لاؤ۔“ تو وہ چلے گئے اور ایک دینار کے عوض میں دو بکریاں خرید لائے، پھر ان کو ایک شخص ملا، تو انہوں نے ایک دینار کے بدلے میں ان سے ایک بکری خرید لی، راوی کہتے ہیں: وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے، تو نبی نے فرمایا: ”اللہ تمہارے سودے میں برکت ڈالے۔“ راوی کہتے ہیں: (یہ صورت حال ہوتی کہ) میں کوفہ کے ایک بازار میں کھڑا ہوتا تھا اور چالیس ہزار تک کما لیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 2825
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : " عُرِضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلْبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا ، وَقَالَ : " أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً بِهَذَا الدِّينَارِ، فَأَتَيْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ فَاشْتَرَيْتُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا ، أَوْ قَالَ : أَقُودُهُمَا ، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَسَاوَمَنِي فَبِعْتُ إِحْدَى الشَّاتَيْنِ بِدِينَارٍ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَبِدِينَارٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الشَّاةُ وَهَذَا دِينَارُكُمْ ، فَقَالَ : صَنَعْتَ كَيْفَ ؟ ، فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ فِي كُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي " .
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوداگروں کے قافلے کے بارے میں پتہ چلا، تو آپ نے مجھے ایک دینار دیا، آپ نے فرمایا: ”اے عروہ! ان سوداگروں کے پاس جاؤ اور ان سے ایک دینار کی قیمت میں ایک بکری لے آؤ۔“ راوی کہتے ہیں: میں ان سوداگروں کے پاس گیا اور ایک دینار کے عوض میں دو بکریاں خرید لیں، پھر میں انہیں ہانک کر لا رہا تھا، تو راستے میں ایک شخص مجھے ملا، اس نے مجھ سے سودا کیا، تو میں ان دو میں سے ایک بکری کو ایک دینار میں فروخت کر دیا، پھر میں ایک بکری اور ایک دینار لے آیا اور رسول اللہ کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! یہ آپ کی بکری ہے اور یہ آپ کا دینار ہے۔“ تو نبی نے دریافت کیا: ”تم نے یہ کیا کیا ہے؟“ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنا دیا، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! اس کے سودے میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے، میں کوفہ کے بازار میں کھڑا ہوتا اور اپنے گھر میں واپس آنے سے پہلے چالیس ہزار کما لیتا تھا۔
حدیث نمبر: 2826
ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً مِنْ حِفْظِهِ ، نَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ أَبُو يَحْيَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ ، وَلا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزایدہ سے منع کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کوئی بھی اپنے بھائی کے سودے سے سودا نہ کرے، البتہ مال غنیمت اور وراثت میں ایسا کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2827
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ كَانَ تَاجِرًا ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " عَنْ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ " ،.
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا، ان کا نام شہر تھا، وہ تاجر تھا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، جب تک کوئی دوسرا شخص اسے چھوڑ نہ دے، البتہ مال غنیمت کا اور وراثت کا حکم مختلف ہے۔“
حدیث نمبر: 2828
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الرَّزَّازُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا الْوَاقِدِيُّ ، نَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2829
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " ابْتَعْتُ زَيْتًا بِالسُّوقِ فَقَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَأَرْبَحَنِي حَتَّى رَضِيتُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَخَذْتُ بِيَدِهِ لأَضْرِبَ عَلَيْهَا أَخَذَنِي بِذِرَاعِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي فَأَمْسَكَ يَدَيَّ ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : لا تَبِعْهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى بَيْتِكَ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بازار میں زیتون کا تیل خریدا، ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھے زیادہ منافع دینے کا کہا، اتنا جس سے میں راضی ہو گیا، جب میں نے سودا کرنے کے لیے اس کے ہاتھ کو تھامنا چاہا، تو ایک شخص نے پیچھے سے میرے بازو کو پکڑ لیا اور ہاتھ تھام لیا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: ”تم اسے فروخت مت کرو، جب تک تم اسے اپنے گھر نہیں لے جاتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2830
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا الْوَاقِدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2831
ثنا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : " لا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى تَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بازار سے زیتون کا تیل خریدا، جب میں نے سودا پکا کر لیا، تو ایک شخص مجھ سے ملا، اس نے مجھے زیادہ منافع دینے کی پیش کش کی، میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارنے کا ارادہ کیا، تو پیچھے سے کسی نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: ”تم اسے اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک تم اسے خرید کر اپنی جگہ پر نہیں لے جاتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ سودے کو اسی جگہ پر فروخت کیا جائے، جہاں سے خریدا گیا تھا، ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تجارت کرنے والا شخص اسے اپنی جگہ پر نہیں لے جاتا۔“
حدیث نمبر: 2832
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الشَّجَرِ حَتَّى يَبْدُو صَلاحُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک وہ استعمال کے قابل نہیں ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 2833
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ أَبُو رَوَّادٍ ، نَا وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ بِمِصْرَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِيُّ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : " سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاحُهُ ، وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثَّمَرَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاحُهَا ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ ، قَالَ الْمُبْتَاعُ : قَدْ أَصَابَ الثِّمَارَ الدُّمَانُ ، وَأَصَابَهُ قُشَامٌ ، وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا ، فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا : أَمَا لا ، فَلا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى تَبْدُوَ صَلاحُهَا ، لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ " ، اللَّفْظُ لِعَنْبَسَةَ ، وَقَالَ أَبُو رَوَّادٍ : أَصَابَ الثَّمَرُ مُرَاقٌّ ، وَأَصَابَهُ قُشَامٌ.
محمد محی الدین
یونس بیان کرتے ہیں: میں نے شیخ ابوزناد سے پھل کے پکنے سے پہلے اسے فروخت کرنے کے بارے میں مذکور روایات کے بارے میں دریافت کیا، عروہ بن زبیر، سیدنا سہل بن حثمہ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: پہلے لوگ پھل کے پکنے سے پہلے اس کا سودا کر لیا کرتے تھے، جب پھل کے کاٹنے کا وقت آتا اور تقاضا کرنے والے آ جاتے، تو خریدار یہ کہتا: پھل کو فلاں بیماری لاحق ہو گئی ہے، یہ خراب ہو گیا ہے، اس طرح کی چیزوں کے ذریعے ان کے درمیان جھگڑا ہو جاتا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کے مقدمات بکثرت پیش ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے فرمایا: ”پھل کو اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک وہ پک نہیں جاتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لیے کہا تھا، کیونکہ اختلافات اور مقدمات زیادہ ہو گئے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ ابوردّاد نامی راوی کے ہیں، شیخ ابوداؤد رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: یہ الفاظ کہ پھل کو مرض لاحق ہو گیا ہے، تشام لاحق ہو گیا۔
حدیث نمبر: 2834
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدَكَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا رِبًا إِلا فِي ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ، أَوْ مِمَّا يُكَالُ ، أَوْ يُوزَنُ ، وَيُؤْكَلُ وَيَشْرَبُ " ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ : هَذَا مُرْسَلٌ وَوَهِمَ الْمُبَارَكُ عَلَى مَالِكٍ بِرَفْعِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سود صرف سونے، چاندی، ماپی جانے والی، وزن کی جانے والی، کھائی جانے والی اور پی جانے والی چیزوں میں ہوتا ہے۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے اور شیخ مبارک نامی راوی نے اسے امام مالک کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، اس میں انہیں وہم ہوا ہے، یہ سعید بن مسیب کا قول ہے، مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
…