کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب: حج کی فرضیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج کیا؟
حدیث نمبر: 2696
ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرٍ اللَّبَّانُ ، وَغَيْرُهُمْ ، قَالُوا : نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ حِجَجٍ ، حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ ، وَحَجَّةٌ قَرَنَ مَعَهَا عُمْرَةً " .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کیے تھے، دو حج ہجرت کرنے سے پہلے کیے تھے اور ایک وہ حج تھا، جس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا تھا (یعنی حجۃ الوداع)۔
حدیث نمبر: 2697
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، نا رَوْحٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، نا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَجُّ لِكُلِّ عَامٍ ؟ قَالَ : " لا ، بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”ہر سال حج کرنا واجب ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایک ہی مرتبہ حج کرنا فرض ہے، جو شخص اس کے بعد بھی حج کرے گا، تو یہ اس کے لیے نفل ہو گا، اگر میں یہ کہہ دیتا، جی ہاں، تو یہ واجب ہو جاتا اور اگر یہ واجب ہو جاتا، تم اس حکم پر عمل پیرا نہ کر سکتے۔“
حدیث نمبر: 2698
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا قَوْمُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ " ، فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَكُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " لا ، بَلْ هِيَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ، ثُمَّ مَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ عَلَيْكُمْ ، وَإِذًا لا تَسْمَعُونَ وَلا تُطِيعُونَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج کرنا فرض کیا گیا۔“ تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایک ہی مرتبہ حج کرنا فرض ہے، اس کے بعد جو حج کرے گا، تو اس کے لیے نفل ہو گا، اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ تم پر لازم ہو جاتا اور اس صورت میں تم اس حکم پر عمل پیرا نہ ہو سکتے۔“
حدیث نمبر: 2699
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَجُّ كُلُّ عَامٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ مَرَّةٌ ، فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سال حج کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کرنا ایک مرتبہ فرض ہے، جو اس کے بعد بھی کرے گا، تو یہ نفل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2700
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا هشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2701
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنِي خَالِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصِبِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2702
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْنَوَرِيُّ الْمُكْتِبُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ بْنِ صُبَيْحٍ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ قَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، إِنَّمَا هِيَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ " . قَوْلُهُ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهْمٌ وَالصَّوَابُ : عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے کا حکم دیا، تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا، یہ ایک مرتبہ کرنا فرض ہے، البتہ جو شخص نفلی عبادت کرنا چاہے، تو اللہ اسے قبول کرنے والا اور اس کا علم رکھنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 2703
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو مُوسَى . ح وَثنا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ . ح وَثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : نا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا نزلت هَذِهِ الآيَةُ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي كُلِّ عَامٍ ، فَسَكَتَ . فَقَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ، قَالَ : لا ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 " ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ . وَقَالَ الأَشَجُّ : نا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ ، وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ : فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالُوا : " أَفِي كُلِّ عَامٍ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ، فَقَالَ : لا " ، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اور لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کریں، جو شخص وہاں تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ لوگوں نے کہا: کیا ہر سال فرض ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر میں ہاں کر دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا۔“ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”اے ایمان والو! تم ایسی چیزیں دریافت نہ کرو جو اگر تم پر ظاہر کی جائیں، تو تمہیں برا لگے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: لوگوں نے عرض کیا: کیا ہر سال؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر لوگوں نے عرض کی: کیا ہر سال؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 2704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، بِالْكُوفَةِ ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْحَجُّ كُلُّ عَامٍ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " لا ، بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، وَلَوْ قُلْتُ : كُلُّ عَامٍ لَكَانَتْ كُلَّ عَامٍ " ، فَقَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَحُجُّ مَكَانَ أَبِي فَإِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَقَالَ : " حُجَّ مَكَانَ أَبِيكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے بلند آواز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ نے فرمایا: ”نہیں! بلکہ مسلمان پر ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے، اگر میں ہر سال کہہ دیتا، تو یہ ہر سال فرض ہو جاتا۔“ تو ایک اور شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتا ہوں، کیونکہ وہ بزرگ آدمی ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“
حدیث نمبر: 2705
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَجَعَلَ يُعْرِضُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " دَعُونِي مَا تَرَكْتُمْ ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ سُؤَالُهُمْ وَاخْتِلافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض قرار دیا ہے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟“ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، پھر ارشاد فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم ادا نہ کر سکتے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا، جو چیز میں تمہارے سامنے بیان نہ کروں، اسے ویسے ہی رہنے دو، تم سے پہلے لوگ سوال کرنے کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں، تو جہاں تک تم سے ہو سکے، اسے بجا لاؤ اور جب کسی چیز سے منع کر دوں، تو اس سے رک جاؤ۔“
حدیث نمبر: 2706
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نا أبُو مُوسَى ، نا أبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، نا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا محَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : نا أبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کرنا فرض قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 2707
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، نا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَنِ الْقَائِلُ ؟ " ، قَالُوا : فُلانٌ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا أَطَقْتُمُوهَا ، وَلَوْ لَمْ تُطِيقُوهَا لَكَفَرْتُمْ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”لوگو! تم پر حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سوال دہرایا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہنے والا کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: فلاں شخص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا۔ اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، اور جب تم اسے نہ کر پاتے، تو تم کفر کے مرتکب ہوتے۔“ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کی جائیں، تو تمہیں برا لگے۔“
حدیث نمبر: 2708
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِي حَامِدٍ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدْرٌ ، قَالَ : فَهَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ ؟ قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرَأَ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَاءٌ ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ شَحْنَاءُ سَفَرٍ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرِكِ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِي الصَّلاةِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا الإِسْلامُ ؟ قَالَ : الإِسْلامُ أَنْ تَشَهَّدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتَتِمَّ الْوُضُوءَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، قَالَ : فَإِنْ فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : صَدَقْتَ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " ، فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ ، فَخُذُوا عَنْهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَيَّ مُنْذُ أَتَانِي قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ وَمَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى " . إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ . أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
محمد محی الدین
یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا ان میں سے کوئی شخص ہمارے پاس بھی موجود ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی نہیں!“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو، تو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر اللہ کی بارگاہ میں تم سے لاتعلق ہونے کی گزارش کرتا ہے اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ حدیث بیان کی: میں نے سیدنا عمر بن خطاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگوں کی موجودگی میں بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران ایک شخص وہاں آیا، اس پر سفر کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ شہر کا رہنے والا بھی نہ تھا، وہ لوگوں کے بیچ سے گزرتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھ گیا، بالکل اسی طرح، جس طرح ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھتا ہے، پھر اس نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوؤں پر رکھا اور عرض کی: ”اے محمد! اسلام کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور تم حج کرو اور تم عمرہ کرو اور تم غسل جنابت کرو اور تم وضو مکمل کرو اور تم رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے دریافت کیا: ”اگر میں ایسا کروں، تو کیا میں مسلمان ہو جاؤں گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ وہ بولا: ”آپ نے ٹھیک فرمایا ہے۔“ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث بیان کی، اس حدیث کے آخر میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔“ (راوی کہتے ہیں) ہم اس کی تلاش میں نکلے، لیکن ہم اسے نہیں پا سکے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو، یہ کون شخص تھا؟ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے، جو تمہارے پاس آئے تھے، تاکہ تمہیں تمہاری دین کی تعلیم دیں، تو تم اسے حاصل کر لو۔“ ”اس ذات کی قسم، جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ جب سے میرے پاس آ رہے ہیں، آج پہلی مرتبہ مجھے انہیں پہچاننے میں دقت ہوئی اور میں نے انہیں اس وقت پہچانا، جب یہ چلے گئے۔“ اس حدیث کی سند ثابت ہے اور صحیح ہے، امام مسلم نے اسے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔