کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : حج سے متعلق جامع احکام
حدیث نمبر: 2785
ثنا ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالُوا : نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُزَنِيُّ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ الأَشْعَثِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي الْمُحْرِمِ يُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ ، قَالَ : " يُطْعِمُ عَنْ كُلِّ كَفٍّ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایسے حالت احرام والے شخص کے بارے میں، جو اپنے ناخن تراش لیتا ہے، یہ فرماتے ہیں: وہ ہر ایک ہتھیلی کی طرف سے اناج کا ایک صاع کھلائے گا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2785
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2785، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2786
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، أنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يَنْفِرُونَ مِنْ مِنًى إِلَى وُجُوهِهِمْ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ ، وَرَخَّصَ لِلْحَائِضِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگ منی سے ہی جس طرف بھی ان کا رخ ہوتا تھا، واپس چلے جایا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف کیا کریں (وہاں سے گھر جایا کریں)، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض والی عورتوں کو یہ اجازت دی (کیونکہ وہ طواف کے لیے بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکتیں)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2786
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1755، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1327، 1328، وابن الجارود فى "المنتقى"، 544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2999، 3000، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3897، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1757، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4170، 4185، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2002، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1974، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2786، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1961، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 511، 512»
حدیث نمبر: 2787
ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخُتُلِّيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ نا المُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، رَفَعَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ كَرَا بُيُوتِ مَكَّةَ أَكَلَ نَارًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے، وہ آگ کھاتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2787
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2787، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2788
ثنا ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْحَصَى لِيُحْصَى بِهِ التَّكْبِيرَ " يَعْنِي حَصَى الْجِمَارِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کنکریاں مارنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ تکبیر بھی کہی جائے، راوی کہتے ہیں: اس سے مراد جمرات کو کنکریاں مارنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2788
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2788، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2789
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نا أَبِي ، نا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الْجِمَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا كُلَّ عَامٍ فَنَحْتَسِبُ أَنَّهَا تَنْقُصُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ مَا تُقُبِّلَ مِنْهَا رُفِعَ ، وَلَوْلا ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا أَمْثَالَ الْجِبَالِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ جو جمرات کو ہر سال اتنی کنکریاں ماری جاتی ہیں، ہم تو یہ سمجھتے ہیں، یہ ختم ہو جائیں گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان میں سے جو قبول ہو جاتی ہیں، انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہو، تو تمہیں یہاں پہاڑوں کی طرح (کنکریوں کے ڈھیر) نظر آئیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2789
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1758، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9640، 9641، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2789، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1257، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 15572، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1750»
«هذا حديث لا يثبت ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 78)»
حدیث نمبر: 2790
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَتِيقِ ، نا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، نا أَبُو هُمَزَةَ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَجَّهُ فَلْيُعَجِّلِ الرِّحْلَةَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لأَجْرِهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص اپنا حج مکمل کر لے، تو اسے جلدی اپنے گھر واپس چلے جانا چاہیے، کیونکہ اس کا اجر زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2790
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1759، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10472، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2790»
حدیث نمبر: 2791
ثنا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبَانَ ، قَالا : نا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ مِنْ سَفَرٍ فَلْيُهْدِ إِلَى أَهْلِهِ ، وَلْيُطْرِفْهُمْ وَلَوْ كَانَتْ حِجَارَةً " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص سفر سے واپس آئے، اپنی بیوی کے لیے کوئی تحفہ لے کر آئے اور اسے تحفہ دے، خواہ وہ پتھر ہی ہو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2791
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2791، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2792
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَوَفَاءُ بْنُ سُهَيْلٍ ، قَالُوا : نا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مَنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ عَدَدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَأَنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلائِكَةَ ، يَقُولُ : مَا أَرَادَ هَؤُلاءِ ؟ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ عرفہ کے دن بہت لوگوں کو آزاد کرتا ہے اور کسی دن میں اس سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا، اللہ کی رحمت اس دن زیادہ قریب ہو جاتی ہے، پھر اللہ فرشتوں کے سامنے ان لوگوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2792
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1348، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2827، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1711، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3005، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3982، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3014، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9575، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2792، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 9134»
«قال الذھبي: إسناده حسن ، سير أعلام النبلاء: (12 / 503)»
حدیث نمبر: 2793
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، نا أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " أَرْبَعَةٌ لا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلا حَرَمٍ : الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ ، وَمِقْيَسٌ ، وَهِلالُ بْنُ خَطَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ " . فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتْلُهُ عَلِيًّا ، وَأَمَّا مِقْيَسٌ فَقَتْلُهُ ابْنَ عَمٍّ لَهُ لَحَا ، وَأَمَّا هِلالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتْلُهُ الزُّبَيْرَ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأَفْلَتَتِ الأُخْرَى ، فَأَسْلَمَتْ .
محمد محی الدین
عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”چار لوگ ایسے ہیں، جنہیں میں، حل، اور حرم، کسی بھی جگہ پر امان نہیں دوں گا: حویرث بن نقید، مقیس، ہلال بن خطل اور عبداللہ بن ابوسرح۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) حویرث کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، مقیس کو اس کے چچا زاد، لحا، نے قتل کر دیا، ہلال بن خطل کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، جہاں تک عبداللہ بن سرح کا تعلق ہے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے امان مانگ لی، وہ ان کا رضاعی بھائی تھا، اس طرح مقیس کی دو کنیزیں تھیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں کی جانے والی شاعری گایا کرتی تھیں، ان دونوں میں سے ایک قتل ہو گئی اور دوسری بچ گئی، اس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2793
تخریج حدیث «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 2684، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18347، 18850، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2793، 4347، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 5529»
حدیث نمبر: 2794
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، وَكَانَ يُسَمَّى الصَّرْمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ سَعِيدُ ، فَأَيُّنَا أَكْبَرُ أَنَا أَوْ أَنْتَ ؟ " ، فَقَالَ : أَنَا أَقْدَمُ مِنْكَ ، وَأَنْتَ أَكْبَرُ مِنِّي ، وَأَنْتَ خَيْرٌ مِنِّي .
محمد محی الدین
عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم سعید ہو، ہم (دونوں) میں سے کون بڑا ہے، میں یا تم؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے (پیدا ہوا تھا)، ویسے آپ مجھ سے بڑے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2794
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2794، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 2795
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى بْنِ بَحِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُجُّوا قَبْلَ أَنْ لا تَحُجُّوا " ، قِيلَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ ؟ قَالَ : " تَقْعُدُ أَعْرَابُهَا عَلَى أَذْنَابِ أَوْدِيَتِهَا ، فَلا يَصِلُ إِلَى الْحَجِّ أَحَدٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم حج کر لو، اس سے پہلے کہ تم حج نہ کر سکو۔“ عرض کی گئی: ”اس وقت حج کا کیا معاملہ ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دیہاتی لوگ اپنے اپنے علاقوں کے کناروں پر بیٹھ جائیں گے اور کوئی شخص حج کرنے کے لیے (مکہ) نہیں پہنچ سکے گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2795
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8793، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2795»
«قال ابن حبان : باطل وأبو محمد لا يدرى من هو ، لسان الميزان: (9 / 157)»