حدیث نمبر: 2709
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزٍ الأَنْمَاطِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ ، نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ فَقَالَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا عمرے کا حکم ہمارے اس سال کے لیے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ہمیشہ کے لیے ہے، عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے (یعنی ان دونوں کو ایک ساتھ کیا جا سکتا ہے)۔“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 2710
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا يَزِيدُ ، أنا شُعْبَةُ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ أَدْرَكَ الإِسْلامَ لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَلا الظَّعْنَ ، قَالَ : " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، انہوں نے عرض کی: ”میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں، وہ مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن اب وہ عمرہ اور سفر نہیں کر سکتے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے والد کی جانب سے حج بھی کر لو اور عمرہ بھی کر لو۔“
حدیث نمبر: 2711
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، نا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الأَخْنَسِيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک جانے کے لیے حج اور عمرے کا احرام باندھے گا، اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ تمام گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اور اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2712
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نا الْوَاقِدِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَخْنَسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الأَخْنَسِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بیت المقدس سے حج یا عمرے کا احرام باندھے گا، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جس طرح وہ اس دن تھا، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 2713
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتُ أُمَيَّةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص بیت المقدس سے حج یا عمرے کا احرام باندھے گا، اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2714
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْحَكِيمِ أَبُو سُفْيَانَ الْخُزَاعِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ يَرْجِعُ كَهَيْئَةِ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حج کرے یا عمرہ کرے اور اس دوران کوئی رفث اور فسق نہ کرے، تو جب وہ واپس آئے گا، تو اس طرح ہو گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 2715
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ ؟ قَالَ : " نَعَمِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”خواتین پر جہاد کرنا لازم ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، (وہ جہاد) حج اور عمرہ (کی شکل میں ہے)۔“
حدیث نمبر: 2716
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّيُّ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ ؟ قَالَ : " عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لا قِتَالَ فِيهِ ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا خواتین کو جہاد کرنا لازم ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان پر جہاد کرنا لازم ہے، البتہ اس میں لڑائی نہیں ہوتی، (ان کا جہاد) حج اور عمرہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2717
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ الضَّرَّابُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فَرِيضَتَانِ عَلَى النَّاسِ كُلُّهُمْ إِلا أَهْلَ مَكَّةَ فَإِنَّ عُمْرَتَهُمْ طَوَافُهُمْ ، فَإِنْ أَبَوْا فَلْيَخْرُجُوا إِلَى التَّنْعِيمِ ، ثُمَّ يَدْخُلُونَهَا مُحْرِمِينَ ، وَاللَّهِ مَا دَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حج اور عمرہ تمام لوگوں پر فرض ہے، صرف اہل مکہ کا حکم مختلف ہے، کیونکہ ان کا عمرہ ان کا طواف کرنا ہو گا، اگر وہ اصرار کریں، تو تنعیم چلے جائیں، پھر وہاں سے حالت احرام میں داخل ہو جائیں، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں جب داخل ہوئے، تو یا تو آپ نے حج کا احرام باندھا ہوتا تھا یا عمرے کا احرام باندھا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 2718
ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ رُسْتُمَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَرِيضَتَانِ ، لا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِمَا بَدَأْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں، تم ان دونوں میں سے جسے پہلے کر لو گے، تو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2719
نا نا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ سُئِلَ عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ ، فَقَالَ : " صَلاتَانِ لا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِمَا بَدَأْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ دو نمازیں ہیں، تم ان میں سے کسی کو بھی پہلے ادا کر لو گے، تو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 2720
ثنا ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدٌ إِلا عَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ وَاجِبَتَانِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلا ، فَمَنْ زَادَ بَعْدَهُمَا شَيْئًا فَهُوَ خَيْرٌ وَتَطَوُّعٌ " . قَالَ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ فِي أَهْلِ مَكَّةَ شَيْئًا.
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرمایا کرتے تھے: اللہ کی ساری مخلوق پر حج اور عمرہ کرنا لازم ہے، یعنی ان لوگوں پر، جو وہاں تک جانے کی سبیل رکھتے ہوں، جو شخص اس کے بعد مزید کرے گا، تو یہ بھلائی ہے اور نفلی عبادت ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں اہل مکہ کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سنا۔
حدیث نمبر: 2720M
قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ كَوُجُوبِ الْحَجِّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا " .
محمد محی الدین
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عمرہ بھی اس شخص پر حج کی طرح ہی واجب ہے، جو اس کی ادائیگی کے اخراجات کی استطاعت رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 2721
ثنا ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ كَوُجُوبِ الْحَجِّ ، وَهُوَ الْحَجُّ الأَصْغَرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج کی طرح عمرہ کرنا بھی واجب ہے اور یہ چھوٹا حج ہے۔
حدیث نمبر: 2722
ثنا ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْحَجَّ الأَكْبَرُ يَوْمُ النَّحْرِ ، وَالْحَجُّ الأَصْغَرُ الْعُمْرَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بڑا حج قربانی کے دن ہوتا ہے اور چھوٹا حج عمرہ ہے۔
حدیث نمبر: 2723
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِيهِ : " وَأَنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الأَصْغَرُ ، وَلا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلا طَاهِرٌ " .
محمد محی الدین
ابوبکر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو خط لکھا، آپ نے اس کے ساتھ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ اس میں یہ تحریر تھا: ”عمرہ چھوٹا حج ہے اور قرآن کو صرف باوضو شخص ہاتھ لگا سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ ، وَالزَّكَاةِ ، وَالْحَجِّ . أَوَاجِبٌ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هيَ ؟ قَالَ : لا ، وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ " . رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَحَجَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ ، مَوْقُوفًا مِنْ قَوْلِ جَابِرٍ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز، زکوٰة اور حج کے بارے میں دریافت کیا: ”کیا یہ فرض ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کے بارے میں دریافت کیا: ”کیا یہ بھی فرض ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، البتہ اگر تم عمرہ کر لو گے، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر سے موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2725
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ ، جَمِيعًا عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ ؟ قَالَ : لا ، وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا عمرہ کرنا واجب ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کر لیتے ہو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 2726
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2727
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالُوا : نا ابْنُ عُفَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ فَرِيضَتُهَا كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ ؟ قَالَ : " لا ، وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا عمرہ کرنا واجب ہے اور یہ حج کی طرح فرض ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کر لیتے ہو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 2728
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ يَعْقُوبَ أَبُو الْفَضْلِ ، نا الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ ، نا مِهْرَانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا فِي عُمْرَتِهَا الَّتِي اعْتَمَرَتْهَا : " إِنَّمَا أَجْرُكِ مِنْ عُمْرَتِكِ عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے عمرے کے بارے میں، یعنی جو عمرہ سیدہ عائشہ نے کیا تھا، یہ فرمایا: ”تمہارے عمرے کا اجر اس حساب سے ہو گا، جو تم نے خرچ کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2729
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ عَتَّابٍ أَبُو عُثْمَانَ ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْفٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا فِي عُمْرَتِهَا : " إِنَّ لَكِ مِنَ الأَجْرِ قَدْرَ نَصَبِكِ وَنَفَقَتِكِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عمرے کے بارے میں ان سے دریافت کیا تھا: ”تمہارے عمرے کا اجر اس حساب سے ہو گا، جتنی مشقت تم نے برداشت کی ہے اور جو خرچ کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2730
ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا يُمْسِكُ الْمُعْتَمِرُ عَنِ التَّلْبِيَةِ حَتَّى يَفْتَتِحَ الطَّوَافَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عمرہ کرنے والا شخص اس وقت تک تلبیہ پڑھتا رہے گا، جب تک طواف کا آغاز نہیں کر لیتا۔
حدیث نمبر: 2731
ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، نا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، قَالَ : " يَطُوفُ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَافَ بِالْبَيْتِ وَحْدَهُ ، وَلا يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس شخص کے بارے میں نقل کرتے ہیں، جو شخص عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر حج تمتع کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کرے گا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے گا، جب قربانی کا دن ہو گا، تو وہ صرف بیت اللہ کا طواف کرے گا، اس وقت وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2732
ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " حَجَّ عَلِيٌّ ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا كَانَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، نَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقِيلَ لِعَلِيٍّ ، إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ ، فَقَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا ، فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ ، وَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ ؟ ، قَالَ : بَلَى ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟ ، قَالَ : بَلَى .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دونوں حج کے لیے آئے، راستے میں سیدنا عثمان نے تمتع کے طور پر عمرے کو حج کے ساتھ شامل کرنے سے منع کر دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کر دیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم انہیں دیکھو کہ وہ روانہ ہو چکے ہیں، تو تم بھی روانہ ہو جاؤ۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا، لیکن سیدنا عثمان نے ان حضرات کو منع نہیں کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے پتا چلا ہے، آپ نے عمرے کو تمتع کے طور پر ساتھ ملانے سے منع کر دیا ہے۔“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو سیدنا علی نے ان سے فرمایا: ”کیا آپ نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمتع کیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 2733
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : حَجَّ عُثْمَانُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " أَنَّ عُثْمَانَ نَهَى أَصْحَابَهُ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لأَصْحَابِهِ : إِذَا ارْتَحَلَ عُثْمَانُ فَارْتَحِلُوا ، قَالَ : فَأَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِعُمْرَةٍ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ عُثْمَانُ ، فَقَالَ لَهُ : أَلَمْ أُخْبَرْ عَنْكَ أَنَّكَ نَهَيْتَ أَصْحَابَكَ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ ، يَعْنِي إِلَى الْحَجِّ ، أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟ ، قَالَ : بَلَى . قَالَ سَعِيدٌ : فَلا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے، راستے میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عثمان نے اپنے ساتھیوں کو عمرے کو حج کے ساتھ ملانے سے، یعنی حج تمتع کرنے سے منع کر دیا ہے، تو سیدنا علی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”جب سیدنا عثمان روانہ ہوں گے، تو تم بھی روانہ ہو جانا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرے کا احرام باندھا، تو سیدنا عثمان نے ان حضرات کو کچھ نہیں کہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان سے کہا: ”مجھے آپ کے بارے میں یہ بات بتائی گئی ہے، آپ نے اپنے ساتھیوں کو عمرے کو حج کے ساتھ ملانے سے، یعنی حج تمتع سے منع کر دیا ہے، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نہیں سنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے؟“ تو سیدنا عثمان نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سعید بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عثمان نے انہیں کیا جواب دیا۔
حدیث نمبر: 2734
ثنا أَبُو مُحَمَّدُ بْنُ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " . قَالَ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ : وَحَدَّثَنَاهُ حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " . قَالَ لَنَا ابْنُ صَاعِدٍ : هَذَا الْحَدِيثُ كَتَبَهُ مَعَنَا مِرْبَعٌ وَأَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَدِمُوا فَكَانَ فِي فَوَائِدِهِمْ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا: ”میں حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کے لیے حاضر ہوں۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2735
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، لأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِحَاجٍّ بَعْدَهَا " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کر دیا تھا، آپ اس بات سے واقف تھے کہ آپ اس کے بعد حج نہیں کریں گے۔